ویب سائٹ ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ: آرٹ کے ساتھ کریئر بھی

دنیا بھر میں اس وقت کروڑوں ویب سائٹس کام کر رہی ہیں۔ یہ ویب سائٹس اپنے موضوع اور مقاصد کے لحاظ سے مختلف نوعیت کی ہیں۔ ان میں سے کچھ تو کاروبار سے متعلق ہیں اور کچھ خبروں، تعلیم، ادب، تفریح، علم، ثقافت اور سیاسی موضوعات پر ہیں۔

مگر موضوع چاہے جو بھی ہو، اور ویب سائٹ پر موجود مواد چاہے جتنا بھی معیاری ہو، لوگوں کی اکثریت انہی ویب سائٹس کو اچھا شمار کرتی ہے جن کے مواد کی پیش کش خوبصورتی سے کی گئی ہو۔ اس طرح ظاہری خوبصورتی کو بھی ویب سائٹس کے مواد جتنی ہی اہمیت حاصل ہوتی ہے۔

ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ کسی ویب سائٹ کی ٹیم فنی طور پر بہتر مواد کی تیاری کے لحاظ سے کافی محنت کر رہی ہو لیکن لوگوں کی اتنی توجہ حاصل نہ کر پا رہی ہو جتنا اس کا حق ہے، تو پھر ایسی صورت میں ویب سائٹ کی کمزوری اس کی ظاہری شکل و صورت کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔

اس کمی کو ایک اچھے تھیم یا ٹیمپلیٹ کی مدد سے پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس طرح وہ ویب سائٹ زیادہ عوامی توجہ کا مرکز بن سکتی ہے اور زیادہ توجہ یا ویب ٹریفک کا مطلب ہے زیادہ آمدنی۔

ویب سائٹس کو خوبصورت بنانے کے دو طریقے ہیں

پہلا طریقہ: ایک شخص کو کل وقتی ملازمت پر رکھا جائے جو اس کام میں مہارت رکھتا ہو اور ویب سائٹ کے ٹیمپلیٹ کے معیار کو بہتر کرنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔

یہ ایک خاصا مہنگا کام ہے کیونکہ پاکستان میں ایک اچھا ویب ڈیزائنر، جو معیاری کام کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے، اسے تنخواہ کی مد میں کم از کم 40 ہزار روپے ماہانہ ادا کرنے ہوتے ہیں، جبکہ بیرون ملک موجود ویب ڈیزائنرز فی گھنٹہ 25 ڈالرز سے 200 ڈالرز معاوضہ طلب کرتے ہیں۔

دوسرا طریقہ: دوسرا راستہ آسان اور کافی سستا ہے اور اس وقت مارکیٹ میں رائج بھی ہے۔ وہ یہ ہے کہ کسی پروفیشنل شخص/ادارے سے پہلے سے تیار شدہ ٹیمپلیٹ خرید لیا جائے یا پھر انٹرنیٹ پر مفت دستیاب کسی ٹیمپلیٹ کو اپنی ضروریات کے مطابق تبدیل کروا لیا جائے۔

یہ طریقہ نہ صرف سستا اور مؤثر ہے بلکہ اس صورت میں آپ کے پاس انتخاب کے لیے ایک وسیع مارکیٹ بھی ہے۔

آپ پیسے کیسے کما سکتے ہیں؟

ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ میں مہارت رکھنے والے شخص کو ٹیمپلیٹ ڈیزائنر کہتے ہیں۔ ایسے لوگ فارغ وقت میں مختلف طرز کے ٹیمپلیٹ تیار کرتے ہیں اور اپنی یا دیگر ویب سائٹس پر فروخت کے لیے رکھ دیتے ہیں۔

ایسے افراد ایک طرح سے آرٹسٹ ہی ہوتے ہیں جو کیلی گرافرز، پینٹرز اور مجمسہ سازوں کی طرح اپنی تخلیقی صلاحیتوں سے ایسے دیدہ زیب ٹیمپلیٹ تیار کرتے ہیں جو لوگوں کی اکثریت کو پسند آتے ہیں۔

ادارے اور افراد اپنی ضروریات کے مطابق ان سے تیار شدہ ٹیمپلیٹ خرید لیتے ہیں یا پھر ان سے اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق نیا ٹیمپلیٹ تیار کروا لیتے ہیں۔

اس کے علاوہ ویب سائٹ مالکان پرانے ٹیمپلیٹ میں اپنے معیار کے مطابق تبدیلیاں کروا کر انہیں معاوضہ ادا کر دیتے ہیں۔ زیادہ تر ٹیمپلیٹ ڈیزائنرز فری لانس ہی کام کرتے ہیں۔

کن لوگوں کو یہ شعبہ اختیار کرنا چاہیے؟

اگر آپ آرٹ یا فن کی جانب رجحان رکھتے ہیں اور گرافکس، رنگوں اور دیگر ڈیجیٹل طریقوں سے اپنے اندر موجود پوشیدہ صلاحیتوں کا اچھا اظہار کر سکتے ہیں تو یہ راستہ آپ کے لیے ترقی اور کامیابی کا راستہ ثابت ہو سکتا ہے۔

اور یہ کوئی مشکل نہیں، آپ آج سے ہی یہ کام شروع کرسکتے ہیں۔

مہارت اور ٹولز

ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ بنیادی طور پر ویب ڈیزائننگ ہے جس کے لیے آپ ہمارے گزشتہ مضمون ’’ویب ڈویلپمنٹ: آپ بھی یہ کاروبار کر سکتے ہیں‘‘ کا مطالعہ کرسکتے ہیں۔

اس کام کو اپنانے کے لیے آپ کو گرافکس ڈیزائننگ کے پروگرامز فوٹوشاپ/کورل ڈرا/فری ہینڈ وغیرہ کے علاوہ ویب سائٹ کی تیاری کے بنیادی پروگرامز مثلاً ایچ ٹی ایم ایل، سی ایس ایس، پی ایچ پی، ڈاٹ نیٹ، اے ایس پی وغیرہ سے آگاہی ہونی چاہیے تاکہ آپ کو معلوم ہوسکے کہ ان میں ٹیمپلیٹ کس طرح کام کرتے ہیں۔

آج کل زیادہ تر ویب سائٹس کونٹینٹ مینیجمنٹ سسٹم (سی ایم ایس) کو استعمال کرتی ہیں، جن میں ورڈ پریس، جوملا، ڈروپل (Joomla, Drupal, WordPress) وغیرہ زیادہ استعمال ہوتے ہیں۔ ان سسٹمز میں ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ کے کچھ خاص اصول و ضوابط ہیں جن سے آگاہی ضروری ہے۔

مگر اس کے باوجود ان ٹولز میں مہارت حاصل کرنا زیادہ پیچیدہ اور مشکل کام نہیں بلکہ کوئی بھی باصلاحیت شخص ٹیمپلیٹ ڈیزائننگ کی تعلیم ہر بڑے شہر میں موجود کسی بھی انسٹیٹیوٹ سے تین ماہ سے ایک سال تک کے کورس کے ذریعے حاصل کر سکتا ہے، یا پھر آن لائن ویڈیوز کے ذریعے گھر بیٹھے ہی تربیت حاصل کر سکتا ہے۔

متوقع آمدنی

چوں کہ اس کام کا تعلق آرٹ یا فن سے ہے اس لیے اس کا کوئی فکس فارمولا طے نہیں، لہٰذا مارکیٹ میں موجود لوگ ایک ٹیمپلیٹ ڈیزائن کرنے کے لیے دس ہزار سے ایک لاکھ روپے تک معاوضہ وصول کر رہے ہیں۔

اسی طرح آن لائن بیٹھ کر دیگر ممالک کے گاہکوں سے ان کی مرضی کے ٹیمپلیٹ ڈیزائن کرنے کا معاوضہ 250 ڈالرز سے 1200 ڈالرز تک ہو سکتا ہے، جبکہ اپنے تیار شدہ ٹیمپلیٹ کی قیمت فروخت 15 ڈالرز سے 250 ڈالرز تک فی کاپی ہوسکتی ہے، مطلب اگر ایک سال میں 50 ڈالرز مالیت کی ایک سو کاپیاں فروخت ہوں تو اس شخص کو 5000 ڈالر سالانہ آمدنی ہوسکتی ہے۔

خیال رہے کہ یہ ایک جُز وقتی کام ہے یعنی آپ نے ایک دفعہ (ایک یا دو دن کی) محنت سے ٹیمپلیٹ ڈیزائن کرنا ہے اور پھر اس ٹیمپلیٹ کی فروخت سے آئندہ کئی سالوں تک آپ کو معاوضہ ملتا رہتا ہے۔

اس وقت پاکستانیوں کے علاوہ، ہندوستان، بنگلہ دیش، ملائشیا کے نوجوان اس فیلڈ میں کام کر رہے ہیں اور اپنے گھر/آفس میں بیٹھے ہوئے آن لائن لاکھوں ڈالرز ماہانہ اپنے ملک میں لا رہے ہیں۔

اور چوں کہ یہ ایک تخلیقی کام ہے، اس لیے اس میں کسی کی اجارہ داری ممکن نہیں اور اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ کا تعلق بڑے ملک، شہر، علاقے سے ہے یا کسی چھوٹے قصبے میں رہائش پذیر ہیں۔

مارکیٹ میں آپ کے تخلیقی کام کی قدر کی جاتی ہے اور اگر آپ کا کام لوگوں کی توجہ حاصل کر لیتا ہے تو آپ بھی گھر بیٹھے ماہانہ ہزاروں ڈالرز کما سکتے ہیں

حسن اکبر کا یہ مضمون 24 اکست 2016 کو ڈان نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہوا تھا۔

Share

ورچوئل ریئلیٹی: تفریح و تربیت کا نیا دور

ورچوئل انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے اردو میں معنی مجازی کے ہیں۔ اردو لغت کے مطابق مجازی کے معنی مرادی، فرض کیا ہوا، نقلی، ساختہ، جعلی، مصنوعی، غیرحقیقی، اور فرضی کے ہیں۔اب لفظ ورچوئل تو سمجھ میں آ گیا، اور لفظ ریئلیٹی بھی انگریزی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ’حقیقت‘ کے ہیں۔ انگریزی زبان میں رئیل سے مراد ایسی چیزیں ہیں جو اپنا وجود رکھتی ہوں۔تو ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ کوئی چیز حقیقی بھی ہو اور مجازی بھی؟ کیا یہ ایک دوسرے کے متضاد نہیں؟ورچوئل ریئلیٹی دراصل کمپیوٹر سوفٹ ویئر اور کچھ ڈیوائسز کی مدد سے تیار کردہ ایسا تین جہتی منظر ہے جس کو دیکھنے والے کو حقیقت کا گمان ہوتا ہے۔ اس میں دماغ اور دیگر حواس کو دھوکہ دینے کے لیے ایسا ماحول تیار کیا جاتا ہے کہ دیکھنے والے کو حقیقت کا گمان ہو۔

انسان مجازی دنیا میں داخل کیسے ہوتا ہے؟

ورچوئل ریئلیٹی کی دنیا میں کسی کو لے جانے کے لیے ایک خاص طرح کا ہیلمٹ استعمال ہوتا ہے جس سے آدمی اس مجازی دنیا میں چلا جاتا ہے جو حقیقت میں وجود نہیں رکھتی۔ آج کل مکمل ہیلمٹ کے بجائے انتہائی ہلکے چشمے، ہیڈفون، اور خاص قسم کے سینسر استعمال ہو رہے ہیں، جو جسمانی حرکت خاص طور پر سر کی حرکت کو مانیٹر کرتے ہیں۔اس ڈیوائس کو استعمال کرنے والوں کو ذرا بھی شائبہ نہیں ہوتا کہ جو منظر ان کی آنکھوں کے سامنے ہے، وہ فرضی ہے۔ ورچوئل ریئلیٹی میں جب کوئی شخص ویڈیو گیم کھیلتا ہے تو وہ اپنے آپ کو ویڈیو گیم کے اندر محسوس کرتا ہے، حالانکہ وہاں صرف ویڈیو گیم کا کردار ہوتا ہے جو کسی گیم ڈیزائنر نے تخلیق کیا ہوتا ہے۔ اب ورچوئل ریئلیٹی ڈیوائس کے ہلکے ہونے کی وجہ سے اس کو استعمال کرنا بہت آسان ہے۔ ویڈیو کو ہر زاویے سے دیکھنا ممکن آپ عام طور پر جب کوئی فلم دیکھتے ہیں تو وہ دو تین کیمروں کی مدد سے تیار کی جاتی ہے ۔ آپ صرف وہ ہی منظر دیکھتے ہیں ۔ جو کیمرہ نے عکس بند کیا ہو۔ لیکن ورچوئل ریئلیٹی ویڈیو کی عکس بندی کے لیے کم از کم 24 کیمرہ استعمال ہوتے ہیں۔ ذرا تصور کریں کہ آپ ایک میوزیم کی سیر کی ویڈیو دیکھ رہے ہیں۔ جو عام ویڈیو کیمرہ سے تیار کی گئی ہے، تو جب کیمرہ مین آپ کو دائیں طرف کی ویڈیو پیش کررہا ہوتا ہے، تب آپ چھت یا زمین نہیں دیکھ سکتے۔ لیکن ورچوئل ریئلیٹی ویڈیو میں جوں ہی آپ کے سر یا آنکھوں کی حرکت کسی اور سمت مثلاً زمین یا آسمان کی طرف ہوتی ہے، تو اسی وقت زمین یا آسمان کی ویڈیو نظر آنا شروع ہوجاتی ہے جس سے آپ کو یہ محسوس ہوتا ہے کہ یہ کوئی حقیقی منظر ہے یا آپ خود اس جگہ پر موجود ہیں۔ ورچوئل ریئلیٹی کا استعمال شروع میں صرف ویڈیو گیمز کھیلنے اور دیگر تفریحی مقاصد میں ہوتا تھا لیکن اب اس کا دیگر شعبوں میں بھی استعمال بڑھ رہا ہے، جس میں تعلیم، زراعت، میڈیکل، تعمیرات اور دیگر شعبے شامل ہیں۔

تعلیم وتربیت میں

ورچوئل ریئلیٹی کا تعلیم و تربیت میں بے پناہ استعمال کیا جا رہا ہے اور یہ تمام عمر کے افراد کے لیے انتہائی مفید ثابت ہو رہی ہے۔ امریکی بحریہ میں پیراشوٹ ٹریننگ کے لیے اس کو استعمال کیا جاتا ہے۔ پاکستان سمیت بہت سے ملکوں میں پائلٹس کی تربیت کے لیے بھی اس ٹیکنالوجی کو استعمال کیا جا رہا ہے۔ پائلٹ کے سامنے ورچوئل ریئلٹی کی مدد سے ایسا منظر تخلیق کیا جاتا ہے جو بالکل حقیقی دنیا سے مطابقت رکھتا ہے، اور پائلٹ کا ہر اقدام اس کے ورچوئل منظر پر اثرانداز ہوتا ہے جس سے بغیر کسی نقصان کے پائلٹ کو تربیت دی جا سکتی ہے، جبکہ ایک حقیقی طیارے کے ساتھ سیکھنے میں لگنے والی قیمت اور وقت بھی بچایا جا سکتا ہے۔ فلائٹ سمیولیٹرز کے طور پر یہ تربیت کا یہ طریقہ گو کہ کئی سالوں سے استعمال کیا جا رہا ہے، مگر ورچوئل ریئلیٹی حقیقت سے اس قدر قریب تر ہے کہ پائلٹ کو ذرا بھی گمان نہیں ہوتا کہ اسے مصنوعی ماحول میں تربیت دی جا رہی ہے.

طبی شعبے میں لامحدود امکانات

میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو اس ٹیکنالوجی کے مدد سے لاتعداد طرح کی طبی سہولیات اور ایمرجنسیوں سے نمٹنے کی تربیت دی جاسکتی ہے اور فرضی آپریشن کروائے جاسکتے ہیں جس سے ان کی کام کرنے کی صلاحیتوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ بالکل طیارے کی ہی طرح حقیقی انسانوں یا جانوروں پر آپریشن کر کے ‘ہاتھ صاف کرنا’ نہ صرف غیر محفوظ ہے، بلکہ اس میں اپنی مرضی کے مطابق طرح طرح کی طبی صورتحال خود نہیں پیدا کی جا سکتیں۔ لیکن اب ورچوئل ریئلٹی کے ذریعے یہ ممکن ہے کہ آپ مریض کو ہاتھ لگائے بغیر آپریشن کرنا سیکھ جائیں۔

ورچوئل ریئلٹی سے تربیت حاصل کرنے کے بعد جب یہ افراد حقیقی زندگی میں آپریشن کرتے ہیں تو بہت سی وہ غلطیاں نہیں کرتے جو عموماً پہلی دفعہ آپریشن کرنے والے طبی عملے سے سر زد ہوجاتی ہیں۔

نفسیاتی امراض کے علاج میں مدد

بہت سے نفسیاتی امراض کے علاج کے لیے ماہرینِ نفسیات کو مصنوعی منظر تیار کرنا ہوتا ہے جو کہ نہ صرف مہنگا کام ہے، بلکہ اگر منظر کشی کرتے ہوئے کوئی غلطی ہوجائے تو مزید نقصان کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔

آپ نے 2007 کی مشہور ہندی فلم ‘بھول بھلیاں’ دیکھی ہوگی جس میں اکشے کمار ایک ماہر نفسیات کے کردار میں ہیروئین ودیا بالن کے نفسیاتی مرض کے علاج کے لیے ایک خطرناک سین کرتے ہیں جس کے بعد وہ دوبارہ نارمل زندگی گزارنے کے قابل ہوجاتی ہیں۔

اس طرح کے نفسیاتی علاج کے لیے ورچوئل ریئلیٹی سے مدد لی جاسکتی ہے۔ کسی بھی قسم کے فوبیا کے شکار مریضوں کو مصنوعی دنیا (ورچوئل ریئلیٹی) میں ان چیزوں کا سامنا کروا کر اس چیز سے ان کا خوف کم کیا جاسکتا ہے۔
جرائم کی تفتیش میں مدد

کسی بھی جرم کے بعد اس واقعے کی جگہ اور وہاں موجود افراد کی تھری ڈی تصاویر کی مدد سے ورچوئل کرائم سین کو دوبارہ فلم بند کیا جاسکتا ہے۔ اس تکنیک سے تفتیش کاروں کے لیے یہ جاننا آسان ہوجاتا ہے کہ جرم کیسے ہوا، مجرمان نے کون سا راستہ اختیار کیا ہوگا اور جرم کی تکمیل کے بعد کہاں سے فرار ہوئے ہوں گے۔ یہ سب معلومات مجرمان تک رسائی میں آسانی پیدا کر سکتی ہیں۔
تعمیرات/رئیل اسٹیٹ

تعمیرات کے ماہرین آج کل اپنے گاہکوں کو بلڈنگ کی تعمیر ہونے سے پہلے اس کو آٹو کیڈ، تھری ڈی اسٹوڈیو کی مدد سے فرضی نقشے دیکھتے ہیں جس میں ابھی کافی محدودیت ہے۔

یہ نقشے صرف کمپیوٹر پر ہوتے ہیں جنہیں آپ دیکھ تو سکتے ہیں، لیکن انہیں محسوس نہیں کر سکتے۔ آپ یہ نہیں بتا سکتے کہ مکمل ہونے کے بعد اس کی حتمی شکل و صورت کیا ہوگی، کیا وہ آپ کی خواہشات کے مطابق ہوگا بھی یا نہیں۔

لیکن ورچوئل ریئلیٹی کی مدد سے ان نقشوں میں جان ڈالی جا سکتی ہے۔ آپ آرکٹیکٹ کے آفس میں بیٹھے بیٹھے اپنی اس بلڈنگ کا تفصیلی دورہ کر سکتے ہیں جو کہ ابھی وجود ہی نہیں رکھتی، جب کہ رئیل اسٹیٹ ایجنٹس اپنے گاہکوں کو میلوں دور موجود پلاٹ کا ورچوئل وزٹ فوری کروا سکتے ہیں، جس سے سفر میں لگنے والے وقت، توانائی اور پیسے کی بچت ہوگی۔

ورچوئل ریئلیٹی کا مستقبل

دنیا کی بڑی کمپنیز اس ٹیکنالوجی میں کافی صلاحیت دیکھ رہی ہیں لہٰذا اس جانب بہت زیادہ سرمایہ کاری ہو رہی ہے۔ ویڈیو گیمنگ انڈسٹری کے دو بڑے ادارے اوکیولس اور سونی کے علاوہ اب فیس بک بھی اس طرف متوجہ ہے۔
گوگل کی گتے سے تیار کردہ ورچوئل ریئلیٹی ڈیوائس، جس کے ذریعے یوٹیوب پر وی آر ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں۔ — فوٹو کری ایٹو کامنز۔

گوگل کی گتے سے تیار کردہ ورچوئل ریئلیٹی ڈیوائس، جس کے ذریعے یوٹیوب پر وی آر ویڈیوز دیکھی جا سکتی ہیں۔ — فوٹو کری ایٹو کامنز۔

فیس بک نے دو ارب ڈالر کے عوض اوکیولس کمپنی کو خریدا تو فیس بک انتظامیہ کا کہنا تھا کہ یہ سوشل نیٹ ورکنگ کا اگلا قدم ہوگا جہاں دو افراد آپس میں مل پائیں گے اور ان کے درمیان فاصلے کی کوئی اہمیت نہیں رہے گی۔

گوگل نے ابھی ورچوئل ریئلیٹی کے استعمال کے لیے ایک سستی ڈیوائس مارکیٹ میں متعارف کروائی ہے جس کی قیمت صرف 2500 روپے ہے۔ لیکن یہ گتے کی بنی ہوئی ہے اور اس پر فی الوقت صرف گوگل ارتھ اور یوٹیوب ہی دیکھی جاسکتی ہے۔

لیکن جس تیزی کے ساتھ اس ٹیکنالوجی پر کام ہو رہا ہے، وہ وقت دور نہیں کہ اسمارٹ فونز کی طرح ہم سب کے پاس ورچوئل ریئلیٹی ہیڈ سیٹ ہوں گے۔

آپ جس چیز کا بھی تصور کر سکتے ہیں، وہ ورچوئل ریئلٹی کی مدد سے ممکن ہو سکے گی۔ ایسے میں آپ اسے کس کام کے لیے استعمال کرنا چاہیں گے؟
This article Published on Dawn News on 31 May 2016

Share