کالجوں کا شہر لاہور گیارہویں جماعت میں کیسے داخل ہوگا؟

لاہور نہ صرف پاکستان کا اہم تجارتی اور ثقافتی مرکز ہے بلکہ اسے ملکی سیاست میں بھی اہم مقام حاصل ہے۔ لاہور کو کئی حوالوں سے یاد کیا جاتا ہے، جیسے باغوں کا شہر، زندہ دلوں کا شہر، اسی طرح لاہور کو کالجوں کا شہر بھی کہا جاتا ہے کیوں کہ لاہور میں کسی زمانے میں کئی کالجز موجود تھے جو لاہور کے ساتھ ساتھ دیگر اضلاع کے تشنگانِ علم کی پیاس بجھایا کرتے تھے۔

لاہور میں بڑھتی آبادی اور تیزی سے ہونے والی نقل مکانی نے جہاں بے شمار چیزوں کا فقدان پیدا کیا وہاں سرکاری کالجوں کی کمی کا مسئلہ بھی پیدا ہوا۔ لاہور میں اس وقت 56 کے قریب سرکاری کالجز موجود ہیں جس میں 34 لڑکیوں کے اور 22 لڑکوں کے کالجز ہیں۔

ان تمام کالجوں میں طلبہ کی کل گنجائش 49 ہزار ہے۔ جبکہ صرف لاہور بورڈ سے ہر سال ایک لاکھ چالیس ہزار سے زائد طالب علم پاس ہوتے ہیں۔ گزشتہ سال 2016 کے میٹرک کے نتائج کے مطابق لاہور بورڈ کے زیر اہتمام امتحان میں 2 لاکھ 14 ہزار 711 طلبہ نے شرکت کی تھی، اور تقریباً 71 فی صد نے کامیابی حاصل کی۔ یعنی ایک لاکھ 53 ہزار کے قریب طالب علم پاس ہوئے۔

یعنی صرف لاہور بورڈ کے تقریباً ایک لاکھ سے زائد پاس ہونے والے طالب علموں کے لیے کسی سرکاری کالج میں کوئی گنجائش نہیں۔ اب وہ یا تو کسی نجی کالج میں داخلہ لے، یا اگر غریب ہے اور نجی تعلیم کا خرچ نہیں اٹھا سکتا تو اپنی تعلیم کو خیرباد کہہ دے۔

خیال رہے کہ لاہور کے کالجز میں صرف لاہور بورڈ کے کامیاب طلبہ و طالبات ہی داخلہ نہیں لیتے، بلکہ پنجاب کے دیگر شہروں کے ساتھ ساتھ، فاٹا، گلگت بلتستان، آزاد کشمیر اور خیبر پختونخوا سے تعلق رکھنے والے طالب علموں کی بڑی تعداد بھی لاہور کے کالجوں میں زیر تعلیم ہے۔

طالب علموں کی اتنی بڑی تعداد (ایک سے ڈیڑھ لاکھ) کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے پرائیویٹ شعبے میں 120 سے زائد کالجز قائم ہیں جو تجارتی بنیادوں پر کام کرتے ہیں۔

لاہور میں نئے کالجز کا قیام کیوں نہیں ہوا؟

لاہور میں 1982 سے مسلم لیگ کی حکومت قائم ہے۔ اگرچہ لاہور میں ترقیاتی کام ہوا ہے، ٹریفک کے مسائل کو کم کرنے کے لیے کئی سڑکوں کو کشادہ کیا گیا، کئی انڈر پاس اور اوور ہیڈ بِرج تعمیر کیے گئے۔

اب کئی سو ارب روپے کی لاگت سے اورنج لائن ٹرین کا منصوبہ بھی تکمیل کے آخری مراحل میں ہے، لیکن پتہ نہیں اس بات کی اصل وجہ کیا ہے کہ کیوں لاہور میں (ضرورت کے مطابق) سرکاری کالجز کی تعداد میں اضافہ نہیں کیا گیا، کچھ لوگوں کی رائے میں اس کی اصل وجہ صوبائی حکومت کی عدم توجہی ہے، جس وجہ سے شعبہ تعلیم کو مطلوب وسائل ہی فراہم نہیں کیے جاتے؟

وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف نے کئی بار خود اعلان کیا ہے کہ تعلیم اور صحت کے شعبوں کی ترقی حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے گزشتہ الیکشن سے قبل ذہین طالب علموں میں کئی ارب روپے کے لیپ ٹاپ اور سولر لیمپ وغیرہ مفت تقسیم کیے، نہ صرف پنجاب بلکہ پورے پاکستان کے پوزیشن ہولڈرز طلبہ و طالبات کو دنیا کے کئی ممالک کی سیر کروائی۔ لیکن بنیادی سطح پر جو کام ہونا چاہیے، وہ ہوتا ہوا نظر نہیں آتا۔

بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ نجی کالجز کی انتظامیہ کافی بااثر ہے اور وہ صوبائی حکومت کے اہم افراد کو نئے کالجز قائم کرنے سے روک دیتی ہے تاکہ ان کا بزنس قائم و دائم رہے۔

نجی کالجز کی نگرانی کون کرے

معلوم نہیں حکومت نےان نجی کالجز کے لیے کوئی بنیادی قوائد ضوابط (ایس او پیز) ترتیب دے رکھے ہیں بھی یا نہیں، عموماً نجی تعلیمی اداروں کی کسی قسم کی کوئی نگرانی نہیں ہوتی۔

لاہور شہر میں جو نجی کالجز ہیں وہ ہر چیز سے آزاد ہیں، فیسوں کا تعین ہو، اساتدہ کی بھرتی، کالج بلڈنگ کے بائی لاز، ہوسٹلز، لائیبریری، تجربہ گاہ، پارکنگ، یا پھر کھیلوں کے میدان، ہر جگہ وہ صرف اپنے مفادات کا خیال پہلے رکھتے ہیں۔ فیسوں، یونیفارم، کتابوں، امدادی کتب کے علاوہ ہر ماہ کوئی نہ کوئی نیا خرچہ تیار کر لیا جاتا ہے کیونکہ ان کی مانیٹرنگ (نگرانی) کے لیے کوئی ادارہ یا تو قائم ہی نہیں یا پھر اپنا کام نہیں کر رہا ہے۔

نجی کالجوں کی فیس اور سہولیات

لاہور میں قائم نجی تعلیمی کالجز کی سالانہ فیس اور دیگر اخراجات ایک لاکھ سے تین لاکھ روپے تک ہے۔ اس طرح والدین کے ایک بچے کی دو سالہ تعلیم پر 2 سے 6 لاکھ تک خرچ ہو جاتے ہیں۔

لاہور میں نجی کالجوں کی اکثریت نے اپنے طالب علموں کے لیے کوئی ہوسٹل قائم نہیں کیے۔ جس کی وجہ سے دوسرے شہروں کے طلبہ وطالبات شہر میں قائم چھوٹے چھوٹے ہوسٹلز (جو عموماً پانچ /دس مرلہ کے پرانے رہائشی مکانات ہیں) میں رہتے ہیں۔

کالجز میں پڑھانے والے اساتدہ کا کوئی خاص معیار نہیں، اگر ایف اے /بی اے پاس صاحب کو کالج انتظامیہ ایم ایس سی/ایم فل قرار دے تو آپ کو یقین کرنا ہوگا۔

کھیل کے میدان کا کوئی چکر نہیں، زیادہ تر کالجز کے پاس صرف اپنی عمارت کا صحن ہے جو پانچ دس مرلے پر مشتمل ہوتا ہے۔ (شاید کالج انتظامیہ یہ سوچتی ہے کہ آپ کے بچے اتنے پیسے خرچ کر کے کالج پڑھنے آتا ہے نہ کہ کھیلنے) لائبریری اور سائنس مضامین کے لیے تجربہ گاہ تو ہوتی ہے، لیکن صرف نام کی (کیونکہ جناب کورس کی کتابیں تو مکمل ہوتی نہیں کون مزید کتابوں اور پریٹکل کے چکر میں پڑے)۔

بعض کالجز کی انتظامیہ بورڈ کے عملی امتحانات کے لیے خاص اہتمام کرتی ہے۔ جس کے لیے طالب علموں کو مزید کچھ رقم خرچ کرنا ہوتی ہے۔ آخر اچھے گریڈز بھی تو لینے ہیں نا!

نجی کالجز میں مستقل فیکلٹی کا فقدان

نجی کالجز میں کوئی بھی استاد مستقل نہیں ہوتا بلکہ بعض کالجز میں تو ماہانہ کی بجائے اساتدہ کو فی پیریڈ پڑھانے کے حساب سے معاوضہ دیا جاتا ہے۔ کئی نجی کالجز میں سابقہ اسٹوڈنٹس اور غیر تجربہ کار افراد کو بطور اساتذہ بھرتی کر لیا جاتا ہے۔

ٹیچرز ٹریننگ کا سرے سے کوئی نظام موجود نہیں، اساتذہ کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں۔ نیز چھٹیوں کے دوران اساتذہ کو کوئی معاوضہ نہیں دیا جاتا۔ جب کہ طلبا سے بھاری فیسیں وصول کی جاتی ہیں۔ چونکہ اساتذہ کی معاشی حالت بہت خراب ہوتی ہے، اس لیے وہ بھی عدم دلچسپی سے بچوں کو تعلیم دیتے ہیں۔

اگر حکومت کے پاس فندز کی کمی ہے تو، یقیناً نئے کالجز قائم کرنے کے لیے بھی کافی وسائل کی ضرورت ہے۔ لیکن یہ بات حیران کن ہے کہ سابقہ صدر جنرل پرویز مشرف کے دور حکومت میں وزیر تعلیم ڈاکٹر عطا الرحمٰن کی ہدایت پر ملک بھر میں بے شمار ایسے اسکولز جن میں مطلوبہ سہولیات میسر تھی، ان اسکولز کو ہائیر سکینڈری اسکول کا درجہ دیا گیا تھا، جس سے اس علاقے کے طلبہ و طالبات اپنے اسکول سے ہی 12 سالہ تعلیم (ایف اے، ایف ایس سی) مکمل کرتے تھے، لیکن نامعلوم وجوہات کی بنا پر لاہور میں ان تمام ہائیر سکینڈری اسکولوں کو آہستہ آہستہ بند کر دیا گیا۔

حکومت یہ بھی کر سکتی ہے کہ جو تعلیمی وسائل موجود ہیں، ان کو (لیپ ٹاپ کے بجائے) کالج میں داخلہ لینے کے خواہشمند مستحق طالب علموں کے اچھے نجی کالج داخلہ کے اخراجات پر خرچ کرے۔

اس بات کی بھی وجہ معلوم نہیں ہو سکی کہ صوبائی حکومت ایسے کالجز کیوں قائم نہیں کرتی، جو نفع، نقصان کے بغیر چلیں۔ یعنی عمارت کے کرایے، اسٹاف کی تنخواہیں اور دیگر اخراجات وغیرہ طالب علموں سے فیس کی صورت میں حاصل کرے، یہ فیس پھر بھی نجی کالجز کی فیس سے کم ہوگی۔ اس طرح کم آمدنی اور متوسط طبقے کے بہت سے بچے اور بچیاں معیاری تعلیم حاصل کر پائیں گے اور تعلیم حاصل کرنا ان کی ناتمام حسرت اور خواہش نہیں بن کر رہ جائے گی۔

یہ بات تسلیم کی جا سکتی ہے کہ موجود صوبائی حکومت کے پاس نئے کالجز قائم کرنے کے لئے وسائل نہیں لیکن یہ بات قابل قبول نہیں کہ موجود تعلیمی وسائل کو مستحق طلبہ پر خرچ کرنے کی بجائے ’لیپ ٹاپ اسکیم یا پوزیشن ہولڈز کو بیرون ممالک کی سیر’ پر ضائع کر دی جائے۔

شاید اس سے بڑا ظلم لاہور کے شہریوں کے ساتھ اور کوئی نہیں۔

حسن اکبر کا یہ مضمون سب سے پہلے ڈان نیوز کی ویب سائٹ پر مورخہ 25 مئی 2017 کو شائع  ہو ا۔

https://www.dawnnews.tv/news/1058375

Share

پاکستانی معاشرے پر انٹرنیٹ کے مثبت اثرات

کسی بھی چیز کے ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں، مثبت اور منفی۔ اسی طرح انٹرنیٹ کے بھی مثبت اور منفی اثرات ہیں۔ پاکستان کے لوکل میڈیا میں چونکہ منفی خبر ہی خبر کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے میڈیا میں انٹرنیٹ کے ’’پاکستانی سوسائٹی پر برے اثرات‘‘ پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے۔ ٹی وی، اخبارات، جرائد میں اکثر اس موضوع پر لمبے چوڑے مضمون شائع ہوتے ہیں اور تا دمِ تحریر یہ سلسلہ جاری ہے۔  عوام کی جانب سےاردو اخبارات میں جو مراسلے شائع ہوتے ہیں، ان میں اکثریت کی رائے میں نوجوان نسل کے خراب ہونے کی واحد وجہ انٹرنیٹ ہے۔ پاکستانی معاشرہ میں نوجوانوں کے بگاڑ میں انٹرنیٹ کا کتنا ہاتھ ہے، اس پر کئی طرح کی آراء موجود ہیں۔ کچھ اس کے حق میں اور کچھ مخالفت میں، یہ شاید کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے۔  ہم اکثر کسی ایک فرد کے طرزِ عمل کو اس سے منسلک گروپ یا قبیلے کا طرزِ عمل قرار دے دیتے ہیں، جو کہ زیادتی ہے۔ 17 نومبر کو سپریم کورٹ میں ایک ضمانت کے کیس میں جناب جسٹس امیر ہانی مسلم کے ریمارکس کو ایک بڑے اردو اخبار نے اس عنوان کے تحت شائع کیا۔  “فیس بک نے نئی نسل اور معاشرے کو خراب کردیا ہے، سپریم کورٹ”  جبکہ ایک غیر ملکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ’’عدالت کا کہنا تھا کہ فیس بک پر اس طرح کی حرکات نے ہمارے معاشرے اور بالخصوص نوجوان نسل کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔‘‘  اب مجھے نہیں معلوم کہ اصل میں سپریم کورٹ نے کیا ریمارکس دیے تھے، لیکن اگر دیکھا جائے تو ان دونوں ریمارکس سے الگ الگ رائے قائم ہوتی ہے۔ جس شخص تک سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس پہنچیں گے کہ  ’’فیس بک نے نئی نسل اور معاشرے کو خراب کر دیا ہے، سپریم کورٹ‘‘  وہ قصوروار فیس بک، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو سمجھے گا۔  اور دوسرے ریمارکس کا مطالعہ کرنے والا شخص انٹرنیٹ/سوشل میڈیا کے بجائے قصوروار اس ایک فرد کو قرار دے گا۔  میرے خیال میں انٹرنیٹ کے بارے میں یک طرفہ رپورٹنگ ہورہی ہے اور دوسری طرف کا نقطہ نظر پیش نہیں ہورہا۔ اس لیے آج میں نے کوشش کی ہے کہ اپنے اس مضمون انٹرنیٹ کے ان مثبت اثرات کا سرسری جائزہ پیش کروں جو ہماری، انفرادی اور اجتماعی زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں۔  سال 2002 میں جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں انٹرنیٹ سستا ہوا، اور جس سے اس کے استعمال کنندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ انٹرنیٹ فراہم کرنی والی کمپنیز کی ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ پر جاری شدہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2014 کے اکتوبر تک پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں۔  سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر اثرات: ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس وقت بہتر ہوتی ہے جب ہمیں بہتر معلومات میسر آئیں۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے ہماری سوچنے سمجھنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں میں بہت بہتری آئی ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ انٹرنیٹ سے پہلے آپ کسی حساس موضوع، مثلاً کسی مذہبی عقیدے یا سیاسی نظریے کا مطالعہ کرنا چاہتے تھے، تو کیا یہ ممکن تھا؟ کیا آپ اپنے گھر میں اپنے والدین، رشتہ داروں، بیوی، شوہر کے سامنے دوسرے اور مخالف عقیدہ کی کتب کا مطالعہ کر سکتے تھے؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔  قیامِ پاکستان سے پہلے انگریز دورِ حکومت میں جرمنی کے ریڈیو سننے پر سزا ملتی تھی۔ جنرل ضیاء صاحب کے دورِ حکومت میں وی سی آر پر فلم دیکھنا جرم تھا۔ آج بھی پاکستان میں کیبل وغیرہ پر ’’دشمن ملک‘‘ کے ٹی وی کی نیوز چلانا جرم ہے۔ اس طرح کے اقدمات سے لازمی ہماری فیصلہ سازی کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں رائج تصورات، اقدار، خیالات، اور روایات میں آہستہ آہستہ تبدیلی آرہی ہے۔  تعلیمی میدان پر اثرات: پاکستانی معاشرے پر تعلیمی میدان میں انٹرنیٹ کے بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ درس و تدریس سے منسلک افراد کی بہت سی مشکلات تھیں جو انٹرنیٹ کی وجہ سے حل ہو گئیں، جن میں الیکٹرونک لائبریری، آن لائن ای بکس، اور مختلف تعلیمی موضوعات پر آڈیو، ویڈیو لیکچرز تک گھر بیٹھے رسائی ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ کئی پاکستانی نوجوانوں نے ذاتی کوششوں سے تعلیمی ویب سائٹس قائم کیں جن پر طلبہ و طالبات کو مختلف تعلیمی نوٹس، سابقہ پرچے، تعلیمی اعلانات اور گفتگو کرنے کا مواقع مل رہا ہے۔  مذہبی مسائل کو سمجھنے میں مدد ملی ہے: ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت موجود ہے (خیال رہے کہ یہاں فرقہ واریت سے میری مراد صرف مسلم فرقوں کے درمیان اختلافات نہیں، بلکہ ہر طرح کی مذہبی سوچ/نظریات کے حامل افراد کے درمیان اختلاف ہے)۔  بدقسمتی سے ہمیں اپنے فرقے کی اچھی باتوں کی تربیت کم اور دوسرے فرقہ کی “غلطیوں” کا سبق پہلے دن سے اچھی طرح یاد کروایا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کے آنے سے پہلے تک ہماری حالت کنویں کے مینڈک کی طرح تھی، ہمارے مذہبی رہنما خود ہی دوسرے فرقے پر سوال کرتے اور خود ہی جواب دیتے تھے، اور عوام کی اکثریت بغیر تحقیق کے ان الزامات/باتوں پر یقین کرتی ہے۔ لیکن اب انٹرنیٹ (خاص طور پر سوشل میڈیا) کی وجہ سے ہمیں دونوں طرف کا مؤقف سننے اور پڑھنے کا موقع مل رہا ہے، جس سے میرے خیال میں فرقہ وارانہ نفرت میں کمی ہو رہی ہے۔ لوگوں کو سمجھ آ رہی ہے کہ غلطیاں صرف دوسرے میں ہی موجود نہیں، بلکہ اپنی طرف بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔  نئے طرز کے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے: پوری دنیا کی طرح پاکستانی معاشرے میں بھی ’’ہوم آفس‘‘ کا رواج شروع ہوا جو اپنی طرز کا انتہائی منفرد کام ہے۔ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح بہت سے پاکستانی لڑکے لڑکیاں گھر بیٹھ کر آن لائن خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ جس میں آن لائن جاب، قرآن پڑھنا، ٹیوشن پڑھنا، گیمز کی تیاری، سوفٹ ویئر اور ویب سائٹس کی تیاری، درستگی اور پڑتال کا کام، مختلف زبانوں کے ترجمے، ٹائپنگ کا کام، آن لائن اشتہاری صنعت، سوفٹ ویئر کی ویڈیو ٹریننگ، شاپنگ ویب سائٹس کے ذریعے اپنا ذاتی کام شامل ہے اور وہ بھی بغیر لوکل آفس کے، جس سے نہ صرف ان پاکستانیوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا، بلکہ ملک کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔  پاکستانی فنون لطیفہ پر اثرات: جمالیاتی حس رکھنے والے آرٹسٹ کو سب سے بڑی چیز جو درکار ہوتی ہے، وہ لوگوں کی جانب سے ان کے کام کی تعریف ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے نئے لوگوں کو اپنے اندر کے جوہر دیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں، جس سے انہیں مزید کام کرنے اور اپنے موجودہ کام میں نکھار لانے میں مدد مل رہی ہے۔  چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں رہنے والے نئے لکھنے والوں، ادیبوں، تقریر کرنے والوں، شاعروں، آرٹ اور مصوری کرنے آرٹسٹس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگ محدود وسائل سے اچھی شارٹ فلمیں تیار کر رہے ہیں، جس سے وہ بہت جلدی شہرت حاصل کر رہے ہیں۔  ذرا تصور کریں کہ ایک چھوٹے شہر میں ایک قابل مگر مالی طور پر کمزور آرٹسٹ کا۔ اگر وہ اپنے کام کی نمائش کرنا چاہے تو اس کو کسی قریبی بڑے شہر کے صدر مقام پر کسی گیلری میں نمائش کا اہتمام کرنا ہوگا، جس کے اخراجات ہزاروں سے لاکھوں روپے تک ہوتے ہیں۔ جبکہ عموماً فن کاروں کے پاس پیسے نہیں ہوتے، کیونکہ فن کار ہمیشہ آزاد ہوتا ہے، جبکہ پیسے کمانے کے لیے لازمی ہے کہ آپ ’’حدود کا خیال‘‘ یعنی دوسرے لفظوں میں ’’قید ہو‘‘۔  مقابلے میں اضافہ: اس سے ٹی وی اور اخبارات کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ آج کا دور جس کو انفارمیشن ایج بھی کہا جاتا ہے، اس میں اخبارات، ریڈیو، ٹی وی کی طرح انٹرنیٹ بھی ایک میڈیا ہے جس کو اصطلاحاً ’’سائبر میڈیا‘‘ کہتے ہیں۔ پہلے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر (معاشرے میں موجود مختلف طرح کے پریشر گروپس) بڑی آسانی سے اپنے خلاف خبر کو نشر ہونے سے روک لینے کی طاقت رکھتے تھے۔  ماضی میں بدقسمتی سے پاکستان میں اس ’’طاقت‘‘ کا بھرپور استعمال کیا بھی گیا، لیکن ’’سائبر میڈیا‘‘ سے مقابلے کی وجہ سے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور ان پر دباؤ کم ہوا۔ شاید آپ میری رائے سے اتفاق کریں گے کہ اگر ’’سائبر میڈیا‘‘ کا وجود نہ ہوتا تو بڑے بڑے واقعات جیسے میاں شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کے بیکری ملازم پر تشدد کی خبر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر کبھی شائع نہ ہوتی، جبکہ یہ خبر الیکٹرونک/پرنٹ میڈیا پر نشر ہونے سے پہلے لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔  ڈر اور خوف پیدا کرنے والے پریشر گروپس پر اثرات: پاکستانی معاشرے میں لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا کر کے خود کو نمایاں کرنے والے پریشر گروپس کی تعداد کافی زیادہ تھی، جن میں سے کئی کو سیاسی جماعتوں اور دیگر فریقوں کی جانب سے مدد بھی حاصل تھی۔ پاکستان کی سول سوسائٹی اور روایتی میڈیا ان کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتا تھا۔ جبکہ سیاسی جماعتیں اور کچھ ریاستی ادارے ان کو اپنے مقصد کے لیے آسانی سے استعمال کرتے تھے۔  روایتی میڈیا خوف یا لالچ کی وجہ سے رائے عامہ کی درست تصویر نہیں دکھا سکتا تھا، جس کی وجہ سے ان پریشر گروپس کا کاروبار کافی کامیابی سے چلتا رہا، لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ بہتر مؤثر رائے عامہ کا علم ہوا ہے۔  انٹرنیٹ ہماری سوسائٹی کے خوشحال طبقہ میں زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ جس دن بھی حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی آئی اور اس کو سستا کردیا گیا، اس کے استعمال کنندگان کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوجائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق آئندہ چند برسوں میں اس کا استعمال مزید عام ہوگا اور روز مرہ کی زندگی میں انٹرنیٹ کا عمل دخل بہت زیادہ ہوگا۔ تیز رفتار ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ ٹی وی کے ساتھ منسلک ہو رہا ہے جس سے یہ ہمارے روزمرہ زندگی کا لازمی جزو بن جائے گا۔  اس لیے اشد ضروری ہے کہ ہم دوبارہ انٹرنیٹ کے منفی اور مثبت پہلوؤں کا جائزہ لیں، تاکہ ہم انٹرنیٹ کے منفی اثرات سے اپنے گھر اور معاشرے کو محفوظ رکھ سکیں، اور انٹرنیٹ کے مثبت استعمال کو بڑھا کر اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر سکیں کیونکہ کوئی چیز اچھی یا بری نہیں ہوتی، صرف نیت اچھی یا بری ہوتی ہے۔

This article published on dawn newspaper on 7 December 2015

Share

رومن اردو سے جان کب چھوٹے گی

اکثر دیکھا گیا ہے کہ بعض طالب علموں کے امتحان میں اچھے نمبر نہیں آتے، حالانکہ انہوں نے کافی زیادہ پڑھائی کی ہوتی ہے، جبکہ کچھ طالب علموں کے نمبر زیادہ آتے ہیں حالانکہ انہوں نے کم پڑھائی کی ہوتی ہے۔
عموماً لوگ اس کو قسمت کا کھیل کہتے ہیں۔ اس کے بھی امکان ہیں کہ یہ اتفاقاً ہوا ہو، لیکن بعض ماہرینِ تعلیم کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ جو طالب علم اپنی پڑھائی کی اچھی منصوبہ بندی کرتے ہیں ان کے نمبر زیادہ اور جو طالب علم بغیر کسی منصوبہ بندی کے پڑھائی کرتے ہیں، ان کے نمبر کم آتے ہیں۔
تعلیمی ماہرین کے مطابق پڑھائی کی منصوبہ بندی کے لیے مندرجہ ذیل امور پر نظر رکھنی چاہیے:
اول: ہدف/گول
دوم: وقت کی منصوبہ بندی
سوم: کورس کی منصوبہ بندی
چہارم: بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ
ہدف یا گول:
پڑھائی کی منصوبہ بندی کے لیے سب سے پہلے آپ کا کوئی ہدف ہونا چاہیے۔ ہدف کئی طرح کے ہوسکتے ہیں، مثلاً “میں نے اپنی کلاس میں ٹاپ کرنا ہے، میں نے 90 فیصد نمبر لینے ہیں، میں نے اس مضمون میں ٹاپ کرنا ہے، میں نے تعلیم کے ذریعہ اپنے فیملی کو اوپر اٹھانا ہے۔”
یہاں اس بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پڑھائی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے، پڑھائی یا تعلیم کامیابی نہیں۔ یعنی آپ کے پاس کامیابی حاصل کرنے کا ایک اچھا آلہ موجود ہے۔
واضح ہدف انسان میں جذبہ پیدا کرتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کسی طالب علم کا پڑھائی میں کوئی ہدف ہی نہیں تو وہ زیادہ محنت کیوں کرے گا، وہ بس اتنی محنت کرے گا کہ امتحان میں پاس ہوجائے۔
عموماً دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت زیادہ خوشحال گھرانوں کے بچے زیادہ تعلیم حاصل نہیں کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کسی کا تعلیم حاصل کرنے کے پسِ پردہ اپنا ایک ہدف ہوتا ہے، جیسے خود کو متوسط طبقے سے اونچے طبقے میں لانا وغیرہ۔
ہدف ہی انسان میں وہ جذبہ پیدا کرتا ہے جس کی وجہ آپ کو نہ موسم کی شدت کا احساس ہوتا ، نہ ہی آپ کا دل سماجی زندگی اور میل جول کم ہونے پر رنجیدہ ہوتا ہے، اور نہ ہی آپ دس بارہ گھنٹے پڑھائی کر کے تھکتے ہیں۔
آپ اپنے ہدف سے جتنا پیار کریں گے یا ہدف کے حصول کے لیے جتنی جدوجہد کریں گے، آپ کی کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے، لہٰذا پڑھائی کی منصوبہ بندی کے لیے سب سے پہلے آپ کو اپنا کوئی بڑا ہدف مقرر کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ بڑے ہدف کے بغیر آپ کے اندر جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا۔
وقت کی منصوبہ بندی:
وقت کی منصوبہ بندی سے مراد یہ ہے کہ بطور طالب علم آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس سوال/یونٹ/باب کومجھے لازمی اس وقت تک تیار کرنا ہے۔ اس ہی طرح امتحان یا کلاس ٹیسٹ میں اس سوال کو کتنے منٹ میں ختم کرنا ہے۔ کئی دفعہ طالب علم یہ شکایت کرتے نظر آتے ہیں کہ:
مجھے امتحان میں دو سوال اور بھی آتے تھے لیکن ٹائم ہی ختم ہوگیا۔
بیٹا جلدی جلدی کرنا تھا۔
کیسا کرتا جلدی، سوالات کے جوابات ہی بہت طویل تھے۔
اس طرح کی صورت حال سے صاف ظاہر ہے کہ طالب علم نے اپنے امتحان کی منصوبہ بندی نہیں کی تھی، یا ناقص منصوبہ بندی کی ہے جس میں وقت کا خیال نہیں کیا۔ اس صورت میں اگر جوابات طویل تھے تو ان کو مختصر کیا جاسکتا تھا۔ اور اگر طالبِ علم کی لکھنے کی رفتار کم تھی تو اس کو بھی پریکٹس سے بہتر کیا جاسکتا تھا۔ وقت کی منصوبہ بندی میں یہ طے کرنا چاہیے کہ کتنا کورس کتنے ٹائم میں تیار کرنا ہے۔
کورس کی منصوبہ بندی:
کورس کی منصوبہ بندی کے لیے بہتر یہ ہے کہ جب کسی طالب علم کا تعلیمی سال شروع ہو تو وہ اپنے وقت کے حساب سے اپنے تمام کورس کی منصوبہ بندی کر لیں۔ فرض کریں کہ اگر آپ کے کل آٹھ مضمون ہیں اور ہر مضمون کے 9 باب ہیں۔ اور ہر یونٹ کے 5 موضوعات/سوالات ہیں، تو کل 360سوالات یا موضوعات بنتے ہیں۔ یعنی تین سوالات یومیہ کے حساب سے یہ 120 دن (چار ماہ) میں آپ کا کورس مکمل ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر اس طرح منصوبہ بندی کی جائے تو بہت آسانی کے ساتھ ایک سال میں کورس کی دو دفعہ تیاری ہوسکتی ہے۔
بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ:
ہر طالب علم میں کچھ نہ کچھ بنیادی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ عموماً طالب علم ان کمزوریوں کی وجہ سے اچھے نتائج حاصل نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے ان میں بددلی پیدا ہوتی ہے اور ان کا دل پڑھائی کرنے کو نہیں کرتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ بہت باریک بینی سے ان خامیوں کی نشان دہی کی جائے اور ان خامیوں کو دور کیا جائے۔
سادہ سی مثال ہے کہ اگر کوئی مستری ایک دیوار تعمیر کر رہا ہے اور اس دیوار کی بنیادی اینٹ ٹیڑھی چن رہا ہے تو وہ دیوار جوں جوں بڑھتی جائے گی، اس کے لیے قائم رہنا مشکل ہوتا جائے گا اور جلد ہی وہ اپنے وزن سے گر جائے گی۔ اس ہی طرح بنیادی مہارتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اکثر طالب علم بڑی کلاسز میں بری طرح ناکام ہوتے ہیں، جس میں سے ایک کمزوری ہے
املا کی غلطیاں اور ذخیرہ الفاظ کی کمی:
یہ بہت ہی عام مسئلہ ہے۔ کئی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ طالب علموں کی اردو/انگریزی تحریر میں املا کی بہت غلطیاں ہوتی ہیں، نیز ان کو زبان کی بول چال میں دقت کا سامنا اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ ان کے پاس ذخیرہ الفاظ کی کمی ہوتی ہے۔
ویسے اس مسئلے کو چھوٹی کلاسز میں حل ہو جانا چاہیے، لیکن خیر جو ہو گیا، سو ہو گیا۔ ماضی کی غلطی کو اب ٹھیک کرنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے تعلیمی سال کے شروع میں اس طرف خاص توجہ دینی چاہیے تاکہ طالب علم کے نمبر کم از کم غلط املا کی وجہ سے کم نہ ہوں۔
مشکل مضمون کا مردانہ وار مقابلہ:
طالب علم کا جو مضمون کمزور ہے، اس پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ بھی طالب علم کے لیے آسان ہو جائے۔ کبھی بھی کمزور مضمون کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ اس کا سامنا کرنا چاہیے۔ یاد رکھیے کہ کوئی مضمون مشکل نہیں ہوتا، مسئلہ پڑھنے والے اور پڑھانے والے میں ہوتا ہے۔
مشکل مضمون کے لیے شام کی اکیڈمی میں شرکت کی جاسکتی ہے یا کلاس ٹیچرز سے اضافی ٹائم اور توجہ کی درخواست کرنی چاہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔ فائنل امتحان میں اچھے نمبروں کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے تمام مضامین میں نمبر اچھے آئیں، تب ہی آپ کا گریڈ اچھا ہوگا۔ ورنہ ایک مضمون کی وجہ سے آپ کا سال بھی ضائع ہوسکتا ہے۔
کلاس ٹیسٹ سے فرار اور نقل:
بعض طالب علم کلاس ٹیسٹ میں نقل کر کے اچھے نمبر لینے کی کوشش کرتے ہیں یا کلاس ٹیسٹ والے دن چھٹی کر لیتے ہیں۔ یہ عادت انتہائی خطرناک ہے اور اس سے طالب علم کو نہ صرف تعلیمی نقصان ہوتا ہے بلکہ اس کی شخصیت بھی خراب ہوسکتی ہے۔ کلاس ٹیسٹ میں ہوسکتا ہے کہ آپ نقل کر کے اچھے نمبر لے لیں، لیکن جناب فائنل امتحان میں کیا کریں گے؟
اس ہی طرح کلاس ٹیسٹ میں غیر حاضری کی صورت میں آپ کو اپنی اصل صورت حال کا اندازہ ہی نہیں ہوتا اور آپ کی بہت سی غلطیوں کی نشان دہی کلاس ٹیسٹ کے ذریعے سامنے آتی ہے، جن کو سالانہ امتحان سے پہلے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ فائنل امتحان میں ان چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔
This article published on dawn newspaper on 29 September 2015

Share

انٹرنیٹ آخر کب سستا ہوگا؟

internet-aakhir-kab-sasta-hoga

کہا جاتا ہے کہ ہمارے تمام مسائل کا حل صرف اور صرف جمہوریت میں موجود ہے۔ لیکن بدقسمتی سے پاکستان میں عمومی طور پر مارشل لاء حکومت میں عوام کو زندگی کی بہتر سہولتیں ملتی ہیں، اور حکومتی اداروں میں ایک نظم و ضبط نظر آتا ہے۔

بے شمار ایسی سہولیات جو عوام کو مارشل لا حکومت میں مل رہی تھیں، وہ موجودہ جمہوری حکومتوں نے آہستہ آہستہ ختم کردی ہیں۔ مثلاً نئی یونیورسٹیوں اور میڈیکل کالجز کا تسلسل سے قیام، جو سال 2002 سے سال 2008 کے فوجی دورِ حکومت میں پوری آب وتاب سے جاری رہا، لیکن اس کے بعد کی جمہوری حکومتوں میں یہ سلسلہ مسلسل کم ہوتے ہوتے آخر ختم ہوگیا۔ اس طرح کی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔ کچھ اس ہی طرح کی صورت حال پاکستان میں انٹرنیٹ کے ساتھ بھی درپیش ہے۔

جنرل پرویز مشرف کے دور کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی ڈاکٹر عطاء الرحمان کی کوششوں سے عالمی مارکیٹ میں ریٹ کی کمی کے بعد پاکستان میں بھی انٹرنیٹ ریٹس کئی گنا کم کردیے گئے، جس کا براہِ راست فائدہ عام صارف کو پہنچا اور پاکستان میں انٹرنیٹ ’’مضبوط مڈل کلاس‘‘ کی پہنچ میں آگیا۔

لیکن بعد کی جمہوری حکومتوں نے انٹرنیٹ کے ریٹس کم مزید کم کرنے کے بجائے اس کی کوالٹی کو مزید گرا دیا، جس میں غیر اعلانیہ سینسر شپ، انٹرنیٹ ایکسچینج کا قیام، یوٹیوب کی مسلسل اور سوشل میڈیا کی وقتاً فوقتاً بندش، اور انٹرنیٹ کمپنیوں کی سروس کے معیار کی جانچ پڑتال کا نہ ہونا وغیرہ شامل ہیں۔

پڑھیے: سائبر کرائم بل آزادی پر خطرناک حملہ کیوں ہے؟

عالمی مارکیٹ میں ہر گزرتے سال کے ساتھ بینڈوتھ کے دام کم ہوتے جا رہے ہیں، اور سالانہ تقریباً 25 سے 35 فیصد کمی دیکھنے میں آ رہی ہے۔ نیچے دیے گئے ٹیبل کے مطابق آپ دیکھ سکتے ہیں کہ امریکا انٹرنیٹ ریجن میں 1998 میں فی میگابٹ پر سیکنڈ (Mbps) بینڈوتھ کا ریٹ 1200 امریکی ڈالر تھا، جو کم ہوتے ہوتے دس بعد سال 2008 میں صرف بارہ ڈالر رہ گیا، جبکہ 2015 میں یہ 0.63 امریکی ڈالر ہے جو تقریباً 64 پاکستانی روپے کے برابر ہے۔

حوالہ: DrPeering.net

لیکن پاکستان میں انٹرنیٹ صارف کے لیے ریٹس کی کمی آخری دفعہ مارشل لا دورِ حکومت (سال 2006) میں کی گئی، اور اب جب کہ عالمی منڈی میں بینڈوتھ کے ریٹ میں کئی سو گنا کمی واقع ہو چکی ہے، اس کے باوجود پاکستان میں عام انٹرنیٹ صارف سے 2006 والی قیمت وصول کی جارہی ہے۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی سے وابستہ پاکستانی ماہر شہزاد قیصر کے مطابق ’’اس وقت عام صارف کو 1250 روپے ماہانہ میں ایک ایم بی پی ایس کی بجائے 8 ایم بی پی ایس کا کنکشن ملنا چاہیے، جب کہ ایک ایم بی پی ایس کی قیمتِ فروخت 150 سے 200 تک روپے ہونی چاہے۔‘‘

پاکستان میں جس قیمت پر ایک ایم بی پی ایس کا کنکشن دستیاب ہے، اسی قیمت یا اس سے کچھ زیادہ پر پڑوسی ملک ہندوستان میں صفِ اول کی کمپنیاں 4، 12، اور 16 ایم بی پی ایس تک کے کنکشن فراہم کر رہی ہیں۔ ان پیکجز میں ڈاؤن لوڈنگ اور اپ لوڈنگ کی ایک حد ہے، لیکن کیا پاکستان میں اتنی کم قیمت پر اتنی بہترین اسپیڈ میسر ہے؟ اگر چاہیں تو انٹرنیٹ پر تھوڑی سی سرچنگ، اور ہندوستانی اور پاکستانی روپے کے درمیان فرق کا حساب لگا کر اس بات کی تصدیق کی جا سکتی ہے۔

پاکستان بھر میں انٹرنیٹ فراہم کرنی والی کمپنیز کی ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ پر جاری شدہ اعداد و شمار کے مطابق ابھی تک وطنِ عزیز کے صرف ڈھائی کروڑ (25 ملین) افراد انٹرنیٹ استعمال کرسکتے ہیں، جن میں نصف سے زیادہ تعداد یعنی ڈیڑھ کروڑ (15 ملین) افراد کو موبائل فون کمپنیاں (بطور تبرک) انٹرنیٹ کا ذائقہ چکھاتی ہیں، جب کہ براڈبینڈ (DSL, Wimax, HFC, Evo) صرف سترہ لاکھ (1.7 ملین) افراد کی پہنچ میں ہے۔

حوالہ ispak.pk

یعنی کُل ڈھائی کروڑ انٹرنیٹ صارفین میں سے صرف تقریباً 6 فیصد پاکستانی انٹرنیٹ ’’آسانی سے استعمال‘‘ کرتے ہیں۔ آسانی سے استعمال کا مطلب تیز اور بلاتعطل انٹرنیٹ ہے۔ میرا ذاتی خیال اور تجربہ ہے کہ موبائل فون پر انٹرنیٹ کا استعمال ایک مشکل کام ہے، جبکہ بغیر ڈی ایس ایل (براڈبینڈ) سست کنکشن کا استعمال انتہائی ذہینی اذیت کا باعث ہے۔

مزید پڑھیے: وکیپیڈیا پر پاکستان کی “کم” موجودگی

سال 2015 میں پاکستان کی آبادی محتاط انداز کے مطابق 19 کروڑ سے زائد لوگوں پر مشتمل ہے، یعنی اس حساب سے کل آبادی کا صرف 13 فیصد حصہ ہی انٹرنیٹ استعمال کرسکتا ہے۔

دنیا کے دیگر ممالک میں کتنے لوگوں کو انٹرنیٹ تک رسائی ہے، اس کا جائزہ لیا جائے تو پاکستان 161ویں نمبر پر ہے، جب کہ پاکستان کے اردگرد اور پاکستان پر اثرانداز ہونے والے ممالک کی پوزیشن ہم سے بہت بہتر ہے۔ صرف بنگلہ دیش اور افغانستان ہم سے پیچھے ہیں، اور ماہرین کے مطابق وہ بھی آئندہ سالوں میں ہم سے آگے نکل جائیں گے۔

پاکستان کی عام آبادی انٹرنیٹ کیوں استعمال نہیں کرتی، اس کی سب سے بڑی وجہ پاکستان میں اس کی بلند قیمت ہے۔ یا جو پاکستانی سست انٹرنیٹ کنکشن استعمال کررہے ہیں، اس کی واحد وجہ ’’براڈبینڈ‘‘ کی قیمت کا عام صارف کی قوت خریدار سے باہر ہونا ہے۔

اس کے علاوہ انٹرنیٹ کمپنیوں کی ’’کوالٹی‘‘ اور کوریج ایک اور دکھ بھری کہانی ہے۔ میں اپنے آنسوؤں سے یہ صفحات تر نہیں کرنا چاہتا، اس لے اس پر پھر کبھی بات ہوگی۔

پاکستان کی ’’عوام دوست جمہوری حکومتیں‘‘ صبح وشام طلبہ وطالبات کو لیپ ٹاپس دے رہی ہیں۔ پہلے صرف پنجاب کو بدلا جا رہا تھا، اب پورے پاکستان کو بدلنے کا منصوبہ شروع ہوچکا ہے۔ حکومت یہ سمجھتی ہے، بلکہ اس بات پر سو فیصد یقین رکھتی ہے کہ ان لیپ ٹاپس سے طلبہ و طالبات کی تعلیمی کارکردگی میں اضافہ ہوگا۔

لیکن عالی جاہ! ان لیپ ٹاپ کا کیا فائدہ، جب طلبہ و طالبات کی اکثریت انٹرنیٹ بلند قیمت کی وجہ سے حاصل نہیں کرسکتی۔ اور میرے علم کے مطابق پاکستان میں عام مارکیٹ میں دستیاب سی ڈیز/ڈی وی ڈی میں تعلیمی سوفٹ ویئر یا ای بکس نہ ہونے کے برابر ہیں۔

جانیے: انٹرنیٹ کے بغیر آپ پڑھ سکیں گے ای بکس

یہ لیپ ٹاپ صرف سرکاری اور نیم سرکاری تعلیمی اداروں کے طلبہ و طالبات میں تقسیم ہو رہے ہیں۔ عموماً سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ و طالبات کا تعلق غریب گھرانوں سے ہوتا ہے۔ وہ ڈی ایس ایل، لائن رینٹ، اور ٹیکس وغیرہ ملا کر ماہانہ 1800 روپے یعنی سالانہ بیس اکیس ہزار روپے انٹرنیٹ پر خرچ نہیں کرسکتے۔

لہٰذا ایک دو ماہ کے بعد لیپ ٹاپ کو دیکھ کر ان کے ذہن میں فوراً یہ آواز آتی ہے ’’بیچ دے‘‘۔

لیکن ’’اسکیم کے لیپ ٹاپ‘‘ کی فروخت پر حکومت نے پابندی عائد کر رکھی ہے، اوپر سے ایچ ای سی کا آرڈر ہے کہ ڈگری کے لیے ’’اسکیم کے لیپ ٹاپ‘‘ کی منہ دکھائی لازمی ہے۔ اگر ’’براڈبینڈ‘‘ کی قیمت ان طلبہ و طالبات کی قوت خریدار کے مطابق ہو تو پھر ہی ان کا فائدہ ہے، ورنہ اس طرح تو یہ لیپ ٹاپ ان کے کسی کام کے نہیں۔

ویسے ہونا تو یہ چاہیے کہ حکومت انسانی وسائل کی ترقی کے لیے ’’براڈبینڈ‘‘ پر سبسڈی دے، لیکن حکومت تو الٹا اس کو مہنگے داموں فروخت کررہی ہے۔

پڑھیے: کم قیمت انٹرنیٹ ڈرون کے ذریعے

انٹرنیٹ آج کے دور میں عیاشی نہیں، بلکہ اِس سے ہر شخص کے کام کرنے کی صلاحیتوں میں بہتری آرہی ہے۔ وہ اخبار نویس ہو، ٹیچر ہو، طالب علم ہو، ڈاکٹر ہو، یا تاجر، بروقت اور درست معلومات سے اس کے لیے فیصلہ سازی آسان ہوجاتی ہے، جس سے نہ صرف اس کے کام میں نکھار آتا ہے، بلکہ اس کا شعبہ بھی ترقی کرتا ہے۔

اس لیے حکومت کو چاہیے کہ فوری طور پر انٹرنیٹ کے ریٹ کو عام آدمی کی قوت خرید تک پہنچائے، اور اس طرح کا نظام قائم کریں جس سے ہمیشہ انٹرنیٹ کمپنیاں عالمی مارکیٹ کے ریٹ کی کمی کا فائدہ عام صارف کو دینے کی پابند ہوں۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی کو بھی چاہیے کہ اگر اس کے پاس سینسرشپ سے کچھ وقت اور توانائی بچ جائے، تو ذرا انٹرنیٹ کمپنیوں کے معیار اور کوریج پر بھی ایک نظر ڈالے، تاکہ ان لوگوں کا بھی بھلا ہو جو ہر ماہ ہزاروں روپے کا بل بھی بھرتے ہیں، جبکہ اسپیڈ 2G کے جیسی ملتی ہے۔

یہ حکومت کا ہم پر احسان نہیں، بلکہ حکومت کا فرض ہے۔

This article published on dawn newspaper on 23 April 2015

Share