اکثر
دیکھا گیا ہے کہ بعض طالب علموں کے امتحان میں اچھے نمبر نہیں آتے، حالانکہ
انہوں نے کافی زیادہ پڑھائی کی ہوتی ہے، جبکہ کچھ طالب علموں کے نمبر زیادہ
آتے ہیں حالانکہ انہوں نے کم پڑھائی کی ہوتی ہے۔



عموماً
لوگ اس کو قسمت کا کھیل کہتے ہیں۔ اس کے بھی امکان ہیں کہ یہ اتفاقاً ہوا ہو،
لیکن بعض ماہرینِ تعلیم کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ جو طالب علم اپنی پڑھائی
کی اچھی منصوبہ بندی کرتے ہیں ان کے نمبر زیادہ اور جو طالب علم بغیر کسی
منصوبہ بندی کے پڑھائی کرتے ہیں، ان کے نمبر کم آتے ہیں۔



تعلیمی
ماہرین کے مطابق پڑھائی کی منصوبہ بندی کے لیے مندرجہ ذیل امور پر نظر رکھنی
چاہیے:



اول:
ہدف/گول



دوم:
وقت کی منصوبہ بندی



سوم:
کورس کی منصوبہ بندی



چہارم:
بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ



ہدف یا گول:



پڑھائی کی
منصوبہ بندی کے لیے سب سے پہلے آپ کا کوئی ہدف ہونا چاہیے۔ ہدف کئی طرح کے
ہوسکتے ہیں، مثلاً "میں نے اپنی کلاس میں ٹاپ کرنا ہے، میں نے 90 فیصد نمبر
لینے ہیں، میں نے اس مضمون میں ٹاپ کرنا ہے، میں نے تعلیم کے ذریعہ اپنے فیملی
کو اوپر اٹھانا ہے۔"



یہاں اس
بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پڑھائی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے، پڑھائی یا تعلیم
کامیابی نہیں۔ یعنی آپ کے پاس کامیابی حاصل کرنے کا ایک اچھا آلہ موجود ہے۔



واضح ہدف
انسان میں جذبہ پیدا کرتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کسی طالب علم کا پڑھائی
میں کوئی ہدف ہی نہیں تو وہ زیادہ محنت کیوں کرے گا، وہ بس اتنی محنت کرے گا کہ
امتحان میں پاس ہوجائے۔



عموماً
دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت زیادہ خوشحال گھرانوں کے بچے زیادہ تعلیم حاصل نہیں
کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کسی کا تعلیم حاصل کرنے کے پسِ پردہ اپنا ایک ہدف
ہوتا ہے، جیسے خود کو متوسط طبقے سے اونچے طبقے میں لانا وغیرہ۔



ہدف ہی
انسان میں وہ جذبہ پیدا کرتا ہے جس کی وجہ آپ کو نہ موسم کی شدت کا احساس ہوتا
، نہ ہی آپ کا دل سماجی زندگی اور میل جول کم ہونے پر رنجیدہ ہوتا ہے، اور نہ
ہی آپ دس بارہ گھنٹے پڑھائی کر کے تھکتے ہیں۔



آپ اپنے
ہدف سے جتنا پیار کریں گے یا ہدف کے حصول کے لیے جتنی جدوجہد کریں گے، آپ کی
کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے، لہٰذا پڑھائی کی منصوبہ بندی کے لیے
سب سے پہلے آپ کو اپنا کوئی بڑا ہدف مقرر کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ بڑے ہدف کے
بغیر آپ کے اندر جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا۔



وقت کی منصوبہ بندی:



وقت کی
منصوبہ بندی سے مراد یہ ہے کہ بطور طالب علم آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس
سوال/یونٹ/باب کومجھے لازمی اس وقت تک تیار کرنا ہے۔ اس ہی طرح امتحان یا کلاس
ٹیسٹ میں اس سوال کو کتنے منٹ میں ختم کرنا ہے۔ کئی دفعہ طالب علم یہ شکایت
کرتے نظر آتے ہیں کہ:



مجھے
امتحان میں دو سوال اور بھی آتے تھے لیکن ٹائم ہی ختم ہوگیا۔



بیٹا جلدی
جلدی کرنا تھا۔



کیسا کرتا
جلدی، سوالات کے جوابات ہی بہت طویل تھے۔



اس طرح کی
صورت حال سے صاف ظاہر ہے کہ طالب علم نے اپنے امتحان کی منصوبہ بندی نہیں کی
تھی، یا ناقص منصوبہ بندی کی ہے جس میں وقت کا خیال نہیں کیا۔ اس صورت میں اگر
جوابات طویل تھے تو ان کو مختصر کیا جاسکتا تھا۔ اور اگر طالبِ علم کی لکھنے کی
رفتار کم تھی تو اس کو بھی پریکٹس سے بہتر کیا جاسکتا تھا۔ وقت کی منصوبہ بندی
میں یہ طے کرنا چاہیے کہ کتنا کورس کتنے ٹائم میں تیار کرنا ہے۔



کورس کی منصوبہ بندی:



کورس کی
منصوبہ بندی کے لیے بہتر یہ ہے کہ جب کسی طالب علم کا تعلیمی سال شروع ہو تو وہ
اپنے وقت کے حساب سے اپنے تمام کورس کی منصوبہ بندی کر لیں۔ فرض کریں کہ اگر
آپ کے کل آٹھ مضمون ہیں اور ہر مضمون کے 9 باب ہیں۔ اور ہر یونٹ کے 5 موضوعات/سوالات
ہیں، تو کل 360سوالات یا موضوعات بنتے ہیں۔ یعنی تین سوالات یومیہ کے حساب سے
یہ 120 دن (چار ماہ) میں آپ کا کورس مکمل ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر اس طرح منصوبہ
بندی کی جائے تو بہت آسانی کے ساتھ ایک سال میں کورس کی دو دفعہ تیاری ہوسکتی
ہے۔



بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ:



ہر طالب
علم میں کچھ نہ کچھ بنیادی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ عموماً طالب علم ان کمزوریوں کی
وجہ سے اچھے نتائج حاصل نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے ان میں بددلی پیدا ہوتی ہے
اور ان کا دل پڑھائی کرنے کو نہیں کرتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ بہت باریک بینی سے
ان خامیوں کی نشان دہی کی جائے اور ان خامیوں کو دور کیا جائے۔



سادہ سی
مثال ہے کہ اگر کوئی مستری ایک دیوار تعمیر کر رہا ہے اور اس دیوار کی بنیادی
اینٹ ٹیڑھی چن رہا ہے تو وہ دیوار جوں جوں بڑھتی جائے گی، اس کے لیے قائم رہنا
مشکل ہوتا جائے گا اور جلد ہی وہ اپنے وزن سے گر جائے گی۔ اس ہی طرح بنیادی
مہارتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اکثر طالب علم بڑی کلاسز میں بری طرح ناکام
ہوتے ہیں، جس میں سے ایک کمزوری ہے



املا کی غلطیاں اور ذخیرہ الفاظ کی کمی:



یہ بہت ہی
عام مسئلہ ہے۔ کئی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ طالب علموں کی اردو/انگریزی
تحریر میں املا کی بہت غلطیاں ہوتی ہیں، نیز ان کو زبان کی بول چال میں دقت کا
سامنا اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ ان کے پاس ذخیرہ الفاظ کی کمی ہوتی ہے۔



ویسے اس
مسئلے کو چھوٹی کلاسز میں حل ہو جانا چاہیے، لیکن خیر جو ہو گیا، سو ہو گیا۔
ماضی کی غلطی کو اب ٹھیک کرنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے تعلیمی سال کے شروع میں اس
طرف خاص توجہ دینی چاہیے تاکہ طالب علم کے نمبر کم از کم غلط املا کی وجہ سے کم
نہ ہوں۔



مشکل مضمون کا مردانہ وار مقابلہ:



طالب علم
کا جو مضمون کمزور ہے، اس پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ بھی طالب علم کے
لیے آسان ہو جائے۔ کبھی بھی کمزور مضمون کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ
اس کا سامنا کرنا چاہیے۔ یاد رکھیے کہ کوئی مضمون مشکل نہیں ہوتا، مسئلہ پڑھنے
والے اور پڑھانے والے میں ہوتا ہے۔



مشکل
مضمون کے لیے شام کی اکیڈمی میں شرکت کی جاسکتی ہے یا کلاس ٹیچرز سے اضافی ٹائم
اور توجہ کی درخواست کرنی چاہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔
فائنل امتحان میں اچھے نمبروں کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے تمام مضامین میں نمبر
اچھے آئیں، تب ہی آپ کا گریڈ اچھا ہوگا۔ ورنہ ایک مضمون کی وجہ سے آپ کا سال
بھی ضائع ہوسکتا ہے۔



کلاس ٹیسٹ سے فرار اور نقل:



بعض طالب
علم کلاس ٹیسٹ میں نقل کر کے اچھے نمبر لینے کی کوشش کرتے ہیں یا کلاس ٹیسٹ
والے دن چھٹی کر لیتے ہیں۔ یہ عادت انتہائی خطرناک ہے اور اس سے طالب علم کو نہ
صرف تعلیمی نقصان ہوتا ہے بلکہ اس کی شخصیت بھی خراب ہوسکتی ہے۔ کلاس ٹیسٹ میں
ہوسکتا ہے کہ آپ نقل کر کے اچھے نمبر لے لیں، لیکن جناب فائنل امتحان میں کیا
کریں گے؟



اس ہی طرح
کلاس ٹیسٹ میں غیر حاضری کی صورت میں آپ کو اپنی اصل صورت حال کا اندازہ ہی
نہیں ہوتا اور آپ کی بہت سی غلطیوں کی نشان دہی کلاس ٹیسٹ کے ذریعے سامنے آتی
ہے، جن کو سالانہ امتحان سے پہلے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ فائنل امتحان میں ان
چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔


This article published on dawn newspaper on 25
November 2015


 

 

Facebook Comments
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *