جنم دیتے ہیں ان کا ذکر ضرور یہاں کرنا چاہوں گا۔ صاف پانی اور خوراک کے مسائل لاہور میں فی الوقت تو صاف اور میٹھا پانی دستیاب ہے مگر اس کی سطح تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے۔ اس وجہ سے شہر کی آبادی کا بڑا حصہ، خاص طور پر گنجان علاقوں میں صاف پانی اور نکاسی آب کے مسائل میں بے پناہ اضافہ ہو رہا ہے۔ لاہور کی آبادی ایک کروڑ سے زائد افراد پر مشتمل ہے۔ یہ بھی ایک اندازے کے مطابق شرح ہے کیونکہ گذشتہ دس سالوں سے ملک میں نہ تو مردم شماری ہوئی ہے اور نہ ہی کسی باوثوق ذمہ دار ادارے کے پاس آبادی سے متعلق درست اعداد و شمار موجود ہیں۔ ایک کروڑ کی آبادی کے لیے ہر روز بڑی تعداد میں اشیاء خورد و نوش کی ضرورت پڑتی ہے۔ افسوس کے ساتھ طلب و رسد میں عدم توازن کی وجہ سے شہر میں ملاوٹ شدہ اور ناقص اشیا خوارک بھی ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو جاتی ہیں۔ ایک غیر سرکاری اندازے کے مطابق لاہور میں ہر روز 30 لاکھ لیٹر تازہ دودھ کی ضرورت پڑتی ہے۔ لاہور کی شہری حکومت نے لاہور میں مویشی پالنے پر پابندی عائد کر رکھی ہے لہٰذا تمام ڈیری فارمز شہر کے اردگرد قصبوں اور دیہاتوں میں واقع ہیں۔ ضلعی انتظامیہ نے دودھ کے نرخ 65 روپے فی لیٹر مقررکر رکھے ہیں مگر فارمز شہر کے باہر ہونے کی وجہ سے لوگوں کو دودھ 70 سے 85 روپے فی لیٹر فروخت کیا جاتا ہے۔ جبکہ وہ دودھ بھی ناقص معیار کا ہوتا ہے کیونکہ دودھ کی رسد، طلب کے مقابلے میں انتہائی کم ہے۔ تھوڑا معیاری دودھ 100 سے 110 روپے فی لیٹر فروخت ہوتا ہے، لہٰذا کم آمدنی والے افراد جو آبادی کا بڑا حصہ ہیں،

لاہور: باغات کے شہر سے مسائل کے گڑھ تک

لاہور: باغات کے شہر سے مسائل کے گڑھ تک پنجاب پاکستان کا سب سے زیادہ کثیر آبادی والا صوبہ ہے جو اس وقت دس کروڑ سے زیادہ نفوس پر مشتمل ہے۔ دنیا کے دیگر، ترقی یافتہ حصوں میں اتنی بڑی آبادی کے ملک ہوتے ہیں نہ کہ صوبے۔ بابائے سیاسیات ارسطو نے فرمایا تھا کہ ریاست کی آبادی بہت زیادہ نہیں ہونی چاہیے تاکہ ریاست اپنی ضروریات کے لحاظ سے خود کفیل ہو۔ افسوس کہ ارسطو کی یہ بات ہمارے حکمران طبقے کے کانوں تک نہیں پہنچی۔ پنجاب میں مزید صوبوں کا قیام ایک سیاسی مسئلہ بن چکا ہے اور جب تک اقتدار حکمران جماعت پاکستان مسلم لیگ ن کے پاس ہے، مزید صوبوں کا قیام نہیں ہو پائے گا حالانکہ صوبائی اسمبلی مزید دو صوبوں کے قیام کی قرارداد کثرتِ رائے سے منظور کرچکی ہے۔ مگر سیاسی مصلحتوں کے تحت پنجاب میں مزید صوبے قائم نہ ہونے کی وجہ سے صوبائی دارالحکومت لاہور تیزی سے سماجی مسائل کا شکار ہو رہا ہے۔ اس معاملے کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ لاہور اتنی بڑی آبادی کے صوبے کا واحد دارالحکومت ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2014 میں پنجاب میں سب سے زیادہ جرائم لاہور میں ہوئے جبکہ پنجاب بھر کی مجموعی طور پر صوبے میں جرائم کی شرح میں پورے ایک سو دس اضافہ ہوا۔ لاہور میں مسائل کی وجہ؟ عموماً یہ خیال کیا جاتا ہے کہ لاہور کے سماجی مسائل نئی بات نہیں ہیں، یہ وہی مسائل ہیں جن کا سامنا کراچی اور ممبئی جیسے بڑے شہروں کو بھی ہے۔

لیکن جناب ان شہروں کے ساتھ ساحلی بندرگاہیں ہیں جن کی وجہ سے ان میں روزگار کے مواقع کی زیادتی ہونا ایک فطری عمل ہے۔ جبکہ لاہور کا سب سے بڑا مسئلہ اتنے بڑی آبادی کا واحد دارالحکومت ہونا ہے۔ اگر پنجاب میں مزید انتظامی یونٹ قائم کیے جائیں تو نہ صرف پنجاب کی خوشحالی و بہبود میں اضافہ ہوگا بلکہ لاہور کے مسائل خود بہ خود کم ہوجائیں گے۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ حکومت ان سماجی مسائل کو تسلیم کرتی اور مستقل بنیادوں پر ان کے حل کرنے پر غور کرتی مگر یوں لگتا ہے کہ حکومت نے اشتہارات کی طاقت سے ان مسائل کو میڈیا سے تقریباً غائب ہی کر دیا ہے اور پورے ملک میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ، ’’اگر ملک کے کسی شہر میں ترقی، امن اور خوشحالی قائم ہے تو وہ لاہور ہے‘‘۔ مگر یہ خیال حقیقت سے کوسوں دور ہے۔ شہر کی اراضی اور آبادی آبادی کے بڑھتے سیلاب سے لاہور میں سماجی مسائل تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔ اگر پالیسی سازوں نے دور اندیشی سے ان مسائل کے برے اثرات کو روکنے کے لیے ٹھوس اقدامات نہیں اٹھائے تو ممکن ہے کہ لاہور کے مسائل، کراچی کی طرح پورے ملک کے لیے مشکلات کا باعث بن سکتے ہیں۔ ہر شہر میں آبادی اور زمینی لحاظ سے ایک محدود گنجائش موجود ہوتی ہے اور بہترین سے بہترین نظام یا شہری حکومتیں گنجائش سے زیادہ بڑے شہر کے مسائل کو حل کرنے سے قاصر ہوجاتی ہیں۔ پھر لاقانونیت، تشدد، بدامنی کا ایک نہ ختم ہونے والا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے جس کے نتیجے میں نہ صرف معاشی و اقتصادی صورت حال پر منفی اثر پڑتا ہے بلکہ حقِ حکمرانی پر بھی سوالات اٹھتے ہیں۔ ویسے تو لاہور کے مسائل کی عکاسی ایک بلاگ میں نہیں کی جاسکتی مگر چند اہم بنیادی مسائل جو کہ آگے جا کر بڑے مسائل کو

repaair
lahore-baghaat-ke-sheher-se-masaeyl-ke-garh-tak-hasan-akbarakbar-p06

Facebook Comments
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *