کسی بھی چیز کے ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں، مثبت اور منفی۔ اسی طرح انٹرنیٹ کے بھی مثبت اور منفی اثرات ہیں۔ پاکستان کے لوکل میڈیا میں چونکہ منفی خبر ہی خبر کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے میڈیا میں انٹرنیٹ کے ’’پاکستانی سوسائٹی پر برے اثرات‘‘ پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے۔ ٹی وی، اخبارات، جرائد میں اکثر اس موضوع پر لمبے چوڑے مضمون شائع ہوتے ہیں اور تا دمِ تحریر یہ سلسلہ جاری ہے۔  عوام کی جانب سےاردو اخبارات میں جو مراسلے شائع ہوتے ہیں، ان میں اکثریت کی رائے میں نوجوان نسل کے خراب ہونے کی واحد وجہ انٹرنیٹ ہے۔ پاکستانی معاشرہ میں نوجوانوں کے بگاڑ میں انٹرنیٹ کا کتنا ہاتھ ہے، اس پر کئی طرح کی آراء موجود ہیں۔ کچھ اس کے حق میں اور کچھ مخالفت میں، یہ شاید کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے۔  ہم اکثر کسی ایک فرد کے طرزِ عمل کو اس سے منسلک گروپ یا قبیلے کا طرزِ عمل قرار دے دیتے ہیں، جو کہ زیادتی ہے۔ 17 نومبر کو سپریم کورٹ میں ایک ضمانت کے کیس میں جناب جسٹس امیر ہانی مسلم کے ریمارکس کو ایک بڑے اردو اخبار نے اس عنوان کے تحت شائع کیا۔  “فیس بک نے نئی نسل اور معاشرے کو خراب کردیا ہے، سپریم کورٹ”  جبکہ ایک غیر ملکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ’’عدالت کا کہنا تھا کہ فیس بک پر اس طرح کی حرکات نے ہمارے معاشرے اور بالخصوص نوجوان نسل کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔‘‘  اب مجھے نہیں معلوم کہ اصل میں سپریم کورٹ نے کیا ریمارکس دیے تھے، لیکن اگر دیکھا جائے تو ان دونوں ریمارکس سے الگ الگ رائے قائم ہوتی ہے۔ جس شخص تک سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس پہنچیں گے کہ  ’’فیس بک نے نئی نسل اور معاشرے کو خراب کر دیا ہے، سپریم کورٹ‘‘  وہ قصوروار فیس بک، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو سمجھے گا۔  اور دوسرے ریمارکس کا مطالعہ کرنے والا شخص انٹرنیٹ/سوشل میڈیا کے بجائے قصوروار اس ایک فرد کو قرار دے گا۔  میرے خیال میں انٹرنیٹ کے بارے میں یک طرفہ رپورٹنگ ہورہی ہے اور دوسری طرف کا نقطہ نظر پیش نہیں ہورہا۔ اس لیے آج میں نے کوشش کی ہے کہ اپنے اس مضمون انٹرنیٹ کے ان مثبت اثرات کا سرسری جائزہ پیش کروں جو ہماری، انفرادی اور اجتماعی زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں۔  سال 2002 میں جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں انٹرنیٹ سستا ہوا، اور جس سے اس کے استعمال کنندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ انٹرنیٹ فراہم کرنی والی کمپنیز کی ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ پر جاری شدہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2014 کے اکتوبر تک پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں۔  سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر اثرات: ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس وقت بہتر ہوتی ہے جب ہمیں بہتر معلومات میسر آئیں۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے ہماری سوچنے سمجھنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں میں بہت بہتری آئی ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ انٹرنیٹ سے پہلے آپ کسی حساس موضوع، مثلاً کسی مذہبی عقیدے یا سیاسی نظریے کا مطالعہ کرنا چاہتے تھے، تو کیا یہ ممکن تھا؟ کیا آپ اپنے گھر میں اپنے والدین، رشتہ داروں، بیوی، شوہر کے سامنے دوسرے اور مخالف عقیدہ کی کتب کا مطالعہ کر سکتے تھے؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔  قیامِ پاکستان سے پہلے انگریز دورِ حکومت میں جرمنی کے ریڈیو سننے پر سزا ملتی تھی۔ جنرل ضیاء صاحب کے دورِ حکومت میں وی سی آر پر فلم دیکھنا جرم تھا۔ آج بھی پاکستان میں کیبل وغیرہ پر ’’دشمن ملک‘‘ کے ٹی وی کی نیوز چلانا جرم ہے۔ اس طرح کے اقدمات سے لازمی ہماری فیصلہ سازی کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں رائج تصورات، اقدار، خیالات، اور روایات میں آہستہ آہستہ تبدیلی آرہی ہے۔  تعلیمی میدان پر اثرات: پاکستانی معاشرے پر تعلیمی میدان میں انٹرنیٹ کے بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ درس و تدریس سے منسلک افراد کی بہت سی مشکلات تھیں جو انٹرنیٹ کی وجہ سے حل ہو گئیں، جن میں الیکٹرونک لائبریری، آن لائن ای بکس، اور مختلف تعلیمی موضوعات پر آڈیو، ویڈیو لیکچرز تک گھر بیٹھے رسائی ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ کئی پاکستانی نوجوانوں نے ذاتی کوششوں سے تعلیمی ویب سائٹس قائم کیں جن پر طلبہ و طالبات کو مختلف تعلیمی نوٹس، سابقہ پرچے، تعلیمی اعلانات اور گفتگو کرنے کا مواقع مل رہا ہے۔  مذہبی مسائل کو سمجھنے میں مدد ملی ہے: ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت موجود ہے (خیال رہے کہ یہاں فرقہ واریت سے میری مراد صرف مسلم فرقوں کے درمیان اختلافات نہیں، بلکہ ہر طرح کی مذہبی سوچ/نظریات کے حامل افراد کے درمیان اختلاف ہے)۔  بدقسمتی سے ہمیں اپنے فرقے کی اچھی باتوں کی تربیت کم اور دوسرے فرقہ کی “غلطیوں” کا سبق پہلے دن سے اچھی طرح یاد کروایا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کے آنے سے پہلے تک ہماری حالت کنویں کے مینڈک کی طرح تھی، ہمارے مذہبی رہنما خود ہی دوسرے فرقے پر سوال کرتے اور خود ہی جواب دیتے تھے، اور عوام کی اکثریت بغیر تحقیق کے ان الزامات/باتوں پر یقین کرتی ہے۔ لیکن اب انٹرنیٹ (خاص طور پر سوشل میڈیا) کی وجہ سے ہمیں دونوں طرف کا مؤقف سننے اور پڑھنے کا موقع مل رہا ہے، جس سے میرے خیال میں فرقہ وارانہ نفرت میں کمی ہو رہی ہے۔ لوگوں کو سمجھ آ رہی ہے کہ غلطیاں صرف دوسرے میں ہی موجود نہیں، بلکہ اپنی طرف بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔  نئے طرز کے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے: پوری دنیا کی طرح پاکستانی معاشرے میں بھی ’’ہوم آفس‘‘ کا رواج شروع ہوا جو اپنی طرز کا انتہائی منفرد کام ہے۔ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح بہت سے پاکستانی لڑکے لڑکیاں گھر بیٹھ کر آن لائن خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ جس میں آن لائن جاب، قرآن پڑھنا، ٹیوشن پڑھنا، گیمز کی تیاری، سوفٹ ویئر اور ویب سائٹس کی تیاری، درستگی اور پڑتال کا کام، مختلف زبانوں کے ترجمے، ٹائپنگ کا کام، آن لائن اشتہاری صنعت، سوفٹ ویئر کی ویڈیو ٹریننگ، شاپنگ ویب سائٹس کے ذریعے اپنا ذاتی کام شامل ہے اور وہ بھی بغیر لوکل آفس کے، جس سے نہ صرف ان پاکستانیوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا، بلکہ ملک کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔  پاکستانی فنون لطیفہ پر اثرات: جمالیاتی حس رکھنے والے آرٹسٹ کو سب سے بڑی چیز جو درکار ہوتی ہے، وہ لوگوں کی جانب سے ان کے کام کی تعریف ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے نئے لوگوں کو اپنے اندر کے جوہر دیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں، جس سے انہیں مزید کام کرنے اور اپنے موجودہ کام میں نکھار لانے میں مدد مل رہی ہے۔  چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں رہنے والے نئے لکھنے والوں، ادیبوں، تقریر کرنے والوں، شاعروں، آرٹ اور مصوری کرنے آرٹسٹس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگ محدود وسائل سے اچھی شارٹ فلمیں تیار کر رہے ہیں، جس سے وہ بہت جلدی شہرت حاصل کر رہے ہیں۔  ذرا تصور کریں کہ ایک چھوٹے شہر میں ایک قابل مگر مالی طور پر کمزور آرٹسٹ کا۔ اگر وہ اپنے کام کی نمائش کرنا چاہے تو اس کو کسی قریبی بڑے شہر کے صدر مقام پر کسی گیلری میں نمائش کا اہتمام کرنا ہوگا، جس کے اخراجات ہزاروں سے لاکھوں روپے تک ہوتے ہیں۔ جبکہ عموماً فن کاروں کے پاس پیسے نہیں ہوتے، کیونکہ فن کار ہمیشہ آزاد ہوتا ہے، جبکہ پیسے کمانے کے لیے لازمی ہے کہ آپ ’’حدود کا خیال‘‘ یعنی دوسرے لفظوں میں ’’قید ہو‘‘۔  مقابلے میں اضافہ: اس سے ٹی وی اور اخبارات کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ آج کا دور جس کو انفارمیشن ایج بھی کہا جاتا ہے، اس میں اخبارات، ریڈیو، ٹی وی کی طرح انٹرنیٹ بھی ایک میڈیا ہے جس کو اصطلاحاً ’’سائبر میڈیا‘‘ کہتے ہیں۔ پہلے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر (معاشرے میں موجود مختلف طرح کے پریشر گروپس) بڑی آسانی سے اپنے خلاف خبر کو نشر ہونے سے روک لینے کی طاقت رکھتے تھے۔  ماضی میں بدقسمتی سے پاکستان میں اس ’’طاقت‘‘ کا بھرپور استعمال کیا بھی گیا، لیکن ’’سائبر میڈیا‘‘ سے مقابلے کی وجہ سے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور ان پر دباؤ کم ہوا۔ شاید آپ میری رائے سے اتفاق کریں گے کہ اگر ’’سائبر میڈیا‘‘ کا وجود نہ ہوتا تو بڑے بڑے واقعات جیسے میاں شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کے بیکری ملازم پر تشدد کی خبر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر کبھی شائع نہ ہوتی، جبکہ یہ خبر الیکٹرونک/پرنٹ میڈیا پر نشر ہونے سے پہلے لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔  ڈر اور خوف پیدا کرنے والے پریشر گروپس پر اثرات: پاکستانی معاشرے میں لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا کر کے خود کو نمایاں کرنے والے پریشر گروپس کی تعداد کافی زیادہ تھی، جن میں سے کئی کو سیاسی جماعتوں اور دیگر فریقوں کی جانب سے مدد بھی حاصل تھی۔ پاکستان کی سول سوسائٹی اور روایتی میڈیا ان کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتا تھا۔ جبکہ سیاسی جماعتیں اور کچھ ریاستی ادارے ان کو اپنے مقصد کے لیے آسانی سے استعمال کرتے تھے۔  روایتی میڈیا خوف یا لالچ کی وجہ سے رائے عامہ کی درست تصویر نہیں دکھا سکتا تھا، جس کی وجہ سے ان پریشر گروپس کا کاروبار کافی کامیابی سے چلتا رہا، لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ بہتر مؤثر رائے عامہ کا علم ہوا ہے۔  انٹرنیٹ ہماری سوسائٹی کے خوشحال طبقہ میں زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ جس دن بھی حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی آئی اور اس کو سستا کردیا گیا، اس کے استعمال کنندگان کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوجائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق آئندہ چند برسوں میں اس کا استعمال مزید عام ہوگا اور روز مرہ کی زندگی میں انٹرنیٹ کا عمل دخل بہت زیادہ ہوگا۔ تیز رفتار ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ ٹی وی کے ساتھ منسلک ہو رہا ہے جس سے یہ ہمارے روزمرہ زندگی کا لازمی جزو بن جائے گا۔  اس لیے اشد ضروری ہے کہ ہم دوبارہ انٹرنیٹ کے منفی اور مثبت پہلوؤں کا جائزہ لیں، تاکہ ہم انٹرنیٹ کے منفی اثرات سے اپنے گھر اور معاشرے کو محفوظ رکھ سکیں، اور انٹرنیٹ کے مثبت استعمال کو بڑھا کر اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر سکیں کیونکہ کوئی چیز اچھی یا بری نہیں ہوتی، صرف نیت اچھی یا بری ہوتی ہے۔

This article published on dawn newspaper on 7 December 2015

Facebook Comments
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *