فارغ وقت کیسے گزاریں؟

کئی نوجوان ڈگری مکمل کرنے کے بعد دو دو تین تین سال فارغ رہتے ہیں اور جاب ملنے کا انتظار کرتے رہتے ہیں، لیکن انٹرن شپ کی طرف متوجہ نہیں ہوتے۔ ان کا یہ خیال ہوتا ہے کہ اگر ڈگری کے بعد نوکری ملتی ہے تو ہی ان کی زندگی کامیاب ہوگی۔ لہٰذا وہ نوکری کے انتظار میں فارغ وقت ضائع کرتے رہتے ہیں، اور اس کا درست استعمال نہیں کرتے۔

وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ ان کو اچھی نوکری ملنے کے امکانات محدود و معدوم ہوتے جاتے ہیں کیونکہ ڈگری مکمل کیے ہوئے کافی عرصہ ہو چکا ہوتا ہے مگر سی وی پر عملی کام کا کوئی تجربہ موجود نہیں ہوتا۔

ٹیسٹ کے ذریعے ہونے والی سرکاری بھرتیوں میں تو تجربے کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی، کیونکہ اس میں صرف قابلیت کا امتحان لیا جاتا ہے، مگر نجی شعبے میں قابلیت کے ساتھ ساتھ تجربے کو بہت اہمیت دی جاتی ہے، بلکہ نجی شعبے میں تو تجربہ اور مہارت کو اعلیٰ تعلیمی گریڈ سے بھی زیادہ اہمیت حاصل ہے۔ میں نے اس مضمون میں کوشش کی ہے کہ آپ کو انٹرن شپ کے بارے میں کچھ بنیادی معلومات فراہم کر سکوں، کہ اس کی ضرورت کیوں ہے اور اس کے فوائد کیا ہیں۔

انٹرن شپ کی ضرورت

عملی زندگی میں کسی بھی شعبے میں کام کو بہتر انداز میں کرنے کے لیے تجربہ ضروری ہوتا ہے اور تجربے کے بارے میں یہ کہاوت سو فیصد درست ہے کہ ’’تجربہ حاصل کرنے کے لیے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔‘‘

پڑھیے: کیا نوکریوں کے لیے حکومت کا انتظار کرتے رہنا چاہیے؟

جب طلبہ و طالبات اپنی تعلیم مکمل کر کے عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں تو ان کو انڈسٹری کے مطابق کام کرنا نہیں آتا۔ اس کی بہت سے وجوہات ہیں جس میں تعلیمی نصاب کا انڈسٹری سے ہمیشہ پیچھے رہنا اور بروقت اپ ڈیٹ نہ ہونا (یہ ایک عالمی مسئلہ ہے)، تعلیمی اداروں میں ناکافی سہولیات کی وجہ سے عملی کام نہ کروانا (یہ ہمارا قومی مسئلہ ہے)، جبکہ تعلیمی نصاب میں بعض دفعہ کریڈٹ آور پورے کرنے کے لیے بہت سی غیر ضروری چیزیں پڑھی جاتی ہیں جن کا عملی زندگی میں کوئی خاص استعمال نہیں ہوتا۔

کسی بھی مارکیٹ کو سمجھنے کے لیے کم از کم تین ماہ سے ایک سال کا عرصہ درکار ہوتا ہے۔ پاکستان میں بہت سے تعلیمی شعبہ جات ایسے ہیں جن میں انٹرن شپ تعلیمی کورس کا لازمی جزو ہے، جیسے میڈیکل، وکالت، چارٹرڈ اکاؤنٹینسی وغیرہ۔ اکثر ان شعبہ جات کے طلبہ و طالبات کو اپنی ڈگری کے بعد مزید ایک سال انٹرن شپ کرنا لازمی ہوتی ہے اور انٹرن شپ کی تکمیل کے بعد ہی ان کو جاب یا پریکٹس کرنے کی اجازت ہوتی ہے۔ جو طلبہ و طالبات انٹرن شپ کے بعد جاب کرتے ہیں، عموماً دیکھا گیا ہے کہ وہ جلدی ترقی کرتے ہیں۔

انٹرن شپ کے فوائد

انٹرن شپ کے بے شمار فوائد ہیں لیکن ایک مختصر مضمون میں تمام ایک کا ذکر ممکن نہیں، اس لیے صرف چند ایک پر مختصر نوٹ حاضر خدمت ہے۔

حقیقت سے آگاہی

ہمارے ہاں جب نوجوان عملی زندگی میں قدم رکھتے ہیں۔ تو انہوں نے 14 سے 18 سال تک کی تعلیم مکمل کی ہوتی ہے اور زیادہ تر کی عمر اس وقت 20 سے 25 سال کے درمیان ہوتی ہے۔

عملی زندگی کے آغاز سے پہلے وہ ایک خیالی دنیا میں رہتے ہیں۔ ان کے ذہن میں دنیا کے جو خاکے ہوتے ہیں، وہ عموماً حقیقت سے کافی دور ہوتے ہیں۔ مثلاً ان کے ذہن میں خیال ہوتا ہے کہ میں نے بہت نامی گرامی تعلیمی ادارے سے یہ بہت بڑی ڈگری/کورس مکمل کیا ہے، میرا تعلیمی ریکارڈ بھی بہت شاندار ہے، لہٰذا اب کمپنیز نے میرا نہیں بلکہ میں نے کمپنی کا انتخاب کرنا ہے۔

مزید پڑھیے: 2015 کی بدترین اور بہترین ملازمتیں

لیکن جب انٹرن شپ شروع کرتے ہیں تو ان کو حقیقت کا انداز ہوتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی انتظامیہ نے داخلے کے وقت جو خواب ان کو دکھائے تھے، وہ سب کے سب سچ نہیں ہوسکتے۔ مارکیٹ میں بے روزگاری کی شرح بہت بلند ہے، اچھی نوکری کا حصول ہرایک لیے ممکن نہیں، اچھی نوکری کے لیے صرف اچھی تعلیم اور اچھے گریڈ ہی کافی نہیں، مارکیٹ میں جن مہارتوں کا زیادہ معاوضہ دیا جاتا ہے اس کی تعلیم و تربیت تو نصاب میں شامل ہی نہیں تھی۔

مارکیٹ سے آگاہی

ہر فیلڈ سے متعلق کچھ ایسی معلومات ہوتی ہیں جو نہ تو میڈیا میں آتی ہیں، نہ ہی یہ تعلیمی نصاب میں شامل ہوتی ہے، بلکہ یہ معلومات آپ کو صرف اور صرف اس فیلڈ میں جا کر ہی حاصل ہوسکتی ہیں۔ کون سی کمپنی اپنے ملازمین کا زیادہ خیال رکھتی ہے، کون سی کمپنی تنخواہ اور دیگر مراعات وقت پر ادا نہیں کرتی، وغیرہ وغیرہ۔ انٹرن شپ کی بدولت آپ کو ان سب باتوں کا علم پہلے سے ہو جاتا ہے جس سے آپ کا مستقبل میں کافی قیمتی ٹائم بچ جاتا ہے اور آپ کی فیصلہ سازی کی صلاحیت میں اضافہ ہوتا ہے۔

بہتر مستقبل کی پلاننگ

انٹرن شپ کے دوران آپ کو یہ بھی معلوم ہوجاتا ہے کہ کس فیلڈ میں نوکریوں کی گنجائش زیادہ ہے، یا مارکیٹ میں کس قسم کی صلاحیتوں کے لوگوں کو زیادہ معاوضہ اور مراعات دی جاتی ہے۔ نیز یہ بھی کہ اس وقت آپ کی ذات کے اندر کن صلاحیتوں کی کمی ہے، کون سا کورس یا مہارت حاصل کرنا اس فیلڈ میں کامیابی کے لیے لازمی ہے، یا آپ کے پاس جو ڈگری یا مہارت موجود ہے اس کا مستقبل کتنا روشن ہے۔ یہ سب باتیں آپ کو مارکیٹ میں انٹرن شپ کرکے ہی معلوم ہوسکتی ہیں۔ تعلیمی ادارے میں یا گھر میں دوستوں کے ساتھ بیٹھ کر آپ کو کبھی بھی ان باتوں کا درست علم حاصل نہیں ہوسکتا۔

جاب کا حصول آسان ہو جاتا ہے

نجی شعبے میں عموماً ملازمین کی آمد و رفت سارا سال جاری رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ سینیئر افراد بہتر تنخواہ، سہولیات، اور اونچی پوزیشن کی خاطر ایک کمپنی چھوڑ کر دوسری کمپنی جوائن کر لیتے ہیں۔ ایسے مواقع پر مینجمنٹ عموماً نئے سینیئر کے بجائے کمپنی کے اندر کسی جونیئر کو سینیئر کی جگہ ترقی دے دیتی ہے، اور جونیئر کی سیٹ پر انٹرن شپ والے کو نوکری دے دی جاتی ہے۔

اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہوتی ہے کہ نئے شخص کو کمپنی کے ماحول اور طریقہ کار سمجھنے اور اس کے مطابق کام کرنے میں کچھ وقت لگتا ہے جبکہ انٹرن شپ کرنے والا کمپنی کے کام کرنے کے لیے طریقہ کار سے آگاہ ہوچکا ہوتا ہے۔

اس لیے انٹرن شپ کی صورت میں آپ کو اچھی کمپنی میں زیادہ آسانی سے مستقل جاب مل سکتی ہے، ورنہ دوسری صورت میں ایک جاب پر کئی امیدواروں کے درمیان سخت مقابلہ ہوتا ہے۔

جانیے: نوکری کے حصول کے لیے چھ بہترین تجاویز

کیا انٹرن شپ کے دوران تنخواہ ملتی ہے؟

انٹرن شپ کے دوران تنخواہ کے بجائے ماہانہ وظیفہ دیا جاتا ہے، لیکن پاکستان میں بہت سی جگہوں پر بہت ہی کم وظیفہ ملتا ہے۔ اتنا کم کہ اس سے صرف دوپہر کا کھانا اور آفس آنے جانے کا کرایہ ہی بمشکل پورا ہوتا ہے، جبکہ زیادہ تر کمپنیز میں تو صاف صاف کہہ دیا جاتا ہے

’’یہاں انٹرن شپ کے دوران تنخواہ/وظیفے کا کوئی چکر نہیں‘‘

اس سلسلے میں مالکان کا مؤقف ہوتا ہے کہ یہ ناتجربہ کار افراد ہیں، انٹرن شپ کے دوران یہ کوئی ایسی خدمات یا مفید کام سر انجام نہیں دیتے جو فروخت کے قابل ہو، لہٰذا انہیں معاوضہ نہیں دیا جا سکتا۔ ایک حد تک یہ موقف درست ہے کیونکہ مارکیٹ میں صرف ان مہارتوں کا معاوضہ دیا جاتا ہے جن کو کمپنی آگے فروخت کرکے منافع کما سکے۔

بہرحال انٹرن شپ کے دوران تنخواہ کے مسئلے پر زیادہ پریشان نہیں ہونا چاہیے۔ اگر آپ کا وظیفہ کم یا ناپید ہے، لیکن آپ کو کام سیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں تو فکر کی کوئی بات نہیں۔ اچھی کمپنیز اور ترقی پسند مالکان کبھی بھی کسی انسان کی حق تلافی نہیں کرتے۔ جیسے ہی کمپنی یا مالکان آپ کی کارکردگی سے مطمئن ہوں گے تو لازماً آپ کو آپ کے کام کے مطابق تنخواہ دینی شروع کر دیں گے۔ اس کے برعکس اگر آپ کو کسی وجہ سے معقول معاوضہ نہیں ملتا، تو بھی آپ کو جو تجربہ حاصل ہو رہا ہے، وہ بہت قیمتی ہوتا ہے۔ اس تجربے اور روابط کی بدولت آپ آئندہ زندگی میں بہت سا منافع کما سکتے ہیں۔

انٹرن شپ کا حصول آسان ہے؟

پاکستان کی جاب مارکیٹ میں بے روزگاری کی شرح بہت بلند ہے۔ ہر سال یونیورسٹیاں ہزاروں کی تعداد میں طلبہ و طالبات کو ڈگری دے رہی ہے، لیکن ان میں سے صرف کچھ ہی کو ان کی تعلیم کے مطابق جاب ملتی ہے۔ نوکری اور انٹرن شپ حاصل کرنا آسان نہیں، خاص کر اچھی کمپنیز کے اندر تو یہ کافی مشکل مرحلہ ہوتا ہے۔

پڑھیے: نوکری چھوڑتے وقت ان 11 غلطیوں سے بچیں

ہر کمپنی انتظامیہ کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کو تجربہ کار آدمی مل جائے تاکہ اس کی تربیت پر زیادہ وقت اور توانائی نہ لگے۔ تجربہ کار شخص کے لیے اگر کچھ زیادہ تنخواہ اور مراعات بھی ادا کرنی پڑیں، تو انتظامیہ اس کے لیے بھی تیار ہوتی ہے۔ نجی شعبے میں عموماً نوجوانوں کو بڑی پوسٹ پر براہ راست بھرتی نہیں کیا جاتا، جبکہ ہمارے ہاں چھوٹی اور درمیانے درجے کی اکثر پاکستانی کمپنیز انٹرن شپ پروگرام جاری ہی نہیں کرتیں جس کی وجہ سے نئے شخص کو کام سیکھنے کا موقع نہیں مل پاتا۔

انٹرن شپ کے دوران مشکلات

انٹرن شپ کے دوران کافی ساری مشکلات ہوتی ہیں۔ کارپوریٹ ماحول تعلیمی اداروں اور گھروں کے ماحول سے کافی مختلف ہوتے ہے۔ یہاں پر اچھے لوگ بھی ہوتے ہیں اور برے لوگ بھی۔ پروفیشنل حسد، ٹانگ کھینچنا، شکایت لگانا، دوسرے کی کردار کشی، غلط مشورے دینا، یہ سب بیماریاں ہمارے دفتروں اور کام کی جگہوں پر عام پائی جاتی ہے۔

اکثر دیکھا گیا ہے کہ جوں ہی کوئی نیا شخص دفتر آتا ہے تو سینیئر کو اپنی سیٹ کا خطرہ محسوس ہونا شروع ہوجاتا ہے۔ سینیئر کا رویہ عموماً شفیق نہیں ہوتا اور کئی جگہ سینیئر کام سیکھنے کے بجائے جونیئر کو کام سے متنفر کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔

’’تم کہاں کام پر آ گئے، ہماری تو ساری زندگی تباہ ہوگئی اس کمپنی میں‘‘

’’آپ کوئی اور کام کر لیں، یا سرکاری جاب تلاش کریں، یہ کمپنی اچھی نہیں‘‘

“جتنا جلدی ہو سکتا ہے یہاں سے نکل جاؤ، یہاں کوئی مستقبل نہیں ہے۔”

کئی کمپنیز میں انٹرن شپ کرنے والے افراد سے آفس بوائے کا کام بھی لیا جاتا ہے۔ میں نےخود کئی دفاتر میں گریجوئیٹس کو چائے تیار کرتے، پانی کی بڑی بوتل لاتے، دفتر کی صفائی کرتے دیکھا ہے۔

حیران کن: ہر نوکری چھوڑ دینے والے شخص کی کہانی

بعض کمپنیز میں سینیئر افراد بطور سپر وائزر انٹرن شپ کرنے والے افراد کو ذاتی ملازم تصور کرتے ہیں۔ ان سے گھر کے ذاتی کام کروائے جاتے ہیں، جیسے بچوں کو اسکول سے واپس لانا، گاڑی مرمت کے لیے ورکشاپ لے جانا، بچوں کو بغیر فیس کے ٹیوشن دلوانا، اپنے گھر کے کمپیوٹر کو ان سے مفت ٹھیک کروانا، تنخواہ کے موقع پر ادھار رقم لے لینا جس کی عموماً واپسی نہیں ہوتی، شامل ہیں، جبکہ خواتین کو جلدی ترقی کے لیے غلط راستوں کا مشورہ دینے والے اور والیاں بھی بطور سینیئر موجود ہوسکتی ہیں۔

یہ سب مشکلات جو اوپر تحریر کی گئی ہیں، ضروری نہیں کہ ہر انٹرن شپ کرنے والے کو پیش آئیں۔ یہاں ان سب کا ذکر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ آپ پہلے سے ذہنی طور پر تیار ہوں اور جب آپ کو مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے تو آپ بروقت بہتر فیصلہ کرسکیں۔ ایسی کمپنیز میں انٹرن شپ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں لہٰذا ایسا کوئی بھی رویہ برتے جانے پر فوراً وہاں سے کنارہ کشی کر لیں، جس کا فائدہ آپ کی عزتِ نفس کا تحفظ ہے، اور نقصان کچھ بھی نہیں۔

آخری بات

اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد اگر آپ کو کسی وجہ سے جاب نہیں مل رہی تو آپ کو فارغ گھر میں نہیں بیٹھنا چاہیے۔ انٹرن شپ یا کسی بھی شکل میں اپنی فیلڈ کے ساتھ لازماً منسلک رہنا چاہیے تاکہ آپ کی کام کرنے کی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا رہے، اور جب بھی کبھی کسی اچھی ملازمت کا اشتہار دیا جائے، تو آپ کے پاس اس کے لیے مطلوب مہارت اور تجربہ پہلے سے موجود ہو۔

This article published on dawn newspaper on 02 April 2016

Facebook Comments
Share

اخلاقی ہیکنگ کیوں سیکھنی چاہیے؟

کیا آپ کے اپنے بچے میں یا خاندان کے بچوں میں کوئی ہیکر موجود ہے جس کو کمپیوٹر سسٹم ہیک کرنے کا شوق ہو؟ یا آپ نے کبھی کسی نوجوان کے سامنے ہیکنگ کے موضوع پر گفتگو کی ہو اور آپ کو اس کی آنکھوں میں ایک خاص چمک نظر آئی ہو، تو یہ ایک خطرے کی گھنٹی ہے۔ ناسمجھی میں یہ نوجوان اپنی فیملی کو مشکلات سے دوچار کرسکتا ہے۔

ماہرین نفسیات کے مطابق خود نمائی ایک انسانی جبلت ہے۔ ہر شخص کی یہ بنیادی خواہش ہوتی ہے کہ اس کی تعریف کی جائے۔ ایسے نوجوان جن کا ہیکنگ کی طرف زیادہ جھکاؤ ہوتا ہے، وہ اصل میں خود کو ہیرو ثابت کرنا چاہتے ہیں، اور ہیکنگ سے ان کی اس نفسیاتی جبلت کی تسکین ہوتی ہے۔

ایسے نوجوانوں کا کیا علاج ہے؟

ایسے نوجوان جو ہیکنگ ‘کو بطور منفی سرگرمی استعمال کرتے ہیں، ان کی عمر 15 سے 22 سال کے درمیان ہوتی ہے اور عموماً آٹھویں سے بارہویں کلاس میں زیر تعلیم ہوتے ہیں۔ عموماً ہم ایسے بچوں سے سختی سے پیش آتے ہیں جس سے بعض اوقات مسئلہ حل ہوجاتا ہے۔

لیکن اس سختی کے علاوہ اور بھی بہتر حل موجود ہیں۔ پہلا حل تو یہ کہ ایسے بچوں کی توجہ کسی اور مثبت سرگرمی کی طرف کر دی جائے، اور مثبت سرگرمی اختیار کرنے میں ان کی مدد اور حوصلہ افزائی کی جائے۔ ایسے بچوں کے لیے سوفٹ وئیر پروگرامنگ کی فیلڈ زیادہ مناسب ہے، جو ان کے ذہنی رجحان کے زیادہ قریب بھی ہے۔

پڑھیے: سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ میں کیسے قدم رکھیں؟

لیکن اگر وہ نوجوان ہیکنگ میں کافی مہارت حاصل کرچکا ہے، تو اس کا ایک حل یہ بھی ہے کہ اس کو اخلاقی ہیکنگ کی تربیت دی جائے۔ ایسے نوجوان جو اخلاقی ہیکنگ کی فیلڈ کو اختیار کرتے ہیں۔ ان کو ہیکر کے بجائے آئی ٹی سکیورٹی اسپیشلسٹ کہتے ہیں۔

اخلاقی ہیکنگ کے شعبے کا منفی پہلو یہ ہے کہ یہ کافی مشکل اور پیچیدہ کام ہے، لیکن اس کا مثبت پہلو یہ ہے کہ اس ہنر کی ڈیمانڈ تحقیقی شعبے میں بھی ہے اور تکنیکی میں بھی۔ بڑی آئی ٹی کمپنیوں، مالیاتی اداروں، بینکس یا حکومتی حساس اداروں کو ایسے افراد کی ہمیشہ ضرورت رہتی ہے، تاکہ ان کے حساس ڈیٹا کو لیک ہونے سے محفوظ رکھا جا سکے، اور یہ کام وہی شخص زیادہ مہارت سے کر سکتا ہے، جس کو معلوم ہو کہ کسی سسٹم میں کیا کیا خامیاں ہوتی ہیں۔ اس کی باقاعدہ جابز کم از کم پاکستان میں تو محدود ہیں لیکن اس کی مہارت رکھنے افراد گھر بیٹھ کر لاکھوں ڈالرز کما سکتے ہیں۔

اب ہم اس شعبے سے کچھ واقفیت حاصل کرتے ہیں۔

ہیکنگ ہے کیا؟

اس کو سادہ الفاظ میں ڈیجیٹل مواد کی چوری بھی کہہ سکتے ہیں۔ اس طرح کے غیر قانونی کام کرنے والا شخص ہیکر کہلاتا ہے۔ یہ شخص دراصل کسی دوسرے شخص/ادارے کے کمپیوٹر میں اس کی اجازت کے بغیر داخل ہوجاتا ہے، اس کے کمپیوٹر کو اپنے کنٹرول میں کرسکتا ہے، اس کا ڈیٹا چوری کرسکتا ہے، اور اس کے کمپیوٹر یا سرور پر کوئی بھی پروگرام انسٹال کرسکتا ہے۔

ہیکنگ کرنے والا شخص اصل میں کمپیوٹر تک رسائی کے طریقے میں کافی مہارت رکھتا ہے، یعنی کافی قابل شخص ہوتا ہے، لیکن وہ اپنی بہترین صلاحیتوں کو منفی مقصد کے لیے استعمال کرتا ہے اور آخر کار ایک دن جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ پاکستان اور دنیا بھر میں ہیکنگ کو ایک جرم تصور کیا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے شخص یا گروپ کو قید اور جرمانے کی سخت سزائیں بھی ملتی ہیں۔

پڑھیے: ہیکنگ اور بلیک میلنگ کے متاثرین کے لیے 7 رہنما نکات

جس طرح چور چاہے کتنا ہی ہوشیار کیوں نہ ہو، آخر اپنے نشانات چھوڑ جاتا ہے، اسی طرح ہیکر بھی کتنا ہی ماہر کیوں نہ ہو، ایک نہ ایک دن قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ہاتھ ضرور آ جاتا ہے کیونکہ ان اداروں کے پاس ایسے جرائم کے توڑ کے لیے اپنے اخلاقی ہیکرز موجود ہوتے ہیں۔

اخلاقی ہیکنگ کیا ہے؟

دنیا میں آئی ٹی کی انڈسٹری بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور عالمی سطح پر آئی ٹی انڈسٹری میں تجارت کا حجم کئی کھرب ڈالر سالانہ تک ہوچکا ہے۔ اتنی بڑی تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے دنیا بھر کے آئی ٹی ماہرین کو ایسے افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے جو ان کے سکیورٹی سسٹم کو ٹیسٹ (چیک) کرنے کے صلاحیت رکھتے ہوں، تاکہ وہ ہیکر گروہوں کے حملے سے محفوظ رہ سکے۔ اس کام کو کرنے کے لیے بھی ایک ماہر ہیکر کی ضرورت ہوتی ہے، لیکن چونکہ یہ ایک نیک اور مثبت مقاصد کے لیے ہوتی ہے، اس لیے اس کو اخلاقی یا قانونی ہیکنگ کہتے ہیں۔

اس کی جاب مارکیٹ:

اس وقت دنیا بھر کے نہ صرف تجارتی اور مالیاتی اداروں کو اپنی سکیورٹی کے ایشوز کا سامنا ہے، بلکہ حکومتی حساس اداروں کے لیے بھی اپنی معلومات کو زیادہ محفوظ رکھنا ایک اہم مسئلہ ہے، اس لیے ان سب کو ایسے افراد کی ضرورت ہے۔

یہ ادارے ایسے ماہر افراد کو باقاعدہ معاوضہ دے کر اس کام پر مامور کرتے ہیں۔ ان اخلاقی ہیکرز کا کام آئی ٹی سکیورٹی اسپیشلسٹ کا ہے اور یہ اپنی متعلقہ آرگنائزیشن کے آئی ٹی سسٹم میں سکیورٹی ہولز کا سراغ لگاتے اور انہیں دور کرنے کے لیے اپنی سفارشات دیتے ہیں۔

آئی ٹی کی بین الاقومی ریسرچ فرم گارٹنر کے مطابق سال 2011 سے 2015 تک تقریباً 49 ارب ڈالر سکیورٹی کی صورت حال کو بہتر کرنے کے لیے خرچ کیے جا چکے ہیں۔ مارکیٹ جائزوں کے مطابق عموماً ایک اخلاقی ہیکر سالانہ 50 ہزار سے ایک لاکھ ڈالر کما سکتا ہے لیکن اس کا انحصار آپ کی تعلیم، کام کی کوالٹی اورجاب دینے والی کمپنی پر ہے۔

اس کی شروعات کیسے کریں؟

اگر آپ اس فیلڈ میں قدم رکھنا چاہتے ہیں تو آپ کے پاس ’’اے پلس‘‘ سرٹیفکیشن (A+ Certification) ہونی چاہیے۔ اس میں مہارت کے بعد آپ کو ’’نیٹ ورک پلس‘‘ (+Network) یا “سی سی این اے” (CCNA) میں سے کسی ایک پر عبور ہونا چاہیے۔ نیز آپ کے پاس ’’سیکورٹی پلس‘‘ (+Security) کا سرٹیفکیٹ ہونا چاہیے اور آپ کے پاس سسٹم میں داخل ہونے میں مہارت ہونی چاہے۔

سرٹیفکیشن کورس کی ضرورت

جب آپ یہ تصور کریں کہ اب میری مہارت کافی ہے اور مجھے کمپنیز کو اپنی خدمات پیش کرنی چاہیئں تو آپ کو ضرورت ہوتی ہے ایک آن لائن کورس میں پاس ہونے کی، جو کہ ’’انٹرنیشنل کونسل آف ای کامرس کنسلٹنٹس‘‘ کی طرف سے ہوتا ہے۔ اس کورس کی تکمیل کے بعد آپ اپنی مارکیٹنگ کرسکتے ہیں۔ یہ کورس اس لیے ضروری ہے تاکہ کمپنیز آپ کو مطمئن ہو کر کام دے سکیں۔

This article published on dawn newspaper on 13 February 2016

Facebook Comments
Share

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ میں کیسے قدم رکھیں؟

اگر آپ نوجوان ہیں، آپ کا رجحان’سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ‘ کی طرف ہے اور آپ اس شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں، تو یہ
مضمون آپ کے لیے ضرور مفید ثابت ہوگا۔

لیکن اگر آپ کا تعلق کسی اور شعبےسے ہے، آپ نہ اس شعبے میں قدم رکھنا چاہتے ہیں اور نہ ہی آپ کا رجحان اس شعبے کی
طرف ہے، تو بھی یہ مضمون آپ کے لیے فائدہ مند ہوسکتا ہے۔

وہ یوں کہ ایک تو یہ معلومات آپ کی یا آپ کے رشتے داروں کی اولاد کے کام آسکتی ہیں۔ اس کے علاوہ آپ کے اردگرد لازماً
کچھ ایسے ضرورت مند افراد ہوں گے جن کی اگر رہنمائی کی جائے اور کچھ مالی تعاون کر دیا جائے تو وہ بہتر کمانے کے قابل ہوسکتے ہیں، جس سے ان سے منسلک پوری فیملی کے معاشی حالات میں بہتری آسکتی ہے۔

ویسے بھی کسی دانا کا قول ہے کہ ’’کسی شخص کو مچھلی پکڑ کر دینے سے بہتر ہے کہ اس کو مچھلی پکڑنا سکھا دیا جائے‘‘۔

سوفٹ ویئر ہے کیا؟

کمپیوٹر یا موبائل فون کے اندر کسی بھی مخصوص کام کو سر انجام دینے کے لیے ہدایات کے مجموعے کو سوفٹ ویئر کہتے ہیں۔
چونکہ کمپیوٹر کی بنیادی زبان مشینی ہے، اس لیے انسان اور مشین کے درمیان رابطے کے لیے ایک دوسری ’لینگویج‘ استعمال ہوتی ہے، جس کو پروگرامنگ لینگویج کہتے ہیں۔ اس وقت سوفٹ ویئرز کی تیاری کے لیے کئی قسم کی پروگرامنگ اور اسکرپٹنگ لینگویج مارکیٹ میں دستیاب ہیں، جن میں زیادہ مشہور سی (C)، جاوا (Java)، پائتھن (Python)، روبی
(Ruby)، ایچ ٹی ایم ایل (HTML)، ایکس ایم ایل (XML)، پی ایچ پی (PHP)، ڈاٹ نیٹ (Net.)، ڈیلفائی (Delphi) وغیرہ شامل ہیں۔

سوفٹ ویئر پروگرامنگ کا عام استعمال

آج کے جدید دور میں شاید ہی کوئی شخص ہو جو کسی سوفٹ ویئر پروگرام کو استعمال نہ کررہا ہو۔ گھڑی کے الارم، کیلکولیٹر،
موبائل فون، مائیکروویو اوون، انٹرنیٹ اور ویب کا وسیع جہان، ان سب کے پیچھے مختلف سوفٹ ویئرز ہی ہیں جن سے ہماری زندگی بہت آسان ہوچکی ہے۔ سوفٹ ویئرز کی وجہ سے آج مواصلات سے لے کر تصویر کشی اور ویڈیو پروڈکشن سے لے کر گرافک ڈیزائننگ اور اینیمیشن تک زندگی کے ہر شعبے میں انقلاب آچکا ہے۔

یہ سوفٹ ویئرز کا ہی کمال ہے کہ آج ہم وہ سارے کام باآسانی کمپیوٹر پر بیٹھے کر لیتے ہیں جن کے لیے ماضی میں بے پناہ
وقت اور توانائی لگتی تھی۔ مثلاً تصاویر ڈیولپ کرنے کے لیے ایڈوب لائٹ روم کا استعمال، جبکہ پہلے یہ کام تصاویر کے نیگیٹیوز کو کیمیکلز میں بھگو کر کیا جاتا تھا اور تصاویر کئی دن بعد ملا کرتی تھیں۔

اس کی تعلیم کیسے حاصل کی جائے؟

پاکستان میں سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی مختلف سطح پر تعلیم کے مواقع موجود ہیں۔ ملک بھر کے تمام ہی سرکاری اور نجی کالجز
میں انٹرمیڈیٹ کی سطح پر اس کے مختلف پروگرامز مثلاً انٹرمیڈیٹ بمع کمپیوٹر سائنس، آئی سی ایس اور تین سالہ ڈپلومہ کورسز ہوتے ہیں، جبکہ یونیورسٹی سطح پر بیچلرز، ماسٹرز، اور پی ایچ ڈی تک کے بہت سے تعلیمی پروگرامز دستیاب ہیں جن کی تکمیل کے بعد خود روزگاری (self employment) اور نوکری کے زیادہ بہتر مواقع میسر آتے ہیں۔

چونکہ ان پروگرامز کی تکمیل کے بعد روزگار کے زیادہ مواقع ہیں، اس لیے سرکاری کالجز اور یونیورسٹیوں میں اس کی سیٹس کے لیے مقابلہ زیادہ اور میرٹ کا معیار بہت سخت ہوتا ہے جبکہ نجی تعلیمی اداروں میں اس کی تعلیم مہنگی ہے۔

اس کے علاوہ بہت سے کورسز بھی موجود ہیں جن کی مدت تکمیل تین سے چھ ماہ ہے۔ شارٹ کورسز کی تعلیم ویب سائٹ ڈیزائننگ کی طرح رسمی اور غیر رسمی طریقوں سے حاصل کی جاسکتی ہے، اور یہ بھی اتنے ہی فائدہ مند ہوتے ہیں جتنی کہ ڈگری، بلکہ کچھ معاملات میں یہ ڈگری سے بھی زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں، کیونکہ ڈگری کے لیے آپ کو چار سال میں 40 سے زیادہ مضامین پڑھائے جاتے ہیں جبکہ کورسز میں ایک ہی چیز پر زیادہ فوکس کیا جاتا ہے، جس سے کم وقت میں ہنر
میں زیادہ نکھار آتا ہے۔

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ بطور بزنس

وہ تمام خواتین و حضرات جو سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی تعلیم مکمل کر چکے ہیں اور وہ کل وقتی یا جز وقتی کوئی کاروبار کرنا
چاہتے ہیں، وہ اس کو بطور مکمل بزنس کے چلا سکتے ہیں۔ چونکہ یہ سروسز یعنی خدمات کا شعبہ ہے اس لیے اس کو بطور کاروبار شروع کرنے میں بہت زیادہ سرمائے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ بس آپ کے پاس اتنا سرمایہ ضرور ہونا چاہیے کہ آپ ایک سال تک ایک چھوٹےآفس کا کرایہ+بلز+ابتدائی اخرجات+ایک معاون شخص کی تنخواہ ادا کر سکیں۔

کم وقت یا سرمائے کی صورت میں آپ بطور فری لانسر بھی اپنا کام کرسکتے ہیں۔ تقریباً ایک سال کا تجربہ رکھنے والے
افراد مقامی مارکیٹ میں اپنی خدمات سے سالانہ 5 سے 6 لاکھ روپے آسانی سے کما رہے ہیں، یعنی تقریباً 40 سے 50 ہزار ماہانہ۔ خیال رہے کہ کاروبار میں ہر ماہ ایک جیسی آمدنی نہیں ہوتی، کسی مہینے کم اور کسی مہینے زیادہ ہوتی، اس لیے کاروبار میں چھ ماہ یا ایک سال کی آمدنی کو ہی شمار کرنا چاہیے۔ خیال اس بات کا رکھنا چاہیے کہ کیونکہ آج کل آئی ٹی کے شعبے میں مقابلہ اپنے عروج پر ہے، اس لیے آپ کا پروگرامنگ کا ہنر اور مسائل کے حل کی قابلیت بھی اپنے عروج پر ہونی چاہیے۔

سوفٹ ویئر کی فیلڈ میں آمدنی کیوں زیادہ ہے؟

لوگ عموماً یہ سوال کرتے ہیں کہ سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے شعبے میں آمدنی دوسرے شعبوں کی نسبت زیادہ کیوں ہے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کے ابتدائی اخراجات کافی کم ہیں، اور دوسری یہ کہ ایک ہی کام آپ بہت سے گاہکوں کو فروخت
کرسکتے ہیں۔ یعنی اگر آپ نے ایک چھوٹی دکان/آفس کے لیے اکاؤنٹنگ سوفٹ ویئر تیار کیا، تو اس کو آپ کئی دیگر جگہوں پر بھی فروخت کرسکتے ہیں۔ چونکہ اس کی دوسری کاپی کی کاسٹ نہ ہونے کے برابر ہے اس لیے اس میں منافع زیادہ ہے۔

جبکہ دیگر بزنس میں ہر گاہگ کے لیے اشیاء/خدمات کی تیاری پر ایک خاص فکسڈ کاسٹ ہوتی ہے، جس کو ایک خاص حد سے کم نہیں کیا جاسکتا۔ مثلاً موبائل فون آپ ایک فروخت کریں یا سو، ہر سیٹ کی تیاری پر آپ کی کچھ نہ کچھ فکسڈ کاسٹ ضرور ہے۔ سوفٹ ویئر کی طرح یہ نہیں کہ پہلے موبائل کی تیاری کے بعد فون کی اگلی کاپی فری میں تیار ہوجائے۔

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے بڑے شعبہ جات

ملکی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کے تین بڑے پلیٹ فارم ہیں جن میں کام بہت زیادہ ہے۔ ان میں ڈیسک ٹاپ سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ، ویب سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ اور موبائل فون ایپلی کیشنز ڈیولپمنٹ شامل ہیں۔

ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز ڈیولپمنٹ:

اس سے مراد ایسے سوفٹ ویئرز کی تیاری ہے جو ڈیسک ٹاپ کمپیوٹرز میں استعمال ہوسکیں، مثلاً کسی کمپنی کا اکاؤنٹ، پے رول
سسٹم، اسکول/کالج مینجمنٹ سسٹم، لائبریری مینجمنٹ سسٹم، وغیرہ۔ آپ اپنے کمپیوٹر میں جو بھی سوفٹ ویئر استعمال کرتے ہیں، مثلاً مائیکروسوفٹ آفس وغیرہ، یہ سب ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کہلاتے ہیں۔

ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز عموماً کسی ایک مخصوص آپریٹنگ سسٹمز (ونڈوز، میکن توش، لینکس وغیرہ) کے لیے تیار کی جاتی ہیں،
لیکن ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کو کچھ اس طرح بھی تیار کیا جاسکتا ہے کہ ایک سے زیادہ آپریٹنگ سسٹمز پر کام کرسکیں۔

ڈیسک ٹاپ ڈیولپمنٹ کے لیے بہت سی پروگرامنگ لینگویج استعمال ہوتی ہیں جن میں مائیکروسوفٹ کی ڈاٹ نیٹ، ویزول اسٹوڈیو (Visual Studio)، جاوا, اور سی (C, #C) لینگویجز کی مارکیٹ میں زیادہ مانگ ہے۔

ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز میں مہارت رکھنے والے افراد ایسے سوفٹ ویئر پروگرام بھی تیار کر سکتے ہیں جو مخصوص مشینوں پر
کام کرتے ہوں، مثلاً ٹیلی فون ایکسچینج، فوٹو کاپی مشین/پرنٹر کے اندر موجود سوفٹ ویئر، جو صرف ایک ہی مخصوص کام کرتے ہیں۔ ایسے سوفٹ ویئرز ’ایمبیڈیڈ سوفٹ ویئر‘ (embedded software) کہلاتے ہیں۔

ویب ایپلی کیشنز ڈیولپمنٹ :

ویب ایپلی کیشنز اس قسم کے سوفٹ ویئرز کو کہا جاتا ہے جو براؤزرز پر چلتے ہیں۔ اس طرح کے سوفٹ ویئر کی خوبی یہ ہے
کہ یہ تقریباً ہر طرح کی مشین پر استعمال کے قابل ہوتے ہیں، یعنی ڈیسک ٹاپ، ٹیبلٹ، اسمارٹ فون وغیرہ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ براؤزر بیس ہوتے ہیں۔ جس بھی مشین میں براؤزر انسٹال ہو، یہ ایپلی کیشنز کام کرتی ہے۔

ان کو ڈیسک ٹاپ ایپلی کیشنز کے مقابلے میں زیادہ بہتر تصور کیا جاتا ہے، کیونکہ ویب ایپلی کیشنز ہر طرح کے
آپریٹنگ سسٹمز (ونڈوز، میکن توش، لینکس) اور مشین (کمپیوٹر/فون/ٹیبلیٹس) وغیرہ پر کام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔

اس کی مارکیٹ بہت وسیع ہے۔ تقریباً تمام ہی بڑی ویب سائٹس، خاص طور پر متحرک (dynamic) ویب سائٹس کو اپنی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے ایسے افراد کی ضرورت ہوتی ہے جو ان کے لیے ویب ایپلی کیشنز تیار کرسکیں یا پہلے سے موجود کسی ویب ایپلی کیشن کو ان کی ضروریات کے مطابق تبدیل کر سکیں۔

ویب ایپلی کیشنز کی ڈیولپمنٹ کے لیے زیادہ تر کام ’ایچ ٹی ایم ایل‘، ‘ایکس ایم ایل‘، ’پی ایچ پی‘، ’سی ایس ایس‘، ’جاوا
سکرپٹ‘ (JavaScript)، اور ’ایس کیو ایل‘ (SQL) وغیرہ میں ہوتا ہے۔

موبائل ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ :

موبائل فون کے اندر جو مختلف طرح کے فنکشن ہم استعمال کرتے ہیں اور خاص طور پر سمارٹ فون میں ہم اپنی ضرورت کی جو ’ایپس‘ استعمال کرتے ہیں، ان کی تیاری ’موبائل فون ایپلی کیشن ڈیولپمنٹ‘ کہلاتی ہے۔ اس مارکیٹ میں گوگل کے ’اینڈروئیڈ‘ آپریٹنگ سسٹم کا راج ہے۔ اس میں ایپ ڈویلپمنٹ کے لیے آپ کو ’جاوا‘ یا ’سی پلس پلس‘ میں مہارت ہونی چاہیے۔ اس فیلڈ میں دوسرے اہم کھلاڑی ’ایپل‘ کا آئی او ایس آپریٹنگ سسٹم جو آئی فون کے بعد اب آئی پیڈ اور ایپل ٹی وی میں بھی استعمال ہو رہا ہے، اس میں کام کرنے لیے آپ کو ’آبجکٹیو۔ سی‘ (Objective-C) میں مہارت کی ضرورت ہے۔

دیر مت کریں

سوفٹ ویئر ڈیولپمنٹ کی فیلڈ میں کام کی کوئی کمی نہیں البتہ باصلاحیت ہنر مند افراد کا فقدان ہے۔

اگر آپ کو سوفٹ ویئر کی فیلڈ پسند ہے تو پھر دیر مت کریں۔ اپنی ضروریات کے مطابق مزید معلومات حاصل کریں۔ اپنا گول بنائیں اور مقصد کو حاصل کرنے کے لیے اچھی سی منصوبہ بندی کریں۔ آپ کے اندر جو خامیاں ہیں ان کو دور کریں۔ بہت جلد کامیابی اور خوشحالی آپ کی منزل ہوگی۔

یہ مضمون سب سے پہلے ڈان نیوز ڈاٹ ٹی وی کی ویب سائٹ پر مورخہ دو فروری 2016 کو شائع ہوا۔

Facebook Comments
Share

اپنا آن لائن کاروبار کیسے شروع کیا جائے؟

الیکٹرانک کامرس یا برقی کاروبار دنیا میں بہت عرصہ سے جاری ہے اور مستقبل کی دکانیں اور مارکیٹیں، سب کچھ ڈیجیٹل ہوگا۔ ہر چند کہ پاکستان میں 2000 میں ای کامرس پر کام کا آغاز ہوچکا ہے اور ایکسپورٹ سے وابستہ اور دیگر کچھ کمپنیز نے اپنے کاروبار کو انٹرنیٹ پر منتقل کیا ہے لیکن ابھی بھی جدید دنیا اور مقامی مارکیٹ میں کافی فرق ہے. ہمارے تجارتی مراکز میں ابھی ’ای کامرس‘ کا دور دورہ نہیں، اور یہاں آج بھی کاروبار روایتی انداز میں ہو رہا ہے۔

کچھ جگہوں پر بزنس کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی کوشش بھی ہو رہی ہے لیکن اس میں ’ہارڈ وئیر‘ تو کافی خرید لیا گیا ہے، مگر بزنس کو ڈیجیٹل کرنے کے عمل سے ہم ابھی بہت دور ہیں۔ کیا بزنس کو آئی ٹی سے آراستہ کرنے سے مراد چند کمپیوٹر خرید کر کمپوزنگ/ای میل کرنا، سوشل میڈیا پر کمپنی کا ایک آدھا پیج تیار کرنا یا ایک سادہ سی ویب سائٹ قائم کرنا ہے؟

بزنس کو ڈیجیٹل کرنے سے کمپنی کی ’آپشن کاسٹ‘ میں کمی ہوتی ہے لیکن اس طرح تو کمپنی کو آئی ٹی کا کوئی فائدہ نہیں ہو رہا، الٹا کمپنی کے سالانہ لاکھوں روپے دیکھ بھال/تنخواہوں پر خرچہ ہو رہا ہے۔

جدید رجحانات پر درست طریقے سے عمل نہ کرنے کی بے شمار وجوہات ہیں۔ بدقسمتی سے بزنس مالکان کی اکثریت میں کاروبار کی ترقی کے لیے، ماہرین سے ملاقات، کتب بینی، ورکشاپس اور سیمینارز میں شرکت کا رجحان انتہائی کم ہے۔ اگر پوچھا جائے کہ سیمینار میں شرکت کیوں نہیں کی تو جواب ملتا ہے کہ یار کیا کریں ٹائم ہی نہیں ہے۔

پڑھیے: بغیر سرمائے کے اپنا کام کیسے شروع کریں؟

لیکن سیاسی/مذہبی تقریبات، فیشن شو، فلم، اسٹیج ڈرامے ہر ہفتے دیکھتے ہیں۔ تقریباً 90 فیصد سے زیادہ بزنس مالکان کے آفس میں ٹی وی آن رہتا ہے۔ اکثریت کا پسندیدہ موضوعِ گفتگو بزنس کی ترقی کے بجائے حالات حاضرہ، خارجہ تعلقات، عالمی سازشیں ہیں۔

ممکنہ خطرے کا انتباہ

اگر آپ پہلے سے بزنس (اشیاء/خدمات) سے وابستہ ہیں۔ اور آپ ابھی تک قدیم اور روایتی طریقے سے اپنے بزنس کو چلا رہے ہیں تو آئندہ کچھ عرصہ بعد آپ کو مشکلات کا سامنا ہوسکتا ہے کیونکہ اب آپ کا مقابلہ اپنے روایتی حریفوں کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی سے بھی ہے۔

وہ وقت گزرتا جا رہا ہے جب لوگ صرف بازار میں آکر خریداری کرتے تھے اور مارکیٹ میں جس کے پاس اچھی اور بڑی دوکان تھی وہ ہی ہمیشہ کامیاب ہوتا تھا۔ ’’قدیم دوکان”، ’’اصلی دوکان‘‘ 1905 سے قائم شدہ، آج کا صارف ان باتوں سے مرعوب نہیں ہوتا۔ اب لوگ گھر بیٹھے بیٹھے ٹی وی پر کئی ہزار کلومیٹر دور سے اشیاء/خدمات حاصل کر رہے ہیں۔ جدید ٹیکنالوجی تیزی سے سب کچھ تبدیل کرتی جا رہی ہے۔

پاکستان میں بہت تیزی سے آن لائن شاپنگ کا رجحان بڑھ رہا ہے۔ ابتدائی سالوں میں تو آن لائن شاپنگ زیادہ تر لوگوں کی رسائی سے دور تھی کیونکہ ادائیگی کی واحد ذریعہ کریڈٹ کارڈ ہوا کرتا، جو کہ آج بھی زیادہ تر لوگوں کے پاس موجود نہیں۔ لیکن اب کچھ عرصے سے پاکستانی ویب سائٹس نے ڈلیوری پر کیش کی ادائیگی اور موبائل فون کمپنیوں کے ذریعے ادائیگی کے آپشن متعارف کروائے ہیں، جس سے آن لائن شاپنگ اب زیادہ مشکل نہیں رہی۔

ای کامرس کی بدولت صارف اپنی من پسند مصنوعات کو بغیر وقت ضائع کیے دیکھ اور خرید سکتا ہے اور اپنی جگہ پر بیٹھے بیٹھے مختلف اشیاء کی قیمت، مقدار، اجزا ترکیب کا موازنہ کر سکتا ہے، جو کہ روایتی بازار میں شاید ممکن نہیں۔ اس لیے اگر آپ اپنی مصنوعات کو ای کامرس سے ہم آہنگ نہیں کریں گے، تو کوئی دوسرا یہ کام کر لے گا۔

ای کامرس کے معنی اور فائدہ

اگر آپ پہلے سے کوئی کاروبار کر رہے ہیں یا آپ کوئی نیا کاروبار شروع کرنے چاہتے ہیں، تو آپ کو ای کامرس کے بارے میں معلومات ضرور حاصل کرنی چاہیے۔ ای کامرس کی بنیادی معلومات کے بعد آپ کے لیے فیصلہ سازی آسان ہوجائے گی کہ آپ نے اس سمت میں قدم بڑھانا ہے یا نہیں۔

ای کامرس کے اردو میں معنی الیکٹرونک تجارت ہے، سادہ الفاظ میں آن لائن ویب سائٹ کے ذریعہ اشیاء یا خدمات کی خرید و فروخت کو ای کامرس کہتے ہیں۔ بے شمار فوائد کی وجہ سے یہ تصور دنیا بھر میں بہت تیزی سے عام ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیے: کون سا کاروبار شروع کیا جائے؟

بزنس مین کو بچت

آپ کو جگہ، اسٹاف، نگرانی، کرایہ، وغیرہ کے اخراجات میں کمی ہوتی ہے ۔ مثلاً آپ اپنے سیل پوائنٹ/شوروم کا سائز چھوٹا کرسکتے ہیں۔ اشیاء کو اپنے پاس زیادہ مقدار میں ذخیرہ کرنے کے ضرورت نہیں۔ آرڈر کے حساب سے اشیاء کو خریدا جا سکتا ہے۔ کاروبار کو منظم کرنے سے آپ کو درست معلومات ملتی ہیں، جس سے آپ کی فیصلہ سازی آسان ہو جاتی ہے، اور نہ صرف آپشن کاسٹ میں کمی ہوتی ہے، بلکہ منافع میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

آپ اپنے گاہکوں سے دوبارہ رابطہ کرسکتے ہیں۔ ان کو خود کار طریقے سے ای میل، ایس ایم ایس ارسال کر سکتے ہیں، اس کے ساتھ آپ کی ویب سائٹ ہر وقت کھلے شوروم کا کام کرتی ہے، جس پر آپ اپنی دیگر اشیاء/خدمات کے اشتہارات بھی لگا سکتے ہیں، جیسے ڈان ٹی وی کی اس ویب سائٹ پر ڈان کے اپنے ٹی وی پروگرامز کے اشتہارات نظر آتے ہیں۔ نیز ای کامرس سے ہر قسم کی ‘انسانی غلطیوں’ سے نجات ملتی ہے۔

فرنٹ کی دوکان یا “موقع کی جگہ” کا حصول ہر ایک کے لیے ممکن نہیں، لیکن اپنی جگہ تبدیل کیے بغیر اپنے گاہکوں کی تعداد میں اضافہ سو فیصد ممکن ہے۔

صارف کے لیے بچت

صارف کے وقت اور توانائی کی بچت ہوتی ہے۔ بعض اوقات یہ ذریعہ سستا بھی ہے۔ مثلاً اگر ایک طالب علم کسی چھوٹے شہر میں رہتا ہے، اور اس کو کوئی کتاب درکار ہے، تو کئی دفعہ کتاب کی قیمت سے زیادہ اخراجات سفر کے ہوجاتے ہیں۔

اشیاء کے صارف تک پہنچنے تک درمیان میں کافی سارے مڈل مین ( ڈسٹری بیوٹر) آتے ہیں، جن کا منافع بھی گاہک ہی ادا کرتا ہے، جس سے اشیاء /خدمات کی قیمت میں اضافہ ہوتا ہے، جبکہ ای کامرس کی بدولت “تیار کنندہ” کا براہ راست رابطہ “استعمال کنندہ” سے ہو جاتا ہے۔

ای کامرس کا آغاز کیسے کریں؟

اگر آپ پاکستان میں ای کامرس کی لائن میں قدم رکھنے چاہتے ہیں تو آپ کو ان بنیادی چیزوں کی ضرورت ہے.

ای کامرس ویب سائٹ

نظام کی تیاری

اشتہاری مہم


ای کامرس ویب سائٹ

آپ کو سب سے پہلے ضرورت ہے ایک ’ای کامرس ویب سائٹ‘ کی، جس پر آپ اپنی اشیاء/خدمات کو پیش کرسکیں، اگر آپ سنجیدہ بزنس کرنا چاہتے ہیں تو میری رائے یہ ہے کہ اپنے ذاتی ڈومین نیم سے کام شروع کریں نہ کہ سوشل میڈیا پر ایک پیج سے۔ آپ ’’ای کامرس ویب سائٹ‘‘ کسی ماہر شخص/کمپنی سے تیار کروا سکتے ہیں، یا پھر خود بھی ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھ سکتے ہیں، جو بہت زیادہ مشکل کام نہیں، بلکہ یہ ایک دلچسپ سرگرمی ہے۔ خاص طور پر اگر آپ نوجوان ہیں اور آپ کے پاس سرمایہ کم اور وقت زیادہ ہے، تو پھر آپ کو میرا مشورہ یہ ہے کہ آپ ’’ویب سائٹ ڈیزائننگ‘‘ سیکھیں۔ (اس کے لیے آپ ہماراگذشتہ مضمون پڑھ سکتے ہیں جو آپ کے لیے کافی مفید ہوگا۔)

جانیے: ویب ڈویلپمنٹ: آپ بھی یہ کاروبار کر سکتے ہیں

نظام کی تیاری

ای کامرس کو شروع کرنے میں زیادہ محنت درکار ہوتی ہے لیکن بعد میں کام آسان تر ہوجاتا ہے۔ کام کو آسان، اور سروس کو بہتر اور منظم کرنے کے لیے آپ کو ایک نظام (سسٹم) درکار ہے جسے آپ نے اپنی ضروریات کے مطابق ترتیب دینا ہے۔

روایتی کاروبار میں گاہک خود دکان پر آتا ہے، پیسے دیتا اور چیزیں لے جاتا ہے۔ لیکن یہاں گاہک صرف آپ کی ویب سائٹ پر آرڈر دیتا ہے۔ آرڈر کو وصول کرنا، سامان کو پیک کرنا، گاہک کے گھر تک پہنچانا اور رقم وصول کرنا سب آپ کی ذمہ داری ہے۔

گھبرائیے نہیں جناب، ای کامرس پہلے کی نسبت اب بہت آسان ہے۔ اب تمام امور “ریڈی میڈ” انداز میں حل ہوتے ہیں۔

ذمہ داری کون ادا کرے گا، دکان/شوروم پر سامان کون سیٹ کرے گا: ویب سائٹ۔

سیلز مین کا کام کون کرے گا: ویب سائٹ۔

آرڈر کون نوٹ کرے گا: ویب سائٹ۔

رقم کون وصول کرے گا: کوریئر یا آپ کا بینک

آرڈر کے مطابق پیکنگ کرنا اور کوریئر سے رابطے کی ذمہ داری: خود آپ کی یا آپ کا کوئی ملازم

سامان کی گاہک کے گھر ڈلیوری کون کرے گا: کورئیر

پیسے کا لین دین: اشیاء یا خدمات کی ادائیگی کے لیے صارف اپنے کریڈٹ کارڈ استعمال کرسکتا ہے۔ بہت سی غیر ملکی کمپنیاں اس سلسلے میں مدد فراہم کرتی ہیں۔ پاکستان کے تمام بینکوں میں ’انٹربینک فنڈز ٹرانسفر‘ کی سہولت موجود ہے، یعنی صارف گھر بیٹھے اپنے بینک کی ویب سائٹ سے آپ کے اکاؤنٹ میں رقم ارسال کرسکتا ہے۔ اس کے علاوہ رقم کی ادائیگی کے لیے تمام موبائل فون کمپنیز کی سروسز موجود ہیں۔

لیکن پاکستان میں زیادہ تر آن لائن خریدای ’سی او ڈی‘ (کیش آن ڈلیوری) کی شکل میں ہوتی ہے۔ اس کے لیے آپ کو خود سے کوئی اسٹاف وغیرہ نہیں رکھنا بلکہ بہت سی کوریئر کمپنیز یہ کام کر رہی ہیں۔ فرض کریں آپ نے لاہور سے حیدرآباد گاہک کو کوئی چیز فروخت کی، تو بس گاہک کے آرڈر کو پیک کریں اور کوریئر کمپنی کے سپرد کردیں۔ وہ خود ہی گاہک کو سامان پہنچائے گی اور سامان کی قیمت وصول کر کے آپ تک پہنچا دے گی۔ اس کے بہت ہی مناسب اخراجات ہیں۔

اشتہاری مہم

ویب سائٹ کی تکمیل کے بعد سب سے مشکل کام گاہکوں کا آنا ہے۔ جتنے زیادہ سنجیدہ کسٹمر آپ کی ویب سائٹ کا وزٹ کریں گے، کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ اب آپ آن لائن گاہکوں کی توجہ کیسے حاصل کریں؟ تو جناب گھبرائیں نہیں۔ اس کام کے لیے بھی حل موجود ہے۔ مارکیٹ میں بہت سے افراد/کمپنیز بہت ہی مناسب فیس میں یہ آپ کی آن لائن اشتہاری مہم کو منظم انداز میں چلانے کا کام سرانجام دینے کے لیے موجود ہیں۔ شروع میں آپ ان کی خدمات حاصل کرسکتے ہیں۔ آہستہ آہستہ آپ خود یہ مہارتیں سیکھ سکتے ہیں۔

’گوگل ایڈ ورڈز‘ آن لائن اشتہاری مہم کے لیے ایک بہت مزیدار حل پیش کرتا ہے۔ اس میں آپ طے کرسکتے ہیں کہ یہ اشتہار کس طرح کے شخص، علاقے، عمر، جنس، دل چسپی رکھنے والے کو نظر آئے۔ نہایت فوکس کرنے کی صلاحیت کی وجہ سے ’’گوگل ایڈ ورڈز‘‘ کے رزلٹ بہت شاندار ہیں۔ اس کے علاوہ آپ فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پر مناسب فیس میں اشتہاری مہم چلا سکتے ہیں۔ جس سے دنوں میں آپ کا کاروبار چمک اٹھتا ہے۔

یہ بات درست ہے کہ پاکستان میں حکومتی عدم توجہ، تعلیم کی کمی، یا دیگر اسباب کی وجہ سے انٹرنیٹ کے استعمال کنندگان کی تعداد کم ہے۔ لیکن پھر بھی موجودہ انٹرنیٹ صارفین کی تعداد تقریباً 2 کَروڑ کے قریب ہے اور آئندہ اس میں اضافہ ہی ہونا ہے، کمی نہیں ہونی۔ بے شمار کمپنیز انٹرنیٹ کے ذریعے پاکستان کی مقامی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں کامیاب کاروبار کر رہی ہیں۔ تو آپ کیوں نہیں کر سکتے؟

Facebook Comments
Share

ویب ڈویلپمنٹ: آپ بھی یہ کاروبار کر سکتے ہیں

گذشتہ ماہ انٹرپرینیورشپ کے موضوع پر مضامین کے سلسلے کے بعد کئی افراد کی طرف سے یہ رائے آئی کہ ہم کچھ کرنا چاہتے ہیں، لیکن معلومات کی کمی کی وجہ سے فیصلہ سازی میں شدید مشکلات ہیں۔ اس لیے اس بارے میں مزید کچھ تحریر کریں، جبکہ کچھ خواتین و حضرات کوئی پارٹ ٹائم ‘وائٹ کالر’ کاروبار کرنا چاہتے ہیں، لیکن سمجھ نہیں آتی کیا کریں۔

سوچ بچار کے بعد میں نےفیصلہ کیا ہے کہ آئی ٹی سے وابستہ وہ کریئر جو کم وقت اور کم سرمایہ سے شروع ہوں، ان کی معلومات اکٹھی کر کے پیش کی جائیں۔ اس سلسلے میں پہلے مضمون کے لیے میں نے ویب سائٹ کے موضوع کا انتخاب کیا ہے۔ میرے خیال میں یہ مضمون ایسے تمام دوستوں کے لیے مفید ثابت ہوگا:

جو پہلے ہی سے اس بزنس سے وابستہ ہیں، اور ان معلومات سے ان کے کام میں بہتری آسکتی ہے.

وہ نوجوان جو انٹرپرینیورشپ شروع کرنا چاہتے ہیں.

ایسے خواتین و حضرات جو اپنے فارغ وقت کو استعمال کر کے کمانا چاہتے ہیں۔

وہ بے روزگار افراد جو نوکری کے لیے کسی ہنر کی تلاش میں ہیں.


ویب سائٹ ڈیزائننگ کہاں سے سیکھیں؟

ویب سائٹ ڈیزائننگ کی بنیادی تعلیم حاصل کرنے کے لیے کم از کم میٹرک تعلیم درکار ہوتی ہے۔ یہ خواتین و حضرات دونوں کرسکتے ہیں۔ اس کا بنیادی کورس تین ماہ کا ہوتا ہے، جس کے بعد مزید چار سے چھ ماہ کے مختلف اعلیٰ کورسز بھی ہوتے ہیں، جن کے لیے کم از کم ایف اے کی تعلیم درکار ہوتی ہے۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھنے کے لیے پاکستان میں دونوں طریقے موجود ہیں، یعنی رسمی اور غیر رسمی طریقہ تعلیم۔ آپ اپنی پسند کے کسی بھی طریقے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تعلیم کے رسمی طریقے

پاکستان بھر میں ہزاروں کی تعداد میں سرکاری اور نجی ادارے اس کی بنیادی اور اعلیٰ تعلیم دے رہے ہیں، جن کی فیس پانچ ہزار سے بیس ہزار تک ہے، جبکہ صوبہ پنجاب میں ’’یو کے ایڈ‘‘ کے تعاون سے مختلف ووکیشنل ٹریننگ انسٹیٹیوٹ میں مستحق افراد کو نہ صرف مفت تربیت بلکہ ماہانہ وظیفہ بھی دیا جاتا ہے۔

اس کے علاوہ ہر صوبے میں فنی تعلیم کے لیے قائم ٹیکنیکل اینڈ ووکیشنل ٹریننگ اتھارٹی ( ٹیوٹا) کے سرکاری ادارے قائم ہیں۔ جہاں اس کی سستی اور معیاری تعلیم دی جاتی ہے۔ اکثر بڑی یونیورسٹیاں بھی چھٹیوں میں اس کے شارٹ کورسز کرواتی ہیں۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ کی تعلیم کے غیر رسمی طریقے

اگر آپ کسی وجہ سے (مثلاً عمر زیادہ ہے، خاتون خانہ ہیں، جاب کرتے ہیں، یا طالب علم ہیں) اور کسی تعلیمی ادارے میں جا کر باقاعدہ کلاسز نہیں لے سکتے، تو بھی کوئی مسئلہ نہیں۔ آپ ویب سائٹ ڈیزائننگ کی مہارت غیر رسمی طریقوں سے حاصل کرسکتے ہیں۔ مارکیٹ میں اردو اور انگریزی زبان میں بہت سی کتابیں، اور ویڈیو سی ڈیز اس موضوع پر دستیاب ہیں، جبکہ آن لائن یوٹیوب سمیت بے شمار ویب سائٹ پر اس سلسلے میں ویڈیو لیکچرز دستیاب ہیں۔

آن لائن ویڈیو کورسزکے لیے ایک بڑی مشہور ویب سائٹ lynda ہے جو 1995 سے کام کر رہی ہے اور lynda نامی ایک امریکی خاتون نے قائم کر رکھی ہے۔ اس کی کچھ ممبر شپ فیس ہے لیکن اس کے ویڈیو کورسز بہت معیاری ہیں۔ میں نے خود “کورل ڈرا” کا کورس lynda سے صرف تین دن میں مکمل کیا تھا جس کی بدولت مجھے نہ صرف مالی بچت ہوئی بلکہ وقت اور توانائی سمیت اضافی زحمت سے بھی نجات ملی۔

ویب سائٹ ڈیزائننگ سیکھ لی، اب کیا کریں؟

وہ افراد جو ابھی کاروبار کرنے کی پوزیشن میں نہیں، ان کو یہ ہنر سیکھنے کے بعد نوکری ملنے کے امکانات زیادہ ہوجائیں گے۔ مارکیٹ میں چھوٹی اور درمیانے درجہ کی آرگنائزیشنز، اخبارات، میڈیا ہاؤسز، مالیاتی ادارے، امپورٹ/ ایکسپورٹ، ای کامرس سے وابستہ اداروں، سوفٹ ویئر ہاؤسز، این جی اوز وغیرہ میں ایسے افراد کی شدید ضرورت ہوتی ہے اور ہنرمند افراد کو زیادہ جلدی وائٹ کالر جاب مل جاتی ہے۔

آج کل مارکیٹ میں ایف اے پاس افراد جن کو ویب ڈیزائننگ خاص طور پر پی ایچ پی (PHP) میں ایک سالہ تجربہ ہو، 25 ہزار روپے ماہانہ کی تنخواہ پر جاب مل جاتی ہے ۔ جب کہ بی اے، ایم اے اور ایک سالہ کام کے تجربہ کار افراد کو صرف 15 سے 20 ہزار سے تک کی جاب مل رہی ہے۔

دیگر وہ افراد جو فل ٹائم یا پارٹ ٹائم کوئی بزنس کرنا چاہتے ہیں، وہ ہنر کو بزنس کے لیے بطور اوزار استعمال کر کے جلدی ترقی کرسکتے ہیں خاص طور پر اگر آپ کے پاس بزنس شروع کرنے کے لیے بنیادی سرمائے کی کمی ہے۔ اس کے دو بزنس ماڈل ہیں۔ آپ اپنے حالات کے مطابق کسی ایک بزنس ماڈل کا انتخاب کرسکتے ہیں۔

فری لانسنگ یا پراجیکٹ کی بنیاد پر

اس بزنس ماڈل میں آپ اپنے گاہک کی ضرورت کے مطابق اس کی ویب سائٹ ڈیزائننگ کرتے ہیں اور طے شدہ معاوضہ وصول کرتے ہیں۔ اس کام کو آپ گھر میں بیٹھ کر یا چھوٹے آفس یا شیئر آفس کی صورت میں کرسکتے ہیں۔ اس طرح کے کام کرنے والوں کو فری لانسرز بھی کہتے ہیں۔ لوکل مارکیٹ میں اس وقت چھوٹی ویب سائٹ کی تیاری، جس میں تقریباً دو دن سے کم وقت صرف ہوتے ہیں، پر معاوضہ 6 سے 7 ہزار روپے آسانی سے مل جاتے ہیں جبکہ بڑی یا میڈیم سائز ویب سائٹ کی صورت میں یہ معاوضہ ہزاروں روپے تک ہوتا ہے۔

بیرون ملک سے کام حاصل کرنا

اگر آپ کو انگریزی زبان میں مہارت ہے تو آپ اپنے گھر میں بیٹھ کر بیرون ملک سے بھی کام حاصل کرسکتے ہیں۔ اس وقت دنیا بھر، خاص طور پر ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش میں ہزاروں کی تعداد میں خواتین و حضرات اپنے گھر میں بیٹھ کر دنیا بھر سے کام حاصل کر رہے ہیں اورحقیقت میں ماہانہ ہزاروں ڈالرز کما رہے ہیں۔

دونوں افراد (کام دینے والے اور کام کرنے والے) میں رابطے کے لیے کافی ساری ویب سائٹس قائم ہیں۔ یہ ویب سائٹ (دونوں افراد سے) کام مکمل کرنے کے بعد بل میں سے اپنا کمیشن وصول کرتی ہیں لیکن ان کی سروس اتنی شاندار ہے کہ ان کا کمیشن ادا کرتے ہوئے خوشی ہوتی ہے۔ ای لانس، او ڈیسک، گرو،فری لانسر، 99 ڈیزائنز، اور مائیکرو ورکرز اس طرح کی مشہور ویب سائٹس ہیں۔

اپنی مصنوعات/خدمات کی فروخت

اس بزنس ماڈل میں آپ اپنی ذاتی ویب سائٹ تیار کرتے ہیں اور خود اپنی کوئی مصنوعات یا خدمات آن لائن فروخت کے لیے پیش کرتے ہیں۔ یہ چیزیں بھی ہوسکتی ہیں جیسے موبائل، کتابیں، کپڑے، وغیرہ اور خدمات بھی جیسے سوفٹ ویئر، آرٹ ورک، لوگو ڈیزائن وغیرہ۔

اس کے علاوہ آپ اپنی ویب سائٹس سے عوام الناس یا مارکیٹ کے کسی خاص طبقے کے درمیان رابطے کا کام کرنے کی خدمات پیش کرسکتے ہیں جس کی مثالیں جاب/شادی کی ویب سائٹ، جائیداد/گاڑیوں کی خرید و فروخت کی ویب سائٹ، زمین ڈاٹ کام، روزی پی کے، پاک ویلز ڈاٹ کام ہیں۔ اس بزنس ماڈل میں آمدنی کے ذرائع، ممبر شپ/رجسٹریشن فیس اور اشتہارات ہیں۔ اس طرح کے کام کرنے والے افراد کو ’ویب انٹرپرینیور‘ کہتے ہیں۔

بس ہمت کریں

دوسرے شعبہ جات کے طرح اس شعبے کے مزید بہت سے فوائد ہیں اور اسی طرح اس میں کچھ نہ کچھ مشکلات بھی ضرور ہوں گی، جن سب کو یہاں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن مشکلات در اصل ایک موقع بھی تو پیدا کرتی ہیں۔ اگر کچھ دن غور و فکر کے بعد آپ اس نتیجے پر پہنچتے ہیں کہ آپ نے اس فیلڈ میں قدم رکھنا ہے تو پھر دیر مت کریں اور ہمت کریں، تمام مشکلات آہستہ آہستہ خود ہی دور ہوجائیں گی اور کچھ ہی سالوں کے بعد آپ ایک بہتر، خوشحال اور باوقار زندگی بسر کر رہے ہوں گے.

اگلے مضمون میں ’ای کامرس‘ کے موضوع پر کچھ نئی اور مفید معلومات دستیاب ہوں گی۔ اس کے بعد سوفٹ ویئر پروگرامنگ اور گیم ڈویلپمنٹ کے کریئر کے بارے میں واقفیت حاصل کریں گے۔

This article published on dawn newspaper on 15 January 2016

Facebook Comments
Share

کون سا کاروبار شروع کیا جائے؟

یہ انٹرپرینیورشپ کی اہمیت کے بارے میں تین مضامین کی سیریز میں تیسرا اور آخری مضمون ہے۔ گذشتہ حصے یہاں ملاحظہ کریں۔


پاکستان میں کئی طرح کے کاروبار ہوتے ہیں، جن میں پیداوار، ڈسٹری بیوشن، سروسز، زراعت، درآمد/برآمد وغیرہ شامل ہیں۔ اگر آپ انٹرپرینیورشپ اختیار کرنے کا جذبہ رکھتے ہیں تو آپ اپنی پسند کے کسی بھی شعبے کا انتخاب کرسکتے ہیں۔ حکومت پاکستان نے انٹرپرینیورشپ کے فروغ کے لیے کئی سرکاری ادارے بھی قائم کر رکھے ہیں۔ سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (سمیڈا) بھی اس میں سے ایک ہے۔

سمیڈا کی ویب سائٹ پر آپ کو پاکستان میں ’’انٹرپرینیورشپ‘‘ کے بارے میں مزید معلومات مل سکتی ہیں۔ سمیڈا کی ویب سائٹ پر سب سے خاص چیز (جو میں نے محسوس کی) کچھ منصوبہ جات کی پری فزیبلٹی رپورٹس ہیں۔ ان کا مطالعہ ضرور کریں۔ میری رائے میں پری فزیبلٹی رپورٹ کے مطالعے سے آپ کو خود اپنے لیے کاروباری منصوبے کی تیاری میں یا پہلے سے تیار منصوبے کو مزید بہتر کرنے میں کافی مدد مل سکتی ہے۔

کم سرمائے سے کون سا کاروبار شروع کیا جائے؟

آپ کسی بھی کاروبار کو کم سرمائے سے شروع کر سکتے ہیں۔ لیکن مشکل یہ ہوتی ہے کہ جہاں سرمایہ کم ہو، وہاں منافع بھی کم ہوتا ہے۔ مثلاً پچاس ہزار سے کم رقم سے کئی چھوٹے کاروبار شروع ہوسکتے ہیں۔ لیکن اس سے ماہانہ سات آٹھ ہزار روپے ہی کمائے جاسکتے ہیں۔ آپ اپنی ضروریات اور مارکیٹ کے مطابق کوئی بھی کاروبار کم سرمائے سے شروع کر سکتے ہیں۔

آج سے اٹھارہ سال پہلے جب میں نے انٹرپرینیورشپ کا فیصلہ کیا تو بہت تحقیق کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا کہ خدمات کی فراہمی (سروسز) کا شعبہ میرے لیے بہتر ہے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کی رائے مجھے سے مختلف ہو، مگر اس شعبے کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ اس میں آپ صرف چند ہزار روپے سے اپنا ذاتی کاروبار شروع کر سکتے ہیں۔

انفارمیشن ٹیکنالوجی کے اکثر کامیاب افراد کا تعلق شروع میں اس ہی شعبے سے تھا۔ اس میں شرحِ منافع (دوسرے شعبوں کی نسبت) بہت زیادہ ہے۔ آئی ٹی ماہرین، ڈاکٹر، وکیل، آرکیٹکٹ، بلڈرز، مشاورت کار، ٹیچرز، ماہرِ نفسیات، فن کار، وغیرہ سروسز کے شعبے سے منسلک ہیں۔ یعنی ان کا ’کاروبار‘ معاشرے کو اپنی خدمات پیش کرنا ہے۔

اگر آپ کے پاس سرمائے کی کمی ہے لیکن آپ کے اندر جذبہ موجود ہے تو آج بھی میری رائے میں خدمات کا شعبہ بہترین ہے۔ کم سرمائے سے آپ خدمات کے کسی بھی ذیلی شعبے میں اپنا کاروبار شروع کرسکتے ہیں۔

انٹرپرینیورشپ شروع کرنے میں مشکلات اور ممکنہ حل:

دنیا کے ہر کام میں کچھ نہ کچھ مشکلات ضرور ہوتی ہیں۔ انٹرپرینیورشپ میں بھی بہت سی مشکلات پیش آتی ہیں۔ کوئی بھی کاروبار کرنے کے لیے میرے خیال میں تین چیزوں کا ہونا لازمی ہے

1: منصوبہ

2: مہارت

3: سرمایہ

پلان اور سرمائے کے لیے میرے خیال میں کسی وضاحت کی ضرورت نہیں، جبکہ مہارت اور تعلیم میں کچھ فرق ہے۔ تعلیم کی ایک تعریف کے مطابق ’’علم کے سلسلہ وار طریقہ کو تعلیم کہتے ہیں‘‘۔ اب کام کرنے کی صلاحیت کے لیے درکار علم آپ کسی رسمی تعلیم ادارے سے حاصل کرسکتے ہیں، یا کسی دوسرے غیر رسمی طریقے سے بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ کاروبار کے لیے تعلیم لازمی ہے، لیکن میرے خیال میں کاروبار کے لیے تعلیم کے بجائے مہارت کا ہونا لازمی یا بنیادی شرط ہے۔ یہ ضرور ہے کہ جدید اور مؤثر تعلیم سے انسان کم وقت میں زیادہ مہارت حاصل کرسکتا ہے لیکن پاکستانی اور بین الاقوامی مارکیٹ میں بہت سے کامیاب کاروباری افراد نے کسی کالج/یونیورسٹی کے بجائے کسی اور غیر رسمی طریقے سے کاروباری مہارت حاصل کر رکھی ہے۔

جن لوگوں کا ذہن اپنا بزنس شروع کرنے کا ہوتا ہے ان کوعموماً اس طرح کی مشکلات ہوتی ہیں۔

اول: سرمایہ اور منصوبہ ہے لیکن مہارت نہیں

اس صورت حال میں کسی ماہر کو اپنے ساتھ بطور شرکت دار شامل کریں یا اس کو ملازمت پر رکھا جا سکتا ہے یا اس فن میں خود مہارت حاصل کی جا سکتی ہے۔ میرے ایک دوست نے اقتصادیات میں ایم فل کی تعلیم کے دوران اپنے یو پی ایس کے بزنس کے لیے ٹیکنکل کالج سے تین ماہ کا کورس کیا۔ اس کا خیال تھا کہ اپنے بزنس کے لیے ضرور ہے کہ آپ کو تمام کام ’’خود‘‘ کرنے آتے ہوں۔ آج ان کی کمپنی کا شمار پاکستان کی ٹاپ یوپی ایس اور سولر انرجی کمپنیز میں ہوتا ہے۔

دوم: مہارت اور منصوبہ ہے لیکن سرمایہ نہیں

ضروری نہیں کہ اپنے آئیڈیا کو عملی جامہ پہنانے کے لیے آپ کے پاس بہت سارے پیسے ہوں۔ اگر آپ کے پاس کوئی اچھا آئیڈیا ہے تو آپ دوسرے شخص کو اپنا آئیڈیا پیش کرسکتے ہیں۔ وہ آپ کے منصوبے میں شراکت داری یا نفع میں حصے کے عوض سرمایہ کاری کرنے کے لیے تیار ہو سکتا ہے۔

اس کے علاوہ حکومت کی سطح پر بہت سے ادارے/نجی بنک ’’قابلِ عمل منصوبوں‘‘ کے لیے قرضہ دینے کے لیے تیار ہیں۔ ہر چند کہ قرضہ ملتا ہے یا نہیں، اس پر شرح سود کیا ہوگی؟ گارنٹی کہاں سے آئے گی؟ اس طرح کے بہت سے مسائل بھی موجود ہیں۔ لیکن اگر بینکوں یا فنانسنگ اداروں کے بجائے کسی شخص یا کمپنی سے ذاتی حیثیت میں سرمایہ کاری کی درخواست کی جائے تو معاملہ نسبتاً آسان ثابت ہوتا ہے۔

سوم: مہارت اور سرمایہ ہے لیکن کوئی منصوبہ نہیں

اکثر ماہرین اس کا حل یہ پیش کرتے ہیں کہ آپ کسی منصوبہ ساز سے رابطہ کریں۔ مارکیٹ میں بہت سے افراد/کمپنیز آپ کو منصوبہ سازی میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ آپ اخبار میں یا آن لائن اشتہار دے کر بھی اپنے لیے مطلوب شخص تلاش کر سکتے ہیں۔

یہ بات ذہن میں رکھنے کی ہے کہ ہر شخص کے حالات و واقعات ایک سے نہیں ہوتے، اس لیے ان چیزوں میں بھی کمی بیشی متوقع ہے لیکن مجموعی طور پر اپنا خود کا کام شروع کرنے کے لیے ان چیزوں کا ہونا بہت ضروری ہے۔ اور سب سے زیادہ اہم یہ کہ جس طرح ملازمت میں کریئر راتوں رات نہیں بنتا بلکہ سالوں کی محنت درکار ہوتی ہے، اسی طرح اپنا کام بھی، چاہے کتنا ہی تخلیقی کیوں نہ ہو، اس سے مالی فائدہ حاصل کرنے کی جلدی نہیں ہونی چاہیے۔

اگر آپ میں یہ تمام چیزیں اور کافی مقدار میں صبر موجود ہے، تو آپ کو اپنا باس خود بننے سے کوئی نہیں روک سکتا۔

قدم بڑھائیے، اور اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیے۔ ہوسکتا ہے کہ یہی قدم آپ کو ملازمت فراہم کرنے والے سے ملازمتیں پیدا کرنے والا بنا دے؟

This article published on dawn newspaper on 3 January 2016

Facebook Comments
Share

بغیر سرمائے کے اپنا کام کیسے شروع کریں؟

یہ انٹرپرینیورشپ کی اہمیت کے بارے میں تین مضامین کی سیریز میں دوسرا مضمون ہے۔ پہلا حصہیہاں ملاحظہ کریں۔


اس مضمون کے پہلے حصے کی اشاعت کے بعد بہت سے قارئین کا سوال یہ تھا کہ ہم بھی انٹرپرینیورشپ کرنا چاہتے ہیں، لیکن اس کے لیے درکار سرمایہ کہاں سے آئے گا، ہم کون سا کاروبار کریں اور کیسے کریں؟ اس طرح کے سوالات کا کوئی قطعی جواب نہیں ہوتا کیونکہ اس کا تعلق ہر شخص کی انفرادی زندگی سے ہوتا ہے، اور چونکہ ہر شخص کے وسائل اور مسائل مختلف ہوتے ہیں، اس لیے ایک شخص کا حل دوسرے کے کسی کام نہیں آسکتا۔

انٹرپرینیورشپ میں کسی شخص کی کامیابی کے لیے صرف ’’جذبے‘‘ کا ہونا لازمی ہے۔ اگر کسی شخص میں جذبہ موجود ہے تو وہ خود ہی ترقی کے لیے درکار تمام وسائل پیدا کر لے گا۔

انٹرپرینیورشپ کے بارے میں روایتی سوچ:

انٹرپرینیورشپ کے بارے میں ہمارے معاشرے میں عام خیال، اور روایتی سوچ یہ ہے کہ انٹرپرینیورشپ میں کامیاب صرف خاص خاندانی پس منظر کے لوگ ہوتے ہیں، بغیر سرمائے یا اتنہائی کم فنانس سے کامیاب انٹرپرینیورشپ ممکن نہیں، خوشحالی کا ذریعہ صرف اور صرف اچھی سرکاری نوکری، یا بیرون ملک جا کر نوکری ہے، انٹرپرینیورشپ نہیں، یہاں تک کہ اعلیٰ تعلیم یافتہ والدین سے میں نے خود سنا ہے کہ ’’نہ ہمارے خاندان میں سے کسی نے کاروبار کیا نہ ہم کاروبار کرسکتے ہیں‘‘۔

پہلی بات تو یہ کہ ہمیں ایک روایتی کاروبار اور انٹرپرینیورشپ میں فرق کرنا ہوگا۔ کاروبار یعنی بزنس، اور انٹرپرینیورشپ میں فرق یہ ہے کہ کاروبار اپنا کام ہوتا ہے، مگر ایسا جو پہلے بھی بہت لوگ کر چکے ہیں اور جو مارکیٹ میں عام طور پر رائج ہوتا ہے، جیسے کپڑوں کی دکان کھول لینا۔ ہم یہاں پر اس کاروبار کی بات نہیں کریں گے۔ اگر آپ اسی کپڑوں کی دکان کو انٹرنیٹ پر لے جائیں، لوگوں کو گھر بیٹھے کپڑے پسند کرنے اور سلائی کا آرڈر دینے کی سہولت دے دیں، تو یہ انٹرپرینیورشپ کہلائے گی، یعنی ایک ایسا کام، جس کا مارکیٹ میں پہلے تصور موجود نہیں تھا اور آپ نے اسے شروع کر کے ایک جوکھم اٹھایا کیونکہ پہلے سے مثال نہ ہونے کی وجہ سے آپ کو معلوم نہیں ہوتا کہ آیا یہ آئیڈیا پسند کیا جائے گا یا نہیں۔

دنیا کے چند کامیاب انٹرپرینیورز:

اب بات کرتے ہیں سرمائے کی۔ آج کی دنیا میں ایسی بہت سے مثالیں موجود ہیں جو ’’انتہائی کم سرمائے‘‘ کے باوجود انٹرپرینیور بننے میں کامیاب ہوئے۔ بل گیٹس کی مثال تمام دنیا کے سامنے ہے۔ ایک شخص لوگوں کے لیے کمپیوٹر کا استعمال آسان بنانے کے لیے ایک سوفٹ ویئر (ونڈوز آپریٹنگ سسٹم) تیار کرتا ہے اور چند سالوں میں ہی دنیا کا امیر ترین شخص بن جاتا ہے۔ دنیا میں کبھی نہیں ہوا کہ ایک شخص مسلسل گیارہ سال تک دنیا کا امیر شخص رہا ہو۔

ذرا غور کریں۔ کیا عقل اس بات کو تسلیم کرتی ہے کہ چند سو مربع فٹ جگہ پر تیار شدہ چیزوں کا منافع ہزاروں ایکڑ پر تعمیر شدہ صنعتوں سے زیادہ ہو، یا چند افراد کی مدد سے تیار شدہ ایک چیز کی کامیابی کا مقابلہ لاکھوں کی تعداد میں افرادی قوت والی فیکٹریاں نہیں کرسکتی ہوں۔

وجہ صاف ظاہر ہے۔ ہزاروں ایکڑ کی فیکٹری میں جو چیز تیار ہوتی ہے، وہ وہی چیزیں ہیں جن کی مارکیٹ میں پہلے سے مثالیں موجود ہیں، کوئی جدت نہیں، اور اگر ہے بھی تو کوئی ایسی نہیں کہ دنیا بدل دے۔ یہ کاروبار ہے۔ اس کے مقابل ونڈوز انٹرپرینیورشپ کی ایک عمدہ مثال ہے۔

اسی طرح سے اور کئی مثالیں موجود ہیں: فیس بک کے بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر مارک زکربرگ جنہوں نے اپنا کام شروع کیا اور کمال ترقی کی۔ انسٹا گرام، واٹس ایپ، اسنیپ چیٹ وہ اسمارٹ فون ایپلیکیشنز ہیں جو دنیا میں تہلکہ مچائے ہوئے ہیں۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ یہ سب دو دو چار چار لوگوں کے گروپس نے صرف آئیڈیا کی بنیاد پر تیار کی تھیں اور چند گھنٹوں میں ہی اینڈرائیڈ کی سب سے زیادہ ڈاؤن لوڈ کی جانے والی ایپس میں شمار ہوگئی تھیں؟

مشہور ریسٹورنٹ کے ایف سی کے مالک کرنل سینڈرز نے ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی چکن پکانے کی ترکیب فروخت کرنے کی کوشش کی، جس کے لیے انہوں نے اپنی پرانی سی کار میں امریکا کی کئی ریاستوں کا سفر کیا۔ کئی دفعہ وہ رات اپنی کار میں گزارتے تھے۔ مگر جب ان کو شراکت دار سے کامیابی ملی تو ملتی چلی گئی۔ آج دنیاکے اکثر ممالک میں کے ایف سی کے ریسٹورنٹ قائم ہیں۔

ذرا غور کریں، بوڑھا آدمی، سرمایہ صفر۔ پاس کیا ہے؟ صرف کھانے پکانے کی ایک ترکیب۔ اگر کرنل سینڈرز ریٹائرمنٹ کے بعد دوبارہ کسی اور جگہ جاب کر لیتے تو کیا آپ ان کی شکل سے واقف ہوتے؟

ان تمام مثالوں سے یہ بات یقینی طور پر کہی جا سکتی ہے کہ دنیا کے امیر ترین اور نامور ترین افراد میں شامل ہونے کے لیے آپ کے کام کو بہت زیادہ ابتدائی سرمائے کی ضرورت نہیں۔ اگر ضرورت ہے تو صرف تخلیقی سوچ کی، جو ایسی چیز مارکیٹ میں لائے جو اس سے پہلے کوئی نہ لایا ہو۔ صرف تب ہی آپ کی چیز ہاتھوں ہاتھ لی جائے گی اور دنیا بدل دینے والی چیزوں میں شامل ہوگی۔

پاکستان میں بہت سے نوجوان انٹرپرینیورز نے بہت زبردست کام کیا اور سالوں کا سفر ہفتوں میں طے کیا ہے۔ پاکستان میں ایسی بے شمار مثالیں موجود ہیں۔

حکیم سعید صاحب مرحوم نے اسکول کی نوکری چھوڑی اور اپنا خود کا چھوٹا سا بزنس شروع کیا۔ شروع میں حکیم سعید کا بزنس دکان سے دکان تک نونہال گرائپ واٹر کی فروخت تھی۔ پھر آہستہ آہستہ یہ کاروبار ترقی کرتے ہوا ایک دن ہمدرد لیبارٹری بن جاتا ہے۔ غور کریں۔ اگر حکیم سعید صاحب اپنا بزنس شروع نہ کرتے تو کیا ہمدرد لیبارٹری قائم ہوتی؟ ہمدرد یونیورسٹی/اسکول کا منصوبہ بن سکتا تھا؟ کیا 132 ایکڑ پر پھیلا ہوا حکمت کا شہر نوکری سے حاصل ہو سکتا تھا؟

تعلیمی ویب سائٹ ’’علم کی دنیا‘‘ ایک نوجوان غلام علی نے اپنے ذاتی کمپیوٹر سے شروع کی اور آج پاکستان کے بڑی تعلیمی ویب سائٹ ہے۔ اب غلام علی صاحب کی ٹیم میں کئی افراد جاب کرتے ہیں۔ آج غلام علی کا شمار پاکستان کے بڑے ویب انٹرپرینیورز میں ہوتا ہے۔ بڑی اور اہم ویب سائٹ ہونے کی وجہ سے وہ فیس بک کی جانب سے شروع کیے گئے مفت انٹرنیٹ کے منصوبے Internet.org میں بھی شامل ہے۔

انٹرپرینیورشپ کے لیے جذبے کی اہمیت:

میرے خیال میں انٹرپرینیورشپ کی کامیابی کے لیے پیسے کی حیثیت ثانوی ہے۔ پیسے، افرادی قوت، مہارت، تعلیم، وغیرہ بطور اوزار استعمال ہوتے ہیں۔ ان کی بنیادی اہمیت نہیں۔ لیکن اگر آپ کے اندر کامیابی کے لیے درکار جذبہ موجود نہیں تو سرمایہ، تعلیم، مہارت، افرادی قوت کے باوجود آپ کامیاب نہیں ہوسکتے۔

کیا وجہ ہے کہ ایک بینک/فنانس کمپنی کسی انٹرپرینیور کو اس کے منصوبے کے لیے قرضہ دیتا ہے یا اس کے ساتھ شراکت داری کرتے ہیں۔ تو ان کے پاس اس تیار منصوبے کی تمام جزویات موجود ہوتی ہیں۔ ان کو نہ صرف یہ معلوم نہیں ہوتا ہے بلکہ یقین ہوجاتا ہے کہ یہ منصوبہ قابل عمل ہے اور کچھ سالوں میں ان کا سرمایہ اصل زر+منافع واپس مل جائے گا۔ اور یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ اس منصوبے سے سب سے زیادہ فائدہ انٹرپرینیور کو ہوگا۔ تو وہ کیوں خود اس منصوبے پر عمل نہیں کرتے؟

اس کی وجہ یہ ہے کہ بینک/فنانس کمپنی اس سے بہتر منصوبہ سازی کرسکتی ہیں، سرمایہ ان کے پاس پہلے سے موجود ہے، افرادی قوت یا خام مال مارکیٹ میں موجود ہے، لیکن ان کے پاس جس چیزیں کی کمی ہے وہ ہے کامیابی کا جذبہ۔ چونکہ ان کے پاس جذبہ رکھنے والے لوگ موجود نہیں ہوتے، اس لیے ان کو ناکامی کا اندیشہ ہوتا ہے اور سرمایہ کار عموماً خطرہ مول نہیں لیتے۔

جذبہ کیسے حاصل کیا جائے:

جذبہ، خواہش، آرزو، تمنا، طلب، انسان کے اندر خود بخود پیدا ہوتی ہے۔ یہ ہی وہ آگ ہے جو کسی انسان کی کامیابی کے لیے لازمی ہے۔ میرے خیال میں اس کو کسی دوسرے کے اندر پیدا کرنا نہایت ہی مشکل اور تقریباً نامکمل کام ہے۔ یہ مارکیٹ میں دستیاب نہیں کہ کسی میڈیکل اسٹور سے خرید کر استعمال کر لی جائے۔ ہاں اگر کسی شخص کے اندر جذبہ کی آگ دھیمی ہے تو اس کی مقدار کو زیادہ کیا جاسکتا ہے۔

اس کا ایک طریقہ یہ ہے کہ کامیاب افراد کی کامیابیوں کی داستانوں کا مطالعہ کیا جائے۔ سوشل میڈیا پر اس موضوع پر کافی سارے آڈیو/ویڈیو لیکچر بھی دستیاب ہیں جس میں ماہرِ نفسیات ڈاکٹر صداقت علی اور قاسم علی شاہ کے لیکچرز شامل ہیں۔ اس کے علاوہ مارکیٹ میں انگریزی زبان میں اس موضوع پر بہت سی کتب موجود ہیں، جبکہ اردو زبان میں بھی مشہور انگریزی کتب کے ترجمے اور خود لکھی ہوئی کتب بھی عام دستیاب ہیں۔ ڈیل کارنیگی، اسٹیفن آر کووے، ڈاکٹر رابرٹ ایچ شلر کی انگریزی زبان یا اردو ترجمہ میں، اور اردو زبان میں ڈاکٹر ارشد جاوید کی کتب کو میں نے بہت مفید پایا ہے۔

اگلے ہفتے ہم دیکھیں گے کہ ایک کامیاب انٹرپرینیور بننے کے لیے مناسب منصوبہ بندی کیسے کی جائے۔

This article published on dawn newspaper on 29 December 2015

Facebook Comments
Share

پاکستانی معاشرے پر انٹرنیٹ کے مثبت اثرات

کسی بھی چیز کے ہمیشہ دو پہلو ہوتے ہیں، مثبت اور منفی۔ اسی طرح انٹرنیٹ کے بھی مثبت اور منفی اثرات ہیں۔ پاکستان کے لوکل میڈیا میں چونکہ منفی خبر ہی خبر کا درجہ رکھتی ہے، اس لیے میڈیا میں انٹرنیٹ کے ’’پاکستانی سوسائٹی پر برے اثرات‘‘ پر کافی کچھ لکھا جاچکا ہے۔ ٹی وی، اخبارات، جرائد میں اکثر اس موضوع پر لمبے چوڑے مضمون شائع ہوتے ہیں اور تا دمِ تحریر یہ سلسلہ جاری ہے۔  عوام کی جانب سےاردو اخبارات میں جو مراسلے شائع ہوتے ہیں، ان میں اکثریت کی رائے میں نوجوان نسل کے خراب ہونے کی واحد وجہ انٹرنیٹ ہے۔ پاکستانی معاشرہ میں نوجوانوں کے بگاڑ میں انٹرنیٹ کا کتنا ہاتھ ہے، اس پر کئی طرح کی آراء موجود ہیں۔ کچھ اس کے حق میں اور کچھ مخالفت میں، یہ شاید کبھی نہ ختم ہونے والی بحث ہے۔  ہم اکثر کسی ایک فرد کے طرزِ عمل کو اس سے منسلک گروپ یا قبیلے کا طرزِ عمل قرار دے دیتے ہیں، جو کہ زیادتی ہے۔ 17 نومبر کو سپریم کورٹ میں ایک ضمانت کے کیس میں جناب جسٹس امیر ہانی مسلم کے ریمارکس کو ایک بڑے اردو اخبار نے اس عنوان کے تحت شائع کیا۔  “فیس بک نے نئی نسل اور معاشرے کو خراب کردیا ہے، سپریم کورٹ”  جبکہ ایک غیر ملکی نیوز ویب سائٹ کے مطابق ’’عدالت کا کہنا تھا کہ فیس بک پر اس طرح کی حرکات نے ہمارے معاشرے اور بالخصوص نوجوان نسل کو تباہ کر کے رکھ دیا ہے۔‘‘  اب مجھے نہیں معلوم کہ اصل میں سپریم کورٹ نے کیا ریمارکس دیے تھے، لیکن اگر دیکھا جائے تو ان دونوں ریمارکس سے الگ الگ رائے قائم ہوتی ہے۔ جس شخص تک سپریم کورٹ کے یہ ریمارکس پہنچیں گے کہ  ’’فیس بک نے نئی نسل اور معاشرے کو خراب کر دیا ہے، سپریم کورٹ‘‘  وہ قصوروار فیس بک، سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ کو سمجھے گا۔  اور دوسرے ریمارکس کا مطالعہ کرنے والا شخص انٹرنیٹ/سوشل میڈیا کے بجائے قصوروار اس ایک فرد کو قرار دے گا۔  میرے خیال میں انٹرنیٹ کے بارے میں یک طرفہ رپورٹنگ ہورہی ہے اور دوسری طرف کا نقطہ نظر پیش نہیں ہورہا۔ اس لیے آج میں نے کوشش کی ہے کہ اپنے اس مضمون انٹرنیٹ کے ان مثبت اثرات کا سرسری جائزہ پیش کروں جو ہماری، انفرادی اور اجتماعی زندگی پر مرتب ہو رہے ہیں۔  سال 2002 میں جنرل مشرف کے دورِ حکومت میں انٹرنیٹ سستا ہوا، اور جس سے اس کے استعمال کنندگان کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہونا شروع ہوگیا۔ انٹرنیٹ فراہم کرنی والی کمپنیز کی ایسوسی ایشن کی ویب سائٹ پر جاری شدہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2014 کے اکتوبر تک پاکستان میں تقریباً ڈھائی کروڑ افراد انٹرنیٹ استعمال کررہے ہیں۔  سوچنے سمجھنے کی صلاحیت پر اثرات: ہماری سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اس وقت بہتر ہوتی ہے جب ہمیں بہتر معلومات میسر آئیں۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے ہماری سوچنے سمجھنے اور فیصلہ سازی کی صلاحیتوں میں بہت بہتری آئی ہے۔ آپ ذرا تصور کریں کہ انٹرنیٹ سے پہلے آپ کسی حساس موضوع، مثلاً کسی مذہبی عقیدے یا سیاسی نظریے کا مطالعہ کرنا چاہتے تھے، تو کیا یہ ممکن تھا؟ کیا آپ اپنے گھر میں اپنے والدین، رشتہ داروں، بیوی، شوہر کے سامنے دوسرے اور مخالف عقیدہ کی کتب کا مطالعہ کر سکتے تھے؟ میرا ذاتی خیال ہے کہ پاکستانیوں کی اکثریت کے لیے یہ ممکن نہیں تھا۔  قیامِ پاکستان سے پہلے انگریز دورِ حکومت میں جرمنی کے ریڈیو سننے پر سزا ملتی تھی۔ جنرل ضیاء صاحب کے دورِ حکومت میں وی سی آر پر فلم دیکھنا جرم تھا۔ آج بھی پاکستان میں کیبل وغیرہ پر ’’دشمن ملک‘‘ کے ٹی وی کی نیوز چلانا جرم ہے۔ اس طرح کے اقدمات سے لازمی ہماری فیصلہ سازی کی صلاحیت پر اثر پڑتا ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے ہمارے معاشرے میں رائج تصورات، اقدار، خیالات، اور روایات میں آہستہ آہستہ تبدیلی آرہی ہے۔  تعلیمی میدان پر اثرات: پاکستانی معاشرے پر تعلیمی میدان میں انٹرنیٹ کے بہت سے مثبت اثرات مرتب ہوئے ہیں۔ درس و تدریس سے منسلک افراد کی بہت سی مشکلات تھیں جو انٹرنیٹ کی وجہ سے حل ہو گئیں، جن میں الیکٹرونک لائبریری، آن لائن ای بکس، اور مختلف تعلیمی موضوعات پر آڈیو، ویڈیو لیکچرز تک گھر بیٹھے رسائی ممکن ہوئی۔ اس کے علاوہ کئی پاکستانی نوجوانوں نے ذاتی کوششوں سے تعلیمی ویب سائٹس قائم کیں جن پر طلبہ و طالبات کو مختلف تعلیمی نوٹس، سابقہ پرچے، تعلیمی اعلانات اور گفتگو کرنے کا مواقع مل رہا ہے۔  مذہبی مسائل کو سمجھنے میں مدد ملی ہے: ہمیں اس بات کو تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں ہونی چاہیے کہ ہمارے معاشرے میں فرقہ واریت موجود ہے (خیال رہے کہ یہاں فرقہ واریت سے میری مراد صرف مسلم فرقوں کے درمیان اختلافات نہیں، بلکہ ہر طرح کی مذہبی سوچ/نظریات کے حامل افراد کے درمیان اختلاف ہے)۔  بدقسمتی سے ہمیں اپنے فرقے کی اچھی باتوں کی تربیت کم اور دوسرے فرقہ کی “غلطیوں” کا سبق پہلے دن سے اچھی طرح یاد کروایا جاتا ہے۔ انٹرنیٹ کے آنے سے پہلے تک ہماری حالت کنویں کے مینڈک کی طرح تھی، ہمارے مذہبی رہنما خود ہی دوسرے فرقے پر سوال کرتے اور خود ہی جواب دیتے تھے، اور عوام کی اکثریت بغیر تحقیق کے ان الزامات/باتوں پر یقین کرتی ہے۔ لیکن اب انٹرنیٹ (خاص طور پر سوشل میڈیا) کی وجہ سے ہمیں دونوں طرف کا مؤقف سننے اور پڑھنے کا موقع مل رہا ہے، جس سے میرے خیال میں فرقہ وارانہ نفرت میں کمی ہو رہی ہے۔ لوگوں کو سمجھ آ رہی ہے کہ غلطیاں صرف دوسرے میں ہی موجود نہیں، بلکہ اپنی طرف بھی اصلاح کی ضرورت ہے۔  نئے طرز کے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے: پوری دنیا کی طرح پاکستانی معاشرے میں بھی ’’ہوم آفس‘‘ کا رواج شروع ہوا جو اپنی طرز کا انتہائی منفرد کام ہے۔ تیسری دنیا کے بہت سے ممالک کی طرح بہت سے پاکستانی لڑکے لڑکیاں گھر بیٹھ کر آن لائن خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ جس میں آن لائن جاب، قرآن پڑھنا، ٹیوشن پڑھنا، گیمز کی تیاری، سوفٹ ویئر اور ویب سائٹس کی تیاری، درستگی اور پڑتال کا کام، مختلف زبانوں کے ترجمے، ٹائپنگ کا کام، آن لائن اشتہاری صنعت، سوفٹ ویئر کی ویڈیو ٹریننگ، شاپنگ ویب سائٹس کے ذریعے اپنا ذاتی کام شامل ہے اور وہ بھی بغیر لوکل آفس کے، جس سے نہ صرف ان پاکستانیوں کی آمدنی میں اضافہ ہوا، بلکہ ملک کو بھی فائدہ ہو رہا ہے۔  پاکستانی فنون لطیفہ پر اثرات: جمالیاتی حس رکھنے والے آرٹسٹ کو سب سے بڑی چیز جو درکار ہوتی ہے، وہ لوگوں کی جانب سے ان کے کام کی تعریف ہے۔ انٹرنیٹ کی وجہ سے نئے لوگوں کو اپنے اندر کے جوہر دیکھنے کے مواقع مل رہے ہیں، جس سے انہیں مزید کام کرنے اور اپنے موجودہ کام میں نکھار لانے میں مدد مل رہی ہے۔  چھوٹے بڑے شہروں اور دیہات میں رہنے والے نئے لکھنے والوں، ادیبوں، تقریر کرنے والوں، شاعروں، آرٹ اور مصوری کرنے آرٹسٹس کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ انٹرنیٹ پر لوگ محدود وسائل سے اچھی شارٹ فلمیں تیار کر رہے ہیں، جس سے وہ بہت جلدی شہرت حاصل کر رہے ہیں۔  ذرا تصور کریں کہ ایک چھوٹے شہر میں ایک قابل مگر مالی طور پر کمزور آرٹسٹ کا۔ اگر وہ اپنے کام کی نمائش کرنا چاہے تو اس کو کسی قریبی بڑے شہر کے صدر مقام پر کسی گیلری میں نمائش کا اہتمام کرنا ہوگا، جس کے اخراجات ہزاروں سے لاکھوں روپے تک ہوتے ہیں۔ جبکہ عموماً فن کاروں کے پاس پیسے نہیں ہوتے، کیونکہ فن کار ہمیشہ آزاد ہوتا ہے، جبکہ پیسے کمانے کے لیے لازمی ہے کہ آپ ’’حدود کا خیال‘‘ یعنی دوسرے لفظوں میں ’’قید ہو‘‘۔  مقابلے میں اضافہ: اس سے ٹی وی اور اخبارات کی کارکردگی میں بہتری آئی ہے۔ آج کا دور جس کو انفارمیشن ایج بھی کہا جاتا ہے، اس میں اخبارات، ریڈیو، ٹی وی کی طرح انٹرنیٹ بھی ایک میڈیا ہے جس کو اصطلاحاً ’’سائبر میڈیا‘‘ کہتے ہیں۔ پہلے ریاستی اور غیر ریاستی عناصر (معاشرے میں موجود مختلف طرح کے پریشر گروپس) بڑی آسانی سے اپنے خلاف خبر کو نشر ہونے سے روک لینے کی طاقت رکھتے تھے۔  ماضی میں بدقسمتی سے پاکستان میں اس ’’طاقت‘‘ کا بھرپور استعمال کیا بھی گیا، لیکن ’’سائبر میڈیا‘‘ سے مقابلے کی وجہ سے پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا کی کارکردگی بہتر ہوئی ہے اور ان پر دباؤ کم ہوا۔ شاید آپ میری رائے سے اتفاق کریں گے کہ اگر ’’سائبر میڈیا‘‘ کا وجود نہ ہوتا تو بڑے بڑے واقعات جیسے میاں شہباز شریف کی بیٹی اور داماد کے بیکری ملازم پر تشدد کی خبر پرنٹ اور الیکٹرونک میڈیا پر کبھی شائع نہ ہوتی، جبکہ یہ خبر الیکٹرونک/پرنٹ میڈیا پر نشر ہونے سے پہلے لاکھوں لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔  ڈر اور خوف پیدا کرنے والے پریشر گروپس پر اثرات: پاکستانی معاشرے میں لوگوں میں ڈر اور خوف پیدا کر کے خود کو نمایاں کرنے والے پریشر گروپس کی تعداد کافی زیادہ تھی، جن میں سے کئی کو سیاسی جماعتوں اور دیگر فریقوں کی جانب سے مدد بھی حاصل تھی۔ پاکستان کی سول سوسائٹی اور روایتی میڈیا ان کے خلاف آواز بلند نہیں کر سکتا تھا۔ جبکہ سیاسی جماعتیں اور کچھ ریاستی ادارے ان کو اپنے مقصد کے لیے آسانی سے استعمال کرتے تھے۔  روایتی میڈیا خوف یا لالچ کی وجہ سے رائے عامہ کی درست تصویر نہیں دکھا سکتا تھا، جس کی وجہ سے ان پریشر گروپس کا کاروبار کافی کامیابی سے چلتا رہا، لیکن سوشل میڈیا کی وجہ سے زیادہ بہتر مؤثر رائے عامہ کا علم ہوا ہے۔  انٹرنیٹ ہماری سوسائٹی کے خوشحال طبقہ میں زندگی کا لازمی جزو بن چکا ہے۔ جس دن بھی حکومتی پالیسیوں میں تبدیلی آئی اور اس کو سستا کردیا گیا، اس کے استعمال کنندگان کی تعداد میں بہت تیزی سے اضافہ ہوجائے گا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے ماہرین کے مطابق آئندہ چند برسوں میں اس کا استعمال مزید عام ہوگا اور روز مرہ کی زندگی میں انٹرنیٹ کا عمل دخل بہت زیادہ ہوگا۔ تیز رفتار ٹیکنالوجی کی وجہ سے یہ ٹی وی کے ساتھ منسلک ہو رہا ہے جس سے یہ ہمارے روزمرہ زندگی کا لازمی جزو بن جائے گا۔  اس لیے اشد ضروری ہے کہ ہم دوبارہ انٹرنیٹ کے منفی اور مثبت پہلوؤں کا جائزہ لیں، تاکہ ہم انٹرنیٹ کے منفی اثرات سے اپنے گھر اور معاشرے کو محفوظ رکھ سکیں، اور انٹرنیٹ کے مثبت استعمال کو بڑھا کر اپنی زندگیوں میں آسانیاں پیدا کر سکیں کیونکہ کوئی چیز اچھی یا بری نہیں ہوتی، صرف نیت اچھی یا بری ہوتی ہے۔

This article published on dawn newspaper on 7 December 2015

Facebook Comments
Share

میرے نمبر ہمیشہ کم کیوں آتے ہیں؟



اکثر
دیکھا گیا ہے کہ بعض طالب علموں کے امتحان میں اچھے نمبر نہیں آتے، حالانکہ
انہوں نے کافی زیادہ پڑھائی کی ہوتی ہے، جبکہ کچھ طالب علموں کے نمبر زیادہ
آتے ہیں حالانکہ انہوں نے کم پڑھائی کی ہوتی ہے۔



عموماً
لوگ اس کو قسمت کا کھیل کہتے ہیں۔ اس کے بھی امکان ہیں کہ یہ اتفاقاً ہوا ہو،
لیکن بعض ماہرینِ تعلیم کے مطابق اس کی وجہ یہ ہے کہ جو طالب علم اپنی پڑھائی
کی اچھی منصوبہ بندی کرتے ہیں ان کے نمبر زیادہ اور جو طالب علم بغیر کسی
منصوبہ بندی کے پڑھائی کرتے ہیں، ان کے نمبر کم آتے ہیں۔



تعلیمی
ماہرین کے مطابق پڑھائی کی منصوبہ بندی کے لیے مندرجہ ذیل امور پر نظر رکھنی
چاہیے:



اول:
ہدف/گول



دوم:
وقت کی منصوبہ بندی



سوم:
کورس کی منصوبہ بندی



چہارم:
بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ



ہدف یا گول:



پڑھائی کی
منصوبہ بندی کے لیے سب سے پہلے آپ کا کوئی ہدف ہونا چاہیے۔ ہدف کئی طرح کے
ہوسکتے ہیں، مثلاً "میں نے اپنی کلاس میں ٹاپ کرنا ہے، میں نے 90 فیصد نمبر
لینے ہیں، میں نے اس مضمون میں ٹاپ کرنا ہے، میں نے تعلیم کے ذریعہ اپنے فیملی
کو اوپر اٹھانا ہے۔"



یہاں اس
بات کی وضاحت ضروری ہے کہ پڑھائی کامیابی کا ایک ذریعہ ہے، پڑھائی یا تعلیم
کامیابی نہیں۔ یعنی آپ کے پاس کامیابی حاصل کرنے کا ایک اچھا آلہ موجود ہے۔



واضح ہدف
انسان میں جذبہ پیدا کرتا ہے۔ سادہ سی بات ہے کہ اگر کسی طالب علم کا پڑھائی
میں کوئی ہدف ہی نہیں تو وہ زیادہ محنت کیوں کرے گا، وہ بس اتنی محنت کرے گا کہ
امتحان میں پاس ہوجائے۔



عموماً
دیکھنے میں آیا ہے کہ بہت زیادہ خوشحال گھرانوں کے بچے زیادہ تعلیم حاصل نہیں
کرتے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہر کسی کا تعلیم حاصل کرنے کے پسِ پردہ اپنا ایک ہدف
ہوتا ہے، جیسے خود کو متوسط طبقے سے اونچے طبقے میں لانا وغیرہ۔



ہدف ہی
انسان میں وہ جذبہ پیدا کرتا ہے جس کی وجہ آپ کو نہ موسم کی شدت کا احساس ہوتا
، نہ ہی آپ کا دل سماجی زندگی اور میل جول کم ہونے پر رنجیدہ ہوتا ہے، اور نہ
ہی آپ دس بارہ گھنٹے پڑھائی کر کے تھکتے ہیں۔



آپ اپنے
ہدف سے جتنا پیار کریں گے یا ہدف کے حصول کے لیے جتنی جدوجہد کریں گے، آپ کی
کامیابی کے امکانات اتنے ہی زیادہ ہوں گے، لہٰذا پڑھائی کی منصوبہ بندی کے لیے
سب سے پہلے آپ کو اپنا کوئی بڑا ہدف مقرر کرنا ہوگا۔ یاد رہے کہ بڑے ہدف کے
بغیر آپ کے اندر جذبہ پیدا نہیں ہوسکتا۔



وقت کی منصوبہ بندی:



وقت کی
منصوبہ بندی سے مراد یہ ہے کہ بطور طالب علم آپ کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اس
سوال/یونٹ/باب کومجھے لازمی اس وقت تک تیار کرنا ہے۔ اس ہی طرح امتحان یا کلاس
ٹیسٹ میں اس سوال کو کتنے منٹ میں ختم کرنا ہے۔ کئی دفعہ طالب علم یہ شکایت
کرتے نظر آتے ہیں کہ:



مجھے
امتحان میں دو سوال اور بھی آتے تھے لیکن ٹائم ہی ختم ہوگیا۔



بیٹا جلدی
جلدی کرنا تھا۔



کیسا کرتا
جلدی، سوالات کے جوابات ہی بہت طویل تھے۔



اس طرح کی
صورت حال سے صاف ظاہر ہے کہ طالب علم نے اپنے امتحان کی منصوبہ بندی نہیں کی
تھی، یا ناقص منصوبہ بندی کی ہے جس میں وقت کا خیال نہیں کیا۔ اس صورت میں اگر
جوابات طویل تھے تو ان کو مختصر کیا جاسکتا تھا۔ اور اگر طالبِ علم کی لکھنے کی
رفتار کم تھی تو اس کو بھی پریکٹس سے بہتر کیا جاسکتا تھا۔ وقت کی منصوبہ بندی
میں یہ طے کرنا چاہیے کہ کتنا کورس کتنے ٹائم میں تیار کرنا ہے۔



کورس کی منصوبہ بندی:



کورس کی
منصوبہ بندی کے لیے بہتر یہ ہے کہ جب کسی طالب علم کا تعلیمی سال شروع ہو تو وہ
اپنے وقت کے حساب سے اپنے تمام کورس کی منصوبہ بندی کر لیں۔ فرض کریں کہ اگر
آپ کے کل آٹھ مضمون ہیں اور ہر مضمون کے 9 باب ہیں۔ اور ہر یونٹ کے 5 موضوعات/سوالات
ہیں، تو کل 360سوالات یا موضوعات بنتے ہیں۔ یعنی تین سوالات یومیہ کے حساب سے
یہ 120 دن (چار ماہ) میں آپ کا کورس مکمل ہو جاتا ہے۔ یعنی اگر اس طرح منصوبہ
بندی کی جائے تو بہت آسانی کے ساتھ ایک سال میں کورس کی دو دفعہ تیاری ہوسکتی
ہے۔



بنیادی کمزوریوں کا خاتمہ:



ہر طالب
علم میں کچھ نہ کچھ بنیادی کمزوریاں ہوتی ہیں۔ عموماً طالب علم ان کمزوریوں کی
وجہ سے اچھے نتائج حاصل نہیں کر پاتے، جس کی وجہ سے ان میں بددلی پیدا ہوتی ہے
اور ان کا دل پڑھائی کرنے کو نہیں کرتا۔ اس لیے ضروری ہے کہ بہت باریک بینی سے
ان خامیوں کی نشان دہی کی جائے اور ان خامیوں کو دور کیا جائے۔



سادہ سی
مثال ہے کہ اگر کوئی مستری ایک دیوار تعمیر کر رہا ہے اور اس دیوار کی بنیادی
اینٹ ٹیڑھی چن رہا ہے تو وہ دیوار جوں جوں بڑھتی جائے گی، اس کے لیے قائم رہنا
مشکل ہوتا جائے گا اور جلد ہی وہ اپنے وزن سے گر جائے گی۔ اس ہی طرح بنیادی
مہارتوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے اکثر طالب علم بڑی کلاسز میں بری طرح ناکام
ہوتے ہیں، جس میں سے ایک کمزوری ہے



املا کی غلطیاں اور ذخیرہ الفاظ کی کمی:



یہ بہت ہی
عام مسئلہ ہے۔ کئی دفعہ دیکھنے میں آیا ہے کہ طالب علموں کی اردو/انگریزی
تحریر میں املا کی بہت غلطیاں ہوتی ہیں، نیز ان کو زبان کی بول چال میں دقت کا
سامنا اس لیے کرنا پڑتا ہے کہ ان کے پاس ذخیرہ الفاظ کی کمی ہوتی ہے۔



ویسے اس
مسئلے کو چھوٹی کلاسز میں حل ہو جانا چاہیے، لیکن خیر جو ہو گیا، سو ہو گیا۔
ماضی کی غلطی کو اب ٹھیک کرنا بہت ضروری ہے۔ اس لیے تعلیمی سال کے شروع میں اس
طرف خاص توجہ دینی چاہیے تاکہ طالب علم کے نمبر کم از کم غلط املا کی وجہ سے کم
نہ ہوں۔



مشکل مضمون کا مردانہ وار مقابلہ:



طالب علم
کا جو مضمون کمزور ہے، اس پر زیادہ توجہ دینی چاہیے تاکہ وہ بھی طالب علم کے
لیے آسان ہو جائے۔ کبھی بھی کمزور مضمون کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے، بلکہ
اس کا سامنا کرنا چاہیے۔ یاد رکھیے کہ کوئی مضمون مشکل نہیں ہوتا، مسئلہ پڑھنے
والے اور پڑھانے والے میں ہوتا ہے۔



مشکل
مضمون کے لیے شام کی اکیڈمی میں شرکت کی جاسکتی ہے یا کلاس ٹیچرز سے اضافی ٹائم
اور توجہ کی درخواست کرنی چاہے۔ اس کے علاوہ انٹرنیٹ سے بھی مدد لی جا سکتی ہے۔
فائنل امتحان میں اچھے نمبروں کے لیے ضروری ہے کہ آپ کے تمام مضامین میں نمبر
اچھے آئیں، تب ہی آپ کا گریڈ اچھا ہوگا۔ ورنہ ایک مضمون کی وجہ سے آپ کا سال
بھی ضائع ہوسکتا ہے۔



کلاس ٹیسٹ سے فرار اور نقل:



بعض طالب
علم کلاس ٹیسٹ میں نقل کر کے اچھے نمبر لینے کی کوشش کرتے ہیں یا کلاس ٹیسٹ
والے دن چھٹی کر لیتے ہیں۔ یہ عادت انتہائی خطرناک ہے اور اس سے طالب علم کو نہ
صرف تعلیمی نقصان ہوتا ہے بلکہ اس کی شخصیت بھی خراب ہوسکتی ہے۔ کلاس ٹیسٹ میں
ہوسکتا ہے کہ آپ نقل کر کے اچھے نمبر لے لیں، لیکن جناب فائنل امتحان میں کیا
کریں گے؟



اس ہی طرح
کلاس ٹیسٹ میں غیر حاضری کی صورت میں آپ کو اپنی اصل صورت حال کا اندازہ ہی
نہیں ہوتا اور آپ کی بہت سی غلطیوں کی نشان دہی کلاس ٹیسٹ کے ذریعے سامنے آتی
ہے، جن کو سالانہ امتحان سے پہلے ٹھیک کیا جاسکتا ہے۔ ورنہ فائنل امتحان میں ان
چھوٹی چھوٹی غلطیوں کی وجہ سے بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔


This article published on dawn newspaper on 25
November 2015


 

 

Facebook Comments
Share