مضمون نگاری سے گھر بیٹھے آمدنی ممکن

مضمون نگاری سے گھر بیٹھے آمدنی ممکن تحریر : حسن اکبر انٹرنیٹ پر مختلف نوعیت کی ایسی کئی ویب سائٹس موجود ہیں جن پر ہر روز لاکھوں کی تعداد میں قارئین آتے ہیں۔ ان ویب سائٹس میں منفرد و عجیب خبریں، صحت و فٹنس، کارآمد مشورے اور تراکیب سے آگاہ کرنے والی ویب سائٹس ایسی ہیں جنہیں اپنے قارئین کے سامنے پیش کرنے کے لیے ہر وقت نئی اور دلچسپ معلومات درکار ہوتی ہیں۔ یہ اس لیے ضروری ہے تاکہ وزیٹرز کی تعداد میں کمی نہ ہو، اور وہ اس ویب سائٹ پر زیادہ سے زیادہ وقت صرف کریں۔ لہٰذا تمام ہی ویب سائٹس کو ایسے افراد کی تلاش ہوتی ہے جو ان کے لیے معیاری مواد تیار کر سکیں۔ ایسے دلچسپ مضامین تحریر کرنے کو ‘کونٹینٹ رائٹنگ’ کہا جاتا ہے۔ ایسے افراد کو ویب سائٹ مالکان اچھا معاوضہ دیتے ہیں۔ دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی کونٹینٹ رائٹنگ کا کام فل ٹائم نوکری اور بطور فری لانسر، دونوں طرح سے ہوتا ہے۔ کونٹینٹ رائٹر کرتے کیا ہیں؟ کونٹینٹ رائٹر ایسے شخص کو کہتے ہیں جو کسی ویب سائٹ کے تھیم کے مطابق تحاریر تیار کرنے میں مہارت رکھتا ہو۔ ہر ویب سائٹ اپنا ایک مخصوص حلقہء قارئین رکھتی ہے، اس لیے کونٹینٹ رائٹر کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ اپنے قارئین کی دلچسپی اور فرمائش کے مطابق مواد تیار کرے۔ ویب سائٹس کے قارئین کی زیادہ تعداد سرچ انجنز (گوگل وغیرہ) سے آتی ہے، اس لیے کونٹینٹ رائٹر کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ وہ مضمون/مواد کو اس طرح ترتیب دے، جس سے وہ سرچ انجنز میں واضح طور پر نظر آئے تاکہ قارئین کی تعداد میں اضافہ ہو۔ اس مقصد کے لیے مواد کے مطابق کی ورڈز (کلیدی الفاظ) پر خاص توجہ دی جاتی ہے۔ اس کی تنخواہ کتنی ملتی ہے؟ پاکستان میں فل ٹائم جاب کی صورت میں اس کی تنخواہ 18 سے 20 ہزار روپے ماہانہ سے شروع ہوتی ہے۔ ایسے افراد جو انگریزی مضمون نگاری اور اس فن میں مہارت رکھتے ہوں، ان کے لیے مواقع ہر وقت موجود ہیں۔ کونٹینٹ رائٹنگ کو پارٹ ٹائم یا گھر بیٹھے/فری لانسنگ کے طور پر بھی کیا جاسکتا ہے۔ اس کا مشاہرہ ماہانہ کے بجائے فی لفظ یا فی مضمون ہوتا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی کلائنٹس ایک مضمون کا معاوضہ پانچ ڈالر سے 150 ڈالر تک ادا کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ فری لانسرز کا زیادہ تر کام بیرون ممالک سے آتا ہے، اور فل ٹائم کام کرنے سے یہ کہیں زیادہ بہتر ہے۔
کونٹینٹ رائٹنگ اور پرنٹ میڈیا رائٹنگ میں فرق روایتی پرنٹ اخبارات و میگزین میں مضمون نگاری، کالم نگاری، فیچر اسٹوری وغیرہ کے کام اور کونٹینٹ رائٹنگ ویسے تو تقریباً یکساں نوعیت کے ہی ہیں، لیکن چونکہ دونوں کا میڈیئم (اظہار کا طریقہ) مختلف ہیں، اس لیے ان دونوں میں کچھ فرق ہیں۔ آن لائن قارئین زیادہ باریکی سے مضمون کا مطالعہ کرتے ہیں، آن لائن مضامین زیادہ طویل نہیں ہوتے، کسی واقعے/خبر/مضمون کو دو بار لکھنے کے بجائے اس مضمون کا لنک دیا جاتا ہے۔ پیراگراف مختصر اور مضمون مختلف حصوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ کونٹینٹ رائٹنگ میں کن چیزوں کو مدنظر رکھنا ضروری ہے؟ وہ بنیادی نقاط (زبان، طرزِ تحریر، گرامر وغیرہ) جو مضمون نویسی کے لیے ضروری ہیں، ان کا خیال لازمی کریں۔ سب سے زیادہ معاوضہ انہی مضامین کا ملتا ہے، جو زبان و بیان کی غلطیوں سے پاک ہوں۔ ویب سائٹس پر لوگ چونکہ زیادہ تر ٹھہرتے نہیں، اس لیے بہت ضروری ہے کہ آپ کا مضمون مختصر اور جامع ہو۔ عموماً قارئین پانچ سو سے ایک ہزار تک کے الفاظ پر مشتمل مضمون زیادہ پڑھتے ہیں۔ اگر مضمون اس سے تھوڑا بھی زیادہ طویل ہوا تو عین ممکن ہے کہ اسے مکمل پڑھنے والے افراد انگلیوں پر گننے جتنے ہی ہوں گے۔ کبھی بھی کسی دوسرے کا مواد اس کی اجازت کے بغیر اپنے مضمون میں شامل نہ کریں، ایک تو یہ غیر اخلاقی حرکت ہے، دوسرا یہ حقوق دانش (کاپی رائٹ) کی خلاف ورزی ہے۔ یہ خیال رہے کہ اس طرح کی حرکت زیادہ چھپ نہیں سکتی۔ اشتہار دینے والی کمپنیاں اور سرچ انجن باآسانی اس کا پتہ لگا لیتے ہیں اور اس ویب سائٹ کو منفی درجہ دے دیتے ہیں۔ کون کون سی مہارتیں درکار ہیں؟ کونٹینٹ رائٹنگ کا کام بنیادی طور پر دماغی کام ہے، اس کے لیے بہت زیادہ فنی مہارتوں کی ضرورت نہیں۔ اس شعبے میں کامیابی کے لیے صرف اور صرف آپ کی تحریر میں جان ہونی چاہیے، جس کے لیے وسیع مطالعہ اور فکر میں پختگی لازمی ہے۔ کونٹینٹ رائٹنگ کے لیے آپ کو کمپوزنگ آنی چاہے کیونکہ ہاتھ سے لکھی تحریریں آن لائن قبول نہیں کی جاتیں۔ اس کے علاوہ آپ کو کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کے بنیادی فنی امور سے آگاہی ہونی چاہیے، جس میں سرچ انجنز اور سوشل میڈیا کا مؤثر استعمال شامل ہے۔ کونٹینٹ رائٹنگ کا کام کہاں سے ملے گا؟ اگر آپ کو کونٹینٹ رائٹر کی جاب کی تلاش ہے تو اخبارات اور جاب ویب سائٹس کی طرف توجہ دیں۔ ویسے کونٹینٹ رائٹنگ کا زیادہ تر کام بطور فری لانسر ہوتا ہے، یعنی آپ کسی آفس میں جانے کے بجائے اپنے گھر میں بیٹھ کر کام کرتے ہیں۔
پاکستان کے اندر اور بیرون ممالک میں کونٹینٹ رائٹنگ کی کافی طلب ہے۔ اس وقت نہ صرف پاکستان بلکہ ہندوستان اور بنگلہ دیش سمیت دنیا بھر میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین و حضرات اس شعبہ سے وابستہ ہیں اور اپنی صلاحیت اور تجربے کی بنیاد پر ہر ماہ سینکڑوں سے ہزاروں ڈالرز کما رہے ہیں۔ فری لانس کام کی تلاش کے دو طریقے ہیں۔ پہلا انفرادی، اس کے لیے آپ اپنی پسند کا کچھ مواد تیار کریں اور اس کو کسی فری بلاگ سائٹ پر پوسٹ کر دیں۔ اس کے بعد آپ اپنے مطلب کی ویب سائٹس سے رابطہ کریں اور انہیں اپنے کام کا نمونہ اس بلاگ سائٹ کے لنک کی صورت میں پیش کریں۔ اس کے علاوہ مڈل مین ویب سائٹس کے ذریعے بھی کام تلاش کیا جاسکتا ہے۔ یہ ویب سائٹس کام فراہم کرنے اور کام کرنے والے، دونوں ہی فریقوں سے کام مکمل ہونے کے بعد بل میں سے اپنا کمیشن وصول کرتی ہیں، لیکن ان کی سروس اتنی شاندار ہے کہ ان کا کمیشن ادا کرتے ہوئے خوشی ہوتی ہے۔ اپ ورک، ای لانس، او ڈیسک، گرو، فری لانسر، 99 ڈیزائنز، اور مائیکرو ورکرز اس طرح کی مشہور ویب سائٹس ہیں۔ کونٹینٹ رائٹنگ کہاں سے سیکھیں؟ کونٹینٹ رائٹنگ کا فن بنیادی طور پر مضمون نگاری ہی ہے، اور اگر آپ کو مضمون نگاری میں مہارت ہے تو آپ کو صرف کچھ ہی امور سے آگاہی کی ضرورت ہے۔ اس موضوع پر یوٹیوب پر بے شمار ویڈیوز دستیاب ہیں، جبکہ فیچر رائٹنگ کے موضوع پر ورچوئل یونیورسٹی پاکستان کا کورس مفت آن لائن دستیاب ہے. جو تمام چیزیں فیچر رائٹنگ کے لیے ضروری ہیں، وہی چیزیں کونٹینٹ رائٹنگ کے لیے بھی ضروری ہیں۔ اس کورس پر وقت صرف کرنے سے آپ کی صلاحیت میں نکھار آسکتا ہے۔ صرف یہی نہیں، بلکہ انٹرنیٹ پر اس حوالے سے اور بھی زیادہ معلومات دستیاب ہیں جن کا فائدہ اٹھاتے ہوئے آپ بھی کونٹینٹ رائٹنگ کے ذریعے گھر بیٹھے معقول آمدنی حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ مضمون سب سے پہلے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کی ویب سائٹ پر مورخہ 17 مئی 2016 کو شائع ہوا۔

Facebook Comments
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *