کئی نوجوان ڈگری مکمل کرنے کے بعد دو دو تین تین سال فارغ رہتے ہیں اور جاب ملنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، لیکن انٹرن شپ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر ڈگری کے بعد نوکری ملتی ہے تو ہی ان کی زندگی کامیاب ہوگی۔ لہٰذا وہ نوکری کے انتظار میں فارغ وقت ضائع کرتے رہتے ہیں، اور اس کا درست استعمال نہیں کرتے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اچھی نوکری ملنے کے امکانات محدود و معدوم ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ڈگری مکمل کیے ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہوتا ہے مگر سی وی پر عملی کام کا کوئی تجربہ موجود نہیں ہوتا۔

ٹیسٹ کے ذریعے ہونے والی سرکاری بھرتیوں میں تو تجربے کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں صرف قابلیت کا امتحان لیا جاتا ہے، مگر نجی شعبے میں قابلیت کے ساتھ ساتھ تجربے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، بلکہ نجی شعبے میں تو تجربہ اور مہارت کو اعلیٰ تعلیمی گریڈ سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ میں نے اس مضمون میں کوشش کی ہے کہ آپ کو انٹرن شپ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات فراہم کر سکوں، کہ اس کی ضرورت کیوں ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں۔

انٹرن شپ کی ضرورت

عملی زندگی میں کسی بھی شعبے میں کام کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے تجربہ ضروری ہوتا ہے اور تجربے کے بارے میں یہ کہاوت سو فیصد درست ہے کہ ’’تجربہ حاصل کرنے کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔‘‘

پڑھیے: کیا نوکریوں کے لیے حکومت کا انتظار کرتے رہنا چاہیے؟

جب طلبہ و طالبات اپنی تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان کو انڈسٹری کے مطابق کام کرنا نہیں آتا۔ اس کی بہت سے وجوہات ہیں جس میں تعلیمی نصاب کا انڈسٹری سے ہمیشہ پیچھے رہنا اور بروقت اپ ڈیٹ نہ ہونا (یہ ایک عالمی مسئلہ ہے)، تعلیمی اداروں میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے عملی کام نہ کروانا (یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے)، جبکہ تعلیمی نصاب میں بعض دفعہ کریڈٹ آور پورے کرنے کے لیے بہت سی غیر ضروری چیزیں پڑھی جاتی ہیں جن کا عملی زندگی میں کوئی خاص استعمال نہیں ہوتا۔

کسی بھی مارکیٹ کو سمجھنے کے لیے کم از کم تین ماہ سے ایک سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے تعلیمی شعبہ جات ایسے ہیں جن میں انٹرن شپ تعلیمی کورس کا لازمی جزو ہے، جیسے میڈیکل، وکالت، چارٹرڈ اکاؤنٹینسی وغیرہ۔ اکثر ان شعبہ جات کے طلبہ و طالبات کو اپنی ڈگری کے بعد مزید ایک سال انٹرن شپ کرنا لازمی ہوتی ہے اور انٹرن شپ کی تکمیل کے بعد ہی ان کو جاب یا پریکٹس کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ جو طلبہ و طالبات انٹرن شپ کے بعد جاب کرتے ہیں، عموماً دیکھا گیا ہے کہ وہ جلدی ترقی کرتے ہیں۔

انٹرن شپ کے فوائد

انٹرن شپ کے بے شمار فوائد ہیں لیکن ایک مختصر مضمون میں تمام ایک کا ذکر ممکن نہیں، اس لیے صرف چند ایک پر مختصر نوٹ حاضر خدمت ہے۔

حقیقت سے آگاہی

ہمارے ہاں جب نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ تو انہوں نے 14 سے 18 سال تک کی تعلیم مکمل کی ہوتی ہے اور زیادہ تر کی عمر اس وقت 20 سے 25 سال کے درمیان ہوتی ہے۔

عملی زندگی کے آغاز سے پہلے وہ ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں دنیا کے جو خاکے ہوتے ہیں، وہ عموماً حقیقت سے کافی دور ہوتے ہیں۔ مثلاً ان کے ذہن میں خیال ہوتا ہے کہ میں نے بہت نامی گرامی تعلیمی ادارے سے یہ بہت بڑی ڈگری/کورس مکمل کیا ہے، میرا تعلیمی ریکارڈ بھی بہت شاندار ہے، لہٰذا اب کمپنیز نے میرا نہیں بلکہ میں نے کمپنی کا انتخاب کرنا ہے۔

مزید پڑھیے: 2015 کی بدترین اور بہترین ملازمتیں

لیکن جب انٹرن شپ شروع کرتے ہیں تو ان کو حقیقت کا انداز ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ نے داخلے کے وقت جو خواب ان کو دکھائے تھے، وہ سب کے سب سچ نہیں ہوسکتے۔ مارکیٹ میں بے روزگاری کی شرح بہت بلند ہے، اچھی نوکری کا حصول ہرایک لیے ممکن نہیں، اچھی نوکری کے لیے صرف اچھی تعلیم اور اچھے گریڈ ہی کافی نہیں، مارکیٹ میں جن مہارتوں کا زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے اس کی تعلیم و تربیت تو نصاب میں شامل ہی نہیں تھی۔

مارکیٹ سے آگاہی

ہر فیلڈ سے متعلق کچھ ایسی معلومات ہوتی ہیں جو نہ تو میڈیا میں آتی ہیں، نہ ہی یہ تعلیمی نصاب میں شامل ہوتی ہے، بلکہ یہ معلومات آپ کو صرف اور صرف اس فیلڈ میں جا کر ہی حاصل ہوسکتی ہیں۔ کون سی کمپنی اپنے ملازمین کا زیادہ خیال رکھتی ہے، کون سی کمپنی تنخواہ اور دیگر مراعات وقت پر ادا نہیں کرتی، وغیرہ وغیرہ۔ انٹرن شپ کی بدولت آپ کو ان سب باتوں کا علم پہلے سے ہو جاتا ہے جس سے آپ کا مستقبل میں کافی قیمتی ٹائم بچ جاتا ہے اور آپ کی فیصلہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

بہتر مستقبل کی پلاننگ

انٹرن شپ کے دوران آپ کو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس فیلڈ میں نوکریوں کی گنجائش زیادہ ہے، یا مارکیٹ میں کس قسم کی صلاحیتوں کے لوگوں کو زیادہ معاوضہ اور مراعات دی جاتی ہے۔ نیز یہ بھی کہ اس وقت آپ کی ذات کے اندر کن صلاحیتوں کی کمی ہے، کون سا کورس یا مہارت حاصل کرنا اس فیلڈ میں کامیابی کے لیے لازمی ہے، یا آپ کے پاس جو ڈگری یا مہارت موجود ہے اس کا مستقبل کتنا روشن ہے۔ یہ سب باتیں آپ کو مارکیٹ میں انٹرن شپ کرکے ہی معلوم ہوسکتی ہیں۔ تعلیمی ادارے میں یا گھر میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ کو کبھی بھی ان باتوں کا درست علم حاصل نہیں ہوسکتا۔

جاب کا حصول آسان ہو جاتا ہے

نجی شعبے میں عموماً ملازمین کی آمد و رفت سارا سال جاری رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سینیئر افراد بہتر تنخواہ، سہولیات، اور اونچی پوزیشن کی خاطر ایک کمپنی چھوڑ کر دوسری کمپنی جوائن کر لیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مینجمنٹ عموماً نئے سینیئر کے بجائے کمپنی کے اندر کسی جونیئر کو سینیئر کی جگہ ترقی دے دیتی ہے، اور جونیئر کی سیٹ پر انٹرن شپ والے کو نوکری دے دی جاتی ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نئے شخص کو کمپنی کے ماحول اور طریقہ کار سمجھنے اور اس کے مطابق کام کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے جبکہ انٹرن شپ کرنے والا کمپنی کے کام کرنے کے لیے طریقہ کار سے آگاہ ہوچکا ہوتا ہے۔

اس لیے انٹرن شپ کی صورت میں آپ کو اچھی کمپنی میں زیادہ آسانی سے مستقل جاب مل سکتی ہے، ورنہ دوسری صورت میں ایک جاب پر کئی امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔

جانیے: نوکری کے حصول کے لیے چھ بہترین تجاویز

کیا انٹرن شپ کے دوران تنخواہ ملتی ہے؟

انٹرن شپ کے دوران تنخواہ کے بجائے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں بہت سی جگہوں پر بہت ہی کم وظیفہ ملتا ہے۔ اتنا کم کہ اس سے صرف دوپہر کا کھانا اور آفس آنے جانے کا کرایہ ہی بمشکل پورا ہوتا ہے، جبکہ زیادہ تر کمپنیز میں تو صاف صاف کہہ دیا جاتا ہے

’’یہاں انٹرن شپ کے دوران تنخواہ/وظیفے کا کوئی چکر نہیں‘‘

اس سلسلے میں مالکان کا مؤقف ہوتا ہے کہ یہ ناتجربہ کار افراد ہیں، انٹرن شپ کے دوران یہ کوئی ایسی خدمات یا مفید کام سر انجام نہیں دیتے جو فروخت کے قابل ہو، لہٰذا انہیں معاوضہ نہیں دیا جا سکتا۔ ایک حد تک یہ موقف درست ہے کیونکہ مارکیٹ میں صرف ان مہارتوں کا معاوضہ دیا جاتا ہے جن کو کمپنی آگے فروخت کرکے منافع کما سکے۔

بہرحال انٹرن شپ کے دوران تنخواہ کے مسئلے پر زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ کا وظیفہ کم یا ناپید ہے، لیکن آپ کو کام سیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ اچھی کمپنیز اور ترقی پسند مالکان کبھی بھی کسی انسان کی حق تلافی نہیں کرتے۔ جیسے ہی کمپنی یا مالکان آپ کی کارکردگی سے مطمئن ہوں گے تو لازماً آپ کو آپ کے کام کے مطابق تنخواہ دینی شروع کر دیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ کو کسی وجہ سے معقول معاوضہ نہیں ملتا، تو بھی آپ کو جو تجربہ حاصل ہو رہا ہے، وہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اس تجربے اور روابط کی بدولت آپ آئندہ زندگی میں بہت سا منافع کما سکتے ہیں۔

انٹرن شپ کا حصول آسان ہے؟

پاکستان کی جاب مارکیٹ میں بے روزگاری کی شرح بہت بلند ہے۔ ہر سال یونیورسٹیاں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات کو ڈگری دے رہی ہے، لیکن ان میں سے صرف کچھ ہی کو ان کی تعلیم کے مطابق جاب ملتی ہے۔ نوکری اور انٹرن شپ حاصل کرنا آسان نہیں، خاص کر اچھی کمپنیز کے اندر تو یہ کافی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

پڑھیے: نوکری چھوڑتے وقت ان 11 غلطیوں سے بچیں

ہر کمپنی انتظامیہ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو تجربہ کار آدمی مل جائے تاکہ اس کی تربیت پر زیادہ وقت اور توانائی نہ لگے۔ تجربہ کار شخص کے لیے اگر کچھ زیادہ تنخواہ اور مراعات بھی ادا کرنی پڑیں، تو انتظامیہ اس کے لیے بھی تیار ہوتی ہے۔ نجی شعبے میں عموماً نوجوانوں کو بڑی پوسٹ پر براہ راست بھرتی نہیں کیا جاتا، جبکہ ہمارے ہاں چھوٹی اور درمیانے درجے کی اکثر پاکستانی کمپنیز انٹرن شپ پروگرام جاری ہی نہیں کرتیں جس کی وجہ سے نئے شخص کو کام سیکھنے کا موقع نہیں مل پاتا۔

انٹرن شپ کے دوران مشکلات

انٹرن شپ کے دوران کافی ساری مشکلات ہوتی ہیں۔ کارپوریٹ ماحول تعلیمی اداروں اور گھروں کے ماحول سے کافی مختلف ہوتے ہے۔ یہاں پر اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور برے لوگ بھی۔ پروفیشنل حسد، ٹانگ کھینچنا، شکایت لگانا، دوسرے کی کردار کشی، غلط مشورے دینا، یہ سب بیماریاں ہمارے دفتروں اور کام کی جگہوں پر عام پائی جاتی ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی کوئی نیا شخص دفتر آتا ہے تو سینیئر کو اپنی سیٹ کا خطرہ محسوس ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ سینیئر کا رویہ عموماً شفیق نہیں ہوتا اور کئی جگہ سینیئر کام سیکھنے کے بجائے جونیئر کو کام سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’تم کہاں کام پر آ گئے، ہماری تو ساری زندگی تباہ ہوگئی اس کمپنی میں‘‘

’’آپ کوئی اور کام کر لیں، یا سرکاری جاب تلاش کریں، یہ کمپنی اچھی نہیں‘‘

“جتنا جلدی ہو سکتا ہے یہاں سے نکل جاؤ، یہاں کوئی مستقبل نہیں ہے۔”

کئی کمپنیز میں انٹرن شپ کرنے والے افراد سے آفس بوائے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ میں نےخود کئی دفاتر میں گریجوئیٹس کو چائے تیار کرتے، پانی کی بڑی بوتل لاتے، دفتر کی صفائی کرتے دیکھا ہے۔

حیران کن: ہر نوکری چھوڑ دینے والے شخص کی کہانی

بعض کمپنیز میں سینیئر افراد بطور سپر وائزر انٹرن شپ کرنے والے افراد کو ذاتی ملازم تصور کرتے ہیں۔ ان سے گھر کے ذاتی کام کروائے جاتے ہیں، جیسے بچوں کو اسکول سے واپس لانا، گاڑی مرمت کے لیے ورکشاپ لے جانا، بچوں کو بغیر فیس کے ٹیوشن دلوانا، اپنے گھر کے کمپیوٹر کو ان سے مفت ٹھیک کروانا، تنخواہ کے موقع پر ادھار رقم لے لینا جس کی عموماً واپسی نہیں ہوتی، شامل ہیں، جبکہ خواتین کو جلدی ترقی کے لیے غلط راستوں کا مشورہ دینے والے اور والیاں بھی بطور سینیئر موجود ہوسکتی ہیں۔

یہ سب مشکلات جو اوپر تحریر کی گئی ہیں، ضروری نہیں کہ ہر انٹرن شپ کرنے والے کو پیش آئیں۔ یہاں ان سب کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ آپ پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوں اور جب آپ کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے تو آپ بروقت بہتر فیصلہ کرسکیں۔ ایسی کمپنیز میں انٹرن شپ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں لہٰذا ایسا کوئی بھی رویہ برتے جانے پر فوراً وہاں سے کنارہ کشی کر لیں، جس کا فائدہ آپ کی عزتِ نفس کا تحفظ ہے، اور نقصان کچھ بھی نہیں۔

آخری بات

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر آپ کو کسی وجہ سے جاب نہیں مل رہی تو آپ کو فارغ گھر میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ انٹرن شپ یا کسی بھی شکل میں اپنی فیلڈ کے ساتھ لازماً منسلک رہنا چاہیے تاکہ آپ کی کام کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا رہے، اور جب بھی کبھی کسی اچھی ملازمت کا اشتہار دیا جائے، تو آپ کے پاس اس کے لیے مطلوب مہارت اور تجربہ پہلے سے موجود ہو۔

This article published on dawn newspaper on 02 April 2016

Facebook Comments
Share

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *