کیا آپ کے اپنے بچے میں یا خاندان کے بچوں میں کوئی ہیکر موجود ہے جس کو کمپیوٹر سسٹم ہیک کرنے کا شوق ہو؟ یا آپ نے کبھی کسی نوجوان کے سامنے ہیکنگ کے موضوع پر گفتگو کی ہو اور آپ کو اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک نظر آئی ہو، تو یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ ناسمجھی میں یہ نوجوان اپنی فیملی کو مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق خود نمائی ایک انسانی جبلت ہے۔ ہر شخص کی یہ بنیادی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ ایسے نوجوان جن کا ہیکنگ کی طرف زیادہ جھکاؤ ہوتا ہے، وہ اصل میں خود کو ہیرو ثابت کرنا چاہتے ہیں، اور ہیکنگ سے ان کی اس نفسیاتی جبلت کی تسکین ہوتی ہے۔

ایسے نوجوانوں کا کیا علاج ہے؟

ایسے نوجوان جو ہیکنگ ‘کو بطور منفی سرگرمی استعمال کرتے ہیں، ان کی عمر 15 سے 22 سال کے درمیان ہوتی ہے اور عموماً آٹھویں سے بارہویں کلاس میں زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ عموماً ہم ایسے بچوں سے سختی سے پیش آتے ہیں جس سے بعض اوقات مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔

لیکن اس سختی کے علاوہ اور بھی بہتر حل موجود ہیں۔ پہلا حل تو یہ کہ ایسے بچوں کی توجہ کسی اور مثبت سرگرمی کی طرف کر دی جائے، اور مثبت سرگرمی اختیار کرنے میں ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ ایسے بچوں کے لیے سوفٹ وئیر پروگرامنگ کی فیلڈ زیادہ مناسب ہے، جو ان کے ذہنی رجحان کے زیادہ قریب بھی ہے۔

پڑھیے: سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ میں کیسے قدم رکھیں؟

لیکن اگر وہ نوجوان ہیکنگ میں کافی مہارت حاصل کرچکا ہے، تو اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ اس کو اخلاقی ہیکنگ کی تربیت دی جائے۔ ایسے نوجوان جو اخلاقی ہیکنگ کی فیلڈ کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کو ہیکر کے بجائے آئی ٹی سکیورٹی اسپیشلسٹ کہتے ہیں۔

اخلاقی ہیکنگ کے شعبے کا منفی پہلو یہ ہے کہ یہ کافی مشکل اور پیچیدہ کام ہے، لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس ہنر کی ڈیمانڈ تحقیقی شعبے میں بھی ہے اور تکنیکی میں بھی۔ بڑی آئی ٹی کمپنیوں، مالیاتی اداروں، بینکس یا حکومتی حساس اداروں کو ایسے افراد کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے، تاکہ ان کے حساس ڈیٹا کو لیک ہونے سے محفوظ رکھا جا سکے، اور یہ کام وہی شخص زیادہ مہارت سے کر سکتا ہے، جس کو معلوم ہو کہ کسی سسٹم میں کیا کیا خامیاں ہوتی ہیں۔ اس کی باقاعدہ جابز کم از کم پاکستان میں تو محدود ہیں لیکن اس کی مہارت رکھنے افراد گھر بیٹھ کر لاکھوں ڈالرز کما سکتے ہیں۔

اب ہم اس شعبے سے کچھ واقفیت حاصل کرتے ہیں۔

ہیکنگ ہے کیا؟

اس کو سادہ الفاظ میں ڈیجیٹل مواد کی چوری بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح کے غیر قانونی کام کرنے والا شخص ہیکر کہلاتا ہے۔ یہ شخص دراصل کسی دوسرے شخص/ادارے کے کمپیوٹر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہوجاتا ہے، اس کے کمپیوٹر کو اپنے کنٹرول میں کرسکتا ہے، اس کا ڈیٹا چوری کرسکتا ہے، اور اس کے کمپیوٹر یا سرور پر کوئی بھی پروگرام انسٹال کرسکتا ہے۔

ہیکنگ کرنے والا شخص اصل میں کمپیوٹر تک رسائی کے طریقے میں کافی مہارت رکھتا ہے، یعنی کافی قابل شخص ہوتا ہے، لیکن وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو منفی مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور آخر کار ایک دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں ہیکنگ کو ایک جرم تصور کیا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے شخص یا گروپ کو قید اور جرمانے کی سخت سزائیں بھی ملتی ہیں۔

پڑھیے: ہیکنگ اور بلیک میلنگ کے متاثرین کے لیے 7 رہنما نکات

جس طرح چور چاہے کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو، آخر اپنے نشانات چھوڑ جاتا ہے، اسی طرح ہیکر بھی کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ ضرور آ جاتا ہے کیونکہ ان اداروں کے پاس ایسے جرائم کے توڑ کے لیے اپنے اخلاقی ہیکرز موجود ہوتے ہیں۔

اخلاقی ہیکنگ کیا ہے؟

دنیا میں آئی ٹی کی انڈسٹری بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر آئی ٹی انڈسٹری میں تجارت کا حجم کئی کھرب ڈالر سالانہ تک ہوچکا ہے۔ اتنی بڑی تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے دنیا بھر کے آئی ٹی ماہرین کو ایسے افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے جو ان کے سکیورٹی سسٹم کو ٹیسٹ (چیک) کرنے کے صلاحیت رکھتے ہوں، تاکہ وہ ہیکر گروہوں کے حملے سے محفوظ رہ سکے۔ اس کام کو کرنے کے لیے بھی ایک ماہر ہیکر کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ ایک نیک اور مثبت مقاصد کے لیے ہوتی ہے، اس لیے اس کو اخلاقی یا قانونی ہیکنگ کہتے ہیں۔

اس کی جاب مارکیٹ:

اس وقت دنیا بھر کے نہ صرف تجارتی اور مالیاتی اداروں کو اپنی سکیورٹی کے ایشوز کا سامنا ہے، بلکہ حکومتی حساس اداروں کے لیے بھی اپنی معلومات کو زیادہ محفوظ رکھنا ایک اہم مسئلہ ہے، اس لیے ان سب کو ایسے افراد کی ضرورت ہے۔

یہ ادارے ایسے ماہر افراد کو باقاعدہ معاوضہ دے کر اس کام پر مامور کرتے ہیں۔ ان اخلاقی ہیکرز کا کام آئی ٹی سکیورٹی اسپیشلسٹ کا ہے اور یہ اپنی متعلقہ آرگنائزیشن کے آئی ٹی سسٹم میں سکیورٹی ہولز کا سراغ لگاتے اور انہیں دور کرنے کے لیے اپنی سفارشات دیتے ہیں۔

آئی ٹی کی بین الاقومی ریسرچ فرم گارٹنر کے مطابق سال 2011 سے 2015 تک تقریباً 49 ارب ڈالر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ مارکیٹ جائزوں کے مطابق عموماً ایک اخلاقی ہیکر سالانہ 50 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر کما سکتا ہے لیکن اس کا انحصار آپ کی تعلیم، کام کی کوالٹی اورجاب دینے والی کمپنی پر ہے۔

اس کی شروعات کیسے کریں؟

اگر آپ اس فیلڈ میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس ’’اے پلس‘‘ سرٹیفکیشن (A+ Certification) ہونی چاہیے۔ اس میں مہارت کے بعد آپ کو ’’نیٹ ورک پلس‘‘ (+Network) یا “سی سی این اے” (CCNA) میں سے کسی ایک پر عبور ہونا چاہیے۔ نیز آپ کے پاس ’’سیکورٹی پلس‘‘ (+Security) کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہیے اور آپ کے پاس سسٹم میں داخل ہونے میں مہارت ہونی چاہے۔

سرٹیفکیشن کورس کی ضرورت

جب آپ یہ تصور کریں کہ اب میری مہارت کافی ہے اور مجھے کمپنیز کو اپنی خدمات پیش کرنی چاہیئں تو آپ کو ضرورت ہوتی ہے ایک آن لائن کورس میں پاس ہونے کی، جو کہ ’’انٹرنیشنل کونسل آف ای کامرس کنسلٹنٹس‘‘ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس کورس کی تکمیل کے بعد آپ اپنی مارکیٹنگ کرسکتے ہیں۔ یہ کورس اس لیے ضروری ہے تاکہ کمپنیز آپ کو مطمئن ہو کر کام دے سکیں۔

This article published on dawn newspaper on 13 February 2016

Facebook Comments
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *