کالجوں کا شہر لاہور گیارہویں جماعت میں کیسے داخل ہوگا؟

لاہور نہ صرف پاکستان کا اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے بلکہ اسے ملکی سیاست میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔ لاہور کو کئی حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے، جیسے باغوں کا شہر، زندہ دلوں کا شہر، اسی طرح لاہور کو کالجوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ لاہور میں کسی زمانے میں کئی کالجز موجود تھے جو لاہور کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع کے تشنگانِ علم کی پیاس بجھایا کرتے تھے۔

لاہور میں بڑھتی آبادی اور تیزی سے ہونے والی نقل مکانی نے جہاں بے شمار چیزوں کا فقدان پیدا کیا وہاں سرکاری کالجوں کی کمی کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ لاہور میں اس وقت 56 کے قریب سرکاری کالجز موجود ہیں جس میں 34 لڑکیوں کے اور 22 لڑکوں کے کالجز ہیں۔

ان تمام کالجوں میں طلبہ کی کل گنجائش 49 ہزار ہے۔ جبکہ صرف لاہور بورڈ سے ہر سال ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد طالب علم پاس ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال 2016 کے میٹرک کے نتائج کے مطابق لاہور بورڈ کے زیر اہتمام امتحان میں 2 لاکھ 14 ہزار 711 طلبہ نے شرکت کی تھی، اور تقریباً 71 فی صد نے کامیابی حاصل کی۔ یعنی ایک لاکھ 53 ہزار کے قریب طالب علم پاس ہوئے۔

یعنی صرف لاہور بورڈ کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد پاس ہونے والے طالب علموں کے لیے کسی سرکاری کالج میں کوئی گنجائش نہیں۔ اب وہ یا تو کسی نجی کالج میں داخلہ لے، یا اگر غریب ہے اور نجی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تو اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دے۔

خیال رہے کہ لاہور کے کالجز میں صرف لاہور بورڈ کے کامیاب طلبہ و طالبات ہی داخلہ نہیں لیتے، بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ، فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بڑی تعداد بھی لاہور کے کالجوں میں زیر تعلیم ہے۔

طالب علموں کی اتنی بڑی تعداد (ایک سے ڈیڑھ لاکھ) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرائیویٹ شعبے میں 120 سے زائد کالجز قائم ہیں جو تجارتی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔

لاہور میں نئے کالجز کا قیام کیوں نہیں ہوا؟

لاہور میں 1982 سے مسلم لیگ کی حکومت قائم ہے۔ اگرچہ لاہور میں ترقیاتی کام ہوا ہے، ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے کئی سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، کئی انڈر پاس اور اوور ہیڈ بِرج تعمیر کیے گئے۔

اب کئی سو ارب روپے کی لاگت سے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، لیکن پتہ نہیں اس بات کی اصل وجہ کیا ہے کہ کیوں لاہور میں (ضرورت کے مطابق) سرکاری کالجز کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، کچھ لوگوں کی رائے میں اس کی اصل وجہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی ہے، جس وجہ سے شعبہ تعلیم کو مطلوب وسائل ہی فراہم نہیں کیے جاتے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کئی بار خود اعلان کیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن سے قبل ذہین طالب علموں میں کئی ارب روپے کے لیپ ٹاپ اور سولر لیمپ وغیرہ مفت تقسیم کیے، نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کو دنیا کے کئی ممالک کی سیر کروائی۔ لیکن بنیادی سطح پر جو کام ہونا چاہیے، وہ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجز کی انتظامیہ کافی بااثر ہے اور وہ صوبائی حکومت کے اہم افراد کو نئے کالجز قائم کرنے سے روک دیتی ہے تاکہ ان کا بزنس قائم و دائم رہے۔

نجی کالجز کی نگرانی کون کرے

معلوم نہیں حکومت نےان نجی کالجز کے لیے کوئی بنیادی قوائد ضوابط (ایس او پیز) ترتیب دے رکھے ہیں بھی یا نہیں، عموماً نجی تعلیمی اداروں کی کسی قسم کی کوئی نگرانی نہیں ہوتی۔

لاہور شہر میں جو نجی کالجز ہیں وہ ہر چیز سے آزاد ہیں، فیسوں کا تعین ہو، اساتدہ کی بھرتی، کالج بلڈنگ کے بائی لاز، ہوسٹلز، لائیبریری، تجربہ گاہ، پارکنگ، یا پھر کھیلوں کے میدان، ہر جگہ وہ صرف اپنے مفادات کا خیال پہلے رکھتے ہیں۔ فیسوں، یونیفارم، کتابوں، امدادی کتب کے علاوہ ہر ماہ کوئی نہ کوئی نیا خرچہ تیار کر لیا جاتا ہے کیونکہ ان کی مانیٹرنگ (نگرانی) کے لیے کوئی ادارہ یا تو قائم ہی نہیں یا پھر اپنا کام نہیں کر رہا ہے۔

نجی کالجوں کی فیس اور سہولیات

لاہور میں قائم نجی تعلیمی کالجز کی سالانہ فیس اور دیگر اخراجات ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک ہے۔ اس طرح والدین کے ایک بچے کی دو سالہ تعلیم پر 2 سے 6 لاکھ تک خرچ ہو جاتے ہیں۔

لاہور میں نجی کالجوں کی اکثریت نے اپنے طالب علموں کے لیے کوئی ہوسٹل قائم نہیں کیے۔ جس کی وجہ سے دوسرے شہروں کے طلبہ وطالبات شہر میں قائم چھوٹے چھوٹے ہوسٹلز (جو عموماً پانچ /دس مرلہ کے پرانے رہائشی مکانات ہیں) میں رہتے ہیں۔

کالجز میں پڑھانے والے اساتدہ کا کوئی خاص معیار نہیں، اگر ایف اے /بی اے پاس صاحب کو کالج انتظامیہ ایم ایس سی/ایم فل قرار دے تو آپ کو یقین کرنا ہوگا۔

کھیل کے میدان کا کوئی چکر نہیں، زیادہ تر کالجز کے پاس صرف اپنی عمارت کا صحن ہے جو پانچ دس مرلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ (شاید کالج انتظامیہ یہ سوچتی ہے کہ آپ کے بچے اتنے پیسے خرچ کر کے کالج پڑھنے آتا ہے نہ کہ کھیلنے) لائبریری اور سائنس مضامین کے لیے تجربہ گاہ تو ہوتی ہے، لیکن صرف نام کی (کیونکہ جناب کورس کی کتابیں تو مکمل ہوتی نہیں کون مزید کتابوں اور پریٹکل کے چکر میں پڑے)۔

بعض کالجز کی انتظامیہ بورڈ کے عملی امتحانات کے لیے خاص اہتمام کرتی ہے۔ جس کے لیے طالب علموں کو مزید کچھ رقم خرچ کرنا ہوتی ہے۔ آخر اچھے گریڈز بھی تو لینے ہیں نا!

نجی کالجز میں مستقل فیکلٹی کا فقدان

نجی کالجز میں کوئی بھی استاد مستقل نہیں ہوتا بلکہ بعض کالجز میں تو ماہانہ کی بجائے اساتدہ کو فی پیریڈ پڑھانے کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ کئی نجی کالجز میں سابقہ اسٹوڈنٹس اور غیر تجربہ کار افراد کو بطور اساتذہ بھرتی کر لیا جاتا ہے۔

ٹیچرز ٹریننگ کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں، اساتذہ کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں۔ نیز چھٹیوں کے دوران اساتذہ کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ جب کہ طلبا سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ چونکہ اساتذہ کی معاشی حالت بہت خراب ہوتی ہے، اس لیے وہ بھی عدم دلچسپی سے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔

اگر حکومت کے پاس فندز کی کمی ہے تو، یقیناً نئے کالجز قائم کرنے کے لیے بھی کافی وسائل کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزیر تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی ہدایت پر ملک بھر میں بے شمار ایسے اسکولز جن میں مطلوبہ سہولیات میسر تھی، ان اسکولز کو ہائیر سکینڈری اسکول کا درجہ دیا گیا تھا، جس سے اس علاقے کے طلبہ و طالبات اپنے اسکول سے ہی 12 سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی) مکمل کرتے تھے، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر لاہور میں ان تمام ہائیر سکینڈری اسکولوں کو آہستہ آہستہ بند کر دیا گیا۔

حکومت یہ بھی کر سکتی ہے کہ جو تعلیمی وسائل موجود ہیں، ان کو (لیپ ٹاپ کے بجائے) کالج میں داخلہ لینے کے خواہشمند مستحق طالب علموں کے اچھے نجی کالج داخلہ کے اخراجات پر خرچ کرے۔

اس بات کی بھی وجہ معلوم نہیں ہو سکی کہ صوبائی حکومت ایسے کالجز کیوں قائم نہیں کرتی، جو نفع، نقصان کے بغیر چلیں۔ یعنی عمارت کے کرایے، اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات وغیرہ طالب علموں سے فیس کی صورت میں حاصل کرے، یہ فیس پھر بھی نجی کالجز کی فیس سے کم ہوگی۔ اس طرح کم آمدنی اور متوسط طبقے کے بہت سے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کر پائیں گے اور تعلیم حاصل کرنا ان کی ناتمام حسرت اور خواہش نہیں بن کر رہ جائے گی۔

یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ موجود صوبائی حکومت کے پاس نئے کالجز قائم کرنے کے لئے وسائل نہیں لیکن یہ بات قابل قبول نہیں کہ موجود تعلیمی وسائل کو مستحق طلبہ پر خرچ کرنے کی بجائے ’لیپ ٹاپ اسکیم یا پوزیشن ہولڈز کو بیرون ممالک کی سیر’ پر ضائع کر دی جائے۔

شاید اس سے بڑا ظلم لاہور کے شہریوں کے ساتھ اور کوئی نہیں۔

حسن اکبر کا یہ مضمون سب سے پہلے ڈان نیوز کی ویب سائٹ پر مورخہ 25 مئی 2017 کو شائع  ہو ا۔

https://www.dawnnews.tv/news/1058375

Share

گوگل کے ذریعے ڈالرز کیسے کمائیں؟

یوٹیوب سے آمدنی کے بارے میں گذشتہ مضمون میں ہم نے ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ سے کچھ آگاہی حاصل کی تھی۔ اس بار میری کوشش ہے کہ میں آپ کو گوگل ایڈسینس کے بارے میں مفید معلومات بہتر انداز میں فراہم کر سکوں۔

گوگل ایڈسینس کیا ہے اور کیسے کام کرتا ہے؟

دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل کا اشتہارات نشر کرنے کا پروگرام گوگل ایڈسینس کہلاتا ہے۔ اس پروگرام میں شمولیت کے لیے لازمی ہے کہ آپ کے پاس اپنی کوئی ذاتی ویب سائٹ ہو، جس پر اشتہارات نشر کرنے کی ذمہ داری آپ گوگل کے سپرد کر دیتے ہیں۔ گوگل اشتہارات دینے والوں سے سائیٹ پر اشتہارات دکھانے کے پیسے نہیں لیتا، بلکہ جب کوئی اس اشتہار کلک کرتا ہے، تب ان سے فی کلک کے حساب سے رقم وصول کی جاتی ہے اور حاصل ہونے والی آمدنی اس ویب سائٹ اور گوگل کے مابین تقسیم ہوتی ہے۔

اگر آپ انٹرنیٹ پر اپنی ویب سائٹ/بلاگ پر ایڈورٹائزنگ کے ذریعے آمدنی حاصل کرنے کے خواہشمند ہیں، تو سب سے مؤثر اور آسان طریقہ یہ ہے کہ آپ گوگل کی ایڈسینس سروس حاصل کر لیں۔ اس طرح آپ پر سے ذمہ داری کافی کم ہوجاتی ہے، یعنی اشتہارات کی تیاری/وصولی، کمپنیز سے رابطہ، رقم کی وصولی، اشتہارات کے جملہ دفتری امور وغیرہ۔

یہ کن لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے؟

گوگل ایڈسینس پروگرام میں ویسے تو ہر کوئی شامل ہوسکتا ہے لیکن اس پروگرام میں کامیابی صرف ان ہی افراد کو ملتی ہے جو انٹرنیٹ پر لوگوں کے لیے مفید سرگرمیاں اور دلچسپ مواد فراہم کرتے ہیں، کیونکہ اس میں کامیابی کا جملہ انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کی ویب سائٹ یا بلاگ کو کتنے لوگ وزٹ کرتے ہیں۔ اور لوگ ایسی ہی ویب سائٹس اور بلاگز پر بار بار آتے ہیں جن میں دلچسپ اور تازہ ترین مواد ہر وقت موجود رہتا ہے۔

لہٰذا جو بھی تعلیم یافتہ شخص یہ خیال کرتا ہے کہ وہ اپنے فارغ وقت میں اپنی بہترین صلاحیتوں کے ذریعے لوگوں کا کچھ اچھا کرسکتا ہے، تو انہیں اس سروس میں ضرور شامل ہونا چاہیے، جس سے معقول ماہانہ آمدنی بھی ہوتی ہے۔

اس وقت پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں افراد اس پروگرام سے منسلک ہیں، جن میں کمپیوٹر سائنس/آئی ٹی سے وابستہ افراد، تخلیق کار، استاد، لکھاری، بلاگرز، صحافی، گھریلو خواتین، طلبہ وطالبات، ڈاکٹرز، جز وقتی ملازمت پیشہ افراد اور دیگر شامل ہیں۔ اب سوال یہ کہ اس سے کتنی آمدنی ہو سکتی ہے، تو یہ آپ کی صلاحیتوں پر منحصر ہے۔ پاکستان میں بہت سے لوگ ماہانہ دس/بیس ہزار روپے سے لے کر 10 لاکھ روپے تک کما رہے ہیں۔ گوگل کمپنی کے بقول اس نے سال 2014 میں دس ارب ڈالرز ایڈسینس پروگرام میں شریک افراد میں تقسیم کیے۔

مواد کس زبان میں ہونا چاہیے؟

گوگل ایڈسینس پروگرام میں شامل ہونے کے لیے لازمی ہے کہ آپ کی ویب سائٹ/بلاگ کا پرائمری مواد انگریزی زبان میں ہو جبکہ گوگل ایڈسینس کچھ دیگر زبانوں کو بھی سپورٹ کرتا ہے۔

لیکن ابھی تک گوگل ایڈسینس اردو کو سپورٹ نہیں کرتا، (بعض غیر مصدقہ اطلاعات کے مطابق، گوگل آئندہ سال اردو زبان کو بھی شامل کرنے والا ہے) ویسے بھی اردو یا غیر منظور شدہ زبانوں میں موجود ویب سائٹس پر آمدنی نہ ہونے کے برابر ہے، اس لیے بہتر یہی ہے کہ آپ کا مواد انگریزی یا دیگر منظور شدہ زبانوں میں ہو۔

بغیر محنت آمدنی؟

آپ نے میڈیا میں اس طرح کے اشتہارات ضرور دیکھے ہوں گے جس میں یہ دعویٰ کیا جاتا ہے کہ بغیر کسی محنت کے ہر ماہ با آسانی لاکھوں روپے کمائیے۔ یہ سب جھوٹ ہے اور اس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ گوگل ایڈسینس سے بہتر اور مستقل آمدنی کے لیے کافی محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہ بات درست ہے کہ اس سے مناسب ماہانہ آمدنی حاصل ہوتی ہے، لیکن یہ بھی ممکن ہے کہ اگر آپ اتنی ہی محنت آئی ٹی سے وابستہ کسی اور فیلڈ میں کریں تو شاید اس سے زیادہ آمدنی حاصل ہوجائے۔

زیادہ آمدنی کیسے حاصل ہو؟

پہلی بات جو سمجھنے کی ہے وہ یہ کہ گوگل نے آپ کو ڈالر نہیں دینے، بلکہ آپ نے گوگل کو ڈالر کما کر دینے ہیں، جس میں سے گوگل اپنا حصہ اٹھا کر باقی رقم آپ کو بھیج دیتا ہے۔

اس لیے زیادہ آمدنی کے لیے لازمی ہے کہ آپ کی ویب سائٹ /بلاگ سائٹ کا مواد کارآمد، یعنی اچھا اورمعیاری ہو۔

          پاکستان میں ہزاروں کی تعداد میں بلاگز اور ویب سائٹس گوگل ایڈسینس پروگرام میں شریک ہیں اور ماہانہ دس ہزار سے دس لاکھ روپے تک کما رہی ہیں۔          

یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، حقوق دانش (کاپی رائٹ) کی خلاف ورزی نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو، وغیرہ۔

ویب سائٹ/بلاگ خوبصورت اور جاذب نظر ہو، اور ڈیزائن ایسا ہونا چاہیے جسے قارئین با آسانی استعمال کرسکیں۔ ایسے مواد کا انتخاب کیا جائے جس میں انٹرنیٹ صارفین کی اکثریت پڑھنے/سننے/دیکھنے میں دلچسپی رکھتی ہو، جبکہ ہر روز اس میں کچھ نیا ضرور شامل ہو۔

مجھے کن مہارتوں کی ضرورت ہوگی؟

گوگل ایڈسینس پروگرام چونکہ بنیادی طور پر ویب سائٹ سے منسلک ہے، اس لیے آپ کو ویب سائٹ کے جملہ فنی امور میں مہارت ہونی چاہیے۔ ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تربیت کے بارے میں آپ میرے گذشتہ مضمون کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔ جس میں ویب ڈولپمنٹ پر کافی معلومات موجود ہیں۔

دوسرا یہ کہ ویب سائٹ کی کامیابی/ناکامی کا اصل دارومدار اس کے مواد پر ہوتا ہے۔ آپ کی ویب سائٹ پر جتنا اچھا اور معیاری مواد ہوگا، آپ کی آمدنی کے امکانات اتنے ہی زیادہ روشن ہوں گے۔ اس لیے آپ کو مواد کی تیاری (content writing) میں مہارت ہونی چاہیے۔

اگر آپ ان دونوں چیزوں پر مہارت نہیں رکھتے تو پھر آپ کے پاس بنیادی سرمایہ ہونا چاہیے، تاکہ مواد کی تیاری اور فنی امور کے لیے پیشہ ور افراد کی خدمات بعوض معاوضہ حاصل کی جاسکیں۔

نئے راستے تلاش کریں

آج گوگل ایڈسینس سے بہت سے لوگ اور کمپنیز منسلک ہیں اس لیے زیادہ ترقی حاصل کرنے کے لیے آپ کو نئے راستے تلاش کرنے ہوں گے۔ اگر آپ کے ذہن میں کاپی پیسٹ والا آئیڈیا ہے تو براہِ کرم اس سمت میں اپنا وقت برباد نہ کریں، کیونکہ ہوسکتا ہے کہ آپ کچھ دیر گوگل کو بیوقوف بنانے میں کامیاب ہوجائیں مگر قارئین/ناظرین کو بیوقوف مت سمجھیے، وہ صرف اور صرف اسی صورت میں آپ کی طرف متوجہ ہوں گے جب آپ کا کام معیاری ہوگا۔

اگر آپ گوگل ایڈسینس پروگرام میں کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو سب سے پہلے نئے آئیڈیاز تلاش کریں، جن سے لوگوں کی توجہ حاصل کی جاسکے۔

          اگر آپ کی ویب سائٹ کا مواد باقاعدگی سے اپ ڈیٹ نہیں ہوتا یا آپ کی ویب سائٹ پر زیادہ تعداد میں لوگ نہیں آتے، تو گوگل ایڈسینس میں شرکت کی درخواست عموماً مسترد ہو جاتی ہے۔          

اگر آپ کسی ویب سائٹ کو اپنا حریف تصور کرتے ہیں، تو سوچیے کہ آپ اپنے حریف کے مقابلے میں اپنی سروس کس طرح بہتر، منفرد اور ممتاز انداز میں پیش کریں گے؟

اس بات پر غور و فکر کریں کہ آپ کی ویب سائٹ پر کس طرح کا مواد ہوگا جس میں لوگوں کی دلچسپی ہو۔ ایسی کون سی انفارمیشن یا مواد آپ پیش کر سکتے ہیں جو پہلے سے انٹرنیٹ پر موجود نہ ہو، مگر اس کی انٹرنیٹ صارفین کو ضرورت بھی ہو؟

آپ کس طرح زیادہ تعداد میں لوگوں کو اپنی ویب سائٹ پر زیادہ وقت کے لیے مصروف رکھ سکتے ہیں؟ آپ لوگوں کو اپنی طرف کس متوجہ کریں گے یعنی سستی ویب ٹریفک کس طرح حاصل کریں گے؟

گوگل ایڈسینس میں شمولیت کیسے کی جائے؟

سب سے پہلے آپ کو گوگل ایڈسینس کے پروگرام اور پالیسی کا اچھی طرح مطالعہ کرنا چاہیے. آپ نے اپنے تھیم کے مطابق ایک ویب سائٹ/بلاگ سائٹ تیار کرنی ہے، جس میں ہر ہفتے کچھ بہتر اور معیاری مواد شامل کرنا ہے۔ اس کے بعد آپ کو اپنی ویب سائٹ کی تشہیر کرنی ہوگی تاکہ ویب سائٹ کی ٹریفک بڑھے، جس کے لیے آپ سوشل میڈیا اور اپنے دوستوں کو ای میل کرسکتے ہیں۔ تقریباً 90 سے 120 دن کے بعد جب آپ کی ویب سائٹ پر مناسب ٹریفک ہوجائے، تب آپ کو گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کے لیے اپلائے کرنا چاہیے۔ عموماً غیرمعیاری مواد اور نامناسب ٹریفک کی وجہ سے گوگل ایڈسینس اکاوئنٹ کی درخواست مسترد کردی جاتی ہے۔

رقم کیسےاور کب ملتی ہے؟

ہر ماہ کے آخر میں اگر آپ کی آمدنی سو ڈالر سے زیادہ ہو تو گوگل اس رقم کو اگلے ماہ کے آخر میں بھیجتا ہے۔ مثلاً ماہ جنوری کی ادائیگی 24 سے 25 فروری کو وصول ہوگی۔ گوگل پاکستان کے اندر ویسٹرن یونین کےذریعے رقم منتقل کرتا ہے۔ ویسٹرن یونین سے رقم آپ اپنے بینک اکاؤنٹ میں منتقل کرواسکتے ہیں یا ان کے دفتر جا کر خود وصول کرسکتے ہیں۔

ایڈسینس کے بارے میں مزید معلومات

گوگل ٹیم کی جانب سے سائٹ اور مواد کو بہتر کرنے کے لیے آپ کو ہر ہفتے تجویز بھیجی جاتی ہیں جن پر عمل کر کے آپ اپنی ویب ٹریفک اور آمدنی بہتر کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ یوٹیوب پر گوگل ایڈسینس ٹیم نے کافی تعداد میں ویڈیوز اپ لوڈ کر رکھی ہیں جو آپ کے لیے کافی مددگار ثابت ہوں گی، جن سے فارغ وقت میں استفادہ حاصل کیا جاسکتا ہے۔

سب سے اہم بات

اگر آپ زیادہ اور مستحکم آمدنی چاہتے ہیں تو ایسی ویب سائٹ تیار کریں جو امریکا، برطانیہ کے قارئین کی ضروریات کو پوری کرتی ہو کیونکہ اگر آپ کی ویب سائٹ پر پاکستان/انڈیا کے ویب صارف کلک کرتے ہیں تو اس کلک کی قیمت کم ہوگی مگر امریکا، برطانیہ کی ویب ٹریفک کے کلک کی قیمت بہت زیادہ ہوتی ہے۔ ایک اندازے کے مطابق اگر آپ کی ویب سائٹ پر روزانہ تین سو افراد پاکستانی آتے ہیں تو اندازاً 2 ڈالر یومیہ آمدنی ہوگی، لیکن اگر امریکا کے تین سو افراد وزٹ کرتے ہیں تو آپ کی آمدنی 12 ڈالر یومیہ متوقع ہے۔

This article published on dawn newspaper on 02 May 2016

Share

یوٹیوب: بے تحاشہ آمدنی کا آسان ذریعہ

اگر آپ نوجوان ہیں اور آپ کے پاس کچھ فارغ وقت ہے تو اپنے فارغ وقت کو سوشل میڈیا پر مفت میں خرچ کرنے سے بہتر ہے کہ آپ یوٹیوب پر کچھ مفید کام کریں جسسے نہ صرف آپ کو کچھ آمدنی ہو بلکہ ہماری انٹرنیٹ سوسائٹی کو بھی فائدہ ہو۔

اس طرح معاشرے کی خدمت کے ساتھ ساتھ اضافی آمدنی بھی ہوسکتی ہے اور اگر زیادہ سنجیدگی کے ساتھ یہ کام کریں تو نوکری سے زیادہ آمدنی بھی ہوسکتی ہے۔ دنیا میں بہت سے لوگ یوٹیوب کو استعمال کر کے لاکھوں ڈالر سالانہ کما رہے ہیں۔ یہ لوگ کرتے صرف یہ ہیں کہ منفرد تصورات پر مبنی ویڈیوز بناتے ہیں، اور اپنے چینلز پر اپ لوڈ کر دیتے ہیں۔ سننے میں سادہ اور آسان لگتا ہے نا؟

یہ سادہ اور آسان ہے بھی۔

یہ کن لوگوں کے لیے زیادہ فائدہ مند ہے؟

سب سے پہلے اس امر کی وضاحت ضروری ہے کہ ویسے تو یوٹیوب پر کام ہر وہ شخص کر سکتا ہے جس کو اس کا شوق ہو، لیکن ویڈیو مواد کی تیاری بہرحال ایک مشکل مرحلہ ہے، اس لیے یہ ان افراد کے لیے زیادہ موزوں ہے جو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کر سکتے ہیں، مثلاً تخلیق کاروں، اساتذہ، وڈیو بلاگز، صحافی، فن کار، گلوکار، جرنلزم اینڈ ماس کمیونیکشن کے طلبہ و طالبات وغیرہ۔

یوٹیوب کا تعارف

یوٹیوب کے بارے میں تو آپ کو معلوم ہی ہوگا کہ یہ دنیا کی مقبول ترین ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ ہے جس پر کوئی بھی شخص یا کمپنی اپنی ویڈیو اپ لوڈ کر سکتی ہے، جبکہ کوئی بھی شخص بغیر کسی ممبر شپ کے یہ ویڈیو دیکھ سکتا ہے۔

یوٹیوب کسی بھی صارف سے ویڈیو نشر کرنے یا یوٹیوب پر شائع شدہ ویڈیو دیکھنے کے لیے کوئی معاوضہ طلب نہیں کرتا، (ماسوائے قابل فروخت ویڈیو مواد کے)۔

ویسے تو یوٹیوب 2005 میں قائم ہوئی لیکن اس کی اصل ترقی اس وقت ہوئی جب اس کو دنیا کے سب سے بڑے سرچ انجن گوگل انکارپوریٹڈ نے 2006 میں خرید لیا۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب گوگل/یوٹیوب نہ تو دیکھنے والے سے پیسے وصول کر رہی ہے اور نہ ہی ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے سے، تو یوٹیوب کے اخراجات کون ادا کرتا ہے؟

ٹی وی اور اخبارات کی طرح گوگل اور یوٹیوب بھی اشتہارات سے خوب منافع کماتے ہیں۔ یاد رہے کہ گوگل کو کل آمدنی کا 95 فیصد حصہ اشتہارات سے حاصل ہوتا ہے۔

یوٹیوب سے آمدنی ان طریقوں سے ہوسکتی ہے۔

1: یوٹیوب کا پارٹنرشپ پروگرام

2: ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ

یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام

اس پروگرام کے ذریعے یوٹیوب آپ کی تیار کردہ ویڈیو سے ہونے والی آمدنی کا کچھ حصہ آپ کو دیتی ہے۔ یو ٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں ہر ایک کو شامل نہیں کیا جاتا، بلکہ اس کے کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ اگر آپ کی ویڈیو میں جان ہے اور لوگوں کی بڑی تعداد اس کو پسند کرتی ہے، تو اس کو یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام میں شامل کیا جاتا ہے، جس سے آپ کو کافی معقول آمدنی ہوسکتی ہے۔ یوٹیوب پارٹنرشپ پروگرام کے لیے لازمی ہے کہ آپ کا ویڈیو مواد معیاری ہو اور زیادہ سے زیادہ ناظرین کی دلچسپی سے متعلق ہو، تاکہ آپ کے چینل کو زیادہ سے زیادہ لوگ سبسکرائب کریں۔

ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ

بہت سے لوگوں کو تو اس چیز کا علم ہوگا، لیکن جن کو اس کے بارے میں علم نہیں، ان کے لیے عرض ہے کہ کوئی بھی ویب سائٹ یا بلاگ سائٹ اپنی ویب سائٹ پر اشتہارات کی ذمہ داری گوگل کے سپرد کر دیتی ہیں، جس پر گوگل اپنی مرضی سے اشتہارات شائع کرتا ہے، اور اشتہارات سے جو آمدنی ہوتی ہے، وہ گوگل اور ویب سائٹ کے درمیان تقسیم ہوتی ہے۔

آج کل اس کی شرحِ تقسیم 32:68 ہے۔ یعنی ہر سو ڈالر میں سے 68 ڈالر ویب سائٹ کو اور 32 ڈالر گوگل میں تقسیم ہوتے ہیں۔ گوگل ایڈسینس سے دنیا بھر میں لاکھوں کی تعداد میں ویب سائٹس منسلک ہیں۔ خود پاکستان میں تقریباً تمام ہی بڑی ویب سائٹس کی زیادہ تر آمدنی گوگل ایڈسینس سے ہوتی ہے۔

ایڈسینس کی ایک اور قسم ’ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ‘ ہے، جس میں یوٹیوب پر ویڈیو کے اندر اشتہارات نشر ہوتے ہیں، جس سے حاصل ہونے والی آمدنی ویڈیو اپ لوڈ کرنے والے اور گوگل کے درمیان ایک خاص شرح سے تقسیم ہوتی ہے۔ ایڈسینس ہوسٹڈ اکاؤنٹ کے بھی کچھ قواعد و ضوابط ہیں۔ اگر آپ گوگل کی پالیسیوں کے مطابق کام کرتے ہیں تو اس سے اچھی خاصی ماہانہ آمدنی ہوتی ہے۔

یوٹیوب چینل قائم کرنا

اگر آپ ویڈیو کے شعبے میں دلچسپی رکھتے ہیں اور آپ کی عمر 18 سال سے زیادہ ہے تو آپ یوٹیوب پر اپنا ذاتی چینل قائم کرسکتے ہیں، جس کا طریقہء کار بہت آسان ہے۔ صرف ایک ای میل ایڈریس کی مدد سے آپ یوٹیوب پر اپنا چینل شروع کرسکتے ہیں۔ یوٹیوب پر اپنا چینل قائم کرنے کے بہت سے فوائد ہیں، جس میں اس کا بالکل مفت ہونا، اس کا مشہور ہونا، تازہ ویڈیو مواد کا خودکار طریقے سے سرچ انجن میں شامل ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

کس قسم کا مواد نشر کیا جاسکتا ہے؟

یوٹیوب کی طرف سے رجسٹرڈ اکاوئنٹ ہولڈرز کو لامحدود ویڈیو مواد نشر کرنے کی اجازت ہوتی ہے، لیکن اس کی کچھ شرائط ہیں، جن میں یہ مواد کسی کی رسوائی کا باعث نہ ہو، فحش نہ ہو، حقوقِ دانش (کاپی رائٹ) کی خلاف ورزی نہ ہو، یعنی آپ کا اپنا ہو، جرائم کی ترغیب دینے والا مواد نہ ہو، وغیرہ شامل ہیں۔ اس کے علاوہ آپ اپنی پسند کا کوئی بھی مواد نشر کرسکتے ہیں۔

لیکن سب سے ضروری یہ ہے کہ وہ مواد آپ کے ناظرین کی دلچسپی کا ہو، ورنہ نہ تو آپ کا یوٹیوب چینل مقبول ہوگا، اور نہ ہی آپ کو اس سے آمدنی ہوگی۔ اس لیے ویڈیو کی تیاری اور اپ لوڈ کرنے سے پہلے اس طرف توجہ دینی بہت ضروری ہے کہ اس میں لوگوں کی دلچسپی کا کوئی نہ کوئی عنصر لازمی ہو۔

اپنے چینل پر کوئی بھی ویڈیو اپ لوڈ کرنے سے پہلے اچھی طرح یوٹیوب کے قواعد و ضوابط و پالیسی کا مطالعہ کریں، اور کوئی بھی ایسی ویڈیو اپ لوڈ نہ کریں جو یوٹیوب کے پروگرام اور پالیسی کے خلاف ہو، ورنہ آپ کا چینل یا ایڈسینس اکاؤنٹ بند بھی ہوسکتا ہے۔

ویڈیو کی تیاری

کوالٹی: ویڈیو مواد کی تیاری کرتے وقت کچھ بنیادی باتوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔ سب سے بنیادی بات تو یہ کہ اس کی پکچر کوالٹی اور آواز اچھی کوالٹی کی ہو۔ آج کل ‘ایچ ڈی’ کوالٹی کی ویڈیوز زیادہ مقبول ہیں۔

ویڈیو مختصر ہو: سوشل میڈیا پر لوگ ایسے مضامین اور ویڈیوز نہیں پڑھتے اور دیکھتے جو زیادہ طویل ہوں، اس لیے اس کی لمبائی مناسب ہونی چاہیے۔ چند منٹ کی ویڈیو تیار کرنا اور اپ لوڈ کرنا آپ کے لیے زیادہ آسان ہوگا، اور ناظرین بھی بور نہیں ہوں گے۔ اپنے چینل کے لیے ویڈیو کے تیاری کے لیے صرف ایسے موضوعات کا انتخاب کریں جو آپ کے متوقع ناظرین کی پسند کے ہوں تاکہ آپ کو اپنے چینل پر ناظرین لانے میں زیادہ مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

اپنے چینل کو مقبول کرنا

آپ نے یوٹیوب پر اپنے چینل قائم کر دیا، اور اچھی ویڈیو بھی اپ لوڈ کردی، لیکن صرف اس سے آپ کو آمدنی شروع نہیں ہو جائے گی، بلکہ آپ کو اپنے وزیٹرز/ناظرین تک اپنا پیغام پہنچانا ہوگا، یعنی اپنے چینل کی مارکیٹنگ آپ کو خود ہی کرنی ہوگی۔

اس کے لیے آپ سوشل میڈیا کی دوسری سائٹس مثلاً فیس بک، فین بکس، ٹوئٹر اور دوستوں کو ای میل کر کے کرسکتے ہیں۔ اس کے علاوہ آپ سوشل میڈیا پیجز پر باقاعدہ اشتہار بھی دے سکتے ہیں تاکہ آپ کی ویب ٹریفک زیادہ ہو۔

ویب ٹریفک بڑھنا یا اپنے چینل کی مارکیٹنگ کرنا اس لیے بھی ضروری ہے کیونکہ گوگل ایڈسینس کی آمدنی وزیٹرز کی تعداد سے منسلک ہے۔ ایڈسینس کے اشتہارات جو آپ کی ویڈیو میں نشر ہوتے ہیں، ان پر ہر کلک کے پیسے ہوتے ہیں، اور عموماً ایک ہزار ویوز پر ایک مخصوص رقم ادا کی جاتی ہے۔ یعنی زیادہ آمدنی کے لیے زیادہ ویب ٹریفک۔

یوٹیوب سے یوٹیوب کو سیکھنا

ویسے تو بے شمار لوگ یہ دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ آپ کو آن لائن کمانے میں مدد فراہم کرسکتے ہیں، لیکن عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ ان میں سے اکثر فراڈ ہیں، اور ان کے پاس کوئی خاص علم نہیں ہوتا۔

ان کی طرف وقت ضائع کرنے سے بہتر ہے کہ آپ خود سیکھنے کی کوشش کریں۔ تقریباً تمام ہی ضروری معلومات آپ کو خود یوٹیوب سے مل سکتی ہیں۔ اس کے لیے ’ورچوئل یونیورسٹی آف پاکستان‘ کے اس موضوع پر ویڈیو لیکچرز موجود ہیں جو ویڈیو کی تیاری میں کافی مدد گار ہوسکتے ہیں۔

ان پروگرام کے کورس کوڈز یہ ہیں۔

ایم سی ڈی 403، میوزک پروڈکشن

ایم سی ڈی 404، آڈیو ویژوئل ایڈیٹنگ

ایم سی ڈی 503، نیوز اینڈ کرنٹ افیئرز

ان پر کئی گھنٹوں کی ویڈیوز آن لائن فری میں دستیاب ہیں۔ آپ یوٹیوب پر کورس کو نام سے سرچ کرسکتے ہیں اور یوں آپ کو مکمل ویڈیو کورس دستیاب ہوجائے گا۔

کوشش کریں

بس اگر آپ کو ویڈیو کو بطور میڈیم استعمال کرنے کا شوق ہے یا آپ پہلے سے اس فیلڈ سے منسلک ہیں، تو آپ کو ضرور اس سمت میں بھی کوشش کرنی چاہیے۔ ہو سکتا ہے کہ اس سے آپ کو کافی مالی فائدہ حاصل ہو۔

لہٰذا دیر مت کریں۔ فارغ رہنے سے کچھ کوشش کرنا زیادہ بہتر ہے۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوگا؟ آپ ناکام ہو جائیں گے اور کوئی آمدنی نہیں ہوگی۔ لیکن پھر بھی آپ بہت کچھ سیکھ چکے ہوں گے، جیسا کہ ونسٹن چرچل نے کہا تھا کہ “جذبہ ماند پڑے بغیر ایک ناکامی سے دوسری ناکامی تک جانے کا نام ہی کامیابی ہے۔”

This article published on dawn newspaper on 14 April 2016

Share

فارغ وقت کیسے گزاریں؟

کئی نوجوان ڈگری مکمل کرنے کے بعد دو دو تین تین سال فارغ رہتے ہیں اور جاب ملنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، لیکن انٹرن شپ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر ڈگری کے بعد نوکری ملتی ہے تو ہی ان کی زندگی کامیاب ہوگی۔ لہٰذا وہ نوکری کے انتظار میں فارغ وقت ضائع کرتے رہتے ہیں، اور اس کا درست استعمال نہیں کرتے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اچھی نوکری ملنے کے امکانات محدود و معدوم ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ڈگری مکمل کیے ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہوتا ہے مگر سی وی پر عملی کام کا کوئی تجربہ موجود نہیں ہوتا۔

ٹیسٹ کے ذریعے ہونے والی سرکاری بھرتیوں میں تو تجربے کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں صرف قابلیت کا امتحان لیا جاتا ہے، مگر نجی شعبے میں قابلیت کے ساتھ ساتھ تجربے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، بلکہ نجی شعبے میں تو تجربہ اور مہارت کو اعلیٰ تعلیمی گریڈ سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ میں نے اس مضمون میں کوشش کی ہے کہ آپ کو انٹرن شپ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات فراہم کر سکوں، کہ اس کی ضرورت کیوں ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں۔

انٹرن شپ کی ضرورت

عملی زندگی میں کسی بھی شعبے میں کام کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے تجربہ ضروری ہوتا ہے اور تجربے کے بارے میں یہ کہاوت سو فیصد درست ہے کہ ’’تجربہ حاصل کرنے کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔‘‘

پڑھیے: کیا نوکریوں کے لیے حکومت کا انتظار کرتے رہنا چاہیے؟

جب طلبہ و طالبات اپنی تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان کو انڈسٹری کے مطابق کام کرنا نہیں آتا۔ اس کی بہت سے وجوہات ہیں جس میں تعلیمی نصاب کا انڈسٹری سے ہمیشہ پیچھے رہنا اور بروقت اپ ڈیٹ نہ ہونا (یہ ایک عالمی مسئلہ ہے)، تعلیمی اداروں میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے عملی کام نہ کروانا (یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے)، جبکہ تعلیمی نصاب میں بعض دفعہ کریڈٹ آور پورے کرنے کے لیے بہت سی غیر ضروری چیزیں پڑھی جاتی ہیں جن کا عملی زندگی میں کوئی خاص استعمال نہیں ہوتا۔

کسی بھی مارکیٹ کو سمجھنے کے لیے کم از کم تین ماہ سے ایک سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے تعلیمی شعبہ جات ایسے ہیں جن میں انٹرن شپ تعلیمی کورس کا لازمی جزو ہے، جیسے میڈیکل، وکالت، چارٹرڈ اکاؤنٹینسی وغیرہ۔ اکثر ان شعبہ جات کے طلبہ و طالبات کو اپنی ڈگری کے بعد مزید ایک سال انٹرن شپ کرنا لازمی ہوتی ہے اور انٹرن شپ کی تکمیل کے بعد ہی ان کو جاب یا پریکٹس کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ جو طلبہ و طالبات انٹرن شپ کے بعد جاب کرتے ہیں، عموماً دیکھا گیا ہے کہ وہ جلدی ترقی کرتے ہیں۔

انٹرن شپ کے فوائد

انٹرن شپ کے بے شمار فوائد ہیں لیکن ایک مختصر مضمون میں تمام ایک کا ذکر ممکن نہیں، اس لیے صرف چند ایک پر مختصر نوٹ حاضر خدمت ہے۔

حقیقت سے آگاہی

ہمارے ہاں جب نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ تو انہوں نے 14 سے 18 سال تک کی تعلیم مکمل کی ہوتی ہے اور زیادہ تر کی عمر اس وقت 20 سے 25 سال کے درمیان ہوتی ہے۔

عملی زندگی کے آغاز سے پہلے وہ ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں دنیا کے جو خاکے ہوتے ہیں، وہ عموماً حقیقت سے کافی دور ہوتے ہیں۔ مثلاً ان کے ذہن میں خیال ہوتا ہے کہ میں نے بہت نامی گرامی تعلیمی ادارے سے یہ بہت بڑی ڈگری/کورس مکمل کیا ہے، میرا تعلیمی ریکارڈ بھی بہت شاندار ہے، لہٰذا اب کمپنیز نے میرا نہیں بلکہ میں نے کمپنی کا انتخاب کرنا ہے۔

مزید پڑھیے: 2015 کی بدترین اور بہترین ملازمتیں

لیکن جب انٹرن شپ شروع کرتے ہیں تو ان کو حقیقت کا انداز ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ نے داخلے کے وقت جو خواب ان کو دکھائے تھے، وہ سب کے سب سچ نہیں ہوسکتے۔ مارکیٹ میں بے روزگاری کی شرح بہت بلند ہے، اچھی نوکری کا حصول ہرایک لیے ممکن نہیں، اچھی نوکری کے لیے صرف اچھی تعلیم اور اچھے گریڈ ہی کافی نہیں، مارکیٹ میں جن مہارتوں کا زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے اس کی تعلیم و تربیت تو نصاب میں شامل ہی نہیں تھی۔

مارکیٹ سے آگاہی

ہر فیلڈ سے متعلق کچھ ایسی معلومات ہوتی ہیں جو نہ تو میڈیا میں آتی ہیں، نہ ہی یہ تعلیمی نصاب میں شامل ہوتی ہے، بلکہ یہ معلومات آپ کو صرف اور صرف اس فیلڈ میں جا کر ہی حاصل ہوسکتی ہیں۔ کون سی کمپنی اپنے ملازمین کا زیادہ خیال رکھتی ہے، کون سی کمپنی تنخواہ اور دیگر مراعات وقت پر ادا نہیں کرتی، وغیرہ وغیرہ۔ انٹرن شپ کی بدولت آپ کو ان سب باتوں کا علم پہلے سے ہو جاتا ہے جس سے آپ کا مستقبل میں کافی قیمتی ٹائم بچ جاتا ہے اور آپ کی فیصلہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

بہتر مستقبل کی پلاننگ

انٹرن شپ کے دوران آپ کو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس فیلڈ میں نوکریوں کی گنجائش زیادہ ہے، یا مارکیٹ میں کس قسم کی صلاحیتوں کے لوگوں کو زیادہ معاوضہ اور مراعات دی جاتی ہے۔ نیز یہ بھی کہ اس وقت آپ کی ذات کے اندر کن صلاحیتوں کی کمی ہے، کون سا کورس یا مہارت حاصل کرنا اس فیلڈ میں کامیابی کے لیے لازمی ہے، یا آپ کے پاس جو ڈگری یا مہارت موجود ہے اس کا مستقبل کتنا روشن ہے۔ یہ سب باتیں آپ کو مارکیٹ میں انٹرن شپ کرکے ہی معلوم ہوسکتی ہیں۔ تعلیمی ادارے میں یا گھر میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ کو کبھی بھی ان باتوں کا درست علم حاصل نہیں ہوسکتا۔

جاب کا حصول آسان ہو جاتا ہے

نجی شعبے میں عموماً ملازمین کی آمد و رفت سارا سال جاری رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سینیئر افراد بہتر تنخواہ، سہولیات، اور اونچی پوزیشن کی خاطر ایک کمپنی چھوڑ کر دوسری کمپنی جوائن کر لیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مینجمنٹ عموماً نئے سینیئر کے بجائے کمپنی کے اندر کسی جونیئر کو سینیئر کی جگہ ترقی دے دیتی ہے، اور جونیئر کی سیٹ پر انٹرن شپ والے کو نوکری دے دی جاتی ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نئے شخص کو کمپنی کے ماحول اور طریقہ کار سمجھنے اور اس کے مطابق کام کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے جبکہ انٹرن شپ کرنے والا کمپنی کے کام کرنے کے لیے طریقہ کار سے آگاہ ہوچکا ہوتا ہے۔

اس لیے انٹرن شپ کی صورت میں آپ کو اچھی کمپنی میں زیادہ آسانی سے مستقل جاب مل سکتی ہے، ورنہ دوسری صورت میں ایک جاب پر کئی امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔

جانیے: نوکری کے حصول کے لیے چھ بہترین تجاویز

کیا انٹرن شپ کے دوران تنخواہ ملتی ہے؟

انٹرن شپ کے دوران تنخواہ کے بجائے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں بہت سی جگہوں پر بہت ہی کم وظیفہ ملتا ہے۔ اتنا کم کہ اس سے صرف دوپہر کا کھانا اور آفس آنے جانے کا کرایہ ہی بمشکل پورا ہوتا ہے، جبکہ زیادہ تر کمپنیز میں تو صاف صاف کہہ دیا جاتا ہے

’’یہاں انٹرن شپ کے دوران تنخواہ/وظیفے کا کوئی چکر نہیں‘‘

اس سلسلے میں مالکان کا مؤقف ہوتا ہے کہ یہ ناتجربہ کار افراد ہیں، انٹرن شپ کے دوران یہ کوئی ایسی خدمات یا مفید کام سر انجام نہیں دیتے جو فروخت کے قابل ہو، لہٰذا انہیں معاوضہ نہیں دیا جا سکتا۔ ایک حد تک یہ موقف درست ہے کیونکہ مارکیٹ میں صرف ان مہارتوں کا معاوضہ دیا جاتا ہے جن کو کمپنی آگے فروخت کرکے منافع کما سکے۔

بہرحال انٹرن شپ کے دوران تنخواہ کے مسئلے پر زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ کا وظیفہ کم یا ناپید ہے، لیکن آپ کو کام سیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ اچھی کمپنیز اور ترقی پسند مالکان کبھی بھی کسی انسان کی حق تلافی نہیں کرتے۔ جیسے ہی کمپنی یا مالکان آپ کی کارکردگی سے مطمئن ہوں گے تو لازماً آپ کو آپ کے کام کے مطابق تنخواہ دینی شروع کر دیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ کو کسی وجہ سے معقول معاوضہ نہیں ملتا، تو بھی آپ کو جو تجربہ حاصل ہو رہا ہے، وہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اس تجربے اور روابط کی بدولت آپ آئندہ زندگی میں بہت سا منافع کما سکتے ہیں۔

انٹرن شپ کا حصول آسان ہے؟

پاکستان کی جاب مارکیٹ میں بے روزگاری کی شرح بہت بلند ہے۔ ہر سال یونیورسٹیاں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات کو ڈگری دے رہی ہے، لیکن ان میں سے صرف کچھ ہی کو ان کی تعلیم کے مطابق جاب ملتی ہے۔ نوکری اور انٹرن شپ حاصل کرنا آسان نہیں، خاص کر اچھی کمپنیز کے اندر تو یہ کافی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

پڑھیے: نوکری چھوڑتے وقت ان 11 غلطیوں سے بچیں

ہر کمپنی انتظامیہ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو تجربہ کار آدمی مل جائے تاکہ اس کی تربیت پر زیادہ وقت اور توانائی نہ لگے۔ تجربہ کار شخص کے لیے اگر کچھ زیادہ تنخواہ اور مراعات بھی ادا کرنی پڑیں، تو انتظامیہ اس کے لیے بھی تیار ہوتی ہے۔ نجی شعبے میں عموماً نوجوانوں کو بڑی پوسٹ پر براہ راست بھرتی نہیں کیا جاتا، جبکہ ہمارے ہاں چھوٹی اور درمیانے درجے کی اکثر پاکستانی کمپنیز انٹرن شپ پروگرام جاری ہی نہیں کرتیں جس کی وجہ سے نئے شخص کو کام سیکھنے کا موقع نہیں مل پاتا۔

انٹرن شپ کے دوران مشکلات

انٹرن شپ کے دوران کافی ساری مشکلات ہوتی ہیں۔ کارپوریٹ ماحول تعلیمی اداروں اور گھروں کے ماحول سے کافی مختلف ہوتے ہے۔ یہاں پر اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور برے لوگ بھی۔ پروفیشنل حسد، ٹانگ کھینچنا، شکایت لگانا، دوسرے کی کردار کشی، غلط مشورے دینا، یہ سب بیماریاں ہمارے دفتروں اور کام کی جگہوں پر عام پائی جاتی ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی کوئی نیا شخص دفتر آتا ہے تو سینیئر کو اپنی سیٹ کا خطرہ محسوس ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ سینیئر کا رویہ عموماً شفیق نہیں ہوتا اور کئی جگہ سینیئر کام سیکھنے کے بجائے جونیئر کو کام سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’تم کہاں کام پر آ گئے، ہماری تو ساری زندگی تباہ ہوگئی اس کمپنی میں‘‘

’’آپ کوئی اور کام کر لیں، یا سرکاری جاب تلاش کریں، یہ کمپنی اچھی نہیں‘‘

“جتنا جلدی ہو سکتا ہے یہاں سے نکل جاؤ، یہاں کوئی مستقبل نہیں ہے۔”

کئی کمپنیز میں انٹرن شپ کرنے والے افراد سے آفس بوائے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ میں نےخود کئی دفاتر میں گریجوئیٹس کو چائے تیار کرتے، پانی کی بڑی بوتل لاتے، دفتر کی صفائی کرتے دیکھا ہے۔

حیران کن: ہر نوکری چھوڑ دینے والے شخص کی کہانی

بعض کمپنیز میں سینیئر افراد بطور سپر وائزر انٹرن شپ کرنے والے افراد کو ذاتی ملازم تصور کرتے ہیں۔ ان سے گھر کے ذاتی کام کروائے جاتے ہیں، جیسے بچوں کو اسکول سے واپس لانا، گاڑی مرمت کے لیے ورکشاپ لے جانا، بچوں کو بغیر فیس کے ٹیوشن دلوانا، اپنے گھر کے کمپیوٹر کو ان سے مفت ٹھیک کروانا، تنخواہ کے موقع پر ادھار رقم لے لینا جس کی عموماً واپسی نہیں ہوتی، شامل ہیں، جبکہ خواتین کو جلدی ترقی کے لیے غلط راستوں کا مشورہ دینے والے اور والیاں بھی بطور سینیئر موجود ہوسکتی ہیں۔

یہ سب مشکلات جو اوپر تحریر کی گئی ہیں، ضروری نہیں کہ ہر انٹرن شپ کرنے والے کو پیش آئیں۔ یہاں ان سب کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ آپ پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوں اور جب آپ کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے تو آپ بروقت بہتر فیصلہ کرسکیں۔ ایسی کمپنیز میں انٹرن شپ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں لہٰذا ایسا کوئی بھی رویہ برتے جانے پر فوراً وہاں سے کنارہ کشی کر لیں، جس کا فائدہ آپ کی عزتِ نفس کا تحفظ ہے، اور نقصان کچھ بھی نہیں۔

آخری بات

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر آپ کو کسی وجہ سے جاب نہیں مل رہی تو آپ کو فارغ گھر میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ انٹرن شپ یا کسی بھی شکل میں اپنی فیلڈ کے ساتھ لازماً منسلک رہنا چاہیے تاکہ آپ کی کام کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا رہے، اور جب بھی کبھی کسی اچھی ملازمت کا اشتہار دیا جائے، تو آپ کے پاس اس کے لیے مطلوب مہارت اور تجربہ پہلے سے موجود ہو۔

This article published on dawn newspaper on 02 April 2016

Share

اخلاقی ہیکنگ کیوں سیکھنی چاہیے؟

کیا آپ کے اپنے بچے میں یا خاندان کے بچوں میں کوئی ہیکر موجود ہے جس کو کمپیوٹر سسٹم ہیک کرنے کا شوق ہو؟ یا آپ نے کبھی کسی نوجوان کے سامنے ہیکنگ کے موضوع پر گفتگو کی ہو اور آپ کو اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک نظر آئی ہو، تو یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ ناسمجھی میں یہ نوجوان اپنی فیملی کو مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق خود نمائی ایک انسانی جبلت ہے۔ ہر شخص کی یہ بنیادی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ ایسے نوجوان جن کا ہیکنگ کی طرف زیادہ جھکاؤ ہوتا ہے، وہ اصل میں خود کو ہیرو ثابت کرنا چاہتے ہیں، اور ہیکنگ سے ان کی اس نفسیاتی جبلت کی تسکین ہوتی ہے۔

ایسے نوجوانوں کا کیا علاج ہے؟

ایسے نوجوان جو ہیکنگ ‘کو بطور منفی سرگرمی استعمال کرتے ہیں، ان کی عمر 15 سے 22 سال کے درمیان ہوتی ہے اور عموماً آٹھویں سے بارہویں کلاس میں زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ عموماً ہم ایسے بچوں سے سختی سے پیش آتے ہیں جس سے بعض اوقات مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔

لیکن اس سختی کے علاوہ اور بھی بہتر حل موجود ہیں۔ پہلا حل تو یہ کہ ایسے بچوں کی توجہ کسی اور مثبت سرگرمی کی طرف کر دی جائے، اور مثبت سرگرمی اختیار کرنے میں ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ ایسے بچوں کے لیے سوفٹ وئیر پروگرامنگ کی فیلڈ زیادہ مناسب ہے، جو ان کے ذہنی رجحان کے زیادہ قریب بھی ہے۔

پڑھیے: سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ میں کیسے قدم رکھیں؟

لیکن اگر وہ نوجوان ہیکنگ میں کافی مہارت حاصل کرچکا ہے، تو اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ اس کو اخلاقی ہیکنگ کی تربیت دی جائے۔ ایسے نوجوان جو اخلاقی ہیکنگ کی فیلڈ کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کو ہیکر کے بجائے آئی ٹی سکیورٹی اسپیشلسٹ کہتے ہیں۔

اخلاقی ہیکنگ کے شعبے کا منفی پہلو یہ ہے کہ یہ کافی مشکل اور پیچیدہ کام ہے، لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس ہنر کی ڈیمانڈ تحقیقی شعبے میں بھی ہے اور تکنیکی میں بھی۔ بڑی آئی ٹی کمپنیوں، مالیاتی اداروں، بینکس یا حکومتی حساس اداروں کو ایسے افراد کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے، تاکہ ان کے حساس ڈیٹا کو لیک ہونے سے محفوظ رکھا جا سکے، اور یہ کام وہی شخص زیادہ مہارت سے کر سکتا ہے، جس کو معلوم ہو کہ کسی سسٹم میں کیا کیا خامیاں ہوتی ہیں۔ اس کی باقاعدہ جابز کم از کم پاکستان میں تو محدود ہیں لیکن اس کی مہارت رکھنے افراد گھر بیٹھ کر لاکھوں ڈالرز کما سکتے ہیں۔

اب ہم اس شعبے سے کچھ واقفیت حاصل کرتے ہیں۔

ہیکنگ ہے کیا؟

اس کو سادہ الفاظ میں ڈیجیٹل مواد کی چوری بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح کے غیر قانونی کام کرنے والا شخص ہیکر کہلاتا ہے۔ یہ شخص دراصل کسی دوسرے شخص/ادارے کے کمپیوٹر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہوجاتا ہے، اس کے کمپیوٹر کو اپنے کنٹرول میں کرسکتا ہے، اس کا ڈیٹا چوری کرسکتا ہے، اور اس کے کمپیوٹر یا سرور پر کوئی بھی پروگرام انسٹال کرسکتا ہے۔

ہیکنگ کرنے والا شخص اصل میں کمپیوٹر تک رسائی کے طریقے میں کافی مہارت رکھتا ہے، یعنی کافی قابل شخص ہوتا ہے، لیکن وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو منفی مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور آخر کار ایک دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں ہیکنگ کو ایک جرم تصور کیا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے شخص یا گروپ کو قید اور جرمانے کی سخت سزائیں بھی ملتی ہیں۔

پڑھیے: ہیکنگ اور بلیک میلنگ کے متاثرین کے لیے 7 رہنما نکات

جس طرح چور چاہے کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو، آخر اپنے نشانات چھوڑ جاتا ہے، اسی طرح ہیکر بھی کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ ضرور آ جاتا ہے کیونکہ ان اداروں کے پاس ایسے جرائم کے توڑ کے لیے اپنے اخلاقی ہیکرز موجود ہوتے ہیں۔

اخلاقی ہیکنگ کیا ہے؟

دنیا میں آئی ٹی کی انڈسٹری بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر آئی ٹی انڈسٹری میں تجارت کا حجم کئی کھرب ڈالر سالانہ تک ہوچکا ہے۔ اتنی بڑی تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے دنیا بھر کے آئی ٹی ماہرین کو ایسے افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے جو ان کے سکیورٹی سسٹم کو ٹیسٹ (چیک) کرنے کے صلاحیت رکھتے ہوں، تاکہ وہ ہیکر گروہوں کے حملے سے محفوظ رہ سکے۔ اس کام کو کرنے کے لیے بھی ایک ماہر ہیکر کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ ایک نیک اور مثبت مقاصد کے لیے ہوتی ہے، اس لیے اس کو اخلاقی یا قانونی ہیکنگ کہتے ہیں۔

اس کی جاب مارکیٹ:

اس وقت دنیا بھر کے نہ صرف تجارتی اور مالیاتی اداروں کو اپنی سکیورٹی کے ایشوز کا سامنا ہے، بلکہ حکومتی حساس اداروں کے لیے بھی اپنی معلومات کو زیادہ محفوظ رکھنا ایک اہم مسئلہ ہے، اس لیے ان سب کو ایسے افراد کی ضرورت ہے۔

یہ ادارے ایسے ماہر افراد کو باقاعدہ معاوضہ دے کر اس کام پر مامور کرتے ہیں۔ ان اخلاقی ہیکرز کا کام آئی ٹی سکیورٹی اسپیشلسٹ کا ہے اور یہ اپنی متعلقہ آرگنائزیشن کے آئی ٹی سسٹم میں سکیورٹی ہولز کا سراغ لگاتے اور انہیں دور کرنے کے لیے اپنی سفارشات دیتے ہیں۔

آئی ٹی کی بین الاقومی ریسرچ فرم گارٹنر کے مطابق سال 2011 سے 2015 تک تقریباً 49 ارب ڈالر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ مارکیٹ جائزوں کے مطابق عموماً ایک اخلاقی ہیکر سالانہ 50 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر کما سکتا ہے لیکن اس کا انحصار آپ کی تعلیم، کام کی کوالٹی اورجاب دینے والی کمپنی پر ہے۔

اس کی شروعات کیسے کریں؟

اگر آپ اس فیلڈ میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس ’’اے پلس‘‘ سرٹیفکیشن (A+ Certification) ہونی چاہیے۔ اس میں مہارت کے بعد آپ کو ’’نیٹ ورک پلس‘‘ (+Network) یا “سی سی این اے” (CCNA) میں سے کسی ایک پر عبور ہونا چاہیے۔ نیز آپ کے پاس ’’سیکورٹی پلس‘‘ (+Security) کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہیے اور آپ کے پاس سسٹم میں داخل ہونے میں مہارت ہونی چاہے۔

سرٹیفکیشن کورس کی ضرورت

جب آپ یہ تصور کریں کہ اب میری مہارت کافی ہے اور مجھے کمپنیز کو اپنی خدمات پیش کرنی چاہیئں تو آپ کو ضرورت ہوتی ہے ایک آن لائن کورس میں پاس ہونے کی، جو کہ ’’انٹرنیشنل کونسل آف ای کامرس کنسلٹنٹس‘‘ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس کورس کی تکمیل کے بعد آپ اپنی مارکیٹنگ کرسکتے ہیں۔ یہ کورس اس لیے ضروری ہے تاکہ کمپنیز آپ کو مطمئن ہو کر کام دے سکیں۔

This article published on dawn newspaper on 13 February 2016

Share

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ میں کیسے قدم رکھیں؟

اگر آپ نوجوان ہیں، آپ کا رجحان’سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ‘ کی طرف ہے اور آپ اس شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں، تو یہ
مضمون آپ کے لیے ضرور مفید ثابت ہوگا۔

لیکن اگر آپ کا تعلق کسی اور شعبےسے ہے، آپ نہ اس شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی آپ کا رجحان اس شعبے کی
طرف ہے، تو بھی یہ مضمون آپ کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

وہ یوں کہ ایک تو یہ معلومات آپ کی یا آپ کے رشتے داروں کی اولاد کے کام آسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے اردگرد لازماً
کچھ ایسے ضرورت مند افراد ہوں گے جن کی اگر رہنمائی کی جائے اور کچھ مالی تعاون کر دیا جائے تو وہ بہتر کمانے کے قابل ہوسکتے ہیں، جس سے ان سے منسلک پوری فیملی کے معاشی حالات میں بہتری آسکتی ہے۔

ویسے بھی کسی دانا کا قول ہے کہ ’’کسی شخص کو مچھلی پکڑ کر دینے سے بہتر ہے کہ اس کو مچھلی پکڑنا سکھا دیا جائے‘‘۔

سوفٹ ویئر ہے کیا؟

کمپیوٹر یا موبائل فون کے اندر کسی بھی مخصوص کام کو سر انجام دینے کے لیے ہدایات کے مجموعے کو سوفٹ ویئر کہتے ہیں۔
چونکہ کمپیوٹر کی بنیادی زبان مشینی ہے، اس لیے انسان اور مشین کے درمیان رابطے کے لیے ایک دوسری ’لینگویج‘ استعمال ہوتی ہے، جس کو پروگرامنگ لینگویج کہتے ہیں۔ اس وقت سوفٹ ویئرز کی تیاری کے لیے کئی قسم کی پروگرامنگ اور اسکرپٹنگ لینگویج مارکیٹ میں دستیاب ہیں، جن میں زیادہ مشہور سی (C)، جاوا (Java)، پائتھن (Python)، روبی
(Ruby)، ایچ ٹی ایم ایل (HTML)، ایکس ایم ایل (XML)، پی ایچ پی (PHP)، ڈاٹ نیٹ (Net.)، ڈیلفائی (Delphi) وغیرہ شامل ہیں۔

سوفٹ ویئر پروگرامنگ کا عام استعمال

آج کے جدید دور میں شاید ہی کوئی شخص ہو جو کسی سوفٹ ویئر پروگرام کو استعمال نہ کررہا ہو۔ گھڑی کے الارم، کیلکولیٹر،
موبائل فون، مائیکروویو اوون، انٹرنیٹ اور ویب کا وسیع جہان، ان سب کے پیچھے مختلف سوفٹ ویئرز ہی ہیں جن سے ہماری زندگی بہت آسان ہوچکی ہے۔ سوفٹ ویئرز کی وجہ سے آج مواصلات سے لے کر تصویر کشی اور ویڈیو پروڈکشن سے لے کر گرافک ڈیزائننگ اور اینیمیشن تک زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب آچکا ہے۔

یہ سوفٹ ویئرز کا ہی کمال ہے کہ آج ہم وہ سارے کام باآسانی کمپیوٹر پر بیٹھے کر لیتے ہیں جن کے لیے ماضی میں بے پناہ
وقت اور توانائی لگتی تھی۔ مثلاً تصاویر ڈیولپ کرنے کے لیے ایڈوب لائٹ روم کا استعمال، جبکہ پہلے یہ کام تصاویر کے نیگیٹیوز کو کیمیکلز میں بھگو کر کیا جاتا تھا اور تصاویر کئی دن بعد ملا کرتی تھیں۔

اس کی تعلیم کیسے حاصل کی جائے؟

پاکستان میں سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی مختلف سطح پر تعلیم کے مواقع موجود ہیں۔ ملک بھر کے تمام ہی سرکاری اور نجی کالجز
میں انٹرمیڈیٹ کی سطح پر اس کے مختلف پروگرامز مثلاً انٹرمیڈیٹ بمع کمپیوٹر سائنس، آئی سی ایس اور تین سالہ ڈپلومہ کورسز ہوتے ہیں، جبکہ یونیورسٹی سطح پر بیچلرز، ماسٹرز، اور پی ایچ ڈی تک کے بہت سے تعلیمی پروگرامز دستیاب ہیں جن کی تکمیل کے بعد خود روزگاری (self employment) اور نوکری کے زیادہ بہتر مواقع میسر آتے ہیں۔

چونکہ ان پروگرامز کی تکمیل کے بعد روزگار کے زیادہ مواقع ہیں، اس لیے سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں اس کی سیٹس کے لیے مقابلہ زیادہ اور میرٹ کا معیار بہت سخت ہوتا ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں اس کی تعلیم مہنگی ہے۔

اس کے علاوہ بہت سے کورسز بھی موجود ہیں جن کی مدت تکمیل تین سے چھ ماہ ہے۔ شارٹ کورسز کی تعلیم ویب سائٹ ڈیزائننگ کی طرح رسمی اور غیر رسمی طریقوں سے حاصل کی جاسکتی ہے، اور یہ بھی اتنے ہی فائدہ مند ہوتے ہیں جتنی کہ ڈگری، بلکہ کچھ معاملات میں یہ ڈگری سے بھی زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ ڈگری کے لیے آپ کو چار سال میں 40 سے زیادہ مضامین پڑھائے جاتے ہیں جبکہ کورسز میں ایک ہی چیز پر زیادہ فوکس کیا جاتا ہے، جس سے کم وقت میں ہنر
میں زیادہ نکھار آتا ہے۔

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ بطور بزنس

وہ تمام خواتین و حضرات جو سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں اور وہ کل وقتی یا جز وقتی کوئی کاروبار کرنا
چاہتے ہیں، وہ اس کو بطور مکمل بزنس کے چلا سکتے ہیں۔ چونکہ یہ سروسز یعنی خدمات کا شعبہ ہے اس لیے اس کو بطور کاروبار شروع کرنے میں بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس آپ کے پاس اتنا سرمایہ ضرور ہونا چاہیے کہ آپ ایک سال تک ایک چھوٹےآفس کا کرایہ+بلز+ابتدائی اخرجات+ایک معاون شخص کی تنخواہ ادا کر سکیں۔

کم وقت یا سرمائے کی صورت میں آپ بطور فری لانسر بھی اپنا کام کرسکتے ہیں۔ تقریباً ایک سال کا تجربہ رکھنے والے
افراد مقامی مارکیٹ میں اپنی خدمات سے سالانہ 5 سے 6 لاکھ روپے آسانی سے کما رہے ہیں، یعنی تقریباً 40 سے 50 ہزار ماہانہ۔ خیال رہے کہ کاروبار میں ہر ماہ ایک جیسی آمدنی نہیں ہوتی، کسی مہینے کم اور کسی مہینے زیادہ ہوتی، اس لیے کاروبار میں چھ ماہ یا ایک سال کی آمدنی کو ہی شمار کرنا چاہیے۔ خیال اس بات کا رکھنا چاہیے کہ کیونکہ آج کل آئی ٹی کے شعبے میں مقابلہ اپنے عروج پر ہے، اس لیے آپ کا پروگرامنگ کا ہنر اور مسائل کے حل کی قابلیت بھی اپنے عروج پر ہونی چاہیے۔

سوفٹ ویئر کی فیلڈ میں آمدنی کیوں زیادہ ہے؟

لوگ عموماً یہ سوال کرتے ہیں کہ سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے شعبے میں آمدنی دوسرے شعبوں کی نسبت زیادہ کیوں ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ابتدائی اخراجات کافی کم ہیں، اور دوسری یہ کہ ایک ہی کام آپ بہت سے گاہکوں کو فروخت
کرسکتے ہیں۔ یعنی اگر آپ نے ایک چھوٹی دکان/آفس کے لیے اکاؤنٹنگ سوفٹ ویئر تیار کیا، تو اس کو آپ کئی دیگر جگہوں پر بھی فروخت کرسکتے ہیں۔ چونکہ اس کی دوسری کاپی کی کاسٹ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے اس میں منافع زیادہ ہے۔

جبکہ دیگر بزنس میں ہر گاہگ کے لیے اشیاء/خدمات کی تیاری پر ایک خاص فکسڈ کاسٹ ہوتی ہے، جس کو ایک خاص حد سے کم نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً موبائل فون آپ ایک فروخت کریں یا سو، ہر سیٹ کی تیاری پر آپ کی کچھ نہ کچھ فکسڈ کاسٹ ضرور ہے۔ سوفٹ ویئر کی طرح یہ نہیں کہ پہلے موبائل کی تیاری کے بعد فون کی اگلی کاپی فری میں تیار ہوجائے۔

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے بڑے شعبہ جات

ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے تین بڑے پلیٹ فارم ہیں جن میں کام بہت زیادہ ہے۔ ان میں ڈیسک ٹاپ سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ویب سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور موبائل فون ایپلی کیشنز ڈیولپمنٹ شامل ہیں۔

ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز ڈیولپمنٹ:

اس سے مراد ایسے سوفٹ ویئرز کی تیاری ہے جو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں استعمال ہوسکیں، مثلاً کسی کمپنی کا اکاؤنٹ، پے رول
سسٹم، اسکول/کالج مینجمنٹ سسٹم، لائبریری مینجمنٹ سسٹم، وغیرہ۔ آپ اپنے کمپیوٹر میں جو بھی سوفٹ ویئر استعمال کرتے ہیں، مثلاً مائیکروسوفٹ آفس وغیرہ، یہ سب ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کہلاتے ہیں۔

ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز عموماً کسی ایک مخصوص آپریٹنگ سسٹمز (ونڈوز، میکن توش، لینکس وغیرہ) کے لیے تیار کی جاتی ہیں،
لیکن ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کو کچھ اس طرح بھی تیار کیا جاسکتا ہے کہ ایک سے زیادہ آپریٹنگ سسٹمز پر کام کرسکیں۔

ڈیسک ٹاپ ڈیولپمنٹ کے لیے بہت سی پروگرامنگ لینگویج استعمال ہوتی ہیں جن میں مائیکروسوفٹ کی ڈاٹ نیٹ، ویزول اسٹوڈیو (Visual Studio)، جاوا, اور سی (C, #C) لینگویجز کی مارکیٹ میں زیادہ مانگ ہے۔

ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز میں مہارت رکھنے والے افراد ایسے سوفٹ ویئر پروگرام بھی تیار کر سکتے ہیں جو مخصوص مشینوں پر
کام کرتے ہوں، مثلاً ٹیلی فون ایکسچینج، فوٹو کاپی مشین/پرنٹر کے اندر موجود سوفٹ ویئر، جو صرف ایک ہی مخصوص کام کرتے ہیں۔ ایسے سوفٹ ویئرز ’ایمبیڈیڈ سوفٹ ویئر‘ (embedded software) کہلاتے ہیں۔

ویب ایپلی کیشنز ڈیولپمنٹ :

ویب ایپلی کیشنز اس قسم کے سوفٹ ویئرز کو کہا جاتا ہے جو براؤزرز پر چلتے ہیں۔ اس طرح کے سوفٹ ویئر کی خوبی یہ ہے
کہ یہ تقریباً ہر طرح کی مشین پر استعمال کے قابل ہوتے ہیں، یعنی ڈیسک ٹاپ، ٹیبلٹ، اسمارٹ فون وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ براؤزر بیس ہوتے ہیں۔ جس بھی مشین میں براؤزر انسٹال ہو، یہ ایپلی کیشنز کام کرتی ہے۔

ان کو ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کے مقابلے میں زیادہ بہتر تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ ویب ایپلی کیشنز ہر طرح کے
آپریٹنگ سسٹمز (ونڈوز، میکن توش، لینکس) اور مشین (کمپیوٹر/فون/ٹیبلیٹس) وغیرہ پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس کی مارکیٹ بہت وسیع ہے۔ تقریباً تمام ہی بڑی ویب سائٹس، خاص طور پر متحرک (dynamic) ویب سائٹس کو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے لیے ویب ایپلی کیشنز تیار کرسکیں یا پہلے سے موجود کسی ویب ایپلی کیشن کو ان کی ضروریات کے مطابق تبدیل کر سکیں۔

ویب ایپلی کیشنز کی ڈیولپمنٹ کے لیے زیادہ تر کام ’ایچ ٹی ایم ایل‘، ‘ایکس ایم ایل‘، ’پی ایچ پی‘، ’سی ایس ایس‘، ’جاوا
سکرپٹ‘ (JavaScript)، اور ’ایس کیو ایل‘ (SQL) وغیرہ میں ہوتا ہے۔

موبائل ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ :

موبائل فون کے اندر جو مختلف طرح کے فنکشن ہم استعمال کرتے ہیں اور خاص طور پر سمارٹ فون میں ہم اپنی ضرورت کی جو ’ایپس‘ استعمال کرتے ہیں، ان کی تیاری ’موبائل فون ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ‘ کہلاتی ہے۔ اس مارکیٹ میں گوگل کے ’اینڈروئیڈ‘ آپریٹنگ سسٹم کا راج ہے۔ اس میں ایپ ڈویلپمنٹ کے لیے آپ کو ’جاوا‘ یا ’سی پلس پلس‘ میں مہارت ہونی چاہیے۔ اس فیلڈ میں دوسرے اہم کھلاڑی ’ایپل‘ کا آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم جو آئی فون کے بعد اب آئی پیڈ اور ایپل ٹی وی میں بھی استعمال ہو رہا ہے، اس میں کام کرنے لیے آپ کو ’آبجکٹیو۔ سی‘ (Objective-C) میں مہارت کی ضرورت ہے۔

دیر مت کریں

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی فیلڈ میں کام کی کوئی کمی نہیں البتہ باصلاحیت ہنر مند افراد کا فقدان ہے۔

اگر آپ کو سوفٹ ویئر کی فیلڈ پسند ہے تو پھر دیر مت کریں۔ اپنی ضروریات کے مطابق مزید معلومات حاصل کریں۔ اپنا گول بنائیں اور مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اچھی سی منصوبہ بندی کریں۔ آپ کے اندر جو خامیاں ہیں ان کو دور کریں۔ بہت جلد کامیابی اور خوشحالی آپ کی منزل ہوگی۔

یہ مضمون سب سے پہلے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کی ویب سائٹ پر مورخہ دو فروری 2016 کو شائع ہوا۔

Share

اپنا آن لائن کاروبار کیسے شروع کیا جائے؟

الیکٹرانک کامرس یا برقی کاروبار دنیا میں بہت عرصہ سے جاری ہے اور مستقبل کی دکانیں اور مارکیٹیں، سب کچھ ڈیجیٹل ہوگا۔ ہر چند کہ پاکستان میں 2000 میں ای کامرس پر کام کا آغاز ہوچکا ہے اور ایکسپورٹ سے وابستہ اور دیگر کچھ کمپنیز نے اپنے کاروبار کو انٹرنیٹ پر منتقل کیا ہے لیکن ابھی بھی جدید دنیا اور مقامی مارکیٹ میں کافی فرق ہے. ہمارے تجارتی مراکز میں ابھی ’ای کامرس‘ کا دور دورہ نہیں، اور یہاں آج بھی کاروبار روایتی انداز میں ہو رہا ہے۔

کچھ جگہوں پر بزنس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے لیکن اس میں ’ہارڈ وئیر‘ تو کافی خرید لیا گیا ہے، مگر بزنس کو ڈیجیٹل کرنے کے عمل سے ہم ابھی بہت دور ہیں۔ کیا بزنس کو آئی ٹی سے آراستہ کرنے سے مراد چند کمپیوٹر خرید کر کمپوزنگ/ای میل کرنا، سوشل میڈیا پر کمپنی کا ایک آدھا پیج تیار کرنا یا ایک سادہ سی ویب سائٹ قائم کرنا ہے؟

بزنس کو ڈیجیٹل کرنے سے کمپنی کی ’آپشن کاسٹ‘ میں کمی ہوتی ہے لیکن اس طرح تو کمپنی کو آئی ٹی کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، الٹا کمپنی کے سالانہ لاکھوں روپے دیکھ بھال/تنخواہوں پر خرچہ ہو رہا ہے۔

جدید رجحانات پر درست طریقے سے عمل نہ کرنے کی بے شمار وجوہات ہیں۔ بدقسمتی سے بزنس مالکان کی اکثریت میں کاروبار کی ترقی کے لیے، ماہرین سے ملاقات، کتب بینی، ورکشاپس اور سیمینارز میں شرکت کا رجحان انتہائی کم ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ سیمینار میں شرکت کیوں نہیں کی تو جواب ملتا ہے کہ یار کیا کریں ٹائم ہی نہیں ہے۔

پڑھیے: بغیر سرمائے کے اپنا کام کیسے شروع کریں؟

لیکن سیاسی/مذہبی تقریبات، فیشن شو، فلم، اسٹیج ڈرامے ہر ہفتے دیکھتے ہیں۔ تقریباً 90 فیصد سے زیادہ بزنس مالکان کے آفس میں ٹی وی آن رہتا ہے۔ اکثریت کا پسندیدہ موضوعِ گفتگو بزنس کی ترقی کے بجائے حالات حاضرہ، خارجہ تعلقات، عالمی سازشیں ہیں۔

ممکنہ خطرے کا انتباہ

اگر آپ پہلے سے بزنس (اشیاء/خدمات) سے وابستہ ہیں۔ اور آپ ابھی تک قدیم اور روایتی طریقے سے اپنے بزنس کو چلا رہے ہیں تو آئندہ کچھ عرصہ بعد آپ کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اب آپ کا مقابلہ اپنے روایتی حریفوں کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے بھی ہے۔

وہ وقت گزرتا جا رہا ہے جب لوگ صرف بازار میں آکر خریداری کرتے تھے اور مارکیٹ میں جس کے پاس اچھی اور بڑی دوکان تھی وہ ہی ہمیشہ کامیاب ہوتا تھا۔ ’’قدیم دوکان”، ’’اصلی دوکان‘‘ 1905 سے قائم شدہ، آج کا صارف ان باتوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔ اب لوگ گھر بیٹھے بیٹھے ٹی وی پر کئی ہزار کلومیٹر دور سے اشیاء/خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی تیزی سے سب کچھ تبدیل کرتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں بہت تیزی سے آن لائن شاپنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ابتدائی سالوں میں تو آن لائن شاپنگ زیادہ تر لوگوں کی رسائی سے دور تھی کیونکہ ادائیگی کی واحد ذریعہ کریڈٹ کارڈ ہوا کرتا، جو کہ آج بھی زیادہ تر لوگوں کے پاس موجود نہیں۔ لیکن اب کچھ عرصے سے پاکستانی ویب سائٹس نے ڈلیوری پر کیش کی ادائیگی اور موبائل فون کمپنیوں کے ذریعے ادائیگی کے آپشن متعارف کروائے ہیں، جس سے آن لائن شاپنگ اب زیادہ مشکل نہیں رہی۔

ای کامرس کی بدولت صارف اپنی من پسند مصنوعات کو بغیر وقت ضائع کیے دیکھ اور خرید سکتا ہے اور اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے مختلف اشیاء کی قیمت، مقدار، اجزا ترکیب کا موازنہ کر سکتا ہے، جو کہ روایتی بازار میں شاید ممکن نہیں۔ اس لیے اگر آپ اپنی مصنوعات کو ای کامرس سے ہم آہنگ نہیں کریں گے، تو کوئی دوسرا یہ کام کر لے گا۔

ای کامرس کے معنی اور فائدہ

اگر آپ پہلے سے کوئی کاروبار کر رہے ہیں یا آپ کوئی نیا کاروبار شروع کرنے چاہتے ہیں، تو آپ کو ای کامرس کے بارے میں معلومات ضرور حاصل کرنی چاہیے۔ ای کامرس کی بنیادی معلومات کے بعد آپ کے لیے فیصلہ سازی آسان ہوجائے گی کہ آپ نے اس سمت میں قدم بڑھانا ہے یا نہیں۔

ای کامرس کے اردو میں معنی الیکٹرونک تجارت ہے، سادہ الفاظ میں آن لائن ویب سائٹ کے ذریعہ اشیاء یا خدمات کی خرید و فروخت کو ای کامرس کہتے ہیں۔ بے شمار فوائد کی وجہ سے یہ تصور دنیا بھر میں بہت تیزی سے عام ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیے: کون سا کاروبار شروع کیا جائے؟

بزنس مین کو بچت

آپ کو جگہ، اسٹاف، نگرانی، کرایہ، وغیرہ کے اخراجات میں کمی ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ اپنے سیل پوائنٹ/شوروم کا سائز چھوٹا کرسکتے ہیں۔ اشیاء کو اپنے پاس زیادہ مقدار میں ذخیرہ کرنے کے ضرورت نہیں۔ آرڈر کے حساب سے اشیاء کو خریدا جا سکتا ہے۔ کاروبار کو منظم کرنے سے آپ کو درست معلومات ملتی ہیں، جس سے آپ کی فیصلہ سازی آسان ہو جاتی ہے، اور نہ صرف آپشن کاسٹ میں کمی ہوتی ہے، بلکہ منافع میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

آپ اپنے گاہکوں سے دوبارہ رابطہ کرسکتے ہیں۔ ان کو خود کار طریقے سے ای میل، ایس ایم ایس ارسال کر سکتے ہیں، اس کے ساتھ آپ کی ویب سائٹ ہر وقت کھلے شوروم کا کام کرتی ہے، جس پر آپ اپنی دیگر اشیاء/خدمات کے اشتہارات بھی لگا سکتے ہیں، جیسے ڈان ٹی وی کی اس ویب سائٹ پر ڈان کے اپنے ٹی وی پروگرامز کے اشتہارات نظر آتے ہیں۔ نیز ای کامرس سے ہر قسم کی ‘انسانی غلطیوں’ سے نجات ملتی ہے۔

فرنٹ کی دوکان یا “موقع کی جگہ” کا حصول ہر ایک کے لیے ممکن نہیں، لیکن اپنی جگہ تبدیل کیے بغیر اپنے گاہکوں کی تعداد میں اضافہ سو فیصد ممکن ہے۔

صارف کے لیے بچت

صارف کے وقت اور توانائی کی بچت ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ ذریعہ سستا بھی ہے۔ مثلاً اگر ایک طالب علم کسی چھوٹے شہر میں رہتا ہے، اور اس کو کوئی کتاب درکار ہے، تو کئی دفعہ کتاب کی قیمت سے زیادہ اخراجات سفر کے ہوجاتے ہیں۔

اشیاء کے صارف تک پہنچنے تک درمیان میں کافی سارے مڈل مین ( ڈسٹری بیوٹر) آتے ہیں، جن کا منافع بھی گاہک ہی ادا کرتا ہے، جس سے اشیاء /خدمات کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ ای کامرس کی بدولت “تیار کنندہ” کا براہ راست رابطہ “استعمال کنندہ” سے ہو جاتا ہے۔

ای کامرس کا آغاز کیسے کریں؟

اگر آپ پاکستان میں ای کامرس کی لائن میں قدم رکھنے چاہتے ہیں تو آپ کو ان بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے.

ای کامرس ویب سائٹ

نظام کی تیاری

اشتہاری مہم


ای کامرس ویب سائٹ

آپ کو سب سے پہلے ضرورت ہے ایک ’ای کامرس ویب سائٹ‘ کی، جس پر آپ اپنی اشیاء/خدمات کو پیش کرسکیں، اگر آپ سنجیدہ بزنس کرنا چاہتے ہیں تو میری رائے یہ ہے کہ اپنے ذاتی ڈومین نیم سے کام شروع کریں نہ کہ سوشل میڈیا پر ایک پیج سے۔ آپ ’’ای کامرس ویب سائٹ‘‘ کسی ماہر شخص/کمپنی سے تیار کروا سکتے ہیں، یا پھر خود بھی ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھ سکتے ہیں، جو بہت زیادہ مشکل کام نہیں، بلکہ یہ ایک دلچسپ سرگرمی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ نوجوان ہیں اور آپ کے پاس سرمایہ کم اور وقت زیادہ ہے، تو پھر آپ کو میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ ’’ویب سائٹ ڈیزائننگ‘‘ سیکھیں۔ (اس کے لیے آپ ہماراگذشتہ مضمون پڑھ سکتے ہیں جو آپ کے لیے کافی مفید ہوگا۔)

جانیے: ویب ڈویلپمنٹ: آپ بھی یہ کاروبار کر سکتے ہیں

نظام کی تیاری

ای کامرس کو شروع کرنے میں زیادہ محنت درکار ہوتی ہے لیکن بعد میں کام آسان تر ہوجاتا ہے۔ کام کو آسان، اور سروس کو بہتر اور منظم کرنے کے لیے آپ کو ایک نظام (سسٹم) درکار ہے جسے آپ نے اپنی ضروریات کے مطابق ترتیب دینا ہے۔

روایتی کاروبار میں گاہک خود دکان پر آتا ہے، پیسے دیتا اور چیزیں لے جاتا ہے۔ لیکن یہاں گاہک صرف آپ کی ویب سائٹ پر آرڈر دیتا ہے۔ آرڈر کو وصول کرنا، سامان کو پیک کرنا، گاہک کے گھر تک پہنچانا اور رقم وصول کرنا سب آپ کی ذمہ داری ہے۔

گھبرائیے نہیں جناب، ای کامرس پہلے کی نسبت اب بہت آسان ہے۔ اب تمام امور “ریڈی میڈ” انداز میں حل ہوتے ہیں۔

ذمہ داری کون ادا کرے گا، دکان/شوروم پر سامان کون سیٹ کرے گا: ویب سائٹ۔

سیلز مین کا کام کون کرے گا: ویب سائٹ۔

آرڈر کون نوٹ کرے گا: ویب سائٹ۔

رقم کون وصول کرے گا: کوریئر یا آپ کا بینک

آرڈر کے مطابق پیکنگ کرنا اور کوریئر سے رابطے کی ذمہ داری: خود آپ کی یا آپ کا کوئی ملازم

سامان کی گاہک کے گھر ڈلیوری کون کرے گا: کورئیر

پیسے کا لین دین: اشیاء یا خدمات کی ادائیگی کے لیے صارف اپنے کریڈٹ کارڈ استعمال کرسکتا ہے۔ بہت سی غیر ملکی کمپنیاں اس سلسلے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کے تمام بینکوں میں ’انٹربینک فنڈز ٹرانسفر‘ کی سہولت موجود ہے، یعنی صارف گھر بیٹھے اپنے بینک کی ویب سائٹ سے آپ کے اکاؤنٹ میں رقم ارسال کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ رقم کی ادائیگی کے لیے تمام موبائل فون کمپنیز کی سروسز موجود ہیں۔

لیکن پاکستان میں زیادہ تر آن لائن خریدای ’سی او ڈی‘ (کیش آن ڈلیوری) کی شکل میں ہوتی ہے۔ اس کے لیے آپ کو خود سے کوئی اسٹاف وغیرہ نہیں رکھنا بلکہ بہت سی کوریئر کمپنیز یہ کام کر رہی ہیں۔ فرض کریں آپ نے لاہور سے حیدرآباد گاہک کو کوئی چیز فروخت کی، تو بس گاہک کے آرڈر کو پیک کریں اور کوریئر کمپنی کے سپرد کردیں۔ وہ خود ہی گاہک کو سامان پہنچائے گی اور سامان کی قیمت وصول کر کے آپ تک پہنچا دے گی۔ اس کے بہت ہی مناسب اخراجات ہیں۔

اشتہاری مہم

ویب سائٹ کی تکمیل کے بعد سب سے مشکل کام گاہکوں کا آنا ہے۔ جتنے زیادہ سنجیدہ کسٹمر آپ کی ویب سائٹ کا وزٹ کریں گے، کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ اب آپ آن لائن گاہکوں کی توجہ کیسے حاصل کریں؟ تو جناب گھبرائیں نہیں۔ اس کام کے لیے بھی حل موجود ہے۔ مارکیٹ میں بہت سے افراد/کمپنیز بہت ہی مناسب فیس میں یہ آپ کی آن لائن اشتہاری مہم کو منظم انداز میں چلانے کا کام سرانجام دینے کے لیے موجود ہیں۔ شروع میں آپ ان کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ آہستہ آہستہ آپ خود یہ مہارتیں سیکھ سکتے ہیں۔

’گوگل ایڈ ورڈز‘ آن لائن اشتہاری مہم کے لیے ایک بہت مزیدار حل پیش کرتا ہے۔ اس میں آپ طے کرسکتے ہیں کہ یہ اشتہار کس طرح کے شخص، علاقے، عمر، جنس، دل چسپی رکھنے والے کو نظر آئے۔ نہایت فوکس کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ’’گوگل ایڈ ورڈز‘‘ کے رزلٹ بہت شاندار ہیں۔ اس کے علاوہ آپ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر مناسب فیس میں اشتہاری مہم چلا سکتے ہیں۔ جس سے دنوں میں آپ کا کاروبار چمک اٹھتا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں حکومتی عدم توجہ، تعلیم کی کمی، یا دیگر اسباب کی وجہ سے انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کی تعداد کم ہے۔ لیکن پھر بھی موجودہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تقریباً 2 کَروڑ کے قریب ہے اور آئندہ اس میں اضافہ ہی ہونا ہے، کمی نہیں ہونی۔ بے شمار کمپنیز انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستان کی مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں کامیاب کاروبار کر رہی ہیں۔ تو آپ کیوں نہیں کر سکتے؟

Share

ویب ڈویلپمنٹ: آپ بھی یہ کاروبار کر سکتے ہیں

گذشتہ ماہ انٹرپرینیورشپ کے موضوع پر مضامین کے سلسلے کے بعد کئی افراد کی طرف سے یہ رائے آئی کہ ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن معلومات کی کمی کی وجہ سے فیصلہ سازی میں شدید مشکلات ہیں۔ اس لیے اس بارے میں مزید کچھ تحریر کریں، جبکہ کچھ خواتین و حضرات کوئی پارٹ ٹائم ‘وائٹ کالر’ کاروبار کرنا چاہتے ہیں، لیکن سمجھ نہیں آتی کیا کریں۔

سوچ بچار کے بعد میں نےفیصلہ کیا ہے کہ آئی ٹی سے وابستہ وہ کریئر جو کم وقت اور کم سرمایہ سے شروع ہوں، ان کی معلومات اکٹھی کر کے پیش کی جائیں۔ اس سلسلے میں پہلے مضمون کے لیے میں نے ویب سائٹ کے موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ مضمون ایسے تمام دوستوں کے لیے مفید ثابت ہوگا:

جو پہلے ہی سے اس بزنس سے وابستہ ہیں، اور ان معلومات سے ان کے کام میں بہتری آسکتی ہے.

وہ نوجوان جو انٹرپرینیورشپ شروع کرنا چاہتے ہیں.

ایسے خواتین و حضرات جو اپنے فارغ وقت کو استعمال کر کے کمانا چاہتے ہیں۔

وہ بے روزگار افراد جو نوکری کے لیے کسی ہنر کی تلاش میں ہیں.


ویب سائٹ ڈیزائننگ کہاں سے سیکھیں؟

ویب سائٹ ڈیزائننگ کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کم از کم میٹرک تعلیم درکار ہوتی ہے۔ یہ خواتین و حضرات دونوں کرسکتے ہیں۔ اس کا بنیادی کورس تین ماہ کا ہوتا ہے، جس کے بعد مزید چار سے چھ ماہ کے مختلف اعلیٰ کورسز بھی ہوتے ہیں، جن کے لیے کم از کم ایف اے کی تعلیم درکار ہوتی ہے۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھنے کے لیے پاکستان میں دونوں طریقے موجود ہیں، یعنی رسمی اور غیر رسمی طریقہ تعلیم۔ آپ اپنی پسند کے کسی بھی طریقے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تعلیم کے رسمی طریقے

پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں سرکاری اور نجی ادارے اس کی بنیادی اور اعلیٰ تعلیم دے رہے ہیں، جن کی فیس پانچ ہزار سے بیس ہزار تک ہے، جبکہ صوبہ پنجاب میں ’’یو کے ایڈ‘‘ کے تعاون سے مختلف ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں مستحق افراد کو نہ صرف مفت تربیت بلکہ ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ہر صوبے میں فنی تعلیم کے لیے قائم ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ( ٹیوٹا) کے سرکاری ادارے قائم ہیں۔ جہاں اس کی سستی اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اکثر بڑی یونیورسٹیاں بھی چھٹیوں میں اس کے شارٹ کورسز کرواتی ہیں۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تعلیم کے غیر رسمی طریقے

اگر آپ کسی وجہ سے (مثلاً عمر زیادہ ہے، خاتون خانہ ہیں، جاب کرتے ہیں، یا طالب علم ہیں) اور کسی تعلیمی ادارے میں جا کر باقاعدہ کلاسز نہیں لے سکتے، تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ ویب سائٹ ڈیزائننگ کی مہارت غیر رسمی طریقوں سے حاصل کرسکتے ہیں۔ مارکیٹ میں اردو اور انگریزی زبان میں بہت سی کتابیں، اور ویڈیو سی ڈیز اس موضوع پر دستیاب ہیں، جبکہ آن لائن یوٹیوب سمیت بے شمار ویب سائٹ پر اس سلسلے میں ویڈیو لیکچرز دستیاب ہیں۔

آن لائن ویڈیو کورسزکے لیے ایک بڑی مشہور ویب سائٹ lynda ہے جو 1995 سے کام کر رہی ہے اور lynda نامی ایک امریکی خاتون نے قائم کر رکھی ہے۔ اس کی کچھ ممبر شپ فیس ہے لیکن اس کے ویڈیو کورسز بہت معیاری ہیں۔ میں نے خود “کورل ڈرا” کا کورس lynda سے صرف تین دن میں مکمل کیا تھا جس کی بدولت مجھے نہ صرف مالی بچت ہوئی بلکہ وقت اور توانائی سمیت اضافی زحمت سے بھی نجات ملی۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھ لی، اب کیا کریں؟

وہ افراد جو ابھی کاروبار کرنے کی پوزیشن میں نہیں، ان کو یہ ہنر سیکھنے کے بعد نوکری ملنے کے امکانات زیادہ ہوجائیں گے۔ مارکیٹ میں چھوٹی اور درمیانے درجہ کی آرگنائزیشنز، اخبارات، میڈیا ہاؤسز، مالیاتی ادارے، امپورٹ/ ایکسپورٹ، ای کامرس سے وابستہ اداروں، سوفٹ ویئر ہاؤسز، این جی اوز وغیرہ میں ایسے افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے اور ہنرمند افراد کو زیادہ جلدی وائٹ کالر جاب مل جاتی ہے۔

آج کل مارکیٹ میں ایف اے پاس افراد جن کو ویب ڈیزائننگ خاص طور پر پی ایچ پی (PHP) میں ایک سالہ تجربہ ہو، 25 ہزار روپے ماہانہ کی تنخواہ پر جاب مل جاتی ہے ۔ جب کہ بی اے، ایم اے اور ایک سالہ کام کے تجربہ کار افراد کو صرف 15 سے 20 ہزار سے تک کی جاب مل رہی ہے۔

دیگر وہ افراد جو فل ٹائم یا پارٹ ٹائم کوئی بزنس کرنا چاہتے ہیں، وہ ہنر کو بزنس کے لیے بطور اوزار استعمال کر کے جلدی ترقی کرسکتے ہیں خاص طور پر اگر آپ کے پاس بزنس شروع کرنے کے لیے بنیادی سرمائے کی کمی ہے۔ اس کے دو بزنس ماڈل ہیں۔ آپ اپنے حالات کے مطابق کسی ایک بزنس ماڈل کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

فری لانسنگ یا پراجیکٹ کی بنیاد پر

اس بزنس ماڈل میں آپ اپنے گاہک کی ضرورت کے مطابق اس کی ویب سائٹ ڈیزائننگ کرتے ہیں اور طے شدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ اس کام کو آپ گھر میں بیٹھ کر یا چھوٹے آفس یا شیئر آفس کی صورت میں کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے کام کرنے والوں کو فری لانسرز بھی کہتے ہیں۔ لوکل مارکیٹ میں اس وقت چھوٹی ویب سائٹ کی تیاری، جس میں تقریباً دو دن سے کم وقت صرف ہوتے ہیں، پر معاوضہ 6 سے 7 ہزار روپے آسانی سے مل جاتے ہیں جبکہ بڑی یا میڈیم سائز ویب سائٹ کی صورت میں یہ معاوضہ ہزاروں روپے تک ہوتا ہے۔

بیرون ملک سے کام حاصل کرنا

اگر آپ کو انگریزی زبان میں مہارت ہے تو آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر بیرون ملک سے بھی کام حاصل کرسکتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر، خاص طور پر ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین و حضرات اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا بھر سے کام حاصل کر رہے ہیں اورحقیقت میں ماہانہ ہزاروں ڈالرز کما رہے ہیں۔

دونوں افراد (کام دینے والے اور کام کرنے والے) میں رابطے کے لیے کافی ساری ویب سائٹس قائم ہیں۔ یہ ویب سائٹ (دونوں افراد سے) کام مکمل کرنے کے بعد بل میں سے اپنا کمیشن وصول کرتی ہیں لیکن ان کی سروس اتنی شاندار ہے کہ ان کا کمیشن ادا کرتے ہوئے خوشی ہوتی ہے۔ ای لانس، او ڈیسک، گرو،فری لانسر، 99 ڈیزائنز، اور مائیکرو ورکرز اس طرح کی مشہور ویب سائٹس ہیں۔

اپنی مصنوعات/خدمات کی فروخت

اس بزنس ماڈل میں آپ اپنی ذاتی ویب سائٹ تیار کرتے ہیں اور خود اپنی کوئی مصنوعات یا خدمات آن لائن فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یہ چیزیں بھی ہوسکتی ہیں جیسے موبائل، کتابیں، کپڑے، وغیرہ اور خدمات بھی جیسے سوفٹ ویئر، آرٹ ورک، لوگو ڈیزائن وغیرہ۔

اس کے علاوہ آپ اپنی ویب سائٹس سے عوام الناس یا مارکیٹ کے کسی خاص طبقے کے درمیان رابطے کا کام کرنے کی خدمات پیش کرسکتے ہیں جس کی مثالیں جاب/شادی کی ویب سائٹ، جائیداد/گاڑیوں کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ، زمین ڈاٹ کام، روزی پی کے، پاک ویلز ڈاٹ کام ہیں۔ اس بزنس ماڈل میں آمدنی کے ذرائع، ممبر شپ/رجسٹریشن فیس اور اشتہارات ہیں۔ اس طرح کے کام کرنے والے افراد کو ’ویب انٹرپرینیور‘ کہتے ہیں۔

بس ہمت کریں

دوسرے شعبہ جات کے طرح اس شعبے کے مزید بہت سے فوائد ہیں اور اسی طرح اس میں کچھ نہ کچھ مشکلات بھی ضرور ہوں گی، جن سب کو یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن مشکلات در اصل ایک موقع بھی تو پیدا کرتی ہیں۔ اگر کچھ دن غور و فکر کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آپ نے اس فیلڈ میں قدم رکھنا ہے تو پھر دیر مت کریں اور ہمت کریں، تمام مشکلات آہستہ آہستہ خود ہی دور ہوجائیں گی اور کچھ ہی سالوں کے بعد آپ ایک بہتر، خوشحال اور باوقار زندگی بسر کر رہے ہوں گے.

اگلے مضمون میں ’ای کامرس‘ کے موضوع پر کچھ نئی اور مفید معلومات دستیاب ہوں گی۔ اس کے بعد سوفٹ ویئر پروگرامنگ اور گیم ڈویلپمنٹ کے کریئر کے بارے میں واقفیت حاصل کریں گے۔

This article published on dawn newspaper on 15 January 2016

Share