اگر آپ نوجوان ہیں، آپ کا رجحان’سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ‘ کی طرف ہے اور آپ اس شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں، تو یہ
مضمون آپ کے لیے ضرور مفید ثابت ہوگا۔

لیکن اگر آپ کا تعلق کسی اور شعبےسے ہے، آپ نہ اس شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی آپ کا رجحان اس شعبے کی
طرف ہے، تو بھی یہ مضمون آپ کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

وہ یوں کہ ایک تو یہ معلومات آپ کی یا آپ کے رشتے داروں کی اولاد کے کام آسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے اردگرد لازماً
کچھ ایسے ضرورت مند افراد ہوں گے جن کی اگر رہنمائی کی جائے اور کچھ مالی تعاون کر دیا جائے تو وہ بہتر کمانے کے قابل ہوسکتے ہیں، جس سے ان سے منسلک پوری فیملی کے معاشی حالات میں بہتری آسکتی ہے۔

ویسے بھی کسی دانا کا قول ہے کہ ’’کسی شخص کو مچھلی پکڑ کر دینے سے بہتر ہے کہ اس کو مچھلی پکڑنا سکھا دیا جائے‘‘۔

سوفٹ ویئر ہے کیا؟

کمپیوٹر یا موبائل فون کے اندر کسی بھی مخصوص کام کو سر انجام دینے کے لیے ہدایات کے مجموعے کو سوفٹ ویئر کہتے ہیں۔
چونکہ کمپیوٹر کی بنیادی زبان مشینی ہے، اس لیے انسان اور مشین کے درمیان رابطے کے لیے ایک دوسری ’لینگویج‘ استعمال ہوتی ہے، جس کو پروگرامنگ لینگویج کہتے ہیں۔ اس وقت سوفٹ ویئرز کی تیاری کے لیے کئی قسم کی پروگرامنگ اور اسکرپٹنگ لینگویج مارکیٹ میں دستیاب ہیں، جن میں زیادہ مشہور سی (C)، جاوا (Java)، پائتھن (Python)، روبی
(Ruby)، ایچ ٹی ایم ایل (HTML)، ایکس ایم ایل (XML)، پی ایچ پی (PHP)، ڈاٹ نیٹ (Net.)، ڈیلفائی (Delphi) وغیرہ شامل ہیں۔

سوفٹ ویئر پروگرامنگ کا عام استعمال

آج کے جدید دور میں شاید ہی کوئی شخص ہو جو کسی سوفٹ ویئر پروگرام کو استعمال نہ کررہا ہو۔ گھڑی کے الارم، کیلکولیٹر،
موبائل فون، مائیکروویو اوون، انٹرنیٹ اور ویب کا وسیع جہان، ان سب کے پیچھے مختلف سوفٹ ویئرز ہی ہیں جن سے ہماری زندگی بہت آسان ہوچکی ہے۔ سوفٹ ویئرز کی وجہ سے آج مواصلات سے لے کر تصویر کشی اور ویڈیو پروڈکشن سے لے کر گرافک ڈیزائننگ اور اینیمیشن تک زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب آچکا ہے۔

یہ سوفٹ ویئرز کا ہی کمال ہے کہ آج ہم وہ سارے کام باآسانی کمپیوٹر پر بیٹھے کر لیتے ہیں جن کے لیے ماضی میں بے پناہ
وقت اور توانائی لگتی تھی۔ مثلاً تصاویر ڈیولپ کرنے کے لیے ایڈوب لائٹ روم کا استعمال، جبکہ پہلے یہ کام تصاویر کے نیگیٹیوز کو کیمیکلز میں بھگو کر کیا جاتا تھا اور تصاویر کئی دن بعد ملا کرتی تھیں۔

اس کی تعلیم کیسے حاصل کی جائے؟

پاکستان میں سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی مختلف سطح پر تعلیم کے مواقع موجود ہیں۔ ملک بھر کے تمام ہی سرکاری اور نجی کالجز
میں انٹرمیڈیٹ کی سطح پر اس کے مختلف پروگرامز مثلاً انٹرمیڈیٹ بمع کمپیوٹر سائنس، آئی سی ایس اور تین سالہ ڈپلومہ کورسز ہوتے ہیں، جبکہ یونیورسٹی سطح پر بیچلرز، ماسٹرز، اور پی ایچ ڈی تک کے بہت سے تعلیمی پروگرامز دستیاب ہیں جن کی تکمیل کے بعد خود روزگاری (self employment) اور نوکری کے زیادہ بہتر مواقع میسر آتے ہیں۔

چونکہ ان پروگرامز کی تکمیل کے بعد روزگار کے زیادہ مواقع ہیں، اس لیے سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں اس کی سیٹس کے لیے مقابلہ زیادہ اور میرٹ کا معیار بہت سخت ہوتا ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں اس کی تعلیم مہنگی ہے۔

اس کے علاوہ بہت سے کورسز بھی موجود ہیں جن کی مدت تکمیل تین سے چھ ماہ ہے۔ شارٹ کورسز کی تعلیم ویب سائٹ ڈیزائننگ کی طرح رسمی اور غیر رسمی طریقوں سے حاصل کی جاسکتی ہے، اور یہ بھی اتنے ہی فائدہ مند ہوتے ہیں جتنی کہ ڈگری، بلکہ کچھ معاملات میں یہ ڈگری سے بھی زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ ڈگری کے لیے آپ کو چار سال میں 40 سے زیادہ مضامین پڑھائے جاتے ہیں جبکہ کورسز میں ایک ہی چیز پر زیادہ فوکس کیا جاتا ہے، جس سے کم وقت میں ہنر
میں زیادہ نکھار آتا ہے۔

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ بطور بزنس

وہ تمام خواتین و حضرات جو سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں اور وہ کل وقتی یا جز وقتی کوئی کاروبار کرنا
چاہتے ہیں، وہ اس کو بطور مکمل بزنس کے چلا سکتے ہیں۔ چونکہ یہ سروسز یعنی خدمات کا شعبہ ہے اس لیے اس کو بطور کاروبار شروع کرنے میں بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس آپ کے پاس اتنا سرمایہ ضرور ہونا چاہیے کہ آپ ایک سال تک ایک چھوٹےآفس کا کرایہ+بلز+ابتدائی اخرجات+ایک معاون شخص کی تنخواہ ادا کر سکیں۔

کم وقت یا سرمائے کی صورت میں آپ بطور فری لانسر بھی اپنا کام کرسکتے ہیں۔ تقریباً ایک سال کا تجربہ رکھنے والے
افراد مقامی مارکیٹ میں اپنی خدمات سے سالانہ 5 سے 6 لاکھ روپے آسانی سے کما رہے ہیں، یعنی تقریباً 40 سے 50 ہزار ماہانہ۔ خیال رہے کہ کاروبار میں ہر ماہ ایک جیسی آمدنی نہیں ہوتی، کسی مہینے کم اور کسی مہینے زیادہ ہوتی، اس لیے کاروبار میں چھ ماہ یا ایک سال کی آمدنی کو ہی شمار کرنا چاہیے۔ خیال اس بات کا رکھنا چاہیے کہ کیونکہ آج کل آئی ٹی کے شعبے میں مقابلہ اپنے عروج پر ہے، اس لیے آپ کا پروگرامنگ کا ہنر اور مسائل کے حل کی قابلیت بھی اپنے عروج پر ہونی چاہیے۔

سوفٹ ویئر کی فیلڈ میں آمدنی کیوں زیادہ ہے؟

لوگ عموماً یہ سوال کرتے ہیں کہ سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے شعبے میں آمدنی دوسرے شعبوں کی نسبت زیادہ کیوں ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ابتدائی اخراجات کافی کم ہیں، اور دوسری یہ کہ ایک ہی کام آپ بہت سے گاہکوں کو فروخت
کرسکتے ہیں۔ یعنی اگر آپ نے ایک چھوٹی دکان/آفس کے لیے اکاؤنٹنگ سوفٹ ویئر تیار کیا، تو اس کو آپ کئی دیگر جگہوں پر بھی فروخت کرسکتے ہیں۔ چونکہ اس کی دوسری کاپی کی کاسٹ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے اس میں منافع زیادہ ہے۔

جبکہ دیگر بزنس میں ہر گاہگ کے لیے اشیاء/خدمات کی تیاری پر ایک خاص فکسڈ کاسٹ ہوتی ہے، جس کو ایک خاص حد سے کم نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً موبائل فون آپ ایک فروخت کریں یا سو، ہر سیٹ کی تیاری پر آپ کی کچھ نہ کچھ فکسڈ کاسٹ ضرور ہے۔ سوفٹ ویئر کی طرح یہ نہیں کہ پہلے موبائل کی تیاری کے بعد فون کی اگلی کاپی فری میں تیار ہوجائے۔

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے بڑے شعبہ جات

ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے تین بڑے پلیٹ فارم ہیں جن میں کام بہت زیادہ ہے۔ ان میں ڈیسک ٹاپ سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ویب سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور موبائل فون ایپلی کیشنز ڈیولپمنٹ شامل ہیں۔

ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز ڈیولپمنٹ:

اس سے مراد ایسے سوفٹ ویئرز کی تیاری ہے جو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں استعمال ہوسکیں، مثلاً کسی کمپنی کا اکاؤنٹ، پے رول
سسٹم، اسکول/کالج مینجمنٹ سسٹم، لائبریری مینجمنٹ سسٹم، وغیرہ۔ آپ اپنے کمپیوٹر میں جو بھی سوفٹ ویئر استعمال کرتے ہیں، مثلاً مائیکروسوفٹ آفس وغیرہ، یہ سب ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کہلاتے ہیں۔

ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز عموماً کسی ایک مخصوص آپریٹنگ سسٹمز (ونڈوز، میکن توش، لینکس وغیرہ) کے لیے تیار کی جاتی ہیں،
لیکن ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کو کچھ اس طرح بھی تیار کیا جاسکتا ہے کہ ایک سے زیادہ آپریٹنگ سسٹمز پر کام کرسکیں۔

ڈیسک ٹاپ ڈیولپمنٹ کے لیے بہت سی پروگرامنگ لینگویج استعمال ہوتی ہیں جن میں مائیکروسوفٹ کی ڈاٹ نیٹ، ویزول اسٹوڈیو (Visual Studio)، جاوا, اور سی (C, #C) لینگویجز کی مارکیٹ میں زیادہ مانگ ہے۔

ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز میں مہارت رکھنے والے افراد ایسے سوفٹ ویئر پروگرام بھی تیار کر سکتے ہیں جو مخصوص مشینوں پر
کام کرتے ہوں، مثلاً ٹیلی فون ایکسچینج، فوٹو کاپی مشین/پرنٹر کے اندر موجود سوفٹ ویئر، جو صرف ایک ہی مخصوص کام کرتے ہیں۔ ایسے سوفٹ ویئرز ’ایمبیڈیڈ سوفٹ ویئر‘ (embedded software) کہلاتے ہیں۔

ویب ایپلی کیشنز ڈیولپمنٹ :

ویب ایپلی کیشنز اس قسم کے سوفٹ ویئرز کو کہا جاتا ہے جو براؤزرز پر چلتے ہیں۔ اس طرح کے سوفٹ ویئر کی خوبی یہ ہے
کہ یہ تقریباً ہر طرح کی مشین پر استعمال کے قابل ہوتے ہیں، یعنی ڈیسک ٹاپ، ٹیبلٹ، اسمارٹ فون وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ براؤزر بیس ہوتے ہیں۔ جس بھی مشین میں براؤزر انسٹال ہو، یہ ایپلی کیشنز کام کرتی ہے۔

ان کو ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کے مقابلے میں زیادہ بہتر تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ ویب ایپلی کیشنز ہر طرح کے
آپریٹنگ سسٹمز (ونڈوز، میکن توش، لینکس) اور مشین (کمپیوٹر/فون/ٹیبلیٹس) وغیرہ پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس کی مارکیٹ بہت وسیع ہے۔ تقریباً تمام ہی بڑی ویب سائٹس، خاص طور پر متحرک (dynamic) ویب سائٹس کو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے لیے ویب ایپلی کیشنز تیار کرسکیں یا پہلے سے موجود کسی ویب ایپلی کیشن کو ان کی ضروریات کے مطابق تبدیل کر سکیں۔

ویب ایپلی کیشنز کی ڈیولپمنٹ کے لیے زیادہ تر کام ’ایچ ٹی ایم ایل‘، ‘ایکس ایم ایل‘، ’پی ایچ پی‘، ’سی ایس ایس‘، ’جاوا
سکرپٹ‘ (JavaScript)، اور ’ایس کیو ایل‘ (SQL) وغیرہ میں ہوتا ہے۔

موبائل ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ :

موبائل فون کے اندر جو مختلف طرح کے فنکشن ہم استعمال کرتے ہیں اور خاص طور پر سمارٹ فون میں ہم اپنی ضرورت کی جو ’ایپس‘ استعمال کرتے ہیں، ان کی تیاری ’موبائل فون ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ‘ کہلاتی ہے۔ اس مارکیٹ میں گوگل کے ’اینڈروئیڈ‘ آپریٹنگ سسٹم کا راج ہے۔ اس میں ایپ ڈویلپمنٹ کے لیے آپ کو ’جاوا‘ یا ’سی پلس پلس‘ میں مہارت ہونی چاہیے۔ اس فیلڈ میں دوسرے اہم کھلاڑی ’ایپل‘ کا آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم جو آئی فون کے بعد اب آئی پیڈ اور ایپل ٹی وی میں بھی استعمال ہو رہا ہے، اس میں کام کرنے لیے آپ کو ’آبجکٹیو۔ سی‘ (Objective-C) میں مہارت کی ضرورت ہے۔

دیر مت کریں

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی فیلڈ میں کام کی کوئی کمی نہیں البتہ باصلاحیت ہنر مند افراد کا فقدان ہے۔

اگر آپ کو سوفٹ ویئر کی فیلڈ پسند ہے تو پھر دیر مت کریں۔ اپنی ضروریات کے مطابق مزید معلومات حاصل کریں۔ اپنا گول بنائیں اور مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اچھی سی منصوبہ بندی کریں۔ آپ کے اندر جو خامیاں ہیں ان کو دور کریں۔ بہت جلد کامیابی اور خوشحالی آپ کی منزل ہوگی۔

یہ مضمون سب سے پہلے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کی ویب سائٹ پر مورخہ دو فروری 2016 کو شائع ہوا۔

Facebook Comments
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *