کالجوں کا شہر لاہور گیارہویں جماعت میں کیسے داخل ہوگا؟

لاہور نہ صرف پاکستان کا اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے بلکہ اسے ملکی سیاست میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔ لاہور کو کئی حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے، جیسے باغوں کا شہر، زندہ دلوں کا شہر، اسی طرح لاہور کو کالجوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ لاہور میں کسی زمانے میں کئی کالجز موجود تھے جو لاہور کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع کے تشنگانِ علم کی پیاس بجھایا کرتے تھے۔

لاہور میں بڑھتی آبادی اور تیزی سے ہونے والی نقل مکانی نے جہاں بے شمار چیزوں کا فقدان پیدا کیا وہاں سرکاری کالجوں کی کمی کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ لاہور میں اس وقت 56 کے قریب سرکاری کالجز موجود ہیں جس میں 34 لڑکیوں کے اور 22 لڑکوں کے کالجز ہیں۔

ان تمام کالجوں میں طلبہ کی کل گنجائش 49 ہزار ہے۔ جبکہ صرف لاہور بورڈ سے ہر سال ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد طالب علم پاس ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال 2016 کے میٹرک کے نتائج کے مطابق لاہور بورڈ کے زیر اہتمام امتحان میں 2 لاکھ 14 ہزار 711 طلبہ نے شرکت کی تھی، اور تقریباً 71 فی صد نے کامیابی حاصل کی۔ یعنی ایک لاکھ 53 ہزار کے قریب طالب علم پاس ہوئے۔

یعنی صرف لاہور بورڈ کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد پاس ہونے والے طالب علموں کے لیے کسی سرکاری کالج میں کوئی گنجائش نہیں۔ اب وہ یا تو کسی نجی کالج میں داخلہ لے، یا اگر غریب ہے اور نجی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تو اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دے۔

خیال رہے کہ لاہور کے کالجز میں صرف لاہور بورڈ کے کامیاب طلبہ و طالبات ہی داخلہ نہیں لیتے، بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ، فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بڑی تعداد بھی لاہور کے کالجوں میں زیر تعلیم ہے۔

طالب علموں کی اتنی بڑی تعداد (ایک سے ڈیڑھ لاکھ) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرائیویٹ شعبے میں 120 سے زائد کالجز قائم ہیں جو تجارتی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔

لاہور میں نئے کالجز کا قیام کیوں نہیں ہوا؟

لاہور میں 1982 سے مسلم لیگ کی حکومت قائم ہے۔ اگرچہ لاہور میں ترقیاتی کام ہوا ہے، ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے کئی سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، کئی انڈر پاس اور اوور ہیڈ بِرج تعمیر کیے گئے۔

اب کئی سو ارب روپے کی لاگت سے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، لیکن پتہ نہیں اس بات کی اصل وجہ کیا ہے کہ کیوں لاہور میں (ضرورت کے مطابق) سرکاری کالجز کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، کچھ لوگوں کی رائے میں اس کی اصل وجہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی ہے، جس وجہ سے شعبہ تعلیم کو مطلوب وسائل ہی فراہم نہیں کیے جاتے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کئی بار خود اعلان کیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن سے قبل ذہین طالب علموں میں کئی ارب روپے کے لیپ ٹاپ اور سولر لیمپ وغیرہ مفت تقسیم کیے، نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کو دنیا کے کئی ممالک کی سیر کروائی۔ لیکن بنیادی سطح پر جو کام ہونا چاہیے، وہ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجز کی انتظامیہ کافی بااثر ہے اور وہ صوبائی حکومت کے اہم افراد کو نئے کالجز قائم کرنے سے روک دیتی ہے تاکہ ان کا بزنس قائم و دائم رہے۔

نجی کالجز کی نگرانی کون کرے

معلوم نہیں حکومت نےان نجی کالجز کے لیے کوئی بنیادی قوائد ضوابط (ایس او پیز) ترتیب دے رکھے ہیں بھی یا نہیں، عموماً نجی تعلیمی اداروں کی کسی قسم کی کوئی نگرانی نہیں ہوتی۔

لاہور شہر میں جو نجی کالجز ہیں وہ ہر چیز سے آزاد ہیں، فیسوں کا تعین ہو، اساتدہ کی بھرتی، کالج بلڈنگ کے بائی لاز، ہوسٹلز، لائیبریری، تجربہ گاہ، پارکنگ، یا پھر کھیلوں کے میدان، ہر جگہ وہ صرف اپنے مفادات کا خیال پہلے رکھتے ہیں۔ فیسوں، یونیفارم، کتابوں، امدادی کتب کے علاوہ ہر ماہ کوئی نہ کوئی نیا خرچہ تیار کر لیا جاتا ہے کیونکہ ان کی مانیٹرنگ (نگرانی) کے لیے کوئی ادارہ یا تو قائم ہی نہیں یا پھر اپنا کام نہیں کر رہا ہے۔

نجی کالجوں کی فیس اور سہولیات

لاہور میں قائم نجی تعلیمی کالجز کی سالانہ فیس اور دیگر اخراجات ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک ہے۔ اس طرح والدین کے ایک بچے کی دو سالہ تعلیم پر 2 سے 6 لاکھ تک خرچ ہو جاتے ہیں۔

لاہور میں نجی کالجوں کی اکثریت نے اپنے طالب علموں کے لیے کوئی ہوسٹل قائم نہیں کیے۔ جس کی وجہ سے دوسرے شہروں کے طلبہ وطالبات شہر میں قائم چھوٹے چھوٹے ہوسٹلز (جو عموماً پانچ /دس مرلہ کے پرانے رہائشی مکانات ہیں) میں رہتے ہیں۔

کالجز میں پڑھانے والے اساتدہ کا کوئی خاص معیار نہیں، اگر ایف اے /بی اے پاس صاحب کو کالج انتظامیہ ایم ایس سی/ایم فل قرار دے تو آپ کو یقین کرنا ہوگا۔

کھیل کے میدان کا کوئی چکر نہیں، زیادہ تر کالجز کے پاس صرف اپنی عمارت کا صحن ہے جو پانچ دس مرلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ (شاید کالج انتظامیہ یہ سوچتی ہے کہ آپ کے بچے اتنے پیسے خرچ کر کے کالج پڑھنے آتا ہے نہ کہ کھیلنے) لائبریری اور سائنس مضامین کے لیے تجربہ گاہ تو ہوتی ہے، لیکن صرف نام کی (کیونکہ جناب کورس کی کتابیں تو مکمل ہوتی نہیں کون مزید کتابوں اور پریٹکل کے چکر میں پڑے)۔

بعض کالجز کی انتظامیہ بورڈ کے عملی امتحانات کے لیے خاص اہتمام کرتی ہے۔ جس کے لیے طالب علموں کو مزید کچھ رقم خرچ کرنا ہوتی ہے۔ آخر اچھے گریڈز بھی تو لینے ہیں نا!

نجی کالجز میں مستقل فیکلٹی کا فقدان

نجی کالجز میں کوئی بھی استاد مستقل نہیں ہوتا بلکہ بعض کالجز میں تو ماہانہ کی بجائے اساتدہ کو فی پیریڈ پڑھانے کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ کئی نجی کالجز میں سابقہ اسٹوڈنٹس اور غیر تجربہ کار افراد کو بطور اساتذہ بھرتی کر لیا جاتا ہے۔

ٹیچرز ٹریننگ کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں، اساتذہ کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں۔ نیز چھٹیوں کے دوران اساتذہ کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ جب کہ طلبا سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ چونکہ اساتذہ کی معاشی حالت بہت خراب ہوتی ہے، اس لیے وہ بھی عدم دلچسپی سے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔

اگر حکومت کے پاس فندز کی کمی ہے تو، یقیناً نئے کالجز قائم کرنے کے لیے بھی کافی وسائل کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزیر تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی ہدایت پر ملک بھر میں بے شمار ایسے اسکولز جن میں مطلوبہ سہولیات میسر تھی، ان اسکولز کو ہائیر سکینڈری اسکول کا درجہ دیا گیا تھا، جس سے اس علاقے کے طلبہ و طالبات اپنے اسکول سے ہی 12 سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی) مکمل کرتے تھے، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر لاہور میں ان تمام ہائیر سکینڈری اسکولوں کو آہستہ آہستہ بند کر دیا گیا۔

حکومت یہ بھی کر سکتی ہے کہ جو تعلیمی وسائل موجود ہیں، ان کو (لیپ ٹاپ کے بجائے) کالج میں داخلہ لینے کے خواہشمند مستحق طالب علموں کے اچھے نجی کالج داخلہ کے اخراجات پر خرچ کرے۔

اس بات کی بھی وجہ معلوم نہیں ہو سکی کہ صوبائی حکومت ایسے کالجز کیوں قائم نہیں کرتی، جو نفع، نقصان کے بغیر چلیں۔ یعنی عمارت کے کرایے، اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات وغیرہ طالب علموں سے فیس کی صورت میں حاصل کرے، یہ فیس پھر بھی نجی کالجز کی فیس سے کم ہوگی۔ اس طرح کم آمدنی اور متوسط طبقے کے بہت سے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کر پائیں گے اور تعلیم حاصل کرنا ان کی ناتمام حسرت اور خواہش نہیں بن کر رہ جائے گی۔

یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ موجود صوبائی حکومت کے پاس نئے کالجز قائم کرنے کے لئے وسائل نہیں لیکن یہ بات قابل قبول نہیں کہ موجود تعلیمی وسائل کو مستحق طلبہ پر خرچ کرنے کی بجائے ’لیپ ٹاپ اسکیم یا پوزیشن ہولڈز کو بیرون ممالک کی سیر’ پر ضائع کر دی جائے۔

شاید اس سے بڑا ظلم لاہور کے شہریوں کے ساتھ اور کوئی نہیں۔

حسن اکبر کا یہ مضمون سب سے پہلے ڈان نیوز کی ویب سائٹ پر مورخہ 25 مئی 2017 کو شائع  ہو ا۔

https://www.dawnnews.tv/news/1058375

Share

میرے نمبر ہمیشہ کم کیوں آتے ہیں؟



اکثر
دیکھا گیا ہے کہ بعض طالب علموں کے امتحان میں اچھے نمبر نہیں آتے، حالانکہ
انہوں نے کافی زیادہ پڑھائی کی ہوتی ہے، جبکہ کچھ طالب علموں کے نمبر زیادہ
آتے ہیں حالانکہ انہوں نے کم پڑھائی کی ہوتی ہے۔



عموماً
لوگ اس کو قسمت کا کھیل کہتے ہیں۔ اس کے بھی امکان ہیں کہ یہ اتفاقاً ہوا ہو،
لیکن بعض ماہرینِ تعلیم کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ جو طالب علم اپنی پڑھائی
کی اچھی منصوبہ بندی کرتے ہیں ان کے نمبر زیادہ اور جو طالب علم بغیر کسی
منصوبہ بندی کے پڑھائی کرتے ہیں، ان کے نمبر کم آتے ہیں۔



تعلیمی
ماہرین کے مطابق پڑھائی کی منصوبہ بندی کے لیے مندرجہ ذیل امور پر نظر رکھنی
چاہیے:



اول:
ہدف/گول



دوم:
وقت کی منصوبہ بندی



سوم:
کورس کی منصوبہ بندی



چہارم:
بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ



ہدف یا گول:



پڑھائی کی
منصوبہ بندی کے لیے سب سے پہلے آپ کا کوئی ہدف ہونا چاہیے۔ ہدف کئی طرح کے
ہوسکتے ہیں، مثلاً "میں نے اپنی کلاس میں ٹاپ کرنا ہے، میں نے 90 فیصد نمبر
لینے ہیں، میں نے اس مضمون میں ٹاپ کرنا ہے، میں نے تعلیم کے ذریعہ اپنے فیملی
کو اوپر اٹھانا ہے۔"



یہاں اس
بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پڑھائی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے، پڑھائی یا تعلیم
کامیابی نہیں۔ یعنی آپ کے پاس کامیابی حاصل کرنے کا ایک اچھا آلہ موجود ہے۔



واضح ہدف
انسان میں جذبہ پیدا کرتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کسی طالب علم کا پڑھائی
میں کوئی ہدف ہی نہیں تو وہ زیادہ محنت کیوں کرے گا، وہ بس اتنی محنت کرے گا کہ
امتحان میں پاس ہوجائے۔



عموماً
دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت زیادہ خوشحال گھرانوں کے بچے زیادہ تعلیم حاصل نہیں
کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کسی کا تعلیم حاصل کرنے کے پسِ پردہ اپنا ایک ہدف
ہوتا ہے، جیسے خود کو متوسط طبقے سے اونچے طبقے میں لانا وغیرہ۔



ہدف ہی
انسان میں وہ جذبہ پیدا کرتا ہے جس کی وجہ آپ کو نہ موسم کی شدت کا احساس ہوتا
، نہ ہی آپ کا دل سماجی زندگی اور میل جول کم ہونے پر رنجیدہ ہوتا ہے، اور نہ
ہی آپ دس بارہ گھنٹے پڑھائی کر کے تھکتے ہیں۔



آپ اپنے
ہدف سے جتنا پیار کریں گے یا ہدف کے حصول کے لیے جتنی جدوجہد کریں گے، آپ کی
کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے، لہٰذا پڑھائی کی منصوبہ بندی کے لیے
سب سے پہلے آپ کو اپنا کوئی بڑا ہدف مقرر کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ بڑے ہدف کے
بغیر آپ کے اندر جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا۔



وقت کی منصوبہ بندی:



وقت کی
منصوبہ بندی سے مراد یہ ہے کہ بطور طالب علم آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس
سوال/یونٹ/باب کومجھے لازمی اس وقت تک تیار کرنا ہے۔ اس ہی طرح امتحان یا کلاس
ٹیسٹ میں اس سوال کو کتنے منٹ میں ختم کرنا ہے۔ کئی دفعہ طالب علم یہ شکایت
کرتے نظر آتے ہیں کہ:



مجھے
امتحان میں دو سوال اور بھی آتے تھے لیکن ٹائم ہی ختم ہوگیا۔



بیٹا جلدی
جلدی کرنا تھا۔



کیسا کرتا
جلدی، سوالات کے جوابات ہی بہت طویل تھے۔



اس طرح کی
صورت حال سے صاف ظاہر ہے کہ طالب علم نے اپنے امتحان کی منصوبہ بندی نہیں کی
تھی، یا ناقص منصوبہ بندی کی ہے جس میں وقت کا خیال نہیں کیا۔ اس صورت میں اگر
جوابات طویل تھے تو ان کو مختصر کیا جاسکتا تھا۔ اور اگر طالبِ علم کی لکھنے کی
رفتار کم تھی تو اس کو بھی پریکٹس سے بہتر کیا جاسکتا تھا۔ وقت کی منصوبہ بندی
میں یہ طے کرنا چاہیے کہ کتنا کورس کتنے ٹائم میں تیار کرنا ہے۔



کورس کی منصوبہ بندی:



کورس کی
منصوبہ بندی کے لیے بہتر یہ ہے کہ جب کسی طالب علم کا تعلیمی سال شروع ہو تو وہ
اپنے وقت کے حساب سے اپنے تمام کورس کی منصوبہ بندی کر لیں۔ فرض کریں کہ اگر
آپ کے کل آٹھ مضمون ہیں اور ہر مضمون کے 9 باب ہیں۔ اور ہر یونٹ کے 5 موضوعات/سوالات
ہیں، تو کل 360سوالات یا موضوعات بنتے ہیں۔ یعنی تین سوالات یومیہ کے حساب سے
یہ 120 دن (چار ماہ) میں آپ کا کورس مکمل ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر اس طرح منصوبہ
بندی کی جائے تو بہت آسانی کے ساتھ ایک سال میں کورس کی دو دفعہ تیاری ہوسکتی
ہے۔



بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ:



ہر طالب
علم میں کچھ نہ کچھ بنیادی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ عموماً طالب علم ان کمزوریوں کی
وجہ سے اچھے نتائج حاصل نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے ان میں بددلی پیدا ہوتی ہے
اور ان کا دل پڑھائی کرنے کو نہیں کرتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ بہت باریک بینی سے
ان خامیوں کی نشان دہی کی جائے اور ان خامیوں کو دور کیا جائے۔



سادہ سی
مثال ہے کہ اگر کوئی مستری ایک دیوار تعمیر کر رہا ہے اور اس دیوار کی بنیادی
اینٹ ٹیڑھی چن رہا ہے تو وہ دیوار جوں جوں بڑھتی جائے گی، اس کے لیے قائم رہنا
مشکل ہوتا جائے گا اور جلد ہی وہ اپنے وزن سے گر جائے گی۔ اس ہی طرح بنیادی
مہارتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اکثر طالب علم بڑی کلاسز میں بری طرح ناکام
ہوتے ہیں، جس میں سے ایک کمزوری ہے



املا کی غلطیاں اور ذخیرہ الفاظ کی کمی:



یہ بہت ہی
عام مسئلہ ہے۔ کئی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ طالب علموں کی اردو/انگریزی
تحریر میں املا کی بہت غلطیاں ہوتی ہیں، نیز ان کو زبان کی بول چال میں دقت کا
سامنا اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ ان کے پاس ذخیرہ الفاظ کی کمی ہوتی ہے۔



ویسے اس
مسئلے کو چھوٹی کلاسز میں حل ہو جانا چاہیے، لیکن خیر جو ہو گیا، سو ہو گیا۔
ماضی کی غلطی کو اب ٹھیک کرنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے تعلیمی سال کے شروع میں اس
طرف خاص توجہ دینی چاہیے تاکہ طالب علم کے نمبر کم از کم غلط املا کی وجہ سے کم
نہ ہوں۔



مشکل مضمون کا مردانہ وار مقابلہ:



طالب علم
کا جو مضمون کمزور ہے، اس پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ بھی طالب علم کے
لیے آسان ہو جائے۔ کبھی بھی کمزور مضمون کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ
اس کا سامنا کرنا چاہیے۔ یاد رکھیے کہ کوئی مضمون مشکل نہیں ہوتا، مسئلہ پڑھنے
والے اور پڑھانے والے میں ہوتا ہے۔



مشکل
مضمون کے لیے شام کی اکیڈمی میں شرکت کی جاسکتی ہے یا کلاس ٹیچرز سے اضافی ٹائم
اور توجہ کی درخواست کرنی چاہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔
فائنل امتحان میں اچھے نمبروں کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے تمام مضامین میں نمبر
اچھے آئیں، تب ہی آپ کا گریڈ اچھا ہوگا۔ ورنہ ایک مضمون کی وجہ سے آپ کا سال
بھی ضائع ہوسکتا ہے۔



کلاس ٹیسٹ سے فرار اور نقل:



بعض طالب
علم کلاس ٹیسٹ میں نقل کر کے اچھے نمبر لینے کی کوشش کرتے ہیں یا کلاس ٹیسٹ
والے دن چھٹی کر لیتے ہیں۔ یہ عادت انتہائی خطرناک ہے اور اس سے طالب علم کو نہ
صرف تعلیمی نقصان ہوتا ہے بلکہ اس کی شخصیت بھی خراب ہوسکتی ہے۔ کلاس ٹیسٹ میں
ہوسکتا ہے کہ آپ نقل کر کے اچھے نمبر لے لیں، لیکن جناب فائنل امتحان میں کیا
کریں گے؟



اس ہی طرح
کلاس ٹیسٹ میں غیر حاضری کی صورت میں آپ کو اپنی اصل صورت حال کا اندازہ ہی
نہیں ہوتا اور آپ کی بہت سی غلطیوں کی نشان دہی کلاس ٹیسٹ کے ذریعے سامنے آتی
ہے، جن کو سالانہ امتحان سے پہلے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ فائنل امتحان میں ان
چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔


This article published on dawn newspaper on 25
November 2015


 

 

Share

کریئر پلاننگ: والدین اپنی ذمہ داری پوری کریں

کریئر کی مناسب منصوبہ بندی کے لیے رہنما اصولوں پر مبنی بلاگز کی سیریز میں یہ تیسرا اور آخری حصہ ہے. گذشتہ حصے یہاں پڑھیں.


میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستانی والدین بچوں کے تعلیمی مستقبل سے زیادہ ان کی شادیوں کے بارے میں غور و فکر کرتے ہیں۔ شادیوں کے بارے میں ہمارے والدین کا یہ رویہ قابل تحسین ہے، لیکن جناب شادی کی ناکامی کی بنیادی ترین وجہ کمزور معاشی حالات ہیں اور یہ طلاق کی بنیادی وجوہات میں سے ایک ہے۔

کیا اس کی بنیادی وجہ ناقص کریئر پلاننگ نہیں؟ یا یہ کہ کریئر پلاننگ کے بارے میں زیادہ فکر ہی نہیں کی جاتی۔

اس لیے ہمارے والدین کو اپنے رویے میں تبدیلی لانا ہوگی اور کریئر کی منصوبہ بندی کے بارے میں زیادہ سنجیدگی سے غور کرنا ہوگا۔ اب والدین کو اس بات کو سمجھنا چاہیے کہ کامیابی کبھی خود بہ خود نہیں ملتی بلکہ اس کے لیے اچھی منصوبہ بندی لازمی ہے۔ اور اپنے بچوں کے مستقبل کی پلاننگ آپ نے خود کرنی ہے۔ یہ تصور ہی ذہن سے نکال دیں کہ کہ خدا بہتر کرے گا یا جو نصیب میں ہوگا وہ ضرور ملے گا، یا یہ کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ ان کے بچوں کے لیے کچھ کرے۔

یاد رکھیں کہ انسان کو صرف وہی ملتا ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے اور دنیا کی تمام حکومتیں صرف اور صرف اپنے بارے میں سوچتی ہیں، اس لیے اپنے بچوں کے مستقبل کی منصوبہ بندی آپ نے خود کرنی ہے۔ ان کی صلاحیتوں کے مطابق قابلِ عمل ہدف مقرر کریں اور اچھی اور قابلِ عمل منصوبہ بندی کو سنجیدگی سے کامیاب کرنے کی کوشش کریں۔

بچے کی پسند کا خیال رکھیں مگر

اس حوالے سے بچوں کی مرضی کا خاص خیال رکھیں، لیکن اس بات کا یقین کر لیں کہ یہ بچے کی حقیقی مرضی ہے کیونکہ بعض اوقات بچوں کی مرضی بھی مصنوعی یا عارضی ہوتی ہے جس کی کوئی ٹھوس وجہ یا بنیاد نہیں ہوتی۔

پڑھیے: 6 ماہ سے 2 سال کا وقفہ کریئر کیلئے مثبت

مصنوعی مرضی سے میری مراد یہ ہے کہ بعض دفعہ بچے کسی دوسرے کی دیکھا دیکھی، یا اپنے آپ کو زیادہ قابل ثابت کرنے کے لیے کسی ایسے مشکل شعبے میں داخلہ لے لیتے ہیں جس کا نام کافی بھاری اور پرکشش ہوتا ہے، لیکن صرف ایک ہی سال کے بعد اس شعبے کو خیرباد کہہ دیتے ہیں۔

ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ ان کی مرضی مصنوعی تھی۔ اگر حقیقی مرضی سے مکمل تحقیق و اطمینان کر لینے کے بعد کوئی شعبہ اختیار کیا گیا ہو تو تمام تر مشکلات کے باوجود طلبہ اس میں جمے رہتے ہیں۔ اس کی عام مثال چارٹرڈ اکاؤنٹینسی (سی اے) اور اے سی سی اے کے کورسز ہیں، جن میں ہر سال ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات سی اے پاس لوگوں کی پرکشش تنخواہیں دیکھ کر یا دیگر دوستوں کو دیکھ کر داخلے لیتے ہیں اور صرف ایک سال کے اندر اندر اس سے ’’توبہ‘‘ کر لیتے ہیں۔

عام طور پر والدین کا ایک نہایت غلط رویہ یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے بچوں کے ذریعے اپنے خوابوں کی تکمیل چاہتے ہیں۔ یہ شاید کچھ جگہوں پر تو ممکن ہو کہ آپ کا بچہ آپ کے خوابوں کی تکمیل کر دے، لیکن اس کے لیے درکار وقت، محنت، اور سرمائے کے لیے کیا آپ تیار ہیں؟ اس کے علاوہ یہ صرف تب ہی ممکن ہے جب آپ کے بچے کی سوچ اور اس کی پسند بالکل آپ ہی کے جیسی ہو، جو اگر ناممکن نہیں تو بہت مشکل ہے۔

مزید یہ کہ آج سے پندرہ بیس سال پہلے جس شعبے میں جانے کی آپ کی خواہش تھی، کیا آج کے جدید دور میں اس کی مارکیٹ ویلیو (روزگار کے مواقع+پرکشش تنخواہ) برقرار ہے؟ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے، تو ٹھیک ہے لیکن اگر نہیں، تو پھر آپ کے خوابوں سے زیادہ وہ شعبہ اختیار کرنا اہم ہے جو اس بچے کی عملی زندگی میں کام آئے۔

فراڈیوں سے ہوشیار رہیں

درس و تدریس کا شعبہ مقدس شعبہ ہے، اس سے وابستہ افراد کا پورے معاشرے کو احترام کرنا چاہیے۔ لیکن جتنے فراڈ آج کل اس شعبے میں جاری ہیں، ان کو شمار کرنا مشکل ہے۔ اس لیے والدین کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ کسی بھی تعلیمی یا تربیتی ادارے میں اپنے بچوں کو داخلہ دلوانے سے پہلے اس کی اچھی طرح تسلی کرلیں۔

مزید پڑھیے: سوشل اسکلز—بہترین کریئر کی ضمانت

جعلی اور غیر تصدیق شدہ (عرفِ عام میں دو نمبر) ادارے صرف پاکستان میں ہی نہیں کام کر رہے بلکہ امریکا، چین، آسٹریلیا، اور انگلینڈ میں بھی موجود ہیں جو نہ صرف آپ سے فیس کی مد میں لاکھوں روپے کا فراڈ کر سکتے ہیں بلکہ آپ کے بچے کے کئی قیمتی سال بھی ضائع ہو سکتے ہیں۔

اکثر والدین ایسے امور میں اپنے بچوں کو آگے کرتے ہیں: “بیٹا آپ طے کر لیں کس یونیورسٹی میں داخلہ لینا ہے۔ اب اپنا کام آپ نے خود ہی کرنا ہے، آپ کو تو معلوم ہے کہ میرے پاس وقت کم ہے۔”

مجھے آج تک یہ بات سمجھ نہیں آئی کہ اس وقت ابا جان کے پاس وقت کم تھا۔ لیکن جب بچہ ناکام ہوتا ہے یا اس کے ساتھ کسی قسم کا کوئی فراڈ ہوتا ہے تو ابا جی کے پاس بچے اور اس کی ماں کی کلاس لینے کے لیے ہفتوں کے حساب سے وقت کہاں سے آ جاتا ہے۔

کئی دفعہ تعلیمی ادارے ہی مکمل فراڈ ہوتے ہیں۔ لیکن کئی صورتوں میں ادارے تو مستند ہوتے ہیں لیکن ان کے کورس کی کوئی مارکیٹ ویلیو نہیں ہوتی، (خاص طور پر بیرونِ ملک)۔ اس صورت حال میں آپ کے پاس ڈگری تو اصلی اور تصدیق شدہ ہوتی ہے لیکن اس کی مارکیٹ ویلیو نہ ہونے کی وجہ سے کئی قیمتی سال اور کافی سرمایہ لگانے کے باوجود بچہ اس ہی جگہ ہوتا ہے جہاں سے اس نے سفر شروع کیا تھا، یعنی جاب لیس۔

میری رائے میں اس میں بچے کا قصور کم اور والدین کا زیادہ ہے۔ خاص طور پر اگر والدین اعلیٰ تعلیم یافتہ ہوں۔

آپ خود ہی سوچیں کہ کس طرح سترہ اٹھارہ سال کا بچہ مارکیٹ کے انتہائی چالاک افراد کے فراڈ کو پہچان سکتا ہے؟ وہ معصوم بچوں کو شیشے میں اتارنے کا ہنر جانتے ہیں۔ کئی سالوں کے تجربے کی بنیاد پر ان کو اس کام کی مکمل مہارت ہوتی ہے، لہٰذا بچے کو بڑی آسانی سے وہ ‘عقل مند’ بنا دیتے ہیں۔ اور اس کو پوری طرح مطمئن کر لیتے ہیں۔ چند ماہ پہلے اپنے ہی ملک میں ہونے والے ایسے مبینہ فراڈ کے بارے میں میڈیا میں کافی تہلکہ مچ چکا ہے۔

جانیے: ڈگری یافتہ یا تعلیم یافتہ؟

پاکستان میں ایک فراڈ جو کافی عام ہے، وہ ہے غلط شعبہ کی جانب رہنمائی۔ ہوتا یہ ہے کہ یونیورسٹی یا دیگر تعلیمی اداروں میں ہر شعبے میں ایک خاص تعداد میں طلبہ و طالبات کا داخلے کا کوٹہ ہوتا ہے۔ اب جب طلبہ و طالبات اس تعلیمی ادارے میں داخلے کے لیے جاتے ہیں۔ تو ان کے پاس تمام سیٹیں پر ہو چکی ہوتی ہیں۔ مگر وہ اپنے ’’گاہک‘‘ کو ضائع نہیں کرنا چاہتے، اس لیے ان کے انتہائی چالاک ’اسٹوڈنٹس افیئر آفیسرز‘ طلبہ کی غلط رہنمائی کرتے ہیں تاکہ وہ کسی دوسرے ادارے میں داخلے کے بجائے ان کے ادارے میں ہی داخلہ لیں۔ اس کی عام مثال فرسٹ ایئر سائنس (ایف ایس سی) کے بجائے ایف اے، یا آئی کام میں داخلے کی طرف راغب کرنا ہے۔

میٹرک کی سطح پر کثرت سے دیکھا گیا ہے کہ جن نجی اسکولوں کے مالکان بائیولوجی کی تجربہ گاہ پر رقم خرچ کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتے، وہاں طلبہ و طالبات کو بائیولوجی کے بجائے کمپیوٹر سائنس میں میٹرک کروا دی جاتی ہے۔ مفاد پرست اسکول مالکان طلبہ اور ان کے والدین کو مختلف حیلوں بہانوں سے اس بات پر باآسانی آمادہ کر لیتے ہیں کہ بچہ وہی چیز پڑھے جو یہ چاہیں۔

اس لیے طلبہ اور والدین کو چاہیے کہ جس بھی شعبے کا انتخاب کریں، اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کریں، اس شعبے سے وابستہ لوگوں سے ملاقات کریں، اس شعبے کے ذیلی شعبہ جات کون کون سے ہیں، اس شعبہ کا 10 سال بعد کیا مستقبل ہوگا، اس بارے میں معلومات حاصل کریں۔

ان معلومات کے حصول پر خرچ ہونے والے سرمائے اور وقت کی فکر نہ کریں، یہ چند دنوں کی محنت آپ کے بچوں کی آئندہ ساری زندگی میں بہتری لا سکتی ہے کیونکہ ’’منصوبہ بندی کا ایک منٹ عمل کے دس منٹ بچاتا ہے‘‘ یعنی کریئر پلاننگ کی وجہ سے آپ دس گنا وقت، محنت، اور سرمایہ بچا سکتے ہیں۔

This article published on dawn newspaper on 15 Septmber 2015

Share

بہترین تعلیمی شعبہ کیسے منتخب کریں؟

کریئر کی منصوبہ بندی، یعنی آپ کس تعلیمی شعبے کو اپنانا اور نتیجتاً کس شعبے میں کام کرنا چاہتے ہیں، کس طرح کی جائے، اس کا سب سے بہتر طریقہ تو یہ ہے کہ آپ کسی پروفیشنل کریئر کونسلر سے رابطہ کریں جو آپ کی اس حوالے سے رہنمائی کرے۔ لیکن پاکستان میں کریئر کونسلرز کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔ میری ذاتی معلومات کے مطابق (لاہور میں) کوئی بھی کریئر کونسلر ذاتی طور پر کام نہیں کر رہا۔ کچھ تعلیمی اداروں نے اپنے طور پر کریئر کونسلرز کی خدمات حاصل کر رکھی ہیں۔ لیکن اگر آپ کو خود یا اپنے بچے کے لیے کسی کریئر کونسلر کی تلاش ہے تو آپ کو شاید مایوسی ہوگی۔

کریئر پلاننگ کا دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ خود وہ طریقہء کار اپنائیں جو پروفیشنل کریئر کونسلرز اختیار کرتے ہیں۔ اس طریقہء کار سے آپ زیادہ آسانی اور زیادہ بہتر طور پر تعین کر سکتے ہیں کہ بطور طالب علم خود آپ کے لیے یا بطور والدین آپ کے بچے کے لیے کون سا شعبہ زیادہ فائدہ مند ہے۔

اور یاد رکھیں کہ آپ جو بھی منصوبہ بندی کریں، اس کو لازمی کاغذ پر (Black and White) درج کریں تاکہ بعد میں آپ کو رزلٹ حاصل کرنے اور اس کا تجزیہ کرنے میں آسانی ہو۔

پڑھیے: کریئر کونسلنگ کیوں ضروری ہے؟

طلبہ یا والدین کو کریئر پلاننگ کے لیے مندرجہ ذیل امور کو مدِ نظر رکھنا چاہیے۔

1: ذہانت کا امتحان (آئی کیو ٹیسٹ)

2: رجحان /مزاج

3: دلچسپی

4: معاشی حالات

5: صنف

6: دستیاب تعلیمی مواقع

1: بنیادی ذہانت/آئی کیو لیول کو ٹیسٹ کرنا: اس ٹیسٹ میں کسی بھی انسان کی ذہنی صلاحیتوں کی سائنسی بنیاد پر پیمائش کرنا مقصود ہے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ طالب علم مطلوبہ شعبے میں جانے کی بنیادی قابلیت رکھتا ہے یا نہیں، (ویسے آپ کو بطور والدین اپنے بچے کے بارے میں اور ہر طالب علم کو خود اپنے بارے میں زیادہ بہتر معلوم ہوتا ہے کہ اس کی ذہنی صلاحیت کتنی ہے اور اس کو اس کورس/شعبے میں داخلہ لینا چاہیے یا نہیں)۔ کریئر کی بہتر منصوبہ سازی کے لیے یہ بنیادی شرط ہے۔

بنیادی ذہانت معلوم کرنے کے لیے بہت سی کتابیں اردو اور انگریزی زبان میں مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن سے آپ استفادہ کر سکتے ہیں۔

اس کا ایک جدید طریقہ آئی کیو ٹیسٹ کا بھی ہے جس سے زیادہ جامع معلومات مل جاتی ہے۔ آج کل آئی کیو ٹیسٹ کمپیوٹر کے ذریعے بھی ہوتا ہے۔ آئی کیو ٹیسٹ یعنی ذہانت کی جانچ کے مرحلے میں صرف طالب علم کی خواندگی اور حافظے (یاد رکھنے کی صلاحیت) کے معیار کو چیک کیا جاتا ہے۔ لیکن خیال رکھیے کہ یہ ٹیسٹ صرف انگلش میں ہوتا ہے، اس لیے صرف ان بچوں کو جن کی انگریزی بہت اچھی ہے، ان کے لیے ہی یہ طریقہء کار کارآمد ہے۔ اردو میڈیم بچوں کو یا وہ بچے جن کی انگریزی کمزور ہے، ان سے یہ ٹیسٹ نہیں لینے چاہیئں کیونکہ اس سے بچے میں کئی نفسیاتی مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔

ٹیسٹ دینے والے طالب علم کے جتنے زیادہ نمبر ہوں گے وہ اتنا ہی زیادہ ذہین شمار کیا جاتا ہے۔ آئی کیو ٹیسٹ میں عام انسان کے نمبر 70 سے 90 تک ہوتے ہیں۔ جب کہ جو شخص 90 سے زیادہ پوائنٹس لیتا ہے اس کو ذہین تسلیم جاتا ہے۔ اکثر سائنس دانوں کا آئی کیو لیول 120 کے آس پاس ہوتا ہے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مشہور سائنس دان البرٹ آئن اسٹائن کا آئی کیو 160پوائنٹس ہوگا۔

مزید پڑھیے: میڈیا چینلز کی بھیڑ چال میں آج کی اہم ضرورت

آئی کیو ٹیسٹ کئی حصوں پر مشتمل ہوتا ہے، جس میں سائنس، زبان، سماجی سوجھ بوجھ، ریاضی، اور پیچیدہ مسائل کو حل کرنے کی صلاحیت اور زندگی کے مختلف شعبوں میں مہارت کا جائزہ لے کر ایک اوسط تخمینہ لگایا جاتا ہے۔

2: رویہ: عملی زندگی میں کامیابی کے لیے کسی بھی شعبے کے انتخاب کے لیے لازمی ہے کہ طالبِ علم کا رویہ اس شعبے کے بارے میں درست ہو۔ رویے کو تبدیل بھی کیا جاسکتا ہے لیکن اس کے لیے کافی محنت درکار ہوتی ہے اس لیے زیادہ بہتر یہ ہے کہ طالب علم کا جو عمومی رویہ یعنی مزاج ہو، اسی طرح کے شعبے کا انتخاب کیا جائے۔ مثلاً جو بچے زیادہ سخت جسمانی مشقت نہیں کر سکتے ان کو پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب نہیں کرنا چاہے کیونکہ وہاں ساری زندگی سخت ترین جسمانی مشقت، سخت حالات، اور تھکا دینے والے روز مرہ کے معمول کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

اگر کوئی ایسا طالب علم جو مطلوبہ مزاج کا نہ ہو اور وہ پولیس یا فوج کے شعبے کا انتخاب کرتا ہے تو اس کو دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا ہوگا: یا تو وہ نوکری چھوڑ دے یا اپنا رویہ یا مزاج تبدیل کر لے۔ چونکہ رویے کو تبدیل کرنا کافی مشکل کام ہے اسی لیے ایسے محکموں میں بھرتی کا عمل مشکل ہوتا ہے تاکہ صرف مطلوبہ رویے/مزاج کے لوگ ہی کامیاب ہوں۔

جو طالب علم اپنا رویہ مزاج تبدیل /درست کرنا چاہتے ہیں ان کو چاہیے کہ ایسا طرز عمل اپنائیں جو ان کا پسندیدہ شعبے کی ضرورت ہو۔ اپنے بارے میں اپنی رائے کو ہمیشہ مثبت رکھیں۔ اور جو شعبہ اختیار کرنا ہے، اس کے کامیاب و ناکام افراد سے ملاقات کریں، اور ان سے ان کی کامیابی اور ناکامی کے اسباب جانیں۔

3: طالب علم کی ذاتی دلچسپی: کسی بھی انسان سے اس کی مرضی کے خلاف کوئی کام نہیں لیا جا سکتا۔ اگر زبردستی کام کروا بھی لیا جائے، تو بھی اس میں وہ نفاست نہیں ہوگی جو دلچسپی سے کرنے پر آتی ہے۔ اسی طرح جب تک کہ طالب علم کی کسی کام میں ذاتی دلچسپی نہیں ہوگی وہ اس شعبے میں کامیاب نہیں ہوگا۔ اس لیے سب سے زیادہ والدین کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ وہ اپنی مرضی بچوں پر مسلط نہ کریں اور کریئر کے انتخاب کے مراحل میں طلبہ کے شوق اور مرضی یعنی ان کی دلچسپی کا خیال رکھیں، ورنہ بعد میں ان کی تمام محنت ضائع ہونے کا اندیشہ ہے۔

جانیے: کوئی کام نہیں تو بی ایڈ کر لیں

یاد رکھیے کہ عملی زندگی میں لوگ اس لیے ناکام نہیں ہوتے کہ ان کے پاس ٹیلنٹ نہیں تھا یا وہ ذہین نہیں تھے، یا ان کے پاس اعلیٰ ڈگری نہیں تھی، بلکہ وہ صرف اور صرف اس لیے ناکام ہوتے کیونکہ وہ دلچسپی کے بغیر بے دلی سے کام کرتے تھے۔

4: خاندان کے معاشی حالات: اپنے لیے یا اپنے بچے کے لیے کسی بھی کورس کا انتخاب کرتے وقت اپنے خاندان کے معاشی حالات کو مدِ نظر رکھنا بہت ضروری ہے۔ پاکستان میں طلبہ و طالبات کی بہت بڑی تعداد ڈاکٹری کا پیشہ اختیار کرنا چاہتی ہے، لیکن حکومتی سطح پر ملک بھر میں میڈیکل کالجز اور ان میں سیٹوں کی تعداد شرمناک حد تک کم ہے۔ ہر سال پاکستان بھر سے لاکھوں کی تعداد میں طلبہ و طالبات میڈیکل کالجز میں داخلے کے خواہش مند ہوتے ہیں۔ لیکن ان میں سے صرف چند ہزار کو ہی داخلہ ملتا ہے اور باقی کے لیے صرف نجی کالجز بچتے ہیں جن کی فیسیں بہت زیادہ ہیں۔

کہنے کا مقصد کسی کی دل آزاری نہیں ہے، لیکن کیا یہ بہتر نہیں کہ ایسی صورتحال میں دلبرداشتہ ہونے کے بجائے ایک بیک اپ پلان موجود ہو؟ کئی لوگ ایسے ہیں جو میڈیکل کالجز میں داخلہ نہ ہونے پر ہمت ہار کر بیٹھ جاتے ہیں اور کئی کئی سالوں تک کوشش کرتے رہتے ہیں جس میں وقت اور توانائی ضائع ہوتی ہے جبکہ ہر سال داخلہ نہ ملنے پر ہمت میں کمی آتی جاتی ہے۔ جبکہ کئی لوگ اسی ناکامی کو اپنی دوسری دلچسپی والا شعبہ اپنا کر کامیابی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔

5: صنف: پاکستانی معاشرے میں خواتین کے بارے میں کافی تنگ نظری موجود ہے اس لیے لڑکیوں کو ان شعبہ جات کا انتخاب کرنا چاہیے جس میں اگر وہ عملی زندگی میں جاب کرنا چاہیں تو ان کو زیادہ مشکلات نہ ہوں۔

خواتین کی جاب کے بارے میں پاکستانی معاشرے کی سوچ کے لیے صرف پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کی یہ رپورٹ ہی کافی ہے کہ ’’50 فیصد لڑکیاں میڈیکل کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد کبھی جاب نہیں کرتیں۔‘‘ اس میں خاندانی دباؤ اور بہت سارے دیگر عوامل شامل ہیں۔

بعض واقعات میں دیکھا گیا ہے کہ لڑکیوں نے اپنی پسند سے سول انجینیئرنگ میں ڈگری اچھے نمبروں سے حاصل کی لیکن ان کو اچھی کمپنیز میں جاب نہ مل سکی، کیونکہ نجی کمپنیز کے مالک ان سے کہتے تھے کہ ہم آپ کی جگہ مردوں کو جاب دیتے ہیں تو وہ آفس کے ساتھ ساتھ بطور سائٹ انجینیئر سٹرکوں، پلوں، اور جنگلوں میں کام کر سکتا ہے جبکہ ’’لیڈی سول انجینیئر‘‘ یہ کام نہیں کر سکتیں۔ اگر ہم آپ کو جاب دیتے ہیں تو ہمیں بطور سائٹ انجینیئر ایک اور شخص کو اضافی تنخواہ دینی ہوگی اس لیے معذرت۔

پڑھیے: کریئر کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں

کریئر کونسلنگ کے ماہرین کے مطابق اگر ایسی لڑکیاں سول انجینیئرنگ کے بجائے آرکیٹکچر کا انتخاب کرتیں تو ان کو عملی زندگی میں زیادہ مشکلات نہ ہوتی اور ان کا تعمیرات کا شوق بھی پورا ہوجاتا۔

اسی طرح پرائمری اسکول ٹیچرز کا کام نوجوان لڑکے نہیں کر سکتے۔ وہ کلاس میں چھوٹے چھوٹے بچوں سے بہت جلدی تنگ آ جائیں گے اور فوری ان پر تشدد شروع کر دیں گے۔

6: دستیاب تعلیمی مواقع: اس سے مراد یہ ہے کہ ہمارے ہاں اکثر طالب علموں اور ان کے والدین کو یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ اس وقت کون کون سے تعلیمی شعبہ جات میں وہ داخلہ لے سکتے ہیں۔ مثلاً عمومی طور پر ایف ایس سی پری میڈیکل کرنے والے خواہشمند طلبہ اس کے بعد کے مزید شعبہ جات کے بارے میں لاعلم ہوتے ہیں حالانکہ پاکستان میں ایم بی بی ایس/بی ڈی ایس کے علاوہ فارمیسی، ویٹرنری، میڈیکل سائنسز، بائیو میڈیکل، کیمیکل میڈیکل، ایگریکلچرل، مائیکرو بائیولوجی اور منسلک طبی سائنسز جیسے سائیکاٹری، سائیکولوجی، فزیوتھیراپی وغیرہ کے شعبہ جات میں تعلیم اور روزگار کے وسیع مواقع موجود ہیں۔

اس میں سارا قصور والدین یا طلبہ کا نہیں بلکہ ہماری حکومت کا بھی ہے جس نے کبھی اس سمت میں کوئی کام کیا ہی نہیں اور نہ ہی سرکاری یونیورسٹیوں اور ایجوکیشن کے ذمہ دار محکموں نے اس طرح کا مواد شائع کرنے کی کوشش کی ہے۔ اس لیے آپ کو خود اپنے لیے محنت کرنا ہوگی اور اپنے لیے دستیاب تمام تعلیمی مواقع تلاش کرنے ہوں گے۔

بہترین تعلیمی شعبے کا انتخاب ہر طالب علم اور اس کے خاندان کے لیے سب سے اہم فیصلہ ہوتا ہے، لہٰذا ہر طالب علم کو اپنی شخصیت، صلاحیت، خواہش، ذہنی استعداد، مالی وسائل اور اپنی عملی ضروریات کو دیکھ کر اپنے لیے بہترین شعبے کا انتخاب کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ معاشرے کے ہر فرد کی ضروریات اور مسائل مختلف ہیں، چنانچہ ہو سکتا ہے کہ ایک شعبہ ایک طالب علم کے لیے بہترین ہو لیکن دوسرے طالب علم کے لیے وہ بدتر ہو۔ اس لیے ہر شخص کو اپنے وسائل اور حالات کے مطابق خود فیصلہ کرنا ہوتا ہے کہ اس کے لیے کون سا تعلیمی شعبہ بہترین ہے۔

This article published on dawn newspaper on 7 September 2015

Share

کریئر کا انتخاب سوچ سمجھ کر کریں

کریئر انگریزی زبان کا لفظ ہے، اور اس کے بہت سے معنی ہیں۔ لیکن مجھے اس جگہ اس کا ترجمہ ’’طرزِ معاش‘‘ درست اور زیادہ پسند آیا ہے۔ ’’گائیڈنس‘‘ بھی انگریزی میں عام استعمال ہونے لفظ ہے۔  جس کے معنیٰ ’’رہنمائی، ہدایت کے ہیں۔ یعنی ’’طرزِ معاش کے بارے میں رہنمائی۔‘‘

چونکہ پاکستان میں گذشتہ چندسالوں میں طلباء کی یونیورسٹیوں تک رسائی بڑھتی جا رہی ہے، اور اعلیٰ تعلیمی اداروں میں اب پہلے سے کہیں زیادہ افراد داخلے لے رہے ہیں، لیکن یہ دیکھنا مشکل نہیں ہے کہ ان لاکھوں طلباء میں سے صرف کچھ ہی ایسے ہوتے ہیں، جن کا انتخاب
کردہ شعبہ واقعی ان کا پسندیدہ شعبہ بھی ہوتا ہے، نتیجتاً وہ کبھی بھی اس شعبے میں اس کارکردگی کا مظاہرہ نہیں کرپاتے، جو اس شعبے کا تقاضہ ہوتا ہے۔

اس چیز سے نمٹنے کے لیے کریئر گائیڈنس کا ہونا بہت ضروری ہے، اور یہ بلاگ اسی حوالے سے تحریر کیا گیا ہے۔

کریئر گائیڈنس کی ضرورت کیا ہے؟

موجودہ دور میں تعلیم کا بنیادی مقصد بچوں کو آسان طریقے سے روزگار کے قابل بنانا ہے، کیونکہ فرد سے افراد، افراد سے خاندان، اور خاندانوں سے قوم وجود میں آتی ہے۔ فرد جو معاشرہ کی بنیادی اکائی ہے، جب تک وہ خوشحال نہیں ہوگا، کوئی بھی قوم اور ملک خوشحال نہیں ہوسکتے۔

آج اقوام عالم پر غور کرلیں،
آپ کو خوشحال ملکوں کے پیچھے خوشحال افراد ہی نظر آئیں گے۔ سادہ سی بات ہے کہ جب ایک فرد خوشحال ہوجاتا ہے، تو اس کی قوتِ خرید بڑھ جاتی ہے۔ اس کے زیادہ چیزیں خرید سکنے کی وجہ سے معاشرے میں روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوتے ہیں۔
پاکستان جیسے معاشرے میں ایک خوشحال شخص کے ساتھ کئی لوگوں کی نوکری لگ جاتی ہے۔
مثلاً ایک کامیاب ڈاکٹر کے ساتھ کمپوڈر، نرس، آفس بوائے، ڈرائیور، چوکیدار، مالی، باورچی، گھر کی ماسی، سوئیپر، وغیرہ کی نوکریاں پیدا ہوجاتی ہیں۔

اب کیونکہ معاشرے کے تمام افراد ہی اپنے بچوں کو کامیاب و کامران کرنا چاہتے ہیں، اس ہی لیے وہ سخت محنت کرتے ہیں، اور اپنی استعداد کے مطابق، جبکہ کئی خاندان تو اپنی مالی استعداد سے بڑھ کر ان پر ’’توانائی‘‘ خرچ کرتے ہیں۔ یہاں میں نےلفظ ’’توانائی‘‘ اس لیے استعمال کیا ہے کیونکہ عموماً بچوں کی تعلیم کے سلسلے میں صرف مالی وسائل کو شمار کیا جاتا ہے، جبکہ روپے پیسے کے علاوہ والدین بے شمار ذہنی اور جسمانی مشقت بھی برداشت کرتے ہیں۔

لیکن عموماً طالب علم جب وہ تعلیم مکمل کرلیتا ہے تو اس کو اس شعبہ میں روزگار نہیںملتا، جس کی اس نے تعلیم حاصل کی ہے۔ اس سے نہ صرف وہ نوجوان بلکہ اس کا خاندان بھی شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوجاتا ہے۔ اور بعض اوقات کئی خوفناک حادثات بھی جنم لیتے ہیں۔ یا روزگار تو مل ہے لیکن بس گزارے جیسا۔ بقول فیض احمد فیض مرحوم

’وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں‘‘

غلط کریئر کے انتخاب کے نقصانات

غلط کریئر کے انتخاب کے بہت سے نقصانات ہوتے ہیں، اور غلط کریئر کے انتخاب کا نقصان نہ صرف ایک فرد کو ہوتا ہے، بلکہ اس کا نقصان پوری سوسائٹی کو ہوتا ہے۔ سب بڑا نقصان یہ ہے کہ ملک میں تعلیم یافتہ ڈگری یافتہ بے روزگاروں کی تعداد میں ہر سال اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ غلط شعبہ کا انتخاب کرنے والے عموماً ذہنی پریشانی میں مبتلا رہتے ہیں۔ جس کی وجہ سے مایوسی، ڈپریشن، نیند کی کمی جیسے یماریاں بڑھ رہی ہیں، جبکہ بعض اوقات مایوسی اور ڈپریشن کی وجہ سے خودکشی جیسے تکلیف دہ واقعات بھی پیش آ جاتے ہیں۔

اس لیے طالب علموں اور خاص کر والدین کو چاہیے کہ وہ کریئر پلاننگ پر قدرے زیادہ توجہ دیں تاکہ ناسمجھی میں کہیں غلط شعبے کا انتخاب نہ ہوجائے، جس سے زندگی کے کئی قیمتی سال ضائع ہوجاتے ہیں۔

کریئر پلاننگ کا فائدہ کیا ہے؟

ویسے منصوبہ سازی کے ہمیشہ فائدے ہی ہوتے ہیں، لیکن کریئر پلاننگ کے کچھ فائدے جو مجھے سمجھ آئے ہیں، وہ یہ ہیں۔

-درست منصوبہ سازی سے کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

-آپ کے پاس ایک پلان کی تیاری کے بعد خودبخود پلان بی، اور پلان سی تیار ہوجاتے ہیں۔

-چونکہ منزل یا ہدف کا تعین ہوچکا ہوتا ہے، اس لیے مایوسی کم ہوتی ہے، اور اس کام میں دل چسپی بڑھ جاتی ہے۔

-وسائل، وقت، سرمائے، اور توانائی کی بچت ہوتی ہے

-چونکہ منصوبہ سازی کے لیے آپ کئی طریقوں سے معلومات حاصل کرتے ہیں، اس لیے آپ فراڈ لوگوں/تعلیمی اداروں سے بچ جاتے ہیں۔

-گول کے تعین سے آپ کا کامیابی تک کا سفر کم ہو جاتا ہے۔

-سوسائٹی کو اپنے شعبے میں زیادہ دلچسپی رکھنے والے قابل افراد میسر آتے ہیں۔

اس کے علاوہ سب سے اہم قومی وسائل کی بچت ہوتی ہے۔ اس سے مراد یہ ہے کہ آپ نے اکثر دیکھا ہوگا کہ بہت سے ڈاکٹر، انجینئر اپنے ڈگری مکمل کرنے کے بعد کسی دوسرے شعبہ میں چلے جاتے ہیں۔ مثلا سی ایس ایس کر کے بیورکریسی کا حصہ بن جاتے ہیں یا جیسے آج کل بہت سے ’’ڈاکٹر‘‘ میڈیا پرسن بن چکے ہیں۔

ان کی اس روش سے وہ نہ صرف اپنا کافی سارے وقت ضائع کرتے ہیں، کیونکہ سی ایس ایس کے لیے 14 سالہ تعلیم ہونے کی شرط ہے، جبکہ یہ احباب 18-19 سال کی تعلیم کے بعد جاتے ہیں، جس سے ان کی زندگی کے چار پانچ قیمتی سال ضائع ہوجاتے ہیں۔

دوسرا اس سے جو معاشرے کو نقصان ہوتا ہے، وہ یہ کہ ان کی وجہ سےمیڈیکل کالج/یونیورسٹی کی ایک سیٹ ضائع ہوجاتی، جو ان کے بجائے کسی اور شخص کو مل سکتی تھی۔

یہاں یہ بات بھی سمجھنے کی ہے کہ میڈیکل کالجز/یونیورسیٹوں سے ڈاکٹر، انجینیئر بننے کے اخراجات کافی زیادہ ہوتے ہیں، اور سرکاری اداروں میں یہ اخراجات فیسوں سے پورے نہیں ہوتے، لہٰذا یہاں ریاست یہ سرمایہ کاری کرتی ہے تاکہ طلباء تعلیم مکمل کرکے معاشرے کی اس شعبے میں خدمت کریں، اور ریاست کی سرمایہ کاری کے ثمرات مل سکیں، اس لیے ان کے ’’غلط انتخاب‘‘ کی وجہ سے قومی وسائل کا نقصان ہوتا ہے۔

پاکستانی معاشرے میں غلط کریئر کے انتخاب کی تازہ ترین مثال پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے منتخب ہونے والے سب انسپکٹرز ہیں، جن کی پاسنگ آؤٹ پریڈ 18 مئی 2015 کو پولیس کالج سہالہ، پنجاب میں ہوئی جس کے مہمانِ خصوصی وزیر اعلیٰ پنجاب جناب میاں محمد شہباز شریف تھے۔ اس موقع پر پنجاب پولیس کی جانب سے جاری شدہ اعداد و شمار کے مطابق بھرتی ہونے والے سب انسپکٹرز میں 48 افراد نے ایم اے، 35 نے ایم ایس سی، 34 نے ایل ایل بی، 31 نے انجینئرنگ، 22 نے ایم فل، 17 نے ایم بی اے، چار نے ایم سی ایس، 2 نے اے سی سی اے، 20 نے بی بی اے، 30 نے بی ایس سی، اور 41 نے ایم کام کیا ہوا ہے۔ اس کے علاوہ ان سب انسپیکٹرز میں 1 پی ایچ ڈی اسکالر بھی شامل ہیں۔

یہاں غور طلب یہ بات ہے کہ یہ وہ افراد ہیں جن کو پنجاب پبلک سروس کمیشن نے منتخب کیا ہوا ہے، جب کہ سب انسپکٹرز بھرتی ہونے کےاس طرح کے’’ اعلی ڈگری یافتہ‘‘ خواہشمندوں کی تعداد اس سے کئی گنا زیادہ ہوگی۔

ویسے میرے اندر کا ’’شرارتی بچہ‘‘ مجھ سے یہ سوال کر رہا ہے کہ سب انسپکٹر کا پے اسکیل اور ہائی اسکول کے ٹیچرز کا پے سکیل (BPS-14) ایک جیسا ہے، تو کیا یہ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان ’’قوم کی خدمت‘‘ کے لیے اسکول ٹیچرز بھرتی ہونے کے لیے تیار ہوں گے؟

خیر یہ تو ایک مذاق تھا، لیکن ہمیں زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہیے کہ کریئر پلاننگ پر عمل کیا جائے۔ اور اس کے بارے میں زیادہ سے زیادہ معلومات حاصل کی جائے تاکہ ہماری انفرادی اور اجتماعی زندگیوں میں بہتری آسکے۔

This article published on dawn newspaper on 10 June 2015

 

Share