کالجوں کا شہر لاہور گیارہویں جماعت میں کیسے داخل ہوگا؟

لاہور نہ صرف پاکستان کا اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے بلکہ اسے ملکی سیاست میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔ لاہور کو کئی حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے، جیسے باغوں کا شہر، زندہ دلوں کا شہر، اسی طرح لاہور کو کالجوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ لاہور میں کسی زمانے میں کئی کالجز موجود تھے جو لاہور کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع کے تشنگانِ علم کی پیاس بجھایا کرتے تھے۔

لاہور میں بڑھتی آبادی اور تیزی سے ہونے والی نقل مکانی نے جہاں بے شمار چیزوں کا فقدان پیدا کیا وہاں سرکاری کالجوں کی کمی کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ لاہور میں اس وقت 56 کے قریب سرکاری کالجز موجود ہیں جس میں 34 لڑکیوں کے اور 22 لڑکوں کے کالجز ہیں۔

ان تمام کالجوں میں طلبہ کی کل گنجائش 49 ہزار ہے۔ جبکہ صرف لاہور بورڈ سے ہر سال ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد طالب علم پاس ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال 2016 کے میٹرک کے نتائج کے مطابق لاہور بورڈ کے زیر اہتمام امتحان میں 2 لاکھ 14 ہزار 711 طلبہ نے شرکت کی تھی، اور تقریباً 71 فی صد نے کامیابی حاصل کی۔ یعنی ایک لاکھ 53 ہزار کے قریب طالب علم پاس ہوئے۔

یعنی صرف لاہور بورڈ کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد پاس ہونے والے طالب علموں کے لیے کسی سرکاری کالج میں کوئی گنجائش نہیں۔ اب وہ یا تو کسی نجی کالج میں داخلہ لے، یا اگر غریب ہے اور نجی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تو اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دے۔

خیال رہے کہ لاہور کے کالجز میں صرف لاہور بورڈ کے کامیاب طلبہ و طالبات ہی داخلہ نہیں لیتے، بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ، فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بڑی تعداد بھی لاہور کے کالجوں میں زیر تعلیم ہے۔

طالب علموں کی اتنی بڑی تعداد (ایک سے ڈیڑھ لاکھ) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرائیویٹ شعبے میں 120 سے زائد کالجز قائم ہیں جو تجارتی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔

لاہور میں نئے کالجز کا قیام کیوں نہیں ہوا؟

لاہور میں 1982 سے مسلم لیگ کی حکومت قائم ہے۔ اگرچہ لاہور میں ترقیاتی کام ہوا ہے، ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے کئی سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، کئی انڈر پاس اور اوور ہیڈ بِرج تعمیر کیے گئے۔

اب کئی سو ارب روپے کی لاگت سے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، لیکن پتہ نہیں اس بات کی اصل وجہ کیا ہے کہ کیوں لاہور میں (ضرورت کے مطابق) سرکاری کالجز کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، کچھ لوگوں کی رائے میں اس کی اصل وجہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی ہے، جس وجہ سے شعبہ تعلیم کو مطلوب وسائل ہی فراہم نہیں کیے جاتے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کئی بار خود اعلان کیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن سے قبل ذہین طالب علموں میں کئی ارب روپے کے لیپ ٹاپ اور سولر لیمپ وغیرہ مفت تقسیم کیے، نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کو دنیا کے کئی ممالک کی سیر کروائی۔ لیکن بنیادی سطح پر جو کام ہونا چاہیے، وہ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجز کی انتظامیہ کافی بااثر ہے اور وہ صوبائی حکومت کے اہم افراد کو نئے کالجز قائم کرنے سے روک دیتی ہے تاکہ ان کا بزنس قائم و دائم رہے۔

نجی کالجز کی نگرانی کون کرے

معلوم نہیں حکومت نےان نجی کالجز کے لیے کوئی بنیادی قوائد ضوابط (ایس او پیز) ترتیب دے رکھے ہیں بھی یا نہیں، عموماً نجی تعلیمی اداروں کی کسی قسم کی کوئی نگرانی نہیں ہوتی۔

لاہور شہر میں جو نجی کالجز ہیں وہ ہر چیز سے آزاد ہیں، فیسوں کا تعین ہو، اساتدہ کی بھرتی، کالج بلڈنگ کے بائی لاز، ہوسٹلز، لائیبریری، تجربہ گاہ، پارکنگ، یا پھر کھیلوں کے میدان، ہر جگہ وہ صرف اپنے مفادات کا خیال پہلے رکھتے ہیں۔ فیسوں، یونیفارم، کتابوں، امدادی کتب کے علاوہ ہر ماہ کوئی نہ کوئی نیا خرچہ تیار کر لیا جاتا ہے کیونکہ ان کی مانیٹرنگ (نگرانی) کے لیے کوئی ادارہ یا تو قائم ہی نہیں یا پھر اپنا کام نہیں کر رہا ہے۔

نجی کالجوں کی فیس اور سہولیات

لاہور میں قائم نجی تعلیمی کالجز کی سالانہ فیس اور دیگر اخراجات ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک ہے۔ اس طرح والدین کے ایک بچے کی دو سالہ تعلیم پر 2 سے 6 لاکھ تک خرچ ہو جاتے ہیں۔

لاہور میں نجی کالجوں کی اکثریت نے اپنے طالب علموں کے لیے کوئی ہوسٹل قائم نہیں کیے۔ جس کی وجہ سے دوسرے شہروں کے طلبہ وطالبات شہر میں قائم چھوٹے چھوٹے ہوسٹلز (جو عموماً پانچ /دس مرلہ کے پرانے رہائشی مکانات ہیں) میں رہتے ہیں۔

کالجز میں پڑھانے والے اساتدہ کا کوئی خاص معیار نہیں، اگر ایف اے /بی اے پاس صاحب کو کالج انتظامیہ ایم ایس سی/ایم فل قرار دے تو آپ کو یقین کرنا ہوگا۔

کھیل کے میدان کا کوئی چکر نہیں، زیادہ تر کالجز کے پاس صرف اپنی عمارت کا صحن ہے جو پانچ دس مرلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ (شاید کالج انتظامیہ یہ سوچتی ہے کہ آپ کے بچے اتنے پیسے خرچ کر کے کالج پڑھنے آتا ہے نہ کہ کھیلنے) لائبریری اور سائنس مضامین کے لیے تجربہ گاہ تو ہوتی ہے، لیکن صرف نام کی (کیونکہ جناب کورس کی کتابیں تو مکمل ہوتی نہیں کون مزید کتابوں اور پریٹکل کے چکر میں پڑے)۔

بعض کالجز کی انتظامیہ بورڈ کے عملی امتحانات کے لیے خاص اہتمام کرتی ہے۔ جس کے لیے طالب علموں کو مزید کچھ رقم خرچ کرنا ہوتی ہے۔ آخر اچھے گریڈز بھی تو لینے ہیں نا!

نجی کالجز میں مستقل فیکلٹی کا فقدان

نجی کالجز میں کوئی بھی استاد مستقل نہیں ہوتا بلکہ بعض کالجز میں تو ماہانہ کی بجائے اساتدہ کو فی پیریڈ پڑھانے کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ کئی نجی کالجز میں سابقہ اسٹوڈنٹس اور غیر تجربہ کار افراد کو بطور اساتذہ بھرتی کر لیا جاتا ہے۔

ٹیچرز ٹریننگ کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں، اساتذہ کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں۔ نیز چھٹیوں کے دوران اساتذہ کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ جب کہ طلبا سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ چونکہ اساتذہ کی معاشی حالت بہت خراب ہوتی ہے، اس لیے وہ بھی عدم دلچسپی سے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔

اگر حکومت کے پاس فندز کی کمی ہے تو، یقیناً نئے کالجز قائم کرنے کے لیے بھی کافی وسائل کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزیر تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی ہدایت پر ملک بھر میں بے شمار ایسے اسکولز جن میں مطلوبہ سہولیات میسر تھی، ان اسکولز کو ہائیر سکینڈری اسکول کا درجہ دیا گیا تھا، جس سے اس علاقے کے طلبہ و طالبات اپنے اسکول سے ہی 12 سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی) مکمل کرتے تھے، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر لاہور میں ان تمام ہائیر سکینڈری اسکولوں کو آہستہ آہستہ بند کر دیا گیا۔

حکومت یہ بھی کر سکتی ہے کہ جو تعلیمی وسائل موجود ہیں، ان کو (لیپ ٹاپ کے بجائے) کالج میں داخلہ لینے کے خواہشمند مستحق طالب علموں کے اچھے نجی کالج داخلہ کے اخراجات پر خرچ کرے۔

اس بات کی بھی وجہ معلوم نہیں ہو سکی کہ صوبائی حکومت ایسے کالجز کیوں قائم نہیں کرتی، جو نفع، نقصان کے بغیر چلیں۔ یعنی عمارت کے کرایے، اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات وغیرہ طالب علموں سے فیس کی صورت میں حاصل کرے، یہ فیس پھر بھی نجی کالجز کی فیس سے کم ہوگی۔ اس طرح کم آمدنی اور متوسط طبقے کے بہت سے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کر پائیں گے اور تعلیم حاصل کرنا ان کی ناتمام حسرت اور خواہش نہیں بن کر رہ جائے گی۔

یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ موجود صوبائی حکومت کے پاس نئے کالجز قائم کرنے کے لئے وسائل نہیں لیکن یہ بات قابل قبول نہیں کہ موجود تعلیمی وسائل کو مستحق طلبہ پر خرچ کرنے کی بجائے ’لیپ ٹاپ اسکیم یا پوزیشن ہولڈز کو بیرون ممالک کی سیر’ پر ضائع کر دی جائے۔

شاید اس سے بڑا ظلم لاہور کے شہریوں کے ساتھ اور کوئی نہیں۔

حسن اکبر کا یہ مضمون سب سے پہلے ڈان نیوز کی ویب سائٹ پر مورخہ 25 مئی 2017 کو شائع  ہو ا۔

https://www.dawnnews.tv/news/1058375

Facebook Comments
Share

ویب سائٹ ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ: آرٹ کے ساتھ کریئر بھی

دنیا بھر میں اس وقت کروڑوں ویب سائٹس کام کر رہی ہیں۔ یہ ویب سائٹس اپنے موضوع اور مقاصد کے لحاظ سے مختلف نوعیت کی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو کاروبار سے متعلق ہیں اور کچھ خبروں، تعلیم، ادب، تفریح، علم، ثقافت اور سیاسی موضوعات پر ہیں۔

مگر موضوع چاہے جو بھی ہو، اور ویب سائٹ پر موجود مواد چاہے جتنا بھی معیاری ہو، لوگوں کی اکثریت انہی ویب سائٹس کو اچھا شمار کرتی ہے جن کے مواد کی پیش کش خوبصورتی سے کی گئی ہو۔ اس طرح ظاہری خوبصورتی کو بھی ویب سائٹس کے مواد جتنی ہی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کسی ویب سائٹ کی ٹیم فنی طور پر بہتر مواد کی تیاری کے لحاظ سے کافی محنت کر رہی ہو لیکن لوگوں کی اتنی توجہ حاصل نہ کر پا رہی ہو جتنا اس کا حق ہے، تو پھر ایسی صورت میں ویب سائٹ کی کمزوری اس کی ظاہری شکل و صورت کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

اس کمی کو ایک اچھے تھیم یا ٹیمپلیٹ کی مدد سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح وہ ویب سائٹ زیادہ عوامی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے اور زیادہ توجہ یا ویب ٹریفک کا مطلب ہے زیادہ آمدنی۔

ویب سائٹس کو خوبصورت بنانے کے دو طریقے ہیں

پہلا طریقہ: ایک شخص کو کل وقتی ملازمت پر رکھا جائے جو اس کام میں مہارت رکھتا ہو اور ویب سائٹ کے ٹیمپلیٹ کے معیار کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

یہ ایک خاصا مہنگا کام ہے کیونکہ پاکستان میں ایک اچھا ویب ڈیزائنر، جو معیاری کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے تنخواہ کی مد میں کم از کم 40 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے ہوتے ہیں، جبکہ بیرون ملک موجود ویب ڈیزائنرز فی گھنٹہ 25 ڈالرز سے 200 ڈالرز معاوضہ طلب کرتے ہیں۔

دوسرا طریقہ: دوسرا راستہ آسان اور کافی سستا ہے اور اس وقت مارکیٹ میں رائج بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی پروفیشنل شخص/ادارے سے پہلے سے تیار شدہ ٹیمپلیٹ خرید لیا جائے یا پھر انٹرنیٹ پر مفت دستیاب کسی ٹیمپلیٹ کو اپنی ضروریات کے مطابق تبدیل کروا لیا جائے۔

یہ طریقہ نہ صرف سستا اور مؤثر ہے بلکہ اس صورت میں آپ کے پاس انتخاب کے لیے ایک وسیع مارکیٹ بھی ہے۔

آپ پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟

ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ میں مہارت رکھنے والے شخص کو ٹیمپلیٹ ڈیزائنر کہتے ہیں۔ ایسے لوگ فارغ وقت میں مختلف طرز کے ٹیمپلیٹ تیار کرتے ہیں اور اپنی یا دیگر ویب سائٹس پر فروخت کے لیے رکھ دیتے ہیں۔

ایسے افراد ایک طرح سے آرٹسٹ ہی ہوتے ہیں جو کیلی گرافرز، پینٹرز اور مجمسہ سازوں کی طرح اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ایسے دیدہ زیب ٹیمپلیٹ تیار کرتے ہیں جو لوگوں کی اکثریت کو پسند آتے ہیں۔

ادارے اور افراد اپنی ضروریات کے مطابق ان سے تیار شدہ ٹیمپلیٹ خرید لیتے ہیں یا پھر ان سے اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق نیا ٹیمپلیٹ تیار کروا لیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ویب سائٹ مالکان پرانے ٹیمپلیٹ میں اپنے معیار کے مطابق تبدیلیاں کروا کر انہیں معاوضہ ادا کر دیتے ہیں۔ زیادہ تر ٹیمپلیٹ ڈیزائنرز فری لانس ہی کام کرتے ہیں۔

کن لوگوں کو یہ شعبہ اختیار کرنا چاہیے؟

اگر آپ آرٹ یا فن کی جانب رجحان رکھتے ہیں اور گرافکس، رنگوں اور دیگر ڈیجیٹل طریقوں سے اپنے اندر موجود پوشیدہ صلاحیتوں کا اچھا اظہار کر سکتے ہیں تو یہ راستہ آپ کے لیے ترقی اور کامیابی کا راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اور یہ کوئی مشکل نہیں، آپ آج سے ہی یہ کام شروع کرسکتے ہیں۔

مہارت اور ٹولز

ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ بنیادی طور پر ویب ڈیزائننگ ہے جس کے لیے آپ ہمارے گزشتہ مضمون ’’ویب ڈویلپمنٹ: آپ بھی یہ کاروبار کر سکتے ہیں‘‘ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔

اس کام کو اپنانے کے لیے آپ کو گرافکس ڈیزائننگ کے پروگرامز فوٹوشاپ/کورل ڈرا/فری ہینڈ وغیرہ کے علاوہ ویب سائٹ کی تیاری کے بنیادی پروگرامز مثلاً ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس، پی ایچ پی، ڈاٹ نیٹ، اے ایس پی وغیرہ سے آگاہی ہونی چاہیے تاکہ آپ کو معلوم ہوسکے کہ ان میں ٹیمپلیٹ کس طرح کام کرتے ہیں۔

آج کل زیادہ تر ویب سائٹس کونٹینٹ مینیجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس) کو استعمال کرتی ہیں، جن میں ورڈ پریس، جوملا، ڈروپل (Joomla, Drupal, WordPress) وغیرہ زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ ان سسٹمز میں ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ کے کچھ خاص اصول و ضوابط ہیں جن سے آگاہی ضروری ہے۔

مگر اس کے باوجود ان ٹولز میں مہارت حاصل کرنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام نہیں بلکہ کوئی بھی باصلاحیت شخص ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ کی تعلیم ہر بڑے شہر میں موجود کسی بھی انسٹیٹیوٹ سے تین ماہ سے ایک سال تک کے کورس کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے، یا پھر آن لائن ویڈیوز کے ذریعے گھر بیٹھے ہی تربیت حاصل کر سکتا ہے۔

متوقع آمدنی

چوں کہ اس کام کا تعلق آرٹ یا فن سے ہے اس لیے اس کا کوئی فکس فارمولا طے نہیں، لہٰذا مارکیٹ میں موجود لوگ ایک ٹیمپلیٹ ڈیزائن کرنے کے لیے دس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک معاوضہ وصول کر رہے ہیں۔

اسی طرح آن لائن بیٹھ کر دیگر ممالک کے گاہکوں سے ان کی مرضی کے ٹیمپلیٹ ڈیزائن کرنے کا معاوضہ 250 ڈالرز سے 1200 ڈالرز تک ہو سکتا ہے، جبکہ اپنے تیار شدہ ٹیمپلیٹ کی قیمت فروخت 15 ڈالرز سے 250 ڈالرز تک فی کاپی ہوسکتی ہے، مطلب اگر ایک سال میں 50 ڈالرز مالیت کی ایک سو کاپیاں فروخت ہوں تو اس شخص کو 5000 ڈالر سالانہ آمدنی ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ یہ ایک جُز وقتی کام ہے یعنی آپ نے ایک دفعہ (ایک یا دو دن کی) محنت سے ٹیمپلیٹ ڈیزائن کرنا ہے اور پھر اس ٹیمپلیٹ کی فروخت سے آئندہ کئی سالوں تک آپ کو معاوضہ ملتا رہتا ہے۔

اس وقت پاکستانیوں کے علاوہ، ہندوستان، بنگلہ دیش، ملائشیا کے نوجوان اس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں اور اپنے گھر/آفس میں بیٹھے ہوئے آن لائن لاکھوں ڈالرز ماہانہ اپنے ملک میں لا رہے ہیں۔

اور چوں کہ یہ ایک تخلیقی کام ہے، اس لیے اس میں کسی کی اجارہ داری ممکن نہیں اور اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کا تعلق بڑے ملک، شہر، علاقے سے ہے یا کسی چھوٹے قصبے میں رہائش پذیر ہیں۔

مارکیٹ میں آپ کے تخلیقی کام کی قدر کی جاتی ہے اور اگر آپ کا کام لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے تو آپ بھی گھر بیٹھے ماہانہ ہزاروں ڈالرز کما سکتے ہیں

حسن اکبر کا یہ مضمون 24 اکست 2016 کو ڈان نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہوا تھا۔

Facebook Comments
Share

ورچوئل ریئلیٹی: تفریح و تربیت کا نیا دور

ورچوئل انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے اردو میں معنی مجازی کے ہیں۔ اردو لغت کے مطابق مجازی کے معنی مرادی، فرض کیا ہوا، نقلی، ساختہ، جعلی، مصنوعی، غیرحقیقی، اور فرضی کے ہیں۔اب لفظ ورچوئل تو سمجھ میں آ گیا، اور لفظ ریئلیٹی بھی انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’حقیقت‘ کے ہیں۔ انگریزی زبان میں رئیل سے مراد ایسی چیزیں ہیں جو اپنا وجود رکھتی ہوں۔تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز حقیقی بھی ہو اور مجازی بھی؟ کیا یہ ایک دوسرے کے متضاد نہیں؟ورچوئل ریئلیٹی دراصل کمپیوٹر سوفٹ ویئر اور کچھ ڈیوائسز کی مدد سے تیار کردہ ایسا تین جہتی منظر ہے جس کو دیکھنے والے کو حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ اس میں دماغ اور دیگر حواس کو دھوکہ دینے کے لیے ایسا ماحول تیار کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والے کو حقیقت کا گمان ہو۔

انسان مجازی دنیا میں داخل کیسے ہوتا ہے؟

ورچوئل ریئلیٹی کی دنیا میں کسی کو لے جانے کے لیے ایک خاص طرح کا ہیلمٹ استعمال ہوتا ہے جس سے آدمی اس مجازی دنیا میں چلا جاتا ہے جو حقیقت میں وجود نہیں رکھتی۔ آج کل مکمل ہیلمٹ کے بجائے انتہائی ہلکے چشمے، ہیڈفون، اور خاص قسم کے سینسر استعمال ہو رہے ہیں، جو جسمانی حرکت خاص طور پر سر کی حرکت کو مانیٹر کرتے ہیں۔اس ڈیوائس کو استعمال کرنے والوں کو ذرا بھی شائبہ نہیں ہوتا کہ جو منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہے، وہ فرضی ہے۔ ورچوئل ریئلیٹی میں جب کوئی شخص ویڈیو گیم کھیلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ویڈیو گیم کے اندر محسوس کرتا ہے، حالانکہ وہاں صرف ویڈیو گیم کا کردار ہوتا ہے جو کسی گیم ڈیزائنر نے تخلیق کیا ہوتا ہے۔ اب ورچوئل ریئلیٹی ڈیوائس کے ہلکے ہونے کی وجہ سے اس کو استعمال کرنا بہت آسان ہے۔ ویڈیو کو ہر زاویے سے دیکھنا ممکن آپ عام طور پر جب کوئی فلم دیکھتے ہیں تو وہ دو تین کیمروں کی مدد سے تیار کی جاتی ہے ۔ آپ صرف وہ ہی منظر دیکھتے ہیں ۔ جو کیمرہ نے عکس بند کیا ہو۔ لیکن ورچوئل ریئلیٹی ویڈیو کی عکس بندی کے لیے کم از کم 24 کیمرہ استعمال ہوتے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ آپ ایک میوزیم کی سیر کی ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔ جو عام ویڈیو کیمرہ سے تیار کی گئی ہے، تو جب کیمرہ مین آپ کو دائیں طرف کی ویڈیو پیش کررہا ہوتا ہے، تب آپ چھت یا زمین نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن ورچوئل ریئلیٹی ویڈیو میں جوں ہی آپ کے سر یا آنکھوں کی حرکت کسی اور سمت مثلاً زمین یا آسمان کی طرف ہوتی ہے، تو اسی وقت زمین یا آسمان کی ویڈیو نظر آنا شروع ہوجاتی ہے جس سے آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی حقیقی منظر ہے یا آپ خود اس جگہ پر موجود ہیں۔ ورچوئل ریئلیٹی کا استعمال شروع میں صرف ویڈیو گیمز کھیلنے اور دیگر تفریحی مقاصد میں ہوتا تھا لیکن اب اس کا دیگر شعبوں میں بھی استعمال بڑھ رہا ہے، جس میں تعلیم، زراعت، میڈیکل، تعمیرات اور دیگر شعبے شامل ہیں۔

تعلیم وتربیت میں

ورچوئل ریئلیٹی کا تعلیم و تربیت میں بے پناہ استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ تمام عمر کے افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہی ہے۔ امریکی بحریہ میں پیراشوٹ ٹریننگ کے لیے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت بہت سے ملکوں میں پائلٹس کی تربیت کے لیے بھی اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ پائلٹ کے سامنے ورچوئل ریئلٹی کی مدد سے ایسا منظر تخلیق کیا جاتا ہے جو بالکل حقیقی دنیا سے مطابقت رکھتا ہے، اور پائلٹ کا ہر اقدام اس کے ورچوئل منظر پر اثرانداز ہوتا ہے جس سے بغیر کسی نقصان کے پائلٹ کو تربیت دی جا سکتی ہے، جبکہ ایک حقیقی طیارے کے ساتھ سیکھنے میں لگنے والی قیمت اور وقت بھی بچایا جا سکتا ہے۔ فلائٹ سمیولیٹرز کے طور پر یہ تربیت کا یہ طریقہ گو کہ کئی سالوں سے استعمال کیا جا رہا ہے، مگر ورچوئل ریئلیٹی حقیقت سے اس قدر قریب تر ہے کہ پائلٹ کو ذرا بھی گمان نہیں ہوتا کہ اسے مصنوعی ماحول میں تربیت دی جا رہی ہے.

طبی شعبے میں لامحدود امکانات

میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اس ٹیکنالوجی کے مدد سے لاتعداد طرح کی طبی سہولیات اور ایمرجنسیوں سے نمٹنے کی تربیت دی جاسکتی ہے اور فرضی آپریشن کروائے جاسکتے ہیں جس سے ان کی کام کرنے کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ بالکل طیارے کی ہی طرح حقیقی انسانوں یا جانوروں پر آپریشن کر کے ‘ہاتھ صاف کرنا’ نہ صرف غیر محفوظ ہے، بلکہ اس میں اپنی مرضی کے مطابق طرح طرح کی طبی صورتحال خود نہیں پیدا کی جا سکتیں۔ لیکن اب ورچوئل ریئلٹی کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ آپ مریض کو ہاتھ لگائے بغیر آپریشن کرنا سیکھ جائیں۔

ورچوئل ریئلٹی سے تربیت حاصل کرنے کے بعد جب یہ افراد حقیقی زندگی میں آپریشن کرتے ہیں تو بہت سی وہ غلطیاں نہیں کرتے جو عموماً پہلی دفعہ آپریشن کرنے والے طبی عملے سے سر زد ہوجاتی ہیں۔

نفسیاتی امراض کے علاج میں مدد

بہت سے نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے ماہرینِ نفسیات کو مصنوعی منظر تیار کرنا ہوتا ہے جو کہ نہ صرف مہنگا کام ہے، بلکہ اگر منظر کشی کرتے ہوئے کوئی غلطی ہوجائے تو مزید نقصان کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

آپ نے 2007 کی مشہور ہندی فلم ‘بھول بھلیاں’ دیکھی ہوگی جس میں اکشے کمار ایک ماہر نفسیات کے کردار میں ہیروئین ودیا بالن کے نفسیاتی مرض کے علاج کے لیے ایک خطرناک سین کرتے ہیں جس کے بعد وہ دوبارہ نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتی ہیں۔

اس طرح کے نفسیاتی علاج کے لیے ورچوئل ریئلیٹی سے مدد لی جاسکتی ہے۔ کسی بھی قسم کے فوبیا کے شکار مریضوں کو مصنوعی دنیا (ورچوئل ریئلیٹی) میں ان چیزوں کا سامنا کروا کر اس چیز سے ان کا خوف کم کیا جاسکتا ہے۔
جرائم کی تفتیش میں مدد

کسی بھی جرم کے بعد اس واقعے کی جگہ اور وہاں موجود افراد کی تھری ڈی تصاویر کی مدد سے ورچوئل کرائم سین کو دوبارہ فلم بند کیا جاسکتا ہے۔ اس تکنیک سے تفتیش کاروں کے لیے یہ جاننا آسان ہوجاتا ہے کہ جرم کیسے ہوا، مجرمان نے کون سا راستہ اختیار کیا ہوگا اور جرم کی تکمیل کے بعد کہاں سے فرار ہوئے ہوں گے۔ یہ سب معلومات مجرمان تک رسائی میں آسانی پیدا کر سکتی ہیں۔
تعمیرات/رئیل اسٹیٹ

تعمیرات کے ماہرین آج کل اپنے گاہکوں کو بلڈنگ کی تعمیر ہونے سے پہلے اس کو آٹو کیڈ، تھری ڈی اسٹوڈیو کی مدد سے فرضی نقشے دیکھتے ہیں جس میں ابھی کافی محدودیت ہے۔

یہ نقشے صرف کمپیوٹر پر ہوتے ہیں جنہیں آپ دیکھ تو سکتے ہیں، لیکن انہیں محسوس نہیں کر سکتے۔ آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ مکمل ہونے کے بعد اس کی حتمی شکل و صورت کیا ہوگی، کیا وہ آپ کی خواہشات کے مطابق ہوگا بھی یا نہیں۔

لیکن ورچوئل ریئلیٹی کی مدد سے ان نقشوں میں جان ڈالی جا سکتی ہے۔ آپ آرکٹیکٹ کے آفس میں بیٹھے بیٹھے اپنی اس بلڈنگ کا تفصیلی دورہ کر سکتے ہیں جو کہ ابھی وجود ہی نہیں رکھتی، جب کہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اپنے گاہکوں کو میلوں دور موجود پلاٹ کا ورچوئل وزٹ فوری کروا سکتے ہیں، جس سے سفر میں لگنے والے وقت، توانائی اور پیسے کی بچت ہوگی۔

ورچوئل ریئلیٹی کا مستقبل

دنیا کی بڑی کمپنیز اس ٹیکنالوجی میں کافی صلاحیت دیکھ رہی ہیں لہٰذا اس جانب بہت زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ ویڈیو گیمنگ انڈسٹری کے دو بڑے ادارے اوکیولس اور سونی کے علاوہ اب فیس بک بھی اس طرف متوجہ ہے۔
گوگل کی گتے سے تیار کردہ ورچوئل ریئلیٹی ڈیوائس، جس کے ذریعے یوٹیوب پر وی آر ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں۔ — فوٹو کری ایٹو کامنز۔

گوگل کی گتے سے تیار کردہ ورچوئل ریئلیٹی ڈیوائس، جس کے ذریعے یوٹیوب پر وی آر ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں۔ — فوٹو کری ایٹو کامنز۔

فیس بک نے دو ارب ڈالر کے عوض اوکیولس کمپنی کو خریدا تو فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ سوشل نیٹ ورکنگ کا اگلا قدم ہوگا جہاں دو افراد آپس میں مل پائیں گے اور ان کے درمیان فاصلے کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔

گوگل نے ابھی ورچوئل ریئلیٹی کے استعمال کے لیے ایک سستی ڈیوائس مارکیٹ میں متعارف کروائی ہے جس کی قیمت صرف 2500 روپے ہے۔ لیکن یہ گتے کی بنی ہوئی ہے اور اس پر فی الوقت صرف گوگل ارتھ اور یوٹیوب ہی دیکھی جاسکتی ہے۔

لیکن جس تیزی کے ساتھ اس ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے، وہ وقت دور نہیں کہ اسمارٹ فونز کی طرح ہم سب کے پاس ورچوئل ریئلیٹی ہیڈ سیٹ ہوں گے۔

آپ جس چیز کا بھی تصور کر سکتے ہیں، وہ ورچوئل ریئلٹی کی مدد سے ممکن ہو سکے گی۔ ایسے میں آپ اسے کس کام کے لیے استعمال کرنا چاہیں گے؟
This article Published on Dawn News on 31 May 2016

Facebook Comments
Share

گوگل کے ذریعے ڈالرز کیسے کمائیں؟

یوٹیوب سے آمدنی کے بارے میں گذشتہ مضمون میں ہم نے ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ سے کچھ آگاہی حاصل کی تھی۔ اس بار میری کوشش ہے کہ میں آپ کو گوگل ایڈسینس کے بارے میں مفید معلومات بہتر انداز میں فراہم کر سکوں۔

گوگل ایڈسینس کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کا اشتہارات نشر کرنے کا پروگرام گوگل ایڈسینس کہلاتا ہے۔ اس پروگرام میں شمولیت کے لیے لازمی ہے کہ آپ کے پاس اپنی کوئی ذاتی ویب سائٹ ہو، جس پر اشتہارات نشر کرنے کی ذمہ داری آپ گوگل کے سپرد کر دیتے ہیں۔ گوگل اشتہارات دینے والوں سے سائیٹ پر اشتہارات دکھانے کے پیسے نہیں لیتا، بلکہ جب کوئی اس اشتہار کلک کرتا ہے، تب ان سے فی کلک کے حساب سے رقم وصول کی جاتی ہے اور حاصل ہونے والی آمدنی اس ویب سائٹ اور گوگل کے مابین تقسیم ہوتی ہے۔

اگر آپ انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ/بلاگ پر ایڈورٹائزنگ کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں، تو سب سے مؤثر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ گوگل کی ایڈسینس سروس حاصل کر لیں۔ اس طرح آپ پر سے ذمہ داری کافی کم ہوجاتی ہے، یعنی اشتہارات کی تیاری/وصولی، کمپنیز سے رابطہ، رقم کی وصولی، اشتہارات کے جملہ دفتری امور وغیرہ۔

یہ کن لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے؟

گوگل ایڈسینس پروگرام میں ویسے تو ہر کوئی شامل ہوسکتا ہے لیکن اس پروگرام میں کامیابی صرف ان ہی افراد کو ملتی ہے جو انٹرنیٹ پر لوگوں کے لیے مفید سرگرمیاں اور دلچسپ مواد فراہم کرتے ہیں، کیونکہ اس میں کامیابی کا جملہ انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کی ویب سائٹ یا بلاگ کو کتنے لوگ وزٹ کرتے ہیں۔ اور لوگ ایسی ہی ویب سائٹس اور بلاگز پر بار بار آتے ہیں جن میں دلچسپ اور تازہ ترین مواد ہر وقت موجود رہتا ہے۔

لہٰذا جو بھی تعلیم یافتہ شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ اپنے فارغ وقت میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کا کچھ اچھا کرسکتا ہے، تو انہیں اس سروس میں ضرور شامل ہونا چاہیے، جس سے معقول ماہانہ آمدنی بھی ہوتی ہے۔

اس وقت پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں افراد اس پروگرام سے منسلک ہیں، جن میں کمپیوٹر سائنس/آئی ٹی سے وابستہ افراد، تخلیق کار، استاد، لکھاری، بلاگرز، صحافی، گھریلو خواتین، طلبہ وطالبات، ڈاکٹرز، جز وقتی ملازمت پیشہ افراد اور دیگر شامل ہیں۔ اب سوال یہ کہ اس سے کتنی آمدنی ہو سکتی ہے، تو یہ آپ کی صلاحیتوں پر منحصر ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ماہانہ دس/بیس ہزار روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے تک کما رہے ہیں۔ گوگل کمپنی کے بقول اس نے سال 2014 میں دس ارب ڈالرز ایڈسینس پروگرام میں شریک افراد میں تقسیم کیے۔

مواد کس زبان میں ہونا چاہیے؟

گوگل ایڈسینس پروگرام میں شامل ہونے کے لیے لازمی ہے کہ آپ کی ویب سائٹ/بلاگ کا پرائمری مواد انگریزی زبان میں ہو جبکہ گوگل ایڈسینس کچھ دیگر زبانوں کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔

لیکن ابھی تک گوگل ایڈسینس اردو کو سپورٹ نہیں کرتا، (بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، گوگل آئندہ سال اردو زبان کو بھی شامل کرنے والا ہے) ویسے بھی اردو یا غیر منظور شدہ زبانوں میں موجود ویب سائٹس پر آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ کا مواد انگریزی یا دیگر منظور شدہ زبانوں میں ہو۔

بغیر محنت آمدنی؟

آپ نے میڈیا میں اس طرح کے اشتہارات ضرور دیکھے ہوں گے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بغیر کسی محنت کے ہر ماہ با آسانی لاکھوں روپے کمائیے۔ یہ سب جھوٹ ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ گوگل ایڈسینس سے بہتر اور مستقل آمدنی کے لیے کافی محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اس سے مناسب ماہانہ آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ اتنی ہی محنت آئی ٹی سے وابستہ کسی اور فیلڈ میں کریں تو شاید اس سے زیادہ آمدنی حاصل ہوجائے۔

زیادہ آمدنی کیسے حاصل ہو؟

پہلی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ گوگل نے آپ کو ڈالر نہیں دینے، بلکہ آپ نے گوگل کو ڈالر کما کر دینے ہیں، جس میں سے گوگل اپنا حصہ اٹھا کر باقی رقم آپ کو بھیج دیتا ہے۔

اس لیے زیادہ آمدنی کے لیے لازمی ہے کہ آپ کی ویب سائٹ /بلاگ سائٹ کا مواد کارآمد، یعنی اچھا اورمعیاری ہو۔

          پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں بلاگز اور ویب سائٹس گوگل ایڈسینس پروگرام میں شریک ہیں اور ماہانہ دس ہزار سے دس لاکھ روپے تک کما رہی ہیں۔          

یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، حقوق دانش (کاپی رائٹ) کی خلاف ورزی نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو، وغیرہ۔

ویب سائٹ/بلاگ خوبصورت اور جاذب نظر ہو، اور ڈیزائن ایسا ہونا چاہیے جسے قارئین با آسانی استعمال کرسکیں۔ ایسے مواد کا انتخاب کیا جائے جس میں انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت پڑھنے/سننے/دیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہو، جبکہ ہر روز اس میں کچھ نیا ضرور شامل ہو۔

مجھے کن مہارتوں کی ضرورت ہوگی؟

گوگل ایڈسینس پروگرام چونکہ بنیادی طور پر ویب سائٹ سے منسلک ہے، اس لیے آپ کو ویب سائٹ کے جملہ فنی امور میں مہارت ہونی چاہیے۔ ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تربیت کے بارے میں آپ میرے گذشتہ مضمون کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ جس میں ویب ڈولپمنٹ پر کافی معلومات موجود ہیں۔

دوسرا یہ کہ ویب سائٹ کی کامیابی/ناکامی کا اصل دارومدار اس کے مواد پر ہوتا ہے۔ آپ کی ویب سائٹ پر جتنا اچھا اور معیاری مواد ہوگا، آپ کی آمدنی کے امکانات اتنے ہی زیادہ روشن ہوں گے۔ اس لیے آپ کو مواد کی تیاری (content writing) میں مہارت ہونی چاہیے۔

اگر آپ ان دونوں چیزوں پر مہارت نہیں رکھتے تو پھر آپ کے پاس بنیادی سرمایہ ہونا چاہیے، تاکہ مواد کی تیاری اور فنی امور کے لیے پیشہ ور افراد کی خدمات بعوض معاوضہ حاصل کی جاسکیں۔

نئے راستے تلاش کریں

آج گوگل ایڈسینس سے بہت سے لوگ اور کمپنیز منسلک ہیں اس لیے زیادہ ترقی حاصل کرنے کے لیے آپ کو نئے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔ اگر آپ کے ذہن میں کاپی پیسٹ والا آئیڈیا ہے تو براہِ کرم اس سمت میں اپنا وقت برباد نہ کریں، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کچھ دیر گوگل کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوجائیں مگر قارئین/ناظرین کو بیوقوف مت سمجھیے، وہ صرف اور صرف اسی صورت میں آپ کی طرف متوجہ ہوں گے جب آپ کا کام معیاری ہوگا۔

اگر آپ گوگل ایڈسینس پروگرام میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے نئے آئیڈیاز تلاش کریں، جن سے لوگوں کی توجہ حاصل کی جاسکے۔

          اگر آپ کی ویب سائٹ کا مواد باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں ہوتا یا آپ کی ویب سائٹ پر زیادہ تعداد میں لوگ نہیں آتے، تو گوگل ایڈسینس میں شرکت کی درخواست عموماً مسترد ہو جاتی ہے۔          

اگر آپ کسی ویب سائٹ کو اپنا حریف تصور کرتے ہیں، تو سوچیے کہ آپ اپنے حریف کے مقابلے میں اپنی سروس کس طرح بہتر، منفرد اور ممتاز انداز میں پیش کریں گے؟

اس بات پر غور و فکر کریں کہ آپ کی ویب سائٹ پر کس طرح کا مواد ہوگا جس میں لوگوں کی دلچسپی ہو۔ ایسی کون سی انفارمیشن یا مواد آپ پیش کر سکتے ہیں جو پہلے سے انٹرنیٹ پر موجود نہ ہو، مگر اس کی انٹرنیٹ صارفین کو ضرورت بھی ہو؟

آپ کس طرح زیادہ تعداد میں لوگوں کو اپنی ویب سائٹ پر زیادہ وقت کے لیے مصروف رکھ سکتے ہیں؟ آپ لوگوں کو اپنی طرف کس متوجہ کریں گے یعنی سستی ویب ٹریفک کس طرح حاصل کریں گے؟

گوگل ایڈسینس میں شمولیت کیسے کی جائے؟

سب سے پہلے آپ کو گوگل ایڈسینس کے پروگرام اور پالیسی کا اچھی طرح مطالعہ کرنا چاہیے. آپ نے اپنے تھیم کے مطابق ایک ویب سائٹ/بلاگ سائٹ تیار کرنی ہے، جس میں ہر ہفتے کچھ بہتر اور معیاری مواد شامل کرنا ہے۔ اس کے بعد آپ کو اپنی ویب سائٹ کی تشہیر کرنی ہوگی تاکہ ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھے، جس کے لیے آپ سوشل میڈیا اور اپنے دوستوں کو ای میل کرسکتے ہیں۔ تقریباً 90 سے 120 دن کے بعد جب آپ کی ویب سائٹ پر مناسب ٹریفک ہوجائے، تب آپ کو گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کے لیے اپلائے کرنا چاہیے۔ عموماً غیرمعیاری مواد اور نامناسب ٹریفک کی وجہ سے گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے۔

رقم کیسےاور کب ملتی ہے؟

ہر ماہ کے آخر میں اگر آپ کی آمدنی سو ڈالر سے زیادہ ہو تو گوگل اس رقم کو اگلے ماہ کے آخر میں بھیجتا ہے۔ مثلاً ماہ جنوری کی ادائیگی 24 سے 25 فروری کو وصول ہوگی۔ گوگل پاکستان کے اندر ویسٹرن یونین کےذریعے رقم منتقل کرتا ہے۔ ویسٹرن یونین سے رقم آپ اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرواسکتے ہیں یا ان کے دفتر جا کر خود وصول کرسکتے ہیں۔

ایڈسینس کے بارے میں مزید معلومات

گوگل ٹیم کی جانب سے سائٹ اور مواد کو بہتر کرنے کے لیے آپ کو ہر ہفتے تجویز بھیجی جاتی ہیں جن پر عمل کر کے آپ اپنی ویب ٹریفک اور آمدنی بہتر کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یوٹیوب پر گوگل ایڈسینس ٹیم نے کافی تعداد میں ویڈیوز اپ لوڈ کر رکھی ہیں جو آپ کے لیے کافی مددگار ثابت ہوں گی، جن سے فارغ وقت میں استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سب سے اہم بات

اگر آپ زیادہ اور مستحکم آمدنی چاہتے ہیں تو ایسی ویب سائٹ تیار کریں جو امریکا، برطانیہ کے قارئین کی ضروریات کو پوری کرتی ہو کیونکہ اگر آپ کی ویب سائٹ پر پاکستان/انڈیا کے ویب صارف کلک کرتے ہیں تو اس کلک کی قیمت کم ہوگی مگر امریکا، برطانیہ کی ویب ٹریفک کے کلک کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر آپ کی ویب سائٹ پر روزانہ تین سو افراد پاکستانی آتے ہیں تو اندازاً 2 ڈالر یومیہ آمدنی ہوگی، لیکن اگر امریکا کے تین سو افراد وزٹ کرتے ہیں تو آپ کی آمدنی 12 ڈالر یومیہ متوقع ہے۔

This article published on dawn newspaper on 02 May 2016

Facebook Comments
Share

یوٹیوب: بے تحاشہ آمدنی کا آسان ذریعہ

اگر آپ نوجوان ہیں اور آپ کے پاس کچھ فارغ وقت ہے تو اپنے فارغ وقت کو سوشل میڈیا پر مفت میں خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ آپ یوٹیوب پر کچھ مفید کام کریں جسسے نہ صرف آپ کو کچھ آمدنی ہو بلکہ ہماری انٹرنیٹ سوسائٹی کو بھی فائدہ ہو۔

اس طرح معاشرے کی خدمت کے ساتھ ساتھ اضافی آمدنی بھی ہوسکتی ہے اور اگر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ یہ کام کریں تو نوکری سے زیادہ آمدنی بھی ہوسکتی ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ یوٹیوب کو استعمال کر کے لاکھوں ڈالر سالانہ کما رہے ہیں۔ یہ لوگ کرتے صرف یہ ہیں کہ منفرد تصورات پر مبنی ویڈیوز بناتے ہیں، اور اپنے چینلز پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ سننے میں سادہ اور آسان لگتا ہے نا؟

یہ سادہ اور آسان ہے بھی۔

یہ کن لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے؟

سب سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ویسے تو یوٹیوب پر کام ہر وہ شخص کر سکتا ہے جس کو اس کا شوق ہو، لیکن ویڈیو مواد کی تیاری بہرحال ایک مشکل مرحلہ ہے، اس لیے یہ ان افراد کے لیے زیادہ موزوں ہے جو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً تخلیق کاروں، اساتذہ، وڈیو بلاگز، صحافی، فن کار، گلوکار، جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکشن کے طلبہ و طالبات وغیرہ۔

یوٹیوب کا تعارف

یوٹیوب کے بارے میں تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ یہ دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ہے جس پر کوئی بھی شخص یا کمپنی اپنی ویڈیو اپ لوڈ کر سکتی ہے، جبکہ کوئی بھی شخص بغیر کسی ممبر شپ کے یہ ویڈیو دیکھ سکتا ہے۔

یوٹیوب کسی بھی صارف سے ویڈیو نشر کرنے یا یوٹیوب پر شائع شدہ ویڈیو دیکھنے کے لیے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، (ماسوائے قابل فروخت ویڈیو مواد کے)۔

ویسے تو یوٹیوب 2005 میں قائم ہوئی لیکن اس کی اصل ترقی اس وقت ہوئی جب اس کو دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل انکارپوریٹڈ نے 2006 میں خرید لیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب گوگل/یوٹیوب نہ تو دیکھنے والے سے پیسے وصول کر رہی ہے اور نہ ہی ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے سے، تو یوٹیوب کے اخراجات کون ادا کرتا ہے؟

ٹی وی اور اخبارات کی طرح گوگل اور یوٹیوب بھی اشتہارات سے خوب منافع کماتے ہیں۔ یاد رہے کہ گوگل کو کل آمدنی کا 95 فیصد حصہ اشتہارات سے حاصل ہوتا ہے۔

یوٹیوب سے آمدنی ان طریقوں سے ہوسکتی ہے۔

1: یوٹیوب کا پارٹنرشپ پروگرام

2: ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ

یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام

اس پروگرام کے ذریعے یوٹیوب آپ کی تیار کردہ ویڈیو سے ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ آپ کو دیتی ہے۔ یو ٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں ہر ایک کو شامل نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ اگر آپ کی ویڈیو میں جان ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اس کو پسند کرتی ہے، تو اس کو یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں شامل کیا جاتا ہے، جس سے آپ کو کافی معقول آمدنی ہوسکتی ہے۔ یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام کے لیے لازمی ہے کہ آپ کا ویڈیو مواد معیاری ہو اور زیادہ سے زیادہ ناظرین کی دلچسپی سے متعلق ہو، تاکہ آپ کے چینل کو زیادہ سے زیادہ لوگ سبسکرائب کریں۔

ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ

بہت سے لوگوں کو تو اس چیز کا علم ہوگا، لیکن جن کو اس کے بارے میں علم نہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ کوئی بھی ویب سائٹ یا بلاگ سائٹ اپنی ویب سائٹ پر اشتہارات کی ذمہ داری گوگل کے سپرد کر دیتی ہیں، جس پر گوگل اپنی مرضی سے اشتہارات شائع کرتا ہے، اور اشتہارات سے جو آمدنی ہوتی ہے، وہ گوگل اور ویب سائٹ کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔

آج کل اس کی شرحِ تقسیم 32:68 ہے۔ یعنی ہر سو ڈالر میں سے 68 ڈالر ویب سائٹ کو اور 32 ڈالر گوگل میں تقسیم ہوتے ہیں۔ گوگل ایڈسینس سے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ویب سائٹس منسلک ہیں۔ خود پاکستان میں تقریباً تمام ہی بڑی ویب سائٹس کی زیادہ تر آمدنی گوگل ایڈسینس سے ہوتی ہے۔

ایڈسینس کی ایک اور قسم ’ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ‘ ہے، جس میں یوٹیوب پر ویڈیو کے اندر اشتہارات نشر ہوتے ہیں، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے اور گوگل کے درمیان ایک خاص شرح سے تقسیم ہوتی ہے۔ ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ اگر آپ گوگل کی پالیسیوں کے مطابق کام کرتے ہیں تو اس سے اچھی خاصی ماہانہ آمدنی ہوتی ہے۔

یوٹیوب چینل قائم کرنا

اگر آپ ویڈیو کے شعبے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور آپ کی عمر 18 سال سے زیادہ ہے تو آپ یوٹیوب پر اپنا ذاتی چینل قائم کرسکتے ہیں، جس کا طریقہء کار بہت آسان ہے۔ صرف ایک ای میل ایڈریس کی مدد سے آپ یوٹیوب پر اپنا چینل شروع کرسکتے ہیں۔ یوٹیوب پر اپنا چینل قائم کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، جس میں اس کا بالکل مفت ہونا، اس کا مشہور ہونا، تازہ ویڈیو مواد کا خودکار طریقے سے سرچ انجن میں شامل ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

کس قسم کا مواد نشر کیا جاسکتا ہے؟

یوٹیوب کی طرف سے رجسٹرڈ اکاوئنٹ ہولڈرز کو لامحدود ویڈیو مواد نشر کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں، جن میں یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، حقوقِ دانش (کاپی رائٹ) کی خلاف ورزی نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو، وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ اپنی پسند کا کوئی بھی مواد نشر کرسکتے ہیں۔

لیکن سب سے ضروری یہ ہے کہ وہ مواد آپ کے ناظرین کی دلچسپی کا ہو، ورنہ نہ تو آپ کا یوٹیوب چینل مقبول ہوگا، اور نہ ہی آپ کو اس سے آمدنی ہوگی۔ اس لیے ویڈیو کی تیاری اور اپ لوڈ کرنے سے پہلے اس طرف توجہ دینی بہت ضروری ہے کہ اس میں لوگوں کی دلچسپی کا کوئی نہ کوئی عنصر لازمی ہو۔

اپنے چینل پر کوئی بھی ویڈیو اپ لوڈ کرنے سے پہلے اچھی طرح یوٹیوب کے قواعد و ضوابط و پالیسی کا مطالعہ کریں، اور کوئی بھی ایسی ویڈیو اپ لوڈ نہ کریں جو یوٹیوب کے پروگرام اور پالیسی کے خلاف ہو، ورنہ آپ کا چینل یا ایڈسینس اکاؤنٹ بند بھی ہوسکتا ہے۔

ویڈیو کی تیاری

کوالٹی: ویڈیو مواد کی تیاری کرتے وقت کچھ بنیادی باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ سب سے بنیادی بات تو یہ کہ اس کی پکچر کوالٹی اور آواز اچھی کوالٹی کی ہو۔ آج کل ‘ایچ ڈی’ کوالٹی کی ویڈیوز زیادہ مقبول ہیں۔

ویڈیو مختصر ہو: سوشل میڈیا پر لوگ ایسے مضامین اور ویڈیوز نہیں پڑھتے اور دیکھتے جو زیادہ طویل ہوں، اس لیے اس کی لمبائی مناسب ہونی چاہیے۔ چند منٹ کی ویڈیو تیار کرنا اور اپ لوڈ کرنا آپ کے لیے زیادہ آسان ہوگا، اور ناظرین بھی بور نہیں ہوں گے۔ اپنے چینل کے لیے ویڈیو کے تیاری کے لیے صرف ایسے موضوعات کا انتخاب کریں جو آپ کے متوقع ناظرین کی پسند کے ہوں تاکہ آپ کو اپنے چینل پر ناظرین لانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اپنے چینل کو مقبول کرنا

آپ نے یوٹیوب پر اپنے چینل قائم کر دیا، اور اچھی ویڈیو بھی اپ لوڈ کردی، لیکن صرف اس سے آپ کو آمدنی شروع نہیں ہو جائے گی، بلکہ آپ کو اپنے وزیٹرز/ناظرین تک اپنا پیغام پہنچانا ہوگا، یعنی اپنے چینل کی مارکیٹنگ آپ کو خود ہی کرنی ہوگی۔

اس کے لیے آپ سوشل میڈیا کی دوسری سائٹس مثلاً فیس بک، فین بکس، ٹوئٹر اور دوستوں کو ای میل کر کے کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سوشل میڈیا پیجز پر باقاعدہ اشتہار بھی دے سکتے ہیں تاکہ آپ کی ویب ٹریفک زیادہ ہو۔

ویب ٹریفک بڑھنا یا اپنے چینل کی مارکیٹنگ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ گوگل ایڈسینس کی آمدنی وزیٹرز کی تعداد سے منسلک ہے۔ ایڈسینس کے اشتہارات جو آپ کی ویڈیو میں نشر ہوتے ہیں، ان پر ہر کلک کے پیسے ہوتے ہیں، اور عموماً ایک ہزار ویوز پر ایک مخصوص رقم ادا کی جاتی ہے۔ یعنی زیادہ آمدنی کے لیے زیادہ ویب ٹریفک۔

یوٹیوب سے یوٹیوب کو سیکھنا

ویسے تو بے شمار لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آپ کو آن لائن کمانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں، لیکن عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ ان میں سے اکثر فراڈ ہیں، اور ان کے پاس کوئی خاص علم نہیں ہوتا۔

ان کی طرف وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ آپ خود سیکھنے کی کوشش کریں۔ تقریباً تمام ہی ضروری معلومات آپ کو خود یوٹیوب سے مل سکتی ہیں۔ اس کے لیے ’ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان‘ کے اس موضوع پر ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جو ویڈیو کی تیاری میں کافی مدد گار ہوسکتے ہیں۔

ان پروگرام کے کورس کوڈز یہ ہیں۔

ایم سی ڈی 403، میوزک پروڈکشن

ایم سی ڈی 404، آڈیو ویژوئل ایڈیٹنگ

ایم سی ڈی 503، نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز

ان پر کئی گھنٹوں کی ویڈیوز آن لائن فری میں دستیاب ہیں۔ آپ یوٹیوب پر کورس کو نام سے سرچ کرسکتے ہیں اور یوں آپ کو مکمل ویڈیو کورس دستیاب ہوجائے گا۔

کوشش کریں

بس اگر آپ کو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کرنے کا شوق ہے یا آپ پہلے سے اس فیلڈ سے منسلک ہیں، تو آپ کو ضرور اس سمت میں بھی کوشش کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے آپ کو کافی مالی فائدہ حاصل ہو۔

لہٰذا دیر مت کریں۔ فارغ رہنے سے کچھ کوشش کرنا زیادہ بہتر ہے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ آپ ناکام ہو جائیں گے اور کوئی آمدنی نہیں ہوگی۔ لیکن پھر بھی آپ بہت کچھ سیکھ چکے ہوں گے، جیسا کہ ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ “جذبہ ماند پڑے بغیر ایک ناکامی سے دوسری ناکامی تک جانے کا نام ہی کامیابی ہے۔”

This article published on dawn newspaper on 14 April 2016

Facebook Comments
Share